امجد اسلام امجد کی نظم ۔۔۔ دوسرا حصہ

0

احمد جاوید صاحب کی دانش کے لئے خصوصی تحریر

اپنی ایک نظم میں امجد نے اس تخلیقی تسلسل کی خود ہی تصویر کشی کر دی ہے :

جب کبھی بے گماں ، بات سوجھی کوئی

بے ارادہ اُسے ذہن میں رکھ لیا

پھر اچانک کسی اور ہی بات سے

آپ ہی آپ سے

بات سے بات کا یوں سرا مل گیا

حرف جڑتے گئے، لفظ ملتے گئے

دل کے اندر کہیں رُت بدلنے لگی

دیکھتے دیکھتے، پاؤں چلنے لگی

نظم بننے لگی

ایک مصرعے کو جب راستا مل گیا

بے سہارے کو جیسے خدا مل گیا

استعارے کئی

خود بخود آگئے آمنے سامنے

اور کچھ دیر میں ، بھیڑ سی لگ گئی

دل کی دہلیز پر

پھر اُسی ایک مصرعے کی انگلی پکڑ

اک رواں بحرمیں، جانے کس لہر میں

اجنبی اک مسافر نے دستک جو دی

شہر ِ امکان کے بابِ اظہار پر

ایک سے اِک نیا باب کھلنے لگا

روشنی چلمنوں سے نکلنے لگی

ہم کھڑے رہ گئے، راہ چلنے لگی

نظم بننے لگی              

اِس نظم میں بہت خوب صورتی سے یہ بتایا اور دکھایا گیا ہے کہ جو نظم ’نازل‘ ہوتی ہے اُس کی کیفیت ِ نزول شاعر تک محدود نہیں رہتی بلکہ قاری کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ جو شاعر آمد کے احوال اپنے پڑھنے والے پر طاری نہیں کر سکتا وہ جیسے کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے۔ امجد اسلام امجد اپنے اوپر اترنے والی کسی نعمت کی نا قدری نہیں کرتے اور اس میں دوسروں کو شریک ضرور کرتے ہیں۔ ذرا اِس نظم کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلے ہی دو مصرعے ایسے ہیں کہ جن سے ایک بڑی تھیوری اخذ کی جا سکتی ہے :

جب کبھی بے گماں، بات سوجھی کوئی

بے ارادہ اُسے ذہن میں رکھ لیا

یہ سادہ سے مصرعے ارادہ و شعور کی ماہیت پر ایسی روشنی ڈال دیتے ہیں کہ یہ دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے کہ ارادے اور شعور کا اندرونی نظام کیا ہے، اوراِس نظام میں جو ایک ’دہرا پن‘ کار فرما ہے، اُس کی نوعیت کیا ہے۔ اِ ن لائنوں میں سامنے کی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات کوئی بات جو ایک پورے ڈس کورس کا خلاصہ یا محرک ہوتی ہے، اچانک ہی سوجھ جاتی ہے۔ شعور میں در آنے والی اس معرفت کو تصوف میں القا، فلسفے میں وجدان ، منطق میں حدس اور شاعری میں آمد کہتے ہیں۔ ایسی آمد صرف ذہن پر نہیں ہوتی بلکہ شخصیت کا سارا در وبست اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ بے گمان سوجھنے والی بات صاحبِ آمد کی شخصیت کے مرکز میں جذب ہو جانے کے با وجود اپنا غیر شخصی کردار اور پہچان برقرار رکھتی ہے۔ یہ بات محض ادراک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اپنے اظہار کا  بھی تقاضا کرتی ہے ۔ تقاضا یہاں ہلکا لفظ ہے ،  آمد کا contentاپنی ساخت میں ہی اظہار ہوتا ہے، فقط ادراک نہیں۔ اور یہیں سے ایک بڑا جمالیاتی بھید کھلتا ہے کہ حسن نام ہے ادراک پر اظہار کے غلبے کا ! ان دو لائنوں میں استعمال ہونے والے بنیادی لفظوں یعنی گمان ، سوجھنا ، ارادہ  اور ذہن کا ذرا سا بھی تجزیہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ شاعر اپنے تخلیقی احوال میں ایک ایسی متوازیت سے گزر رہا ہے جو شعور اور وجود کے درمیان بھی کا رفرما ہے اور خود اِن دونوں کا اپنا اپنا نظام بھی اسی کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ اس ہمہ گیر متوازیت کو دیکھنے کے کئی زاویے ہو سکتے ہیں مگر چونکہ ہمیں شاعری کے دائرے میں رہنا ہے لہذا اسے اس طرح کھولنے کی کوشش زیادہ مناسب ہے جس کے نتیجے میں اس متوازیت کے جمالیاتی عناصر واضح ہو جائیں۔ ’گمان‘ ذہن کی فعلیت کا نتیجہ ہے ، یعنی ذہن اپنے طور پر ، خود اپنی حرکت سے جس علم یا تصور تک پہنچے گا ، وہ ’گمان‘ ہے جس میں اسبابِ یقین تو پائے جاتے ہیں مگر خود یقین اُس کی دسترس سے باہر رہتا ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ گمان میں یقین کے بعض اجزا تو ہوتے ہیں لیکن یقین کا کل اُس کی سمائی سے زیادہ ہوتا ہے۔ امجد بے گمانی کی جس حالت کا ذکر کر رہے ہیں وہ ذہن نہیں بلکہ مجموعی شعور کی حالتِ انفعال (state of passivity)ہے جس کے بغیر شعور میں حقائق سے اور ما ورائے دید مناظر سے مناسبت پیدا ہی نہیں ہو سکتی ۔ شعور میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ادراک میں نہیں آتیں، یعنی شعور اُن تک اپنی کاوشوں سے نہیں پہنچ سکتا۔ ادراک کے دائرے سے باہر رہنے والی یہ چیزیں کسی لمحۂ انفعال میں شعور پر منکشف ہو جاتی ہیں لیکن یہ انکشاف بھی اُن کے اظہار کے لیے ہوتا ہے، ادراک کے لیے نہیں۔ امجد اسلام امجد نے اسی عمل کو سوجھنے کا نام دیا ہے جس سے غالباً یہ بتانا مطلوب ہے کہ شعور اپنی نامعلوم گہرائیوں سے خود بخود ابھر کر سطح پر آجانے والی باتوں کو ادراک میں آسکنے والی چیزوں کی طرح نہیں دیکھتا بلکہ اُن باتوں کی حضوری(presence)کے کچھ احوال اپنے اندر جذب کر کے اُن کے اظہارکا راستہ بناتا ہے۔ اظہار پا لینے کے بعد اُن باتوں میں کسی مفہومی تحدید سے ما ورا ہونے کی کیفیت محفوظ رہتی ہے۔ اسی لیے’ آمد ‘ پر مبنی ہر بیان میں معنی کی ساخت حسی زیادہ ہوتی ہے اور ذہنی کم ۔ یہی معنی کی جمالیاتی تشکیل ہے جس میں مرادِ شاعر کی کوئی بنیادی حیثیت نہیں ہوتی۔

                   دوسرے مصرعے میں بے ارادہ کا مطلب یہ ہے کہ جو بات کسی پیشگی گمان کے بغیر سوجھی ہے وہ سجھائی دینے کے بعد بھی شعور کی فاعلی سطح سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتی ہے۔ شعور اُس کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کر سکتا جو اپنے مدرکات کے ساتھ رو ا رکھتا ہے۔ یہ ’بات ‘ پورے شعور میں ایک خلاقانہ اور پُر احوال گردش کے بعد شعور کی جس فیکلٹی میں چاہے اپنا ٹھکانا بنا لیتی ہے۔ ذہن میں رکھ لینے سے یہ مراد نہیں ہے کہ اُس بات کو شعور کی فعال قوت کی تحویل میں دے دیا جو اُس کے معنوی اور مفہومی حدود طے کرے گی ۔ یہاں ذہن صرف حافظہ ہے، ایک تخلیقی حافظہ۔  ’ رکھ لیا  ‘ کے ٹکڑے ہی سے ظاہر ہے کہ ذہن کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔

پھر اچانک کسی اور ہی بات سے

آپ ہی آپ سے

بات سے بات کا یوں سرا مل گیا

حرف جڑتے گئے، لفظ ملتے گئے

دل کے اندر کہیں رُت بدلنے لگی

دیکھتے دیکھتے، پاؤں چلنے لگی

نظم بننے لگی

اِ ن بظاہر سادہ سی لائنوں میں تخلیقی عمل کو شروع کر کے تکمیل تک پہنچانے والی حرکت کو تصویر کیا گیا ہے۔ امجد اسلام امجدکی نظموں میں معنوی اور احساساتی تسلسل کہیں نہیں ٹوٹتا ۔ اِ ن کے ہاں خیالات اور احساسات نمو پذیری کے ساتھ آپس میں مربوط ہوتے ہیں۔ مفہومی ربط و ترتیب میں کوئی خلا پیدا ہوتا ہے نہ احساسات کے متوازن بہاؤ میں کوئی روک آتی ہے ۔ اس لیے نظم کا یہ ٹکڑا بھی ابتدائی دو مصرعوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ’ پھر ‘ یہاں حرفِ ربط بھی ہے اور نظم کی تخلیق کے اگلے مراحل کے بیان کا حرفِ آغاز بھی۔ اِس کے علاوہ یہ حرف، حرفِ تکرار بھی ہے، یعنی ایک تخلیقی تجربہ اپنی تکمیل کے مراحل خود کو بار بار دہرا کر طے کرتا ہے۔ اپنے آپ کو دہرانے کا یہ عمل اظہار پانے سے پہلے شاعر کے تخلیقی ضمیر میں چلتا ہے اور اظہار پا لینے کے بعد قاری میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ’پھر‘ حرفِ تدریج بھی ہے جس سے اس تجربے میں رچی بسی ہوئی قوتِ نمو کی طرف بھی اشارہ ہو جاتا ہے۔ ’اچانک‘ کا لفظ بھی خوب استعمال ہوا ہے۔ یہ ’پھر‘ سے جڑا ہوا بھی ہے اور اُس سے الگ ہو کر بھی ایک معنویت رکھتا ہے۔’پھراچانک‘یعنی دوبارہ پہلی مرتبہ کی طرح یہ تجربہ یا آمدپیشگی گمان اور ارادے کے بغیرہوئی ہے ۔ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو ’اچانک‘کے لفظ میں نظم کی آمدکا وہ وفوربھی سمایاہواہے جس کی بدولت شعور پرسے زمانی جبرٹوٹ جاتا ہے۔اپنی فاعلی حالت میں شعوروقت کی بیڑیوں میں جکڑا رہتا ہے لیکن ایک آمدشعور کے غیرزمانی ٹہراؤمیں ارتعاش پیداکر کے اُن بیڑیوں کو توڑدیتی ہے۔’اچانک‘ گویا ایک ماورائے وقت لمحے کا ظرف ہے، جوشعورکے انفعالی حاصلات کو جوڑکرایک وحدت میں ڈھال دیتاہے۔ شاعراِس لمحے کا سامنا حیرت،سرخوشی اوربے بسی کے ساتھ کرتا ہے۔’کسی اور ہی بات ‘ میں ’ہی‘ بہت معنی خیز ہے یعنی وہ بات پہلی بات سے بالکل مختلف ہےاوریہ اختلاف ایساہے کہ معمول کا شعوراسے حل نہیں کر سکتا،یعنی دونوں باتوں میں ربط نہیں نکال سکتا۔ یہ اِس آمدکافیضان ہے کہ شعورمیں منتشرباتیں آپس میں ایک نامیاتی جوڑپیداکرکے ایک کل کی صورت اورحالت اختیارکرلیتی ہیں،اورانہیں اپنے اظہارکے وسائل میسرآجاتے ہیں :

آپ  ہی  آپ  سے

بات سے بات کا یوں سرامل گیا

حرف جڑتےگئے، لفظ ملتے گئے

              اب ایک ایسامصرعہ آتا ہے جس سےانکشاف ہوتاہے کہ شعورکے تخلیقی احوال کااصلی گھر’دل‘ہے:

دل کے اندرکہیں رُت بدلنے لگی

پہلی نظر میں یہ عام سا بیان لگتا ہےلیکن اس ابتدائی تاثر سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔نظم کے سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے ذراغورسے دیکھیں تو یہ خاصی گہری اور تہہ دار بات ہے۔ہماری روایت میں دل ،محلِ حضور ہے جہاں غیب کی بھی کیفیت بدل جاتی ہے۔اس بنیادپراسے جمالیاتی شعورکامرکزبھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ جمالیات بھی غیب و شہود کی کشاکش سے پیدا ہوتی ہے۔اس پس منظرمیں یہ مصرعہ دراصل  یہ بتا رہا ہے کہ جس تخلیقی تجربے کو اوپر بیان کیا گیا ہے اُس نے حضور کو غیاب پر غالب کردیا ہے۔ ’رت بدلنے لگی‘ کا یہی مطلب ہے کہ دل جو تھک ہارکرغیاب کی نیندسو رہا تھا،اُسے اچانک حضور کی بیداری نصیب ہو گئی۔دل  کی آنکھیں کھلنے کا یہ عمل بھی ایک حرکتِ نمو کے ساتھ ہے۔ ’دل‘کے اندر سے مراد ہے دل کی دنیا جو باہر کی دنیا اور ذہن کی دنیا سے زیادہ وسیع ہے اور یہاں ہر چیز شعوراور وجودکی وحدت کے ساتھ موجود ہے جس سے ذہن اور کائنات عاری ہیں۔ ’اندر‘  کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ دل وہ شاہد ہے  جس کا مشہوداُس کے باہرنہیں ہے بلکہ اُس کے اندر ہی ہے  ۔ ظاہر ہے کہ شعورووجود کے ایک ہو جانے کے بعد ناظر((subjectاور منظور(object)کی وہ دوئی بر قرار نہیں رہ سکتی جس پر ذہن اور دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ اب دوسرے رخ سے دیکھیں تو جمالیاتی احوال و مشاہدات کا منتہیٰ بھی یہی ہے کہ آنکھیں منظر کا حصہ بن جائیں ، اُس سے باہر نہ رہیں۔ ’کہیں‘ کا لفظ بھی خاصی تہہ داری اور چابک دستی کے ساتھ استعمال ہوا ہے ۔ اس لفظ کے آنے سے معنی اور احساس میں ایک متحرک غیر محدودیت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ چھوٹا سا لفظ بڑے بڑے انکشافات سے بھرا ہوا ہے، مثلاً :

۱۔ دل کی دنیا لا محدود ہے

۲۔ یہاں اظہار، ادراک پر غالب ہے

دوسرے مصرعے کا ’ذہن‘ اس تخلیقی وفور سے چھلک پڑا تو ’بات‘ دل کی تحویل میں چلی گئی جہاں اس وفور کو جذب کر کے اسے اپنی انتہا  تک پہنچانے کیspaceپہلے سے موجود ہے۔ تخلیقی احوال دل کے لیے مختلف موسموں کی طرح ہوتے ہیں، اور دل میں بیک آن کئی موسم چلتے رہتے ہیں۔ اِس ’بات‘ یا آمدسے بھی دل کے کسی گوشے میں ایک اور موسم کا آغاز ہونے لگا ۔ یہ حال ادراک سے زیادہ ہے لہذا اِس کے اظہار کا سامان بھی ذہن مہیا نہیں کر سکتا تھا، یہ کام بھی دل ہی کے سپرد ہو گیا۔ حرف جڑنے اور لفظ ملنے کا عمل دل میں ہو رہا ہے، ذہن میں نہیں اور اِس عمل کے نتیجے میں اظہار کے جو پیکر بن رہے ہیں انہیں بھی ذہن اپنی گرفت میں لانے سے قاصر ہے۔ دل کے اندر اظہار پانے کا یہ عمل ایسی خود مختاری کے ساتھ ہو رہا ہے کہ ارادۂ و ذہن اسے دیکھ تو سکتے ہیں، چھو نہیں سکتے ۔  اِس کیفیت کو امجد نے اس طرح بیان کیا ہے :

دیکھتے دیکھتے پاؤں چلنے لگی

نظم بننے لگی

غالباً ستر کی دہائی میں نثری نظم کے ایک ممتاز شاعر احمد ہمیش کی ایک نظم شائع ہوئی تھی جس کا عنوان کچھ یوں تھا ’’نظم اپنے آپ کو لکھتی ہے‘‘۔ احمد ہمیش نے بھی نظم کے تخلیقی مراحل بتائے تھے مگر وہ سارا سفر جیسے خارج میں ہو رہا تھا۔ اِس کے بر عکس امجد اسلام امجد نے نظم بننے کی پوری تفصیل کو دل کے دائرے میں دکھایا ہے ۔ دل کی خلاق اور پُر اسرار فضا میں ایک ایسا نظام ِ نمو پایا جاتا ہے جو نظم کی خودکار تکمیلی حرکت کے لیے سازگار ہے۔ اس سازگار ماحول میں نظم کے بننے یعنی ایک تخلیقی تجربے کے اظہار پذیر ہونے کا عمل ایک ایسی تدریج کے ساتھ ہو رہا ہے جو ذہن اور ارادے کے قبل و بعد کے تناظر سے بالکل الگ ہے۔ ’دیکھتے دیکھتے ‘ میں یہی بات کہی گئی ہے ، اور اِس ٹکڑے سے ذہن کی پُر شوق حیرت اور ارادے کی رضاکارانہ مؤدبی بھی ظاہر ہے۔ 

ایک مصرعے کو جب راستا مل گیا

بے سہارے کو جیسے خدا مل گیا

حرف اور لفظ کے جڑنے سے وجود میں آنے والا پہلا اظہاری یونٹ، یعنی ایک مصرعہ جو تنہا پودے سے جنگل بننے کے امکانات رکھتا ہے، اب دل میں اُس کی تخلیقی افزائش کا دروازہ کھل رہا ہے۔ دل جو کار گاہِ تکمیل ہے، اُس کے بے انت پھیلاؤ میں یہ مصرعہ نظم بننے کے سب مرحلے طے کر سکتاہے۔ دل کی بے انتی اِ س کا زادِ سفر اور مادۂ تکمیل ہے۔ مصرعے سے نظم بننے کا سارا عمل اُس غیر محدودیت کے ساتھ ہو گا جو دل سے ماخوذ ہے۔ یہاں ایک نقطہ اور بھی ہے۔ دل خدا کی حضوری کا گھر ہے یہاں پہنچ کر تما م تخلیقی احوال اُس حضوری میں جذب ہو جاتے ہیں۔ ’خدا مل گیا‘ میں یہ پہلو بھی موجود ہے۔ جمالیاتی شعور حضور کی حالت میں رہتا ہے اور اسے دوام دینا چاہتا ہے۔ یہ آرزو حضورِ خداوندی میسر آئے بغیر پوری نہیں ہو سکتی ۔ میرے خیال میں امجد اسلام امجد اِس جمالیاتی اصول سے اچھی طرح واقف ہیں اور اسے اپنی شاعری میں برتتے بھی رہتے ہیں۔ اِ ن کے ہاں اِمیج کی سادگی سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ جو حضوری جمالیاتی احوال اور سرگرمیوں کا محور ہےوہ محض اشیائی نہیں ہے بلکہ حضورِ خداوندی کی پروردہ ہے۔ اِن دو مصرعوں کو قدرے غیر شاعرانہ اصطلاحات میں کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ تکمیل ِ ذات کا ہر عمل خدا کے حوالے کا محتاج ہے، اوراُس کا راستہ مل جائے تو ویسی ہی سرشاری اور تسکین ہوتی ہے جیسی کہ خدا کو پا لینے سے حاصل ہوتی ہے یا ہو گی۔ اب گویا مصرعے سے نظم بننے کا سفر خدا کو پا لینے کے گہرے احوال کے ساتھ ہو رہا ہےیہ وہ سفر ہے جس میں مسافر کم اور راستہ زیادہ چلتا ہے۔

                             ایک مصرعے کو راستہ ملنے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اُسے اپنے اظہار کا راستہ مل گیا، لیکن دوسرا مطلب یہ ہے کہ اُس مصرعے کو اپنی منزل تک پہنچنے یعنی نظم بننے کی راہ فراہم ہو گئی۔ یہ دونوں باتیں ٹھیک ہیں اور نظم کا ایسا دوہرا سیاق و سباق بناتی ہیں جس سے اِس کی خوب صورتی میں بھی اضافہ ہو جاتاہے اور کسی مفہومی تحدید سے آزادی کی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ پہلےمفہوم میں لیں تو یہ منظر بنتا ہے کہ ایک بے لفظ اور ما ورائے ادراک تخلیقی تجربے کی طغیانی میں ہاتھ پاؤں مارتے شاعر کو جب اچانک ایک ڈھلا ڈھلایا مصرعہ مل جاتا ہے تو اِ س کی یہی کیفیت ہوتی ہے کہ جیسے کسی بے سہارا اور بےآسرا شخص کو خدا مل جائے۔ دوسرے رخ سے دیکھیں تو یہ صورت نظر آتی ہے کہ ایک مصرعے کو نظم بننے کا راستہ مل گیا تو اُس تخلیقی تجربے کو اپنا مرکز اورمنزل نصیب ہوگئی۔ بہر حال یہ دونوں جہتیں یکجا رکھی جا سکتی ہیں۔

استعارے کئی

خود بخود آگئے آمنے سامنے

حرف جڑنے اور لفظ ملنے کے بعد استعارے بھی اپنی مختلف مناسبتوں کے ساتھ قطار اندر قطار پودوں کی طرح نمودار ہوگئے۔ اِ س ترتیب میں ایک پر لطف بات یہ ہے کہ اِس سے تخلیقی عمل کے قابلِ اظہار ہونے کے ابتدائی مراحل مرتب  حالت میں سامنے آ جاتے ہیں۔ حرف سے حرف جڑنے سے لفظ بنتا ہے، لفظ سے لفظ ملنے کے نتیجے میں مصرعہ وجود پاتا ہےاور مصرعے میں ڈھلنے کے بعد لفظوں میں معنوی سکت کے اٖضافے کے لیے استعارہ بننے کی جو ضرورت ہوتی ہے، وہ بھی کوئی زور لگائے بغیر پوری ہو گئی۔ استعارہ بن کر لفظ اپنے آپ سے بلند ہو جانے کی قوت حاصل کر لیتا ہے۔ خود کو پھلانگنے والی یہ طاقت ہی کسی تجربے کو اظہار کے سانچے فراہم کرتی ہے۔ استعارہ در اصل اشیا کی کثرت کو انتشار بننے سے روکتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے مربوط کر کے کم ازکم شعور میں اُن کی وحدت قائم کر دیتا ہے۔ استعاروں کے آمنے سامنے آ جانے سے اظہار کا وہ خود کار نظام حرکت میں آجاتا ہے جو نظم کو دل کی تختی سے کاغذ پر اترنے کے لائق بنا دیتا ہے ۔ آگے اس حرکت کی تفصیل ہے۔

اور کچھ دیر میں ، بھیڑ سی لگ گئی

دل کی دہلیز پر

یہاں ’دل کی دہلیز‘ بہت معنی خیز ہے یعنی دل کے اندر کہیں نظم بننے کا یہ عمل اب دل کی دہلیز تک آ پہنچا ہے ۔ ’اندر‘ سے ’دہلیز‘ تک کا سفر یہ ظاہر کرتا ہےکہ دل سے اپنی معنوی اور احوالی تکمیل کروا لینے کے بعد اب نظم اُس سے باہر نکل رہی ہےتاکہ دل کی تربیت سے حاصل ہونے والی جمالیاتی قوت سے آگے کا راستہ خود طے کرے۔

                پھر اُسی ایک مصرعے کی انگلی پکڑ

اک رواں بحر میں ، جانے کس لہر میں

اجنبی اک مسافر نے دستک جو دی

شہر ِ امکان کے بابِ اظہار پر

ایک سے اِک نیا باب کھلنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے حصہ کا لنک

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: