پاکستان اور ہندوستان: فاتح کون؟ —– طاہرعلی خان

0
  • 3
    Shares

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پلوامہ حملہ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران اب تک پاکستان ہندوستان کے مقابلے میں عملی طور پر ہی نہیں اخلاقی طور پر بھی فاتح بن کر سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے ثابت کردیا کہ یہ امن و انسانیت سے پیار کرنے والے، باعزت اور قومی سالمیت کےبارے میں حساس لوگوں کی سرزمین ہے۔ کیا ہندوستان کو اپنے ایسے پڑوسی پر فخر نہیں ہونا چاہیے؟

کشمیری نوجوان نے جب ایک فوجی کانوائے پر خود کش حملہ کیا تو ہندوستان کی بی جے پی حکومت، جو بظاہر آئندہ انتخابات میں پاکستان مخالف جذبات پیدا کرکے فائدہ اٹھانا چاہتی تھی، اور اکثر صحافیوں نے بلاتحقیق پاکستان کو قصوروار قرار دینا شروع اور اسے سزا دینے کا ارادہ ظاہر کردیا۔ حکومت کے طرزعمل کا اصل مقصد فیس بک پر موجود ایک تبصرے سے عیاں ہےجس میں کہا گیا ”یہ جو سرحد پر تناٶ ہے۔ کیا یہاں چناٶ ہے؟“۔  یہ ایک غیر منصفانہ طرزعمل تھا۔

ہندوستانی حکومت اورمیڈیا جنگ اور انتقام کی بات کرتے رہے جبکہ اس کے برعکس پاکستانی وزرإ، صحافی اور فوجی ترجمان باوقار انداز اپنائے پلوامہ حملے کی تحقیقات میں مدد اور امن مذاکرات کی پیشکش کرتے رہے۔

ہندوستان نے تاہم اسے پاکستان کی کمزوری یا بزدلی گردانتے ہوئے توجہ ہی نہیں دی اور انتقام کی بات کرتا رہا۔ اس کے باوجود ہمارے وزرإ اورفوجی ترجمان یاد لاتے رہے جنگ میں صرف انسانیت ہی ہارتی ہے۔

ہندوستان کے اس طرزعمل کے معنی یہ ہیں کہ جب بھی وہاں انتخابات ہوتے ہوں تو ایسے واقعات آئندہ بھی پیش آتے رہیں گے اور پاکستان کو ایسی صورتحال میں اپنے بچاٶ کے لیے پیش بندی کرنا ہوگی۔

اس پورے بحران کے دوران دنیا کی”بڑی جمہوریت“ نے بریفنگ میں کسی صحافی کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے برعکس پاکستانی وزرإ اور فوج کے ترجمان ہر قسم کے سوال و جواب کے لیے دستیاب رہے۔

یاد رہے پاکستان باربار ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دیتا آرہا ہے لیکن ہندوستان رعونت سے مذاکرات سے انکار حتیٰ کہ پاکستان سے کھیلوں تک میں بائیکاٹ پر اتر آیا۔

پاکستانی سپاہی مقبول حسین جو 1965 کی جنگ میں ہندوستان کا قیدی بنا تو اس کی زبان کاٹ دی گٸ اور جب 40 سال کے بعد وہ رہا ہوا تو جسمانی طور پر معذور تھا۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج نے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نیندن کو عوام کے غیض و غضب سے بچایا، عزت سے رکھا اور صحیح سلامت اپنے ملک بھیج دیا۔

اور اب جب امن کے نام پر پاکستانی وزیراعظم نے گرفتار بھارتی پاٸلٹ کو رہا کردیا تو اس اعلان کا خیر مقدم کرنے کے بجاٸے بعض ہندوستانی صحافی کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو ابھی نیندن کو رہا کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کیا یہ ایک باوقار طرزعمل ہے؟

ہندوستان میں حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے جب کہ پاکستان کی پوری سیاسی و مذہبی قیادت، حزب اختلاف اور صحافی حکومت اور فوج کے ساتھ رہے۔ یہ ایک قابل تقلید روایت ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امن لانے کے لیے اپیلیں کیں، بالاکوٹ حملے سے پہلے ہندوستان ایلچی بھیجا، وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی اور باوجود یہ کہ ہندوستانی حکومت نے اپنے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نیندن کی رہاٸی کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا، ان کے گرفتار پائلٹ کورہا کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن پاکستانی حزب اختلاف نے ان کو غداری کا طعنہ نہیں دیا حالانکہ ان جیسے کاموں پر ماضی میں موجودہ حزب اقتدار حکمرانوں کو غدار اور ہندوستانی ایجنٹ قرار دیتی آئی ہے۔ معلوم ہوا کہ ہندوستان کے ساتھ امن اور مذاکرات کے لیے کوشش کرنا غداری نہیں، مجبوری ہے۔

(Visited 67 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20