من کہ مسمی مطالعہ پاکستان —— ملک آفتاب اعوان

1
  • 297
    Shares

عزیزانِ من تم نے راویانِ بد کلام سے میرے متعلق بہت کچھ سن رکھا ہو گا۔ یہ میرے بد خواہان جب بھی موقع پائیں میرے متعلق رطب و یابس کے دفتر کالے کرتے اور زبانِ دشنام دراز کرتے ہیں۔ میرے حسب و نسب کے بارے میں شکوک پھیلاتے اور میرے حال کو تمسخر کا نشانہ بناتے ہیں۔ تو آج میں نے سوچا کہ میں خود ہی تمھیں اپنے بارے میں کچھ باتوں اور حقائق سے آگاہ کروں تاکہ ان کی باتیں سن کر تمھارے اذہان میں میرے بارے میں جو شکوک و شبہات کے سنپولیئے سرسراتے ہیں اُن کا سر کچلا جا سکے۔

میرے بچو، یہ میرے بد خواہاں تمھیں اکثر بتائیں گے کہ میرے والد کا نام جنرل ضیاء الحق تھا اور اس نے زبردستی مجھے تمھارے سر پر مسلط کیا۔ یہ تمھیں یہ بھی باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ میرے اندر جو کچھ لکھا ہے ہے وہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور اس کا مقصد اس کے سواء کچھ بھی نہیں کہ تمھارے معصوم اذہان کو مسموم کیا جا سکے۔ درحقیقت یہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں اور میرے نام کو کو ایک طعنہ بنانے میں کامران بھی ہو چکے ہیں۔ اس طعنے کو سن کر تم اکثر شرمندہ بھی ہو جاتے ہو اور صفائیاں دینے کی کوشش بھی کرنے لگتے ہو۔ مگر میری جان تمھیں یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ان کے دعوے جھوٹے اور ان کے طعنے حقائق کے منافی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے مری جان کہ میری پیدائش آمر ضیاءالحق کی آمد سے بہت پہلے اُسی دن ہو گئی تھی جس دن تمھارا یہ عزیز از جان وطن پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔ میرے والد کو تم دو قومی نظریہ کے نام سے جانتے ہو اور میری والدہ تحریک آزادی کے نام سے مشہور ہیں۔ ان دونوں کے ملاپ سے پاکستان بنا اور ظاہر ہے جب پاکستان بنا تو مطالعہ پاکستان کی پیدائش تو لازمی تھی۔ کیونکہ اگر ہندوستان کے رہنے والے بچے ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں پڑھتے ہیں، انگلستان کے رہنے والے بچے انگلستان کی تاریخ اور اپنے اجداد کے کارناموں کے بارے میں پڑھتے ہیں اور امریکہ کے بچے جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن کی جدوجہد کے بارے میں پڑھتے ہیں تو پاکستان کے بچوں نے کیا قصور کیا تھا کہ انہیں اپنے ملک کی تاریخ کے بارے میں نہ بتایا جاتا؟

ہر ملک میں بچوں کو اپنے ملک کی تاریخ، اس کے جغرافیہ اور اس کے اہم واقعات کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ اب اسے مطالعہ برطانیہ یا مطالعہ امریکہ کہا جائے یا نہ کہا جائے بات تو وہی ہے۔ اسی لئے کارپردازانِ تعلیم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے رہنے والے بچوں کو کو بھی ان کی تاریخ اور اہم واقعات سے آگاہ کیا جائے۔ ہاں شروع شروع میں مجھے کسی اور نام سے پکارا جاتا تھا۔ مگر نفسِ مضمون تب بھی یہی ہوتا تھا۔ دیکھو بچو، اگر تمھاری ابتدائی کلاسوں میں تمھیں مجبور نہ کیا جاتا کہ مجھے پڑھو تو آج تمھیں اس بات کی خبر کیسے ہوتی کہ ایک علیحدہ ملک کی ضرورت کیوں پیش آئی اور تمھیں یہ کیسے معلوم ہوتا کہ کِن لوگوں نے اس ملک کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آخر امریکہ میں بھی تو بچوں کو فاؤنڈنگ فادرز کے بارے میں خواب میں تو علم نہیں ہوتا۔ انہیں بھی اپنے سکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے مطالعے سے ان کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ کیا ہندوستان کے بچوں کو گاندھی اور نہرو کے بارے میں الہام ہوتا ہے یا پھر وہ بھی اپنی درسی کتب سے ہی ان اکابرین کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں؟ اسی لئے دوسرے مضامین کے ساتھ مجھے بھی تمھارے نصاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اور یہ کوئی شرمندگی کا امر نہیں بلکہ فخر کا مقام ہے کہ تم تاریخ سے نا بلد نہیں بلکہ اپنے ملک کے قیام میں انے کی وجوہات سے کماحقہ واقف ہو۔ اور یہ کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ میرے ہی مطالعے کا ثمر ہے۔

اگر میں تمھیں بتاؤں کی میری پیدائش کی راہ میں روڑے اٹکانے کی بے تحاشہ کوششیں کی گئی تو اس میں کوئی مقامِ حیرت نہیں۔ بہت سے مہربان ایسے تھے جو کہ میرے تو کیا میرے والد یعنی دو قومی نظریہ کے وجود کے ہی درپے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ میرے والد یعنی دو قومی نظریہ کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے تاکہ میری والدہ یعنی تحریک آزادی کے جواز کو جھٹلایا جا سکے۔ اگر تم غور کرو تو جو لوگ تمھیں آج میرے مخالف دکھائی دیتے ہیں یہ انہی دانشوران کی فکری اولادیں ہیں جو کہ میرے والد کے وجود کے مخالفین تھے۔ گویا ہماری اور ان کی یہ مخالفت نسل در نسل یا خاندانی ہے۔ مگر افسوس کا امر یہ ہے کہ میرے والد کا ساتھ دینے اور انہیں تقویت دینے کو علامہ اقبال جیسے مفکر اور میری والدہ کی سرپرستی کے لئے قائد اعظم جیسے قائدین میسر تھے مگر میں آج یتامیٰ اور مساکین کی طرح اپنے خاندانی مخالفین کے تیروں کی زد پر ہوں مگر میرا ساتھ دینے کو نہ تو کوئی اقبال ہے اور نہ ہی کوئی محمد علی۔ میرے والدین کے فکری مخالفین کی اولادیں تو اپنے اجداد کے ہی جوش و جذبے سے مجھے بدنام کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں مگر مجھے کسی کا ساتھ اور مدد میؔسر نہیں۔

میرے بچو، تمھیں اکثر یہ بھی کہہ کر شرمندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تم نے میرے صفحات پر جو کچھ پڑھا وہ جھوٹ کے طومار کے علاوہ کچھ نہیں اور یہ کہ میرے مطالعے کے ذریعے تمھیں حقائق سے نا بلد رکھا گیا ہے۔ تمھیں اکثر یہ طعنہ دیا جاتا ہے کی سنہ 65 اور سنہ 71 کی جنگوں کے بارے میں تمھیں حقیقت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ عزیزانِ من، بات تو یہ ہے کہ ہر کوئی سچائی کو اپنے نقطہ نظر اور مفاد کی عینک سے دیکھتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ تم نے اپنی آنکھوں سے بھارت اور پاکستان کی حالیہ جھڑپ دیکھ لی۔ جہاں سارا پاکستان اپنی کامیابی اور فتح کا جشن منا رہا ہے وہیں اگر بھارتی چینلز پر نظر دوڑاؤ تو تمھیں بھارتی افواج کی بہادری اور کامرانی کی ڈنکے بجتے دکھائی دیں گے – کیا آج سے بیس سال بعد لکھی ہوئی کتابوں میں بھارت کے سکولوں میں ان کے بچوں کو یہ پڑھایا جائے گا کہ پاکستان کی افواج کے ہاتھوں انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ؟ وہ بچے یہی پڑھیں گے جو کہ آج بھارتی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے اور پاکستانی بچے وہی پڑھیں گے جو کہ پاکستانی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے۔ گویا دونوں ایک ہی واقعے کو دو مختلف نقطہ ہائے نظر سے پڑھیں گے۔ اور سچ پوچھو تو اس میں کوئی ہرج بھی نہیں۔ ابتدائی تعلیم میں ہر ملک میں یہی کوشش ہوتی ہے کہ بچے اپنے ملک پر فخر کرنا سیکھیں اور اس کے شہری ہونے پر ان کے دل میں تشکر کے جذبات پیدا ہوں۔ کیا تم چاہتے ہو کہ بچے اپنے ملک کو ایک کمتر اور شکست خوردہ ملک سمجھتے ہوئے بڑے ہوں؟ پھر کیسے ان سے توقع کی جائے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے ملک کا دفاع اور خدمت کرنے کا جذبہ رکھیں گے۔

ہاں یہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ کچھ لوگوں نے میرا حلیہ بہت بگاڑا۔ اور اس کا مجرم وہی آمر ہے جسے یہ میرے شجرہ نسب میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے بچوں کو اپنے وطن سے محبت اور اس پر فخر کرنا ضرور سکھانا چاہیئے۔ مگر اس محبت اور فخر کی بنیاد کسی دوسری قوم یا وطن سے نفرت یا حقارت پر نہیں ہونی چاہیئے۔ اس آمر کا جرم ہی یہ ہے کہ اس نے میری اساس کو ہی بدلنے کی کوشش کی۔ میری بنیاد محبت پر رکھنے کی بجائے اس نے میری نیو نفرت پر رکھنے کی ٹھانی۔ مگر اگر آج میرے مخالفین اور تم سب اگر اس نفرت سے انکاری ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ مگر یہ بھی یاد رکھو کہ میرے صفحات پر جو تاریخی واقعات تم پڑھتے ہو وہ صداقت پر مبنی ہیں۔ ان کی سچائی کی گواہی غیر ملکی تاریخ دانوں کی کتابیں اور مضامین بھی دیتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ تمھیں کوئ غیر مصدقہ مواد پڑھایا جا رہا ہو۔ اس لئے کبھی میرے صفحات میں بیان کئے گئے واقعات کا حوالہ دینے پر شرمندہ نہ ہونا۔ تم سچ ہی بیان کر رہے ہو گے۔

میرے بچے پچھلے چند سالوں میں مجھے بہت نقاہت محسوس ہونے لگی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ وقتِ آخر قریب ہے۔ میرے مہربانوں کے مجھ پر حملے ہی اتنے پر شماتت تھے کہ مجھے اپنا بچنا ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ مگر قدرت کے کھیل نرالے ہیں۔ جس طرح دستِ قدرت نے میرے والد کو تقویت کانگریسی لیڈروں کی حکمتِ عملی، حرکتوں اور الفاظ کے ذریعے پہنچائی تھی اسی طرح میری مدد بھی اس نے ایک بھارتی حکمران مودی کے ذریعے ہی کی۔ اگر وہ اور اس کے ملک کے چینل تمھیں اپنا جنونی چہرہ نہ دکھاتے تو تمھیں کیسے معلوم ہوتا کہ جو کچھ میرے صفحات پر بکھرا ہے وہ کوئی فرضی داستان نہیں حقائق کا بیان ہے۔ جس طرح کرشمہ ء قدرت نے میرے والد کے ناقدین کو کانگریسی زعماء کی ہی پالیسیوں کی وجہ سے رسواء کیا تھا اسی طرح آج بھی میرے ناقدین کو بھارتی حکمرانوں کی جارحیت کی وجہ سے ہی ہزیمت اٹھانی پڑی۔

مگر اب میں اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پُر امید ہوں۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب تم ان صاحبان کے دجل و فریب کا نشانہ نہیں بنو گے جو کہ میرے وجود کو ہی فالتو اور زائد الضرورت قرار دینے پر تلے ہوئے تھے۔ اب تمھیں سمجھ آچکی ہے کہ کچھ باتیں کاغذی دلیلیوں کے ذریعے نہیں حقائق کا سامنا کرنے سے ہی سمجھ میں آتی ہیں۔ اب میرا اور تمھارا ساتھ بہت طویل بھی ہو گا اور خوشگوار بھی۔ جیتے رہو اور پڑھتے رہو۔

یہ بھی پڑھ ڈالیے: نظریہ پاکستان کا مستقبل: خوش گمانیاں، بدگمانیاں۔ خالد ولی اللہ بلغاری

 

(Visited 428 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سعید ابراہیم on

    انسانی ترقی کی دوڑ میں پاکستان 150 ویں درجے پر جبکہ اسلحہ خریداری میں 9 ویں پوزیشن🤔
    جیوے مطالعہء پاکستان مائنڈسیٹ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20