جنگ اور وقت پہ اٹھا رکھو —— نوید الہی

0
  • 1
    Share

جنگ اور وقت پہ اٹھا رکھو

سنا ہے جنگ کے بادل امڈ رہے ہیں
سرحدوں پہ فوجیں صف آرا ہیں
ان کے سینا پتی غرا رہے ہیں
ہم بھی انہیں دھمکا رہے ہیں
قریب ہی کہیں اک شاعرِ بے نوا
کہتا ہے بابا سنو میری صدا
بھلا یہ وقت ہے لاشیں گرانے کا
لوگوں کو یوں ایندھن بنانے کا
ابھی تو آ غازِ موسمِ گل ہے
ابھی تو بادِ نو بہار چلی ہے
ابھی تو نئے پھول کھلےہوئے ہیں
حیرت ہے آپ جنگ پہ تُلے ہوئے ہیں
ماہِ مارچ ہے، جنگ نہ کرو ابھی
محبت زدوں کو تنگ نہ کرو ابھی
بہتر ہے اسے اور وقت پہ اٹھا رکھو
اناوٰں کی آ گ کو ابھی بجھا رکھو
تباہی سے موسمِ گل کو بچا رکھو
حیرت ہے آپ جنگ پہ تُلے ہوئے ہیں
ابھی تو نئے پھول کھلے ہوئے ہیں
بہتر ہے جنگ اور وقت پہ اٹھا رکھو

نوید الہی

(Visited 91 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: