مُنیر نیازی کی یاد میں ——– شاہد مسعود

0
  • 44
    Shares

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے

اصل سَن تو یاد نہیں لیکن غالباً اُنّیس سو چوراسی پچاسی کا ذکر ہے کہ میں پی ٹی وی پشاور سینٹر میں بطور اپرنٹس پروڈوسر تعینات تھا۔ اُس سال 14 اگست کا “کُل پاکستان مشاعرہ” کرنے کی Allocation پشاور سینٹر کے حصے میں آئی۔ سارا سینٹر بہت excited تھا۔ چنانچہ ہیڈ کوارٹر سے بھیجی گئی List کے مطابق میں نے شعراٌ سے رابطے شروع کئے۔ مقامی شاعروں کے علاوہ، لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، سبھی جگہوں سے شاعروں نے آنا تھا۔ متعلقہ سینٹرز کو اُن کے حصہ کے شاعروں سے رابطے اور ہوائی ٹکٹ وغیرہ مہیا کرنے کے لئے کہہ دیا گیا۔ طے یہ ہُوا کہ فلائیٹس اس طرح بُک کی جائیں گی کہ تمام شاعر شام کو پہنچیں گے، ہوٹل میں آرام کریں گے، اور اگلے دن بارہ بجے سے پہلے اُنہیں چیک آوٹ کرا کے ٹی وی سینٹر لایا جائیےگا، جہاں ریکارڈنگ کے بعد اُسی شام واپس اپنے اپنے شہروں کو روانہ کر دیا جائیے گا۔ جن شاعروں سے میری ذاتی رسم و راہ تھی، اُنہیں میں نے خود بھی فون کئے۔

اِن میں سے ایک مُنیر نیازی بھی تھے۔ جب میں نے اُنہیں پروگرام کا بتایا تو اُنہوں نے جہاز کے سفر سے صاف انکار کر دیا۔ میں نے بہت سمجھایا کہ لاہور سے پشاور تک کا by road سفر بہت تکلیف دہ ہو گا، لیکن وہ نہ مانے۔ کمال توجیہ پیش کی۔ کہنے لگے، “ہوائی جہاز کا سفر مُجھے زہر لگتا ہے۔ یہ کیا کہ، کوئی آپ کو ایک locale سے اُچک لے اور گھنٹہ ڈیڑھ بعد ایک دُور دراز، جگہ پھینک آئے۔ بندہ اس اُکھاڑ پچھاڑ میں adjust نہیں کر پاتا۔ مُجھے تو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے smooth transition چاہئے۔ دھیرے دھیرے آنکھوں کے سامنے منظر بدلتا جائے، اور میں سب کُچھ اپنے اندر جذب کرتا چلا جاؤں”۔ حالانکہ مُجھے علم تھا کہ اصل وجہ یہ تھی کہ منیر صاحب ہوائی سفر سے گھبراتے تھے، تاہم میں نے بحث نہیں کی، اور لاہور سینٹر کو کہہ دیا کہ نیازی صاحب کی بُکنگ ویگن سے کر دی جائے۔

خدا کا کرنا یوں ہُوا کہ جس دن ان شعرا نے سفر کرنا تھا، اُس روز رات ہی سے کراچی سے لے کر پشاور تک موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ گویا کُل پاکستان موسمِ باران۔ بہت کوفت ہُوئی۔ یہاں تک کہ کراچی والی فلائیٹ تو کینسل ہی ہو گئی۔ خیر، یہی سوچا گیا کہ جو پہنچ جائے، اُس کا بھلا، اور جو نہ پہنچ پائے، اُس کا بھی بھلا۔

شاعروں کے آمد کے دن، باقی لوگوں کو تو ہوائی اڈے سے لینے دوسروں کو بھیجا، جبکہ نیازی صاحب کو، ٹی وی کی گاڑی میں لینے ویگن اڈہ خود پہنچ گیا۔ بڑےتپاک سے مِلے، اور ہم ہوٹل کی طرف چل دئیے۔ کہنے لگے، “یار ! ہم نے روڈ کا سفر اس لئے کیا تھا کہ سارا راستہ، بدلتے مناظر دیکھتے جائیں گے، لیکن لگاتار بارش کی وجہ سے باہر تو کُچھ نظر نہ آیا، ہاں البتہ، کھڑکی کے شیشے میں اپنی شکل ہی دکھائی دیتی رہی۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں، اپنی شکل، اتنی زیادہ کبھی نہیں دیکھی”۔ خیر، ہلکی پھُلکی گپ شپ چلتی رہی۔ ایسے میں ہوٹل آ گیا۔ کہنے لگے، اوہ، آپ لوگ مُجھے Dean’s Hotel میں ٹھہرائیں گے؟ میں نے کہا کہ کیوں اس میں کیا قباہت ہے؟ کہنے لگے، “یار! اور تو کُچھ نہیں، لیکن میں جب بھی لاہور کے فلیٹیز، پنڈی کے فلیشمینز، اور پشاور کے ڈینز ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں تو مُجھے یہ خوف رہتا ہے کہ فلش کی زنجیر کھینچنے پہ کوئی پُرانا انگریز اندر سے نہ نکل آئے!! (نئی جنیریشن کی اطلاع کے لئے، اُس زمانے میں پانی کی ٹنکی کموڈ کے ساتھ نہیں، بلکہ چھت کے قریب لگی ہوتی تھی، جس کے ساتھ ایک زنجیر ہُوا کرتی تھی، جِسے فلش کرنے کے لئے کھینچنا پڑتا تھا)۔

منیر صاحب سے میری واقفیت تو تھی لیکن یقیناً بے تکلفی نہیں تھی، پھر بھی، جب میں نے رخصت چاہی، تو ہچکچاتے ہُوئے کہنے لگے، “یار شاہد، یہ بڑی زیادتی ہوگی کہ میں پشاور آؤں اور یہاں کی مشہور چیزیں استعمال نہ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔ سُنا ہے یہاں چرس بہت اچھی ملتی ہے؟” میں نے کہا کہ حضور، مُجھے تو اس بات کا تجربہ نہیں ہے، لیکن میں کوشش ضرور کروں گا۔ وعدہ میں نے اس لئے کر لیا کہ جس معصومیت سے اُنہوں نے کہا تھا، مُجھ سے رہا نہ گیا۔ دفتر واپس آ کے میں نے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا، تو وہ اُچھل پڑے۔ کہنے لگے کہ نیازی صاحب کے لئے تو جان بھی حاضر ہے۔ میرے لئے کل ہی کوئی شخص، چترال سے لے چرس لے کے آیا ہے، وہ میں تمہیں دیتا ہوں۔ علی اختر سے قیمتی تحفہ لے کے میں اپنے پروگرام منیجر کے پاس گیا اور اُنہیں سب روداد سنائی۔ یہ بھی کہا کہ میں اب دوبارہ ہوٹل جا رہا ہوں، نیازی صاحب کی نظر کرنے۔ کہنے لگے، اچھا، اسطرح کرو کہ جاتے ہُوئے میرے گھر سے ہوتے جانا، وہاں  ایک “بوتل” پڑی ہے، وہ بھی انہیں، میری طرف سے پیش کر دینا۔ میں بے حد خوش ہُوا کہ چلو منیر صاحب، میری خدمت گذاری پہ خوش ضرور ہونگے۔ قصہ مختصر، میں اُنہیں اشیائے نوش دے کے واپس آ گیا۔ اکلے دن جب وہ ریکارڈنگ کے لئے سینٹر تشریف لائے، تو میں خوشی خوشی اُنہیں، پروگرام منیجر کے دفتر لے گیا، یہ سوچتے ہُوئے کہ وہ انکے سامنے ضرور میری تعریف کریں گے۔ ابتدائی کلمات کے بعد شوکت پرویز صاحب نے منیر صاحب سے پوچھا، “نیازی صاحب، یہ، شاہد نے آپ کی کوئی خدمت ودمت بھی کی یا نہیں؟ منیر صاحب کا جواب کمال کا تھا۔ میرے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کے، اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “کوشش بہت کی اِس نے”۔ وہ خوبصورت مسکراہٹ، آج بھی میرے دل پہ نقش ہے۔

(Visited 152 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: