روایتی جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے —– قاسم یعقوب

0
  • 40
    Shares

جب جنگ کی بات کی جاتی ہے تو بیک وقت چار سوال ذہن میں آتے ہیں:جنگ کسے کہتے ہے؟جنگ کیوں کی جائے؟جنگ ہمارا انتخاب ہے یا ہم پہ مسلط ہے؟جنگ کے بعد کیا ہو گا؟

یہ معمولی نوعیت کے سوالات نہیں بلکہ جنگ کی فلاسفی میں بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہم جس خطے میں رہتے ہیں وہاں جنگ کو ایک ’مقابلے‘ کے تناظر میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ مقابلے میں دو فریق ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یاایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے بالکل اُسی فضا میں ہوتے ہیں جس نوعیت کی ذہنی فضا ایک کھلاڑی کی ہوتی ہے۔ کھیل کے میدان میں بھی ایک جنگ جاری ہوتی ہے جس میں ایک فریق دوسرے کو شکست دینے کے لیے اپنی پوری تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ مگر جیت یا ہار کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کھیل ختم اور قصہ غائب۔

مگر انسانی طبقات، قوموں یاگروہوں کے درمیان جنگوں کی نوعیت ایسی نہیں ہوتی کہ قصہ غائب ہو جائے۔ سب اپنے اپنے گھروں کو ناراضی کے ساتھ یا راضی ہوکے لوٹ جائیں۔ جنگ اپنے ساتھ خوف ناک نتائج بھی لاتی ہے۔ کلاسوٹر نے جنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ صرف عسکری سطح پہ علاقے فتح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ مفتوح لوگوں کے اذہان فتح کرنا بھی جنگ کا اہم حصہ ہے۔ ہر حملہ آور علاقہ فتح کرنے کے بعد ایسی پالیساں ترتیب دیتا ہے جس میں مفتوح اذہان کو بھی فتح کرنے کے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ مذاہب، ثقافت اور تعلیمی ادارے ایسے ذرائع رہے ہیں جو حاکموں کی حمایت کے لیے بیانیے تشکیل دیتے۔ ان کے لیے حکمرانی کی راہ ہموار کرتے۔ نو آبادیاتی دور میں انگریزوں نے چند ہزار نفری کے ساتھ پورے برصغیر پہ حکمرانی کا مینار روشن رکھاگیا۔ مقامی افراد کو بہترین شراکت دے کے، ان کے مفادات کا خیال کرکے، ان کے ذریعے حکمرانوں کے بیانیوں کو فروغ دیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں نصابات کے ذریعے ایک خاص سوچ کی تشکیل سے مقامی اذہان کو فتح کیا گیا۔ یہ ایسی فتح ہے جس کے اثرات ابھی تک برصغیر کے افراد کے ذہنوں سے نکل نہیں پا رہے۔

جنگ کیوں کی جائے؟ یعنی جنگ کیوں ناگزیر ہو گئی ہے؟ جنگ کسی بھی حالت میں ناگزیر نہیں ہوتی۔ لڑنے والے کے لیے بھی جنگ لازمی نہیں حالاں کہ وہ جنگ کا حصہ ہوتا ہے اور لڑ رہا ہوتا ہے۔ جنگ کو کھیل سمجھنے والوں کے ہاں جنگ ایک احساسِ تفاخر کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ جس سے وہ دوسرے فریق کو نیچا دکھا سکیں۔ جنگ کے بنیادی مقاصد میں دوسرے فریق کو لوٹنا، تباہ کرنا یا نیچا دکھانا ہو سکتا ہے۔ پہلے دو مقاصد کے لیے جنگ اپنے مخالف فریق کو تباہ کرنا ضروری سمجھتی ہے جب کہ نیچا دکھانے سے دوسرا فریق نیچا نہیں ہوتا بلکہ پہلا فریق بھی نچلی سطح پہ آ جاتا ہے۔ لہٰذا جنگ کرنے کے لیے جنگ لڑنے والوں کے اذہان میں یہ بات بہت واضح ہونی چاہیے کہ جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے، جس فریق سے میں جنگ لڑ رہا ہوں، جسے میں نیست و نابود کر رہا ہوں، جس کی شکست میری بقا کا سوال رکھتی ہے، اُس کے بارے میں میری نفرت یا مخالفت واضح ہو۔ اس میں ذرا برابر بھی شک یا مختلف آرا میرے لیے جنگ کے دوران مخالف فریق کے لیے نرم گوشہ یا ہچکچاہٹ پیدا کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں جنگ کرنے والوں کے ذہن میں نفرت کی آگ جلائی جاتی ہے اگر وہ ذاتی طور پر مخالف فریق کے خلاف نہیں۔ اُسے سمجھایا جاتا ہے کہ جنگ کرو، یہ تمھارا سب سے بڑا دشمن ہے، تمھیں مار دے گا، تمھاری دھرتی کا قاتل ہے، تمھارے مذہب کا دشمن ہے۔

اگر جنگ ہمارا انتخاب نہیں یعنی دوسرے فریق نے ہم پہ مسلط کر دی ہے تو ایسے میں دفاع کا تصور سامنے رہتا ہے جس میں ایک فریق دوسرے فریق کو نیچا دکھانے یا نیست ونابود کرنے کی بجائے اپنے دفاع کو اولیت دیتا ہے۔ مگر یہ بھی اُسی صورت میں ہوتا ہے جب دوسرا فریق دوسرے کو تباہ برباد کرنے کے فلسفے کی بجائے دفاع کے زیرِ اثر ہو۔ یعنی اگر دفاع کے نام پہ دوسرے کو لوٹنا یا قتل کرنا لازمی ہو جائے تو دفاع کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔

جنگ کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟ جنگ لڑنے والوں کے اذہان میں یہ بہت واضح ہوں۔ ایک فوجی جس نے اپنی ٹانگوں میں گولیاں کھائی ہوں وہ زیادہ بہتر بتا سکتا ہے کہ جنگ کیا ہو سکتی ہے! لہٰذا جنگ کی تباہ کاریاں اور سنگین نتائج بھی دونوں فریقین کے ذہنوں میں ہوں تبھی جنگ لڑی جا سکتی ہے۔ ایسی آگاہی رکھنے والے فریق جنگ کرنے سے زیادہ جنگ سے گریز کا فلسفہ اپنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

حال ہی میں پاک بھارت جنگی فضا میں دونوں اطراف کے ذہنی میلانات کا تجزیہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بھارتی ذہنی فضا (میڈیا، عوام، اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ اور حکمران)جنگ کو ایک کھیل سمجھ رہی ہے جس میں ایک فریق کھیلتے کھیلتے دوسرے فریق کو شکست دے اور کہانی ختم ہو جائے۔ کھیل تماشااختتام پذیر ہو۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ یہ کھیل ہرگز نہیں۔ جنگ سے پہلے ہی اس طرح کی’’ جنگی فضا‘‘ کے بھی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ نفرتیں بہت جلد پنپتی ہیں اور قد آور درخت بن جاتی ہیں۔ ایسی جنگی فضا سے بھی بچنا چاہیے۔ میں کچھ دنوں سے پاکستان اور بھارت کے جنگی ماحول میں عوام الناس کی ذہنی فضا کا تجزیہ کر رہا ہوں۔ مجھے بیک وقت حیرت اور خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستانی عوام جنگ اور جنگی فضا سے سخت نفرت کر رہے ہیں اور بھارتی قیادت کو ٹیبل ٹاک پہ لانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ فضا نوے کی دہائی تک ایسی نہیں تھی۔ پاکستانی عوام بھارت کے خلاف بالکل کھلاڑیوں کی طرح ’’جنگی میچ‘‘ کی خواہاں ہُوا کرتی تھی مگر اب بالغ نظری کا ثبوت دیا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اپنی سوچ میں آگے آئی ہے۔ جارحیت کے خلاف ہونے کے باوجود جنگ کے خلاف ہے۔ اسے مودی سرکار کی بیوقوفانہ حرکت سے تشبیہ دے رہی ہے۔

ادھر ہندوستان میں ہندی میڈیا اور عوام کی اکثریت جنگی فضا بنانے میں مصروف ہے۔ پاکستان کی طرف سے انتہائی متوازن رویہ اپنایا گیا ہے جو پاری قوم کی بالغ النظری کا ثبوت دے رہا ہے۔ ہمیں اب بڑا ہو جانا چاہیے۔ یہ مذاق مذاق کھیلنا بند ہونا چاہیے۔ جنگ کبھی نہیں ہو سکتی۔ جنگ کھیل نہیں کہ کھلاڑی میدان میں آئیں کھیلیں اور پھر کھیل ختم ہو جائے اور لوگ بھول بھی جائیں۔ جنگ نفرت کا حادثاتی واقعہ ہے جو بچوں کے ذہنوں پہ ایسے نقش ہو جاتا ہے جسے نسل در نسل بھی مٹایا نہیں جا سکتا۔ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستانی عوام و حکمران کئی درجے آگے بڑھے ہیں۔ جارحیت کا دفاع کرنے کے باوجود مثبت اور متوازن سوچ رکھتے ہیں۔ جنگی فضا اور جنگ کی مخالفت کرتے ہیں، امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام و حکمران طبقہ نے انتہا پسندی کو اکھاڑپھینکا ہے۔ بھارتی پائلٹ ’ابھی نندن‘ کی رہائی ہماری فوجی قیادت کا مثبت فیصلہ ہے جسے بہت سراہا جانا چاہیے۔

امن ہی ہماری آخری منزل ہے۔ مسائل خواہ دیرینہ ہوں یا تازہ انھیں حل کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے جنگ نہیں گفتگو درکار ہے۔ گفتگو کے لیے بھی گفتگو کی جاتی ہے۔ آج وہ زمانہ نہیں کہ جنگیں لڑی جائیں۔ روایتی (Conventional) جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ دنیا Warless معاشروں میں منتقل ہو رہی ہے مگر افسوس ہم ابھی تک جنگی جنون اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ خطے میں بہت غربت ہے، بھوک ہے، جہالت ہے، فرقہ پرستی ہے۔ خدارا ایسی نفرتیں کو پروان مت چڑھائیں۔ ان کی بنیاد پہ سیاست نہ کریں۔ سیاست کے لیے اور بہت سے ایشوز ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کا موازنہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے کبھی انتہاپسند اور مذہنی جنونیت والے طبقے کو اپنی حکمرانی کے قابل نہیں سمجھا، حتیٰ کہ مذہبی متوازن جماعتیں بھی کبھی مین سٹریم جماعت نہیں بن سکیں۔ یہ مجموعی پاکستانی مزاج ہے کہ یہاں متوازن، لبرل اور سیاسی بصیرت والی جماعتوں کو اپنا حکمران بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں BJP جیسی جماعتوں نے بھارتی انتہا پسندی کو حکمرانی کا بیڑا ا ُٹھانے کا کہا ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ میری خیال میں شدت پسندی کے تناظر میں بھارتی موقف زیادہ متشدد ہے جو ہر حال میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اندر سے شدت پسندی اور نفرت کے قد آور درختوں کا خاتمہ کریں جن کے سائے میں بیٹھ کے ہم امن کی باتیں نہیں کر سکتے۔ محبت اور ترقی کے لیے امن بہت ضروری ہے۔ اس بات کو دونوں طرف سمجھا جانا چاہیے ورنہ ہم بہت دیر کر دیں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: