بحران میں عمران خان نے باوقار اور درست موقف اختیار کیا —- ارندھتی رائے

0
  • 473
    Shares

بھارتی صف اول کی مصنفہ ارون دھتی رائے کی آزاد اور باغیانہ فطرت کون نہیں جانتا۔ وہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر بیباک ہو کر کہتی ہیں۔
موجودہ کشیدگی کے تناظر میں مودی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کو لیکر ایک اہم تحریر کا ترجمہ اپنے قارئین سے شیئر کرنے جارہے ہیں جس میں کشمیر پر سرکاری آمریت کے المیہ پر وہ ڈٹ کر حقائق پر سے پردہ اٹھاتی نظر آرہی ہیں۔


وزیر اعظم مسٹر مودی نے پاکستان کے بالاکوٹ پر اقدامی فضائی حملہ کروا کے غیر ارادی طورپر کشمیر کے تئیں ہندوستان کے اس موقف کو نقصان پہنچایا ہے، جسے ہندستانی حکومتیں کراماتی طور پر گزشتہ دسیوں سال سے عالمی برادری کو بتانے اور منوانے میں کامیاب رہی ہیں۔ 1947ء کے بعد سے ہی ہندستانی حکومت کا اس پر اصرار رہا ہے کہ مسئلۂ کشمیر اس ملک کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے کسی کے مشورے یا بین الاقوامی تعاون کی ضرورت نہیں ہے، مگر مسٹر مودی نے پاکستان کو جوابی حملے پر اکساکر (اور دو ایٹمی ممالک کے ایک دوسرے پر بمباری کرنے کی تاریخ رقم کروا کے) مسئلۂ کشمیر کو عالمگیریت دے دی ہے، مودی نے دنیاکے سامنے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیر ممکنہ طور پر دنیاکا سب سے پر خطر مقام اور ایٹمی جنگ کا flash point ہے؛ لہذا اب ہر وہ شخص، ملک اور ادارہ، جو ایٹمی جنگ کا خطرہ محسوس کرے گا، اسے حق ہوگا کہ وہ اس جنگ کو روکنے کے لیے اپنی وسعت کے مطابق ہر ممکن مداخلت و کوشش کرے۔

14؍فروری2019ء کو ڈھائی ہزار کی تعداد میں جموں سے کشمیر جا رہے نیم فوجی دستوں کے قافلے پر پلواما میں عادل احمد ڈار نامی بیس سالہ کشمیری خود کش بمبار نے حملہ کردیا،جسے بعد میں پاکستان کے جیش محمد کا رکن بتایا گیا۔ اس حملے سے،جس میں چالیس فوجی جوان مارے گئے،مسئلۂ کشمیر کا ایک اور مخفی پہلو روشن ہوکر سامنے آیاہے۔1990ء سے اب تک اس تنازع میں ستر ہزار سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں، ہزاروں غائب ہوئے ہیں، دسیوں ہزار لوگوں کو پکڑ کر ٹارچر کیاگیا اور سیکڑوں نوجوانوں اور جوانوں کو پیلیٹ گن سے معذور و اندھا بنادیاگیا ہے۔ صرف گزشتہ بارہ ماہ کے دوران مرنے والوں کی تعداد 2009ء سے لے کر اب تک کی مدت میں سب سے زیادہ ہے، ایسو سی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ان مرنے والوں میں 260؍ شدت پسند، 160؍عام شہری اور 150؍حاضر سروس ہندستانی مسلح فوج کے جوان تھے۔

کشمیرمیں جاری مسلح کشمکش کو مختلف گروپ مختلف نگاہوں سے دیکھتے ہیں، کچھ لوگ اس میں شامل لوگوں کو دہشت گرد، کچھ لوگ انھیں شدت پسند، تو کچھ لوگ مجاہدینِ آزادی یا مجاہدین سمجھتے ہیں، زیادہ تر کشمیری انھیں مجاہد قرار دیتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی مرتا ہے، تو ہزاروں کشمیری بلا تفریقِ مسلک و مکتبۂ فکر اس کے جنازے میں شریک ہوتے،اس کی موت پر سوگ مناتے اور اس کی آخری رسوم اداکرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ سال جتنے کشمیری شہری مارے گئے، ان میں سے زیادہ تر وہ تھے،جنھوں نے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر شدت پسندوں کو ہندستانی فوج سے چھپنے کی جگہ فراہم کی تھی۔

کشمیر کی طویل المدت خوں فشاں داستان کے بیچ پلواما میں ہونے والا حالیہ حملہ نہایت ہی اندوہناک تھا۔ اس وقت کشمیر میں ہزاروں نہیں، تو سیکڑوں ایسے نوجوان ہیں،جن کی پیدایش جنگ کے زمانے میں ہوئی ہے اور انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے پر ہول سانحات دیکھے ہیں کہ ان کے دلوں سے ہر قسم کا خوف نکل چکاہے اور (بزعمِ خود) آزادی کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، آنے والے کسی بھی دن پلواما جیسایا اس سے کم درجے کا حملہ ہونا عین ممکن ہے،کیا ہندستانی حکومت اپنے خالی خولی، بے فائدہ اور ڈرامائی اقدامات کے ذریعے اس ملک اور پورے برصغیر کی تقدیر اس قسم کے نوجوانوں کے ہاتھ میں دینا چاہتی ہے؟ پلواما حملے کے بعد مودی نے بالکل یہی کیا ہے؛ بلکہ انھوں نے فی الحقیقت ہمارا مستقبل ان شدت پسند نوجوانوں کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ پلواماکے نوجوان خودکش بمبار سے بھی مزید کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔

ہندستانی ،جو برطانوی تسلط سے آزادی کی اپنی جدوجہد کو قیمتی قرار دیتے اور تحریکِ آزادی کی قیادت کرنے والی شخصیات کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں، ان کا نظریہ کشمیریوں کے حوالے سے حیرت انگیز حد تک مبہم ہے، جو اسی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، کشمیر میں ہندستانی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد پر لگ بھگ تیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے، پاکستان نہایت خفیہ طریقے سے اس تحریک کی (سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر) اسلحہ جاتی، افرادی و مالی مدد کرتا رہا ہے، البتہ یہ حقیقت خفیہ نہیں کہ کشمیر جیسے جنگی خطے میں کوئی بھی شدت پسند یا دہشت گرد بغیر مقامی لوگوں کی مدد کے کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ ایسے میں کیا کوئی صحیح الدماغ انسان سوچ بھی سکتا ہے کہ ایسی پیچیدہ ترین اورخوں آشام جنگ جلد بازی میں کی گئی کسی سرجیکل سٹرائک سے ختم تو دور،تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈی بھی پڑ سکتی ہے؟ جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ سرجیکل سٹرائک اتنی سرجیکل بھی نہیں رہی،جتنا بتایا جارہا تھا۔ ایک اسی قسم کی’’سٹرائک‘‘ اڑی میں فوجی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بعد 2016ء میں کی گئی تھی،جس کا حاصل محض ایک انسپائرنگ بالی ووڈ ایکشن مووی ہے، بالاکوٹ سٹرائک اسی فلم سے مستفاد لگتی ہے اور اب پھر میڈیا میں ایسی خبریں آرہی ہیں کہ بالی ووڈ پروڈیوسرز ’’بالاکوٹ‘‘ کے نام سے اپنے فلمی پروجیکٹ کے حقوق حاصل کرنے کے لیے لمبی لائن میں لگ گئے ہیں، مختصراً یہ سارا بیہودہ ڈرامہ pre-emptive ہونے کی بجاے pre-election لگتا ہے۔

اس ملک کے وزیر اعظم ملک کااتنی بڑی فضائی افواج کو ایک خطرناک ڈرامے کا حصہ بنا لینا فوج کے حق میں نہایت ہتک آمیز عمل ہے، ایک اور تعجب خیز حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمارے برصغیر میں غیر ذمے دارانہ ہلاکت ناک ایٹمی سیاست کا کھیل ہو رہا ہے،جبکہ دوسری طرف دنیا کا سپر پاور امریکہ مسلسل سترہ سال تک دست بہ دست لڑنے کے بعد شکست کھا کر بالآخر طالبان سے بات چیت کی راہ اختیار کرچکا ہے۔حالیہ دنوں میں برصغیر میں بڑھنے والا تناؤ جتنا خطرناک نظر آرہا ہے، اتنا ہے بھی، مگر شاید وہ اتنا سادہ و سمپل نہیں ہے، جتنا نظر آرہا ہے۔

کشمیر دنیا بھر میں سب سے زیادہ فوجیوں سے اَٹا ہوا خطہ ہے،جہاں تقریباً آدھی ملین (پانچ لاکھ) ہندستانی فوج تعینات ہے، آئی بی، را، این آئی اے، یونیفارمڈ فورسز، بی ایس یف، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر کی پولیس یہ سب اس پر مستزاد ہیں،پھر ان میں سے ہر ایک کے اپنے خفیہ ذرائعِ معلومات ہیں۔ وہاں لوگ جاسوسوں اور ڈبل ٹرپل ایجنٹس کی دہشت کے درمیان زندگی گزارتے ہیں،جو سکول کے پرانے ساتھی سے لے کر فیملی ممبر تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں پلواما سانحہ جس بڑے پیمانے پر ہوا، اس کا انجام پذیر ہونا حیرت انگیز ہونے سے بھی زیادہ اوپر کی بات ہے۔جیسا کہ ٹوئٹر پر ایک جری خاتون نے ہندستان کے مختلف خطوں میں ماب لنچنگ کے سانحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’یہ کیا بات ہوئی کہ بی جے پی تین کلو بیف کا پتا لگالیتی ہے؛ لیکن اسے ساڑھے تین سو کلو آرڈی ایکس کی بھنک تک نہیں لگ سکی؟‘‘۔

واقعے کے بعد جموں و کشمیر کے گورنر نے اسے خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا، بعض باہمت نیوز پورٹس نے بھی یہ حقیقت بیان کی کہ جموں و کشمیر پولیس نے ممکنہ حملے کے پیش نظر فوری الرٹ جاری کیاتھا، مگر میڈیا میں کسی نے بھی اس پہلو پر توجہ نہیں دی کہ کشمیر پولیس کی وارننگ پر توجہ کیوں نہیں دی گئی اورکشتی میں کدھر شگاف تھا؟

ایک بڑا المیہ یہ ہوا کہ پلواما سانحے نے مودی کو سٹیج شو کرنے کا بہترین سیاسی موقع فراہم کردیا، جس میں انھیں مہارت ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے چند ماہ قبل یہ پیش قیاسی کی تھی کہ بی جے پی چوں کہ اپنی سیاسی زمین کھوتی جارہی ہے،تو وہ الیکشن سے قبل ملک میں ضرور جنگ کی کیفیت پیدا کرنا چاہے گی،اب ہم ڈر اور خوف کے ساتھ اپنے خدشات کو حقیقت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ حکمراں پارٹی پوری مہارت کے ساتھ پلواما سانحے کو اپنے حقیر سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

پلواما حملے کے فوراً بعد ہندستان کے مرکزی خطوں میں موجود کشمیری تاجروں، ملازموں اور طلبہ پر بھیڑ کے ذریعے تشدد اور مارپیٹ کے واقعات سامنے آنے لگے، مودی نے ان واقعات پر افسوس ناک چپی سادھے رکھی، حتی کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور کہا کہ ان کشمیریو ں کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے، تب جاکر مودی کے منہ سے آواز نکلی، مگر دوسری طرف ہندستانی فوج کے فضائی حملے کے بعد کریڈٹ لینے میں انھوں نے کوئی تاخیر نہیں کی، فوراً ٹی وی پر آگئے اور دنیا کو گویا یہ باور کرانے لگے کہ انھوں نے خود طیارہ اڑا کر پاکستان پر بمباری کی ہے، اس کے بعد فوری طور ہندستان کے چارسو چینلزاپنے مخصوص input کے ساتھ مودی کے اس پرفارمنس کو بڑھاچڑھا کر پیش کرنے لگے، ان چینلوں کے اینکرز صفِ اول کے کمانڈوز میں بدل گئے، وہاں بیٹھ کر پاگلوں جیسی اور مجنونانہ حرکتیں کرنے لگے اور وطن پرستی کے فاتحانہ جذبات سے سرشار ہو کر انھوں نے بتایا کہ ہندستانی فضائیہ کے حملوں میں جیشِ محمد کے دہشت گردی کے کارخانے کو تباہ کردیا گیا ہے اور تین سو سے زیادہ دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ اگلی صبح سنجیدہ ترین قومی اخبارات نے بھی عجیب و غریب، بکواس قسم کی شہ سرخیاں لگائیں۔ مثال کے طور پر روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ نے لکھا ’’ہندستان کا پاکستان کے اندر گھس کر حملہ‘‘، دوسری بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی ’’رائٹرز‘‘ جس نے پاکستان میں موقعِ واردات پر اپنے رپورٹر کو بھیجا تھا،اس نے رپورٹ کیاکہ وہاں صرف چند درختوں ،چٹانوں کو نقصان پہنچا اور ایک گاؤں والے کو ہلکا زخم آیاہے۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس نے بھی اس سے ملتی جلتی رپورٹنگ کی۔ دی نیویارک ٹائمس نے لکھا ’’نئی دہلی کے تجزیہ کار ڈپلومیٹس کا کہناہے کہ ہندستانی فضائی حملوں کا ٹارگیٹ غیر واضح تھا؛ کیوں کہ کشمیر حملے کے بعد جب مودی نے جوابی کارروائی کی بات کی تھی،اس کے بعد سرحد کے آس پاس سرگرم دہشت گرد تنظیموں نے وہ مقامات خالی کردیے ہوں گے‘‘۔ ہندستان کے مین سٹریم میڈیا نے رائٹرز کی خبرنہیں لی؛ لہذا ہندستان کے ووٹ دینے والے کروڑوں لوگ، جو نیویارک ٹائمس نہیں پڑھتے، انھیں لگاکہ ان کے مشہور چھپن انچ کے سینے والے وزیر اعظم نے دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے ایسا لگا کہ مودی نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو بھی پھانس لیاہے، جو بہادر ہندستانی پائلٹس کی تعریف میں ٹوئٹ کررہے تھے ،جبکہ خود مودی اور ان کے لوگ انتخابی پرچار میں مصروف تھے، جنھیں اس واقعے پر کوئی شک تھایا وہ اپنی کوئی الگ رائے ظاہر کررہے تھے، انھیں ہندوتوا ٹرولس کے ذریعے ڈرایا دھمکایا جا رہا تھا، انھیں اینٹی نیشنل قرار دیا جارہا تھا یا ماب لنچنگ (جو شمالی ہندستان کے ہر علاقے میں عام ہے) کی دھمکی دے کر ان کے دل میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

مگر محض ایک دن کے اندر اندرساری کہانی بدل گئی، جب پاکستان نے جوابی حملہ کیا، ہندستان کے ایک لڑاکا طیارے کو مار گرایا اور ہندستانی فضائیہ کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن وردمن کو گرفتار کرلیا، تو فرضی جیت کی ساری چمک دمک جاتی رہی، ایک بار پھر بی جے پی کا انتخابی منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا۔

انتخابی سیاست اور اس سوال سے قطعِ نظر کرتے ہوئے کہ آنے والے الیکشن میں کس کی جیت ہوگی، مسٹر مودی کا اقدام ناقابلِ معافی ہے، انھوں نے ایک ارب سے زیادہ ہندستانیوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی اور کشمیر کی جنگ کو ہر ہندستانی کے گھر دروازے تک پہنچادیا ہے۔صبح،شام اور رات ہر وقت ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک پاگل پن پھیلایا جارہا ہے، لوگوں سے کہاجارہاہے کہ تم اپنے مسائل ،بے روزگاری، بھک مری،چھوٹے موٹے کاروبار کا بند ہونا، بے گھری کے خطرات، ججوں کی پر اسرار موت، ہندستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بدعنوان دفاعی ڈیل (رافیل ڈیل) مسلم،دلت اور عیسائی ہونے کی حیثیت سے اپنی جانوں کو درپیش خطرات کے بارے میں حکومت سے کچھ بھی پوچھنے کی بجاے اسے محض قومی فخر و افتخار کے نام پر ووٹ دو،ٹی چینلوں کے ذریعے پھیلایا جانے والا یہ پاگل پن ہی ہمیں اس تباہی و بربادی کی راہ پر لے کر آیاہے۔

اس حکومت نے ہندستان کی روح کو جو گہرا زخم لگایا ہے، اسے بھرنے میں سال ہاسال لگیں گے، کم ازکم اس عمل کی شروعات کے لیے ہمیں اس خطرناک، ریاکار و دجل کار حکومت کے خلاف ووٹ کرنا ہوگا۔ ہم ایسے وزیر اعظم کو برداشت نہیں کرسکتے، جو کسی سے مشورہ کیے بغیر یہ کہتے ہوئے راتوں رات ملکی معیشت ریڑھ ماردے کہ اب ملک کی اسی فیصد کرنسی غیر قانونی ہے، تاریخِ ہند میں اب تک کس نے یہ حرکت کی ہے؟ ہم ایک ایٹمی ملک کا ایسا وزیر اعظم نہیں دیکھ سکتے،جو اُس وقت نیشنل پارک میں اپنی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہو،جبکہ ملک ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہواور پھر وہ پورے چاؤ سے یہ کہے کہ اس نے اس کا فیصلہ فوج پر چھوڑ دیاہے کہ کیاکرنا ہے۔تاریخ میں آج تک کس جمہوری ملک کے منتخب لیڈر نے ایسا کیاہے؟

یہ فی الحقیقت ہندستان پاکستان کی جنگ نہیں ہے، یہ جنگ دراصل کشمیر کی جنگ ہے، جو ہمیں کسی بھی وقت تشدد اور ایٹمی جنگ میں ڈھکیل سکتی ہے، اس سے پہلے کہ یہ حالات پیدا ہوں، مسئلۂ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے اور یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے، جب کشمیریوں کو یہ موقع دیاجائے کہ وہ آزادانہ طور پر بغیر کسی خوف کے دنیا کو بتاسکیں کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں اور حقیقتاً کیا چاہتے ہیں؟

مودی کو ہر حال میں جانا چاہیے، اس کی جگہ بھلے ہی ایک باہم جھگڑالو، منقسم، غیر مستقل گٹھ بندھن کی حکومت کیوں نہ آجائے، ایک جمہوریت کا یہی جوہر ہوتا ہے، یہ حکومت بہت زیادہ اہلِ دانش اور کم سے کم احمق ہوگی۔

جہاں تک پاکستان میں گرفتار کیے گئے ونگ کمانڈر ابھینندن کی بات ہے، تو عام حالات میں عمران خان کے متعلق لوگوں کے نظریے اور مسئلۂ کشمیر میں پاکستانی کردار کی پیچیدہ نوعیت سے قطع نظر خاص اس بحران میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے باوقاراور درست موقف اختیار کیا ہے۔جنگی قیدی کے سلسلے میں جنیوا کنونشن کے مد نظر ہندستانی حکومت کا ابھینندن کو لوٹانے کا مطالبہ درست تھا،یہ مطالبہ بھی درست تھا کہ پاکستان کے قبضے میں ہونے کی صورت میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کو ان کے پاس جانے کی اجازت دی جائے۔ پھر وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کردیا کہ وہ باہمی خیر سگالی و امن کی پیش کش کے طورپر کمانڈر ابھینندن کو رہا کریں گے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہونا بھی فطری ہے کہ کیا ہندستان کشمیر اور دوسرے علاقوں میں موجود اپنے سیاسی قیدیوں یہی سہولت دے سکتا ہے،جنیوا کنونشن کے مطابق ان کے حقوق کا تحفظ اور آئی سی آر سی تک ان کی رسائی؟

جس جنگ میں ہم پھنسے ہیں، یہ فی الحقیقت ہندستان پاکستان کی جنگ نہیں ہے، یہ جنگ دراصل کشمیر کی جنگ ہے، جو ایک بار پھر ہند و پاک جنگ تک پھیلتی جارہی ہے، کشمیر ناقابلِ بیان زیادتیوں اور اخلاقی بحران کی اصل آماجگاہ ہے، جو ہمیں کسی بھی وقت تشدد اور ایٹمی جنگ میں ڈھکیل سکتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ حالات پیدا ہوں، مسئلۂ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے اور یہ صرف اس وقت ہوسکتا ہے، جب کشمیریوں کو یہ موقع دیاجائے کہ وہ آزادانہ طور پر بغیر کسی خوف کے دنیا کو بتا سکیں کہ وہ کیوں لڑ رہے ہیں اور حقیقتاً کیا چاہتے ہیں؟ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عالمی برداری کے پاس یہی ایک راستہ ہے!

ترجمہ: نایاب حسن قاسمی

(انگریزی مضمون huffingtonpost.in پرشائع ہواہے)

(Visited 674 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20