“وارکیلکولیشن” میں کیا غلطی ہوسکتی ہے؟ —— نعمان علی خان

0
  • 77
    Shares

وزیرِ اعظم عمران خان صاحب نے اپنی حالیہ تقاریر میں ھندوستان کو مخاطب کرکے یہ بات یاددلائی تھی کہ تمام جنگیں اور ان میں ہونے والی تباہی، وار پلاننگ میں کسی نہ کسی غلط “کیلکولیشن” کا نتیجہ ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان پر اگر کوئی حملہ ہوا تو ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیدینگے۔ مگر حیرت ہے کہ ان کی تقریروں کے بعد ھند و پاک میں کسی بھی حلقے کی جانب سے ابھی تک موجودہ صورتحال میں ہو سکنے والی کسی بھی ممکنہ “مِس کیلکولیشن” کو تحقیق کرکے سامنے لانے کی کوشش نہیں کی۔ اور نہ کسی تھنک ٹینک نے اس بابت غور کیا کہ حملے کی کیا نوعیت ہوسکتی تھی اور پاکستان کا بلاتوقف جوابی حملہ کس نوعیت کا ہوتا۔ افسوس کہ کسی جانب سے بھی انتہائی سنجیدہ امور، انڈیا کی کولڈ سٹارٹ اور سرجیکل سٹرائیک ڈاکٹرنز اور پاکستان کی فرسٹ سٹرائیک، ٹیکٹیکل نیوکلئیر ویپنزاور نیوکلئِر تھریش ہولڈز فلاسفیزکی روشنی میں زیرِغور نہیں لائے گئے۔

چونکہ صورتحال عارضی طور پرخاصی حد تک انسانوں کے کنٹرول میں آچکی ہے اس لئیے آئیے “کیلکولیشنز” میں ہونے والی ان ممکنہ غلطیوں کا تجزیہ کرتے ہیں جن سے غالباً انڈیا اور پاکستان، اِس بار بال بال بچے ہیں۔

ایک بات تو طے ہے کہ دونوں ممالک کی انٹیلیجنشیا اور باقی دنیا اس بات پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی بھی کھلی جنگ، روایتی جنگ تک محدود نہیں رہ سکتی اور لازماً نیوکلئیر تصادم میں تبدیل ہوجائے گی۔ سو پہلے اس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا اِس بار انڈیا پاکستان کے ساتھ ایٹمی جنگ کرنا چاہتا تھا یا اس چاند ماری کو محض روایتی بارودی جنگ کی حد تک محدود رکھنا چاہتا تھا۔ اگرمقصد صرف روایتی جنگ تھا تو آخر اس روایتی جنگ کرنے سے اس کے کیا مقاصد تھے۔

لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ 27 فروری کی رات کو اگر ایٹمی طاقت ھندوستان کی جانب سے ہمارے ریڈار اور مانیٹرنگ سسٹم پر میزائل آتے ہوئے نظر آتے تو ہمارے لئیے ان میزائلوں کو روایتی بارودی حملہ تصور کرنا ناممکن ہوتا اور یہ بھی ناممکن تھا کہ ہم ان کے نشانوں پرگرنے کے بعد اپنے ردعمل کی نوعیت کا تعین کرتے۔ یا پاکستانی قیادت ہاٹ لائن پر هندوستانی قیادت سے یہ پوچھنے پر وقت ضائع کرتی کہ کہیں یہ ایٹمی حملہ تو نہیں۔ یہ بات بعید از قیاس ہے۔

اگر ھندوستان کی جانب سے ہماری جانب میزائیل آتے تو ہم اسے غیر روایتی حملہ ہی تصور کرتے سو، اِن میزائیلز کے اپنے نشانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی، جوابا” ہماری جانب سے بھی ایسا ہی حملہ ہونا ناگزیر تھا۔

ان امکانات پر غور کرنے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب جاننے کے باوجود کہ ہمارا جواب غیر روایتی بھی ہوسکتا ہے، آخر ھندوستان نے 27 فروری کی شب ہم پر میزائیلوں سے حملہ کرنے کی کیوں ٹھانی؟ اس سوال کا جواب یہی ہے کہ مبینہ طور پرجن دوست ذرائع سے ہمیں یہ اطلاع پہنچوائی گئی تھی کہ ھندوستان ہم پر میزائیلوں سے حملے کرے گا، ھندوستان نے دراصل انہیں اس بات کاجھوٹا تاثر دیا تھا۔ اور مقصد یہی تھا کہ ہم اس کے حملے کے جواب میں اپنی جانب سے اس سے بھی زیادہ تباہ کن حملے کی تیاری کی اطلاع اپنے ذرائع سےاس تک پہنچوائیں۔ واضح ہو کہ، انتخابی پوائنٹ سکورنگ کے ساتھ ساتھ ھندوستانی حکومت کا ہم پر یہ میزائیل حملہ پلوامہ میں مرنے والے اپنے فوجیوں کا بدلہ لینے کیلئیے اور ہمارا جواب اس بدلے کے جواب میں اس سے تین گنا زیادہ نقصان دہ حملہ کرنے تک محدود ہوتا۔ یعنی دونوں جانب سے ایٹمی حملہ کرنے کا اعلانیہ تاثر نہیں دیا گیا تھا۔ مگر، پھر سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے جوابی حملے کے جواب میں کیا ھںدوستان اس سے بھی زیادہ مہلک حملہ نہیں کرتا؟ یعنی آخر کسی نہ کسی سٹیج میں تو یہ صورتحال ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونا ہی تھی؟ تو کیا انڈیا واقعی ہمارے ساتھ ایٹمی جنگ چاہتا ہے؟ اس کا جواب ایک واضح “نہیں” ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان پر پلوامہ کا الزام لگا کر اپنے عوام کو پاکستان کو سبق سکھانے کا تاثر دینے کے مودی حکومت کے واضع سیاسی مقاصد ہیں اور خود انڈین اپوزیشن اس بارے میں مودی پر شدید الزامات لگارہی ہے۔ لیکن صرف یہی ایک وجہ نہیں ہے ہندوستان کی پاکستان کے ساتھ بارڈر گرم کرنے کی۔

ہم اوپر یہ نتیجہ نکال چکے ہیں کہ ھندوستان نے میزائیل حملہ کرنے کا فقط جھوٹا تاثردیا تھا۔ جبکہ اس کا ارادہ واقعی میزائیل حملہ کرنا نہیں تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں ایٹمی جنگ ناگزیر ہوتی۔ تو اب سوال اٹھتا ہے کہ انڈیا صورتحال کو اس حد تک کیوں نہیں لانا چاہتا کہ بات ہماری جانب سےغیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچے؟

اس کا جواب ہے کہ بھارت نے حملہ کئیے بغیر میزائیل حملے کے خطرے کی مذکورہ کیفیت اس لئیے پیدا کی تھی کہ ایک نئی سٹریٹجک پریسیڈنس قائم ہوجائے اور وہ یہ کہ انڈیا اور پاکستان جیسے دو ایٹمی ممالک کے درمیان روایتی جنگ بھی ہوسکتی ہے جس میں نیوکلئیر ہتھیاروں کے استعمال کا امکان نہ ہو۔ سو، ایسی جنگ میں صرف روایتی بارودی اسلحہ والے میزائیل استعمال کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے جیسا کہ دونوں ملکوں نے اِس بار اِن عام میزائلوں کے استعمال کے بارے میں سوچا۔

یہ تھا بھارت کا وہ اصل مقصد جو وہ اس پوری صورتحال سے حاصل کرنا چاہتا تھا کہ یہ تاثر عام کردیا جائے کہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ ہونا ایک عام سی بات ہے تاکہ ان ملکوں، خصوصاً پاکستان کے شہری اور باقی دنیا دونوں ملکوں کے ایٹمی طاقت بننے کے باوجود ان کے درمیان غیر ایٹمی جنگ کا ہونا فار گرانٹڈ لینے لگیں۔

اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایسی کوئی پریسیڈنس قائم ہوجاتی ہے تو اس کا سراسر فائدہ ھندوستان کو ہوگا۔ ھندوستان کی روایتی فوجی قوت ہم سے زیادہ ہے۔ یہ ہم پر مسلسل روایتی جنگ کی صورتحال مسلط رکھ سکتا ہے، لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کی طرح، ہماری تمام جغرافیائی سرحدوں پر جھڑپیں چھیڑ سکتا ہے، سیاچین کی طرح ہمارے دوسرے سرحدی علاقوں کو ہتھیا سکتا ہے، کشمیر کے معاملے میں اپنی شرائط منواسکتا ہے، ہمارے باقی رہ جانے والےدریاؤں کا پانی اپنی مرضی کے مطابق ہتهیا سکتا ہے اور یوں مسلسل روایتی جنگ میں مبتلا رکھ کر ہماری توجہ اور وسائل قومی ترقی کے منصوبوں کی جانب سے ہٹائے رکھ سکتا ہے۔

جب کہ ہمارے لئیے ضروری ہے کہ اپنی انسانی و قومی ترقی کو یقینی بنائیں۔ اس مقصد کے حصول کیلئیے بھارت کے ساتھ پانی اور کشمیر کے مسلے حل کرکے امن و امان قائم کریں لیکن جب تک ھندوستان یہ مسائل حل نہیں کرتا اس کی جانب سے ہم پرپھینکے جانے والے کسی بھی روایتی جنگ کے جال میں نہ پھنسیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ بھارت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ وہ روایتی جنگ کا تاثر دے کر کسی وقت بھی دھوکا دے کر ہمیں ایسی ایٹمی جنگ میں مبتلا کرسکتا ہے جس میں سارا نقصان یکطرفہ ہو اور ہمارا ہو۔ لہذہ ضروری ہے کہ جب بھی ھندوستان ہمیں کسی روایتی جنگ میں مبتلا کرنا چاہے ہماری جانب سے اس پر واضع ہونا چاہئیے کہ یہ جنگ روایتی دائرے میں محدود نہیں رہے گی اوراس غیر روایتی جنگ کی ایسکیلیشن لیڈر ہمارے اختیار میں ہوگی۔

سو اب دیکھتے ہیں کہ کیلکولیشن کی وہ کیا کیا غلطیاں ہوسکتی تھیں کہ جوھندوستان کے سجائے ہوئے آگ کے اس کھیل کو ہوا دے سکتی تھیں۔ ایک غلطی تو یہی تھی کہ میزائیل حملہ کرتے یا نہیں لیکن ایسا پیغام ہم تک پہنچنا کہ ھندوستان میزائیلوں سے ہم پرحملہ کرے گا ہماری جانب سے پری ایمپٹِو حملے پر بھی منتج ہوسکتا تھا۔

اور اگر واقعی وہ میزائیلی حملہ پاکستان پر کرتے، جس کے بارے میں ہم اوپر طے کرچکے ہیں کہ اس کا امکان نہیں تھا، تو دنیا کی تزویراتی تاریخ میں یہ کیلکولیشن کی سب سے بڑی غلطی ہوتی۔ اور اگریہ غلطی ھندوستان کی جانب سے سرزد ہوجاتی تو آج بر صغیر سمیت انسانی تہذیب نیوکلیئر ویسٹ کے فال آوٹ میں دفن ہوچکی ہوتی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 27 فروری کی رات کو شدید خطرہ تھا کہ بھارت پاکستان کے سات آٹھ مقامات پر میزائیلوں سے حملہ کرے گا جس کے جواب میں پاکستان ھندوستان کے بارہ پندرہ ٹارگیٹس کو ہٹ کرتا۔ یہ بات اہم دوست ممالک کی جانب سے پاکستانی قیادت کے علم میں لائی گئی اوردوستوں نے دونوں ملکوں کی قیادت سے بات کی جس کے نتیجے میں ھندوستان پاکستان کو سبق سکھانے کے اپنے احمقانہ ارادے سے باز رہا۔

ہم اوپر یہ جان چکے ہیں کہ انڈیا نے ایسے میزائیلی حملے کا صرف تاثرہی دیا تھا۔ مگرانڈیا کی گھڑی ہوئی اس کہانی میں ایک خطرناک جھول بھی ہے جسے میڈیا کے تزویری ماہرین نے نظر انداز کیا ہوا ہے۔

یہاں چند انتہائی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں:

1: سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بات یقینی ہے کہ بھارت کا ممکنہ میزائیل حملہ پاکستان کے نیوکلئیر تھریشولڈز کو کراس نہیں کرتا؟ اگر ہے تواس بات کی کیا ضمانت تھی یا ہے؟
2: کیا میزائیل حملہ بهی جنگی جہازوں کے حملے جیسا ہوتا ہے؟
وہ ٹهیک ہے کہ دونوں ملکوں کے پاس ایسے جنگی جہاز موجود ہیں جو ایٹمی ہتهیار بهی لے جاسکتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کی فضائی قوت اتنی مضبوط ہے کہ کسی ایک کے جنگی جہازوں کا دوسرے کے اندر ٹهیک ٹهیک نشانوں تک پہنچنا آسان نہیں۔ لیکن میزائیلوں کی صورت میں معاملہ مختلف ہے۔
3: تو سوال اٹھتا ہے کہ دونوں جانب میزائیل انٹرسیپشن اورمیزائیل ڈیفنس سسٹم کس قدر قابلِ بھروسہ ہیں؟ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئیے کہ خلیج کی جنگ کے دوران اسرائیل میں عراق کے سکڈ میزائیلز اور حالیہ زمانے میں یمن کی جانب سے سعودیہ میں آنے والے سکڈ میزائیلز کو دونوں ملکوں میں انسٹالڈ امریکی پیٹریاٹ میزائیلز کی شیلڈز خاصی حد تک روکنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔
4: ایک اور سوال جس کا جواب زیر بحث لانا ضروری ہے وہ یہ کہ کیا پاکستان اور ھندوستان کے درمیان کوئی ایسا معاہدہ موجود ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں اگر میزائیل داغے گئے تو ان پر فقط روایتی وار هیڈز نصب ہوں گے؟ اگر ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس پر قائم رہنے کی دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو کیا ضمانتیں دی ہوئی ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ یا ایسی ضمانتیں موجود ہی نہیں۔ اور ایسا معاہدہ ہونا ممکن بھی نہیں۔ اگر یہ ممکن ہوتا تو ایسا معاهدہ اور ضمانتیں گزشتہ صدی میں سرد جنگ کے دوران سوویت یونین اور امریکی بلاک کے درمیان بهی موجود ہوتیں۔

اِن تمام نکات کے تجزئیے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہم پر کوئی بھی میزائیل حملہ روایتی جنگ کے حملے کے طور پر نہیں لیا جاسکتا اور ہمارا جواب اپنی ڈاکٹرن اور نیوکلئیر تھریشولڈز کے مطابق ہونا ناگزیر ہے۔
اب واپس آئیں گزشتہ چند دنوں میں پاک و ھند کے درمیان پیدا ہونے والی جنگی صورتحال پر۔ سوال اٹھتا ہے کہ ھندوستان 27 فروری کی رات کو پاکستان پر کس طرح کے میزائیلز سے حملہ آور ہونا چاہتا تها اور خود پاکستان اس میزائیلی حملے کا جواب کس قسم کے میزائیلز سے دینے کا ارادہ رکھتا تها؟

کیا ہم ھندوستان کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین پر مکمل یقین رکھتے ہیں؟ کیا ہمیں جب بھی ریڈارز پر اپنی جانب هندوستانی میزائیلز آتے نظر آئیں گے تو ہمیں واقعی یہ یقین ہوگا کہ ان سب میزائیلز میں سے ایک پر بھی نیوکلیئر وار هیڈ نہیں ہوگا اور یہ حملہ محض ان کی شارٹ ڈسٹنس (لائٹننگ) سٹرائیک ڈاکٹرن کے مطابق ہوگا؟

ہماری سٹریٹجک کمانڈ دنیا کی باصلاحیت ترین کمانڈز میں سے ایک ہے اوریہی وجہ ہے کہ انڈیا کیلئیے ہم پر میزائیل حملہ کرنا ممکن نہ ہوا کہ انہیں معلوم تھا کہ ہماری جوابی ڈاکٹرن کیا نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ یوں بھی گذشتہ صدی سے یہ نکتہ کسی بهی دو متحارب ایٹمی ممالک کی سٹریٹجک پالیسی کا اعلانیہ طور پر سنگ بنیاد رہا ہے کہ اگر ایک کو شائبہ بھی ہوا کہ اس پر ایٹمی حملے میں پہل کی گئی ہے تو دوسرے کا جواب روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں ہوگا۔ لہذا ھندوستان کے ساتھ ایٹمی یا غیر ایٹمی جنگ سے بچنے کا ایک ہی حل ہے۔ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہمارا نیوکلئیر تھریش ہولڈ اس نکتے پر بالکل واضع ہوکہ پاکستان اپنی جانب آنے والے ہر میزائیل کوبھارت کا غیرروایتی حملہ تصور کرے گا۔

(Visited 272 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: