بھٹو صاحب، ساقی گری اور چیئرمین لی شاو چی سے ہَتھ پنجہ —- شاہد مسعود

0
  • 77
    Shares

آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ جب اُردو زبان میں ہاتھ ملانا اور مصافحہ کرنا جیسے “بے ضرر” الفاظ موجود ہیں تو پھر پنجابی کا “ہتھ پنجہ” لکھنے کیُ کیا ضرورت تھی؟ تو صاحبو ! بات یوں ہے کہ جو ہمارے ساتھ، ہمارے چینی مہمان نے کیا، اُسے اگر کوئی expression بیان کر سکتا ہے تو وہ، صرف اور صرف ” ہتھ پنجہ ” ہی ہے۔ لیکن پہلے بات ہو جائیے ہماری ساقی گَری کی۔ کہ بقول شاعر، “کس کس کی تباہی میں ‘مرا’ ہاتھ نہیں ہے”۔

یہ سنہ 1966 کی گرمیوں کی بات ہے کہ ہم نے تازہ تازہ میٹرک کا امتحان دے رکھا تھا، اور اسی اُدھیڑ بُن میں تھے کہ، نتیجہ آنے سے پہلے تک کے ساڑھے تین مہینے، کیسے گزارے جائیے ؟ اُن دنوں کے فیشن کے مطابق، plan تو یہی تھا کہ رشتہ داروں کے پاس، ٹیکسلہ، پشاور، لاہور، لائل پور جایا جائیے۔ میں ابھی اسی سوچ و بچار میں تھا کہ پہلے کہاں کا رُخ کیا جائے، کہ کسی نے مُجھے بتایا کہ اسلام آباد میں، شہر زاد نام کا ایک ہوٹل کھُلا ہے جو Centrally Air conditioned ہے۔ ایر کنڈشننگ کا تو سُن رکھا تھا، لیکن یہ Centrally Air conditioned کیا بلا ہوتی ہے، اس کا ادراک نہیں تھا۔ ہم تو گرمیوں میں چھت پہ مچھردانیوں والی چارپائیاں لگا کے سوتے تھے۔ ایک Pedestal fan ہوتا تھا جو ایک سِرے سے لے کر دوسرے سِرے تک، ترتیب میں بِچھی ہُوئی چار پائوں کو ہوا دیا کرتا تھا۔

اُن دنوں Waljis travels نامی ایک ویگن سروس چلا کرتی تھی، جس کا اسلام آباد میں، آخری سٹاپ، یہی شہر زاد ہوٹل تھا۔ سو، ایک دن، ہم نے اپنی بہترین پتلون نکالی، اور کلف والی بُراق سفید شرٹ پہن، جیب میں کُچھ روپے ڈال، ویگن میں بیٹھ اسلام آباد کو چل دئے۔

ہوٹل کے صدر دروازے سے جب اندر داخل ہُوئے تو یَخ ہوا کے ایک جھونکے نے استقبال کیا، اور گویا بتایا، کہ اے راولپنڈی کے کمیٹی محلے کے باسی، اسے کہتے ہیں Centrally air conditioned ہونا۔ یوں لگا کہ جیسے اسلام آباد میں نہیں بلکہ کوہ مری میں گھوم رہا ہُوں۔

لمبی سی وسیع گیلری، بُلند و بالا چھت میں لگے قیمتی Chandeliers اور دیواروں پہ آویزاں خوبصورت پینٹنگز۔ دائیں طرف reception , اور بائیں طرف Bar (شراب خانہ)، اور Dining rooms ایک کونے میں Coffee Corner لکھا تھا، سو میں داخل ہو گیا اور بیرے کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ آیا تو میں نے اُس سے چُپکے سے پوچھ لیا کہ ایک کپ چائے کے کتنے پیسے ہوں گے ؟ جب اطمینان ہو گیا کہ بِل، بمع ٹِپ کے بعد، واپسی کا کرایہ بچ رہے گا، تو بڑے دھڑلے سے اُسے ایک کپ چائے کا آرڈر دے دیا۔ چائے پینے کے بعد، میں گیلری میں آ گیا اور پینٹنگز دیکھنے لگا۔ ایسے میں ایک نہائت ہی خوش شکل اور با رعب شخص جو غالباً کوئی پچاس پچپن سال کے لگ بھگ ہو گا، میرے پاس آیا اور مُجھ سے گُفتگو شروع کر دی۔ پہلے اُردو میں اور پھر رفتہ رفتہ انگریزی میں۔ چونکہ میں St Mary’s اور Convent کا پڑھا ہُوا تھا، جہاں اور کُچھ سکھایا جائے یا نہ سکھایا جائے، انگلش بولنا ضرور سکھایا جاتا تھا، سو ہم نے بھی فرفر جواب دینا شروع کر دیئے۔ جب اُسے پتہ چلا کہ میں نے میٹرک کا امتحان دے رکھا ہے اور آجکل فری ہُوں، تو اچانک اُس نے مُجھے ہوٹل میں نوکری کرنے کی آفر کر دی۔ میرے پوچھنے پہ پتہ چلا کہ صاحب ہوٹل کے جنرل منیجر ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن ظاہر ہے کہ صرف تین مہینوں کے لئے کر سکوں گا۔ وہ مُجھے اپنے دفتر لے گئے اور اپنے پی اے کو appointment letter ٹائپ کرنے کو کہا۔ اس سے پہلے کہ میں کُچھ پوچھتا، ایک ٹیلیفون کال آئی اور وہ معزرت کر کے دفتر سے باہر چلے گئے۔ اُن کی میز پہ رکھی ہُوئی تختی پہ جلی حروف سے لکھا ہُوا تھا Captain (Retired) Mazhar ullah مُجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان بحریہ کے ریٹائرڈ کیپٹن ہیں، اور یہ کہ وہ قائدِ اعظم کے آخری ADC رہ چکے ہیں۔ PA نے ٹائپ کر کے جب میرا appointment letter میز پہ رکھا تو مُجھ سے صرف اتنا پڑھا گیا کہ، ایک تو یہ کہ میری نوکری ایک Bartender کی ہے، اور دوسرا یہ کہ میری تنخواہ ایک سو بیس روپے ہو گی۔ ابھی میں کُچھ سوچ ہی رہا تھا کہ مظہر صاحب تشریف لے آئیے۔ اس سے پہلے کہ وہ لیٹر سائن کرتے میں نے کہا کہ مُجھے Bartender کا کام کرنے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن لیٹر پہ کُچھ اور لکھ دیں تو نوازش ہو گی۔ اُنہوں نے مسکراتے ہُوئے میری طرف دیکھا اور کہا Oh I see اس کے بعد میرا Designation بارٹینڈر سے Steward ہو گیا، اور اگلے دن سے نوکری شروع ہو گئی۔ میری زندگی کی پہلی نوکری۔

بہت جلد میں Cocktail بنانے کا ماہر ہو گیا، اور ریگولر پینے والوں میں مقبول بھی ہو گیا۔ یوں مُجھے 1966 ہی میں پتہ چل گیا تھا کہ، ” نشّہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں “۔ زیادہ تر گاہک یہ چاہتے تھے کہ اُن کے لئے کاکٹیل میں بنایا کروں کیونکہ اُن کے بقول میرا ” ہاتھ بھاری ” تھا۔ یعنی میری بنائی ہُوئی کاکٹیل زیادہ نشّہ آور ہوتی ہے۔

خیر حقیقت کُچھ بھی ہو، میں تو صرف یہ جانتا ہُوں کہ ان تین مہینوں میں، میں تیس سال بڑا ہو گیا، کیونکہ رات بھر پینے والوں کو جب ہم لوگ اُٹھا کر اُن کی گاڑیوں میں ” ڈالنے” جاتے تو وہ اس سے پہلے اپنے سارے گھریلو، دفتری، ذاتی، نفسیاتی، غرض ہر طرح کے مسائل، ہماری جھولیوں میں ڈال جاتے۔ زندگی، اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ میرے سامنے ننگی ہوتی چلی گئی تھی۔ مُجھ پہ یہ تلخ حقیقت طاہر ہُوئی کہ زندگی، نہ صرف مُشکل ہے بلکہ بدبودار بھی ہے۔
It was something too much for an eighteen year old kid to digest
اُن تین مہینوں نے میری روح میں ایک عجیب سی اُداسی گھول دی ہے۔ میں ہنس بھی لیتا ہُوں، مُسکرا بھیُ لیتا ہُوں، مگر قہقہہ لگانا بھول چُکا ہُوں۔

رات بھر پینے والوں کو جب ہم لوگ اُٹھا کر اُن کی گاڑیوں میں ” ڈالنے” جاتے تو وہ اس سے پہلے اپنے سارے گھریلو، دفتری، ذاتی، نفسیاتی، غرض ہر طرح کے مسائل، ہماری جھولیوں میں ڈال جاتے۔ زندگی، اپنی تمام تر بدصورتیوں کے ساتھ میرے سامنے ننگی ہوتی چلی گئی تھی۔ مُجھ پہ یہ تلخ حقیقت طاہر ہُوئی کہ زندگی، نہ صرف مُشکل ہے بلکہ بدبودار بھی ہے۔
اُن تین مہینوں نے میری روح میں ایک عجیب سی اُداسی گھول دی ہے۔ میں ہنس بھی لیتا ہُوں، مُسکرا بھیُ لیتا ہُوں، مگر قہقہہ لگانا بھول چُکا ہُوں۔

یہ ہوٹل حسن امین کا تھا، جو اپنی جوانی میں، میڈم نور جہان کے ساتھ تعلق کے لئے مشہور تھے۔ اُن کے دو بیٹوں نے بعد میں بڑا نام کمایا۔ تیمور حسن نے Golf میں، اور طارق امین نے Showbiz میں۔

چونکہ یہ ہوٹل پنڈی اسلام آباد میں سب سے بڑا ہوٹل تھا، اس لئے سارے بڑے سرکاری فنکشن/ ڈنر یہیں ہُوا کرتے تھے۔ ایک دن پتہ چلا کہ صدر ایوب، پاکستان کے دورے پہ آئے ہُوئے چین کے چیرمین لی شاو چی کے اعزاز میں state dinner دے رہے ہیں، اور جس صوفہ پہ صدر ایوب اور لی شاو چی بیٹھیں گے، وہاں میری ڈیوٹی لگی ہے۔ میں چونکہ اُن دنوں باڈی بلڈنگ کیا کرتا تھا، اور سمارٹ بھی تھا، سو مُجھے prized positions پہ لگایا جاتا تھا۔ پھر میں، انگریزی بولنے کی وجہ سے، حسن امین اور کیپٹن مظہر اللہ کا فیورٹ بھی تھا۔

خیر میں اپنی ڈیوٹی پہ مستعد کھڑا تھا، جب صدر ایوب، لی شاو چی اور باقی معززین ہال میں داخل ہُوئے۔ باقی لوگ اپنی اپنی نشستوں کی طرف بڑھے اور ہمارے صدر اور چینی مہمان اُس صوفے کی سمت، جہاں میں کھڑا تھا۔ لی شاو چی کی نظر مُجھ پہ پڑی، تو نجانے اُنہیں کیا سُجھی کہ میری طرف ہاتھ بڑھا دیا (غالباً اُنہوں نے سوچا ہو گا کہ پرولتاری طبقہ کے فرد سے بھی مِلنا چاہئے )۔ میں نے بدحواسی میں دونوں ہاتھوں سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس پر جنابِ لی نے بھی دونوں ہاتھ جوڑ لئے، اور چینی سٹائل میں گرمجوشی سے بازو اُوپر نیچے ہلانے شروع کر دئے۔ یہ عمل کوئی بیس تیس سیکنڈ چلا ہو گا، لیکن مُجھے یوں لگا جیسے صدیاں بیت گئی ہوں، کیونکہ میں دیکھ رہا تھا کہ ایوب خان سمیت، سارے مہمان ہمیں دیکھے جا رہے تھے کہ یہ دو، فارغ ہوں تو سب لوگ اپنی اپنی نشستوں پہ بیٹھیں ! پسینے کے قطرے میرے ماتھے کو بھگو چُکے تھے۔ خیر اللہ اللہ کر کے لی صاحب نے میرا ہاتھ چھوڑا، اور سب لوگ بیٹھے اور فنکشن کا آغاز ہُوا۔ جب گھر جا کے میں نے یہ واقعہ سُنایا تو سب کی یہ متفقہ رائے تھی کہ، میری چھوٹی چھوٹی آنکھوں کے پیشِ نظر، لی شاو چی نے یقیناً مُجھے بھی ایک چینی ہی سمجھا ہوگا۔ خیر، اگلے دن ہوٹل گیا تو ایک وارننگ لیٹر مِلا، اور جُرم یہ لکھا تھا کہ: I tried to get chummy with a VVIP وہ دن اور آج کا دن، میں ہمیشہ وی وی آئی پیز سے دُور ہی رہا ہُوں۔ جس بلڈنگ میں یہ ہوٹل ہُوا کرتا تھا، آجکل وہاں پاکستان کا فارن آفس ہے۔

ہوٹل کے پانچ فلور تھے، جن میں سے پہلے دو وہ تھے جہاں مختلف مُلکوں کے سفارتکار اور اُن کی فیملیز مستقل بنیادوں پہ رہائش پزیر تھیں۔ یہ اس لئے تھا کہ اسلام آباد ابھی بن رہا تھا، اور شہر میں accommodation کے شدید مسائل تھے۔ دوسرے دو فلور ہوٹل میں عارضی طور پہ آ کے رہنے والوں کے لئے تھے، جبکہ آخری فلور سٹاف کے اُن لوگوں کے کے کام آتا تھا، جنہیں رات گزارنی پڑتی تھی۔ ہم بس Reception سے کسی کمرے کی چابی اُٹھاتے اور سجے سجائے کمرے میں جا گھُستے۔ میں نے تین مہینوں میں کوئی دس بارہ دفعہ رات گُزاری ہے، لیکن ہر مرتبہ ایک نئے کمرے میں۔

ہوٹل کا ایک بینڈ بھی تھا جو ہر رات Dinning hall میں مختلف دھُنیں بجایا کرتا تھا۔ Saturday night کو ایک رنگا رنگ Cabaret بھی ہوتا تھا۔ میرے شریف والدین کو تو علم نہیں تھا کہ اُن کا بیٹا کس ماحول میں نوکری کر رہا ہے، لیکن اس تجربے نے یہ بھی مُجھے سکھایا کہ اگر والدین، خود عمل کر کے اور دکھا کے، اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت کریں، تو بُرے سے بُرے ماحول میں بھی اُن کے قدم لغزش نہیں کھاتے۔

کبھی کبھی جب Bar میں رش کم ہوتا، تو ہمیں وقتی طور پہ Dinning Hall میں ڈیوٹی کرنے کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔ وہاں ہمارا کام صرف آرڈر لینا تھا، باقی کام ویٹر کیا کرتے تھے۔ Dinning room کے حوالے سے دو واقعات قابل ذکر ہیں۔ ایک رات یوں ہُوا کہ اُس وقت کے ایرانی سفیر ہال میں داخل ہُوئے اور سارا ہال چھوڑ کے، اُس ٹیبل پہ جا کے بیٹھ گئے جہاں سے تازہ تازہ ایک فیملی کھانا کھا کے گئی تھی، اور گندی پلیٹیں ابھی تک ٹیبل پہ بکھری پڑی تھیں۔ مُجھے بہت عجیب لگا، اور چونکہ وہ بار میں میرے ہاتھوں سے کئی مرتبہ پی چُکے تھے، اور مُجھے پہچانتے بھی تھے، اس لئے میں اُن کے پاس گیا اور مُسکراتے ہُوئے بڑے ادب سے کہا:

Good evening your Excellency, I hope you won’t mind going to another table !
میرے اس معصومانہ سوال کے جواب میں اُنہوں نے میری طرف دیکھا اور جواب میں کہا، I will mind. ایک سیکنڈ کے لئے تو مجھےسمجھ ہی نہ آئی کہ کیا کہوں، بس یہی کہہ پایا کہAs you wish, Sir۔ یہ میری زندگی کا پہلا embarrassing moment تھا۔ ہمیں پہلے ہی دن بتا دیا گیا تھا کہ اس شعبہ میں پہلا اصول یہ ہے کہ، The customer is always right
اُن ہی دِنوں میرے ماموں ایوب جاوید، جو نیو جوبلی انشورنس کمپنی میں، لاہور سے لے کے پشاور تک کے جنرل مینیجر تھے، اپنے، کراچی سے آئے ہُوئے سیٹھ، امیر علی فینسی کے اعزاز میں ایک ڈنر دے رہے تھے۔ اس ڈنر میں کمپنی کے لوکل افسران بھی شامل تھے، جو مُجھے اچھی طرح جانتے تھے کہ میں ایوب جاوید کا بھانجا ہُوں۔ اس ڈنر کا مُجھے اس طرح پتہ چلا کہ اُن کے آنے سے پہلے، بارہ آدمیوں کے ایک ٹیبل پہ لکھا ہُوا تھا کہ یہ جگہ نیو جوبلی انشورنس کمپنی کے ایوب جاوید صاحب کے لئے ریزروڈ ہے۔ میں اگر چاہتا تو اُن کے آنے سے پہلے ہی بڑی آسانی سے وہاں سے غائب ہو سکتا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ اپنی ego کو مارنے اور محنت کی عظمت کو اجاگر کرنے کا اس سے بہتر کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔ سو، میں نے اُس ٹیبل کو serve کیا۔ میرے ماموں سمیت سب نے بے حد appreciate کیا۔

ریڈیو پاکستان ہر سال جشنِ بہاراں کے نام سے موسیقی کے پروگرام کا اہتمام کیا کرتا تھا، جو عموماً اوپن ایر ہوتا تھا۔ اُس سال اسے پنڈی میں ہونا تھا، لیکن ایک دن پہلے بارش ہو جانے کی وجہ سے اسے اوپن ایئر کی بجائے ہوٹل شہرزاد میں شفٹ کر دیا گیا۔ صدر ایوب اس کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اس شو کے دوران مُجھے اُستاد سلامت/ نزاکت، روشن آرا بیگم، مہدی حسن صاحب، اور اُستاد امانت علی/ فتح علی کو سُننے اور ملنے کا موقعہ مِلا۔ فنکشن کے بعد حسن امین صاحب نے مہدی حسن کو رات کے لئے بُک کر لیا، اور یوں اُنہیں بالمشافعہ سُننے کا موقعہ مِلا۔ سب کو شراب پلانے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ یہ محفل اُس وقت اختتام پزیر ہُوئی، جب طبلے والے اَدھ موئے ہو کے اپنے طبلوں پہ جا گِرے۔

اُنہی دنوں زولفقار علی بھُٹو کو ایوب خان کی کیبینٹ سے نکال دیا گیا تھا، اور فارن سیکرٹری، عزیز احمد کو بھی ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ فارن آفس والوں نے ان دونوں کے اعزاز میں ایک الوداعی کھانے کا اہتمام کیا۔ اس میں بھُٹو صاحب اور عزیز احمد دونوں شریک ہُوئے۔ اور حکومت کی پالسیوں کے خلاف ایک diplomatic تقریر بھی کی۔

جب فنکشن ختم ہُوا تو پتہ چلا کہ بھٹو صاحب اور عزیز احمد رات ہوٹل میں ہی گزاریں گے، اور میری ڈیوٹی اُنہیں شراب serve کرنے پہ لگی ہے۔ اُن کے کمرے کے ساتھ والے کمرے کو ایک mini bar میں تبدیل کر دیا گیا اور مُجھے رات بھر وہاں رہنا تھا، کہ وہ جو بھی مانگیں، اُنہیں فوراّ مہیا کر دیا جائے۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد Internal phone پہ بتا دیتے اور میں اُن کے کمرے میں جا کے پیش کر دیتا۔ جتنی دیر مُجھے اُن کے کمرے میں ٹھہرنے کا موقعہ ملتا، تو اس دوران جو کُچھ میرے کان میں پڑتا، وہ میرے لئے ناقابلِ یقین تھا۔ نہ صرف ناقابلِ یقین، بلکہ کافی حد تک، ناقابلِ بیان بھی۔ جوں جوں نشّہ چڑھتا گیا توں توں، شخصیت کا ملمع اُترتا گیا۔ بھُٹو صاحب کا انتہائی Ambitious اور Vindictive ہونا، اس رات میرے سامنے کھُل کے ظاہر گیا۔ اسی لئے، میں اُن کی بے حد قابلیت اور پُر کشش شخصیت ہونے کے باوجود، کبھی بھی دل سے حامی نہ بن سکا۔

صبح جب وہ سو گئے تو میں “خُم و پیمانہ” سمیٹ کے واپس bar میں چھوڑنے کے بعد باہر نکلا تو طبیعت بہت بوجھل تھی۔ ہوٹل کے باہر دیکھا تو سحر پھوٹ رہی تھی اور پھولوں اور پتوں پہ شبنم کے قطرے چمک رہے تھے۔ سوچا باہر جا کے ٹھنڈی ہوا میں کُچھ دیر سیر کی جائے۔ جونہی باہر نکلا تو بجائے ٹھنڈی ہوا کے، گرم ہوا نے میرا استقبال کیا۔ ظاہر ہے کہ میں ایک انتہائی ٹھنڈی جگہ سے ایک کم ٹھنڈے ماحول میں آیا تھا تو ہوا کو گرم ہی محسوس کرنا تھا۔ اس سائنسی اصول کے افشا ہونے کے باوجود، دل کو سب کُچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ visual اور feelings کے درمیان بُعد، sink in کرنے میں بڑی دیر لگی۔ بچپن سے لے کر کے، اب تک کا سحر خیزی کا تجربہ، میری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہا تھا۔

اُس رات، اور پھر، صبح کے تجربے نے بتایا کہ لوگوں اور چیزوں کے بارے میں، preconceived notions کسی وقت بھی ٹُوٹ سکتے ہیں۔

(Visited 438 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: