پائلٹ واپسی اور ہندوستانی دانشوروں کا مثبت ردعمل —– سمیع اللہ خان (بھارت)

0
  • 192
    Shares

پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی واپسی کے اعلان پہ جہاں ایک جانب بھارتی میڈیا اور اینکرز نے اسے اپنی ’فتح‘ قرار دیتے ہوئے واویلا مچارکھا ہے تو دوسری جانب سماج کے سنجیدہ و فہمیدہ دانشوروں نے پاکستان کے اس عمل کی تحسین کرتے ہوئے عمران خان کو سراہا ہے۔ ملاحظہ کیجئے بھارت سے موصولہ ایک رپورٹ۔


پاکستان کی جانب سے ” گرفتار پائلٹ ابھینندن” کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا آفیشل تیسرا پیغام ہندوستانی حکومت اور ہندوستانی عوام کے نام آچکا ہے، ہم فی الحال اپنی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نا کرتے ہوئے اپنے امن پسند قارئین کی خدمت میں اس سلسلے میں ہندوستان کے سیکولر ، انٹلکچول اور تقریباً ہر طبقے کے ممتاز اور معزز اسکالرز کے موقف پیش کررہے ہیں:

ہندوستان میں پاکستان کے اس اقدام اور وزیراعظم عمران خان کے بیان پر معزز اہل قلم اور سماجی شخصیات کی طرف سے ملے جلے تبصرے سامنے آرہے ہیں:

مشہور صحافی اور مصنف راج دیپ سردیسائی لکھتے ہیں:
“ہمارے یہاں بھارت میں گرچہ یہ پسند نا کیا جائے لیکن خالص نظریات کو دیکھا جائے تو آج کے دن عمران خان اخلاقی سطح پر فتحیاب ہیں… دہشت گردی کا کیس مضبوط ہے لیکن ہمارے کئی رہنما فی الحال ووٹ کی گنتی میں مصروف ہیں۔

ایوارڈ یافتہ فلم ہدایتکار اور سابق نیشنل نیوز ایڈیٹر ونود کاپری پاکستان کے اس اقدام پر ہندوستانی میڈیا کے رویّے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“جھک گیا پاکستان، پاکستان نے گھٹنے ٹیکے، ڈر گیا پاکستان”۔ یہ سب لکھنے والے وہی لوگ ہیں، جو خود ڈر کر کل تک ابھینندن کی (گرفتاری کی) خبر تک دبا دبا کر چلا رہے تھے، ایک پڑوسی کے بڑکپن کو کم سے کم ڈر تو مت کہیے۔

سماجی کارکن، کالم نگار اور مصنف سدھیندرا کلکرنی لکھتے ہیں:
” وزیر اعظم عمران خان صاحب براہ کرم تہہ دل سے میرا خراج تحسین قبول فرمائیں، آپ نے ثابت کردیا کہ آپ امن پسند انسان ہیں، میری دعا ہے کہ: اب آپ اور نریندرمودی جی ملکر کسی بھی طرح نئے ہندوستان اور نئے پاکستان کی تعمیر کریں اور اس کو کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔

تمل ناڈو کی معروف خاتون قلمکار اور مصنفہ جیوتھی منی لکھتی ہیں:
عمران خان کی طرف سے ہمارے ہردلعزیز فوجی کی غیر مشروط رہائی کا استقبال ہے، دونوں ملکوں کو باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے ،یہ ایک اچھی شروعات ہے ،امید کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت ووٹ بینک کی سیاست سے اوپر اٹھ کرسوچے گی اور ابھینندن کی عزت کرے گی۔

ماہرِ قانون سینئر وکیل ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن لکھتے ہیں:
گرفتار شدہ پائلٹ کی غیر مشروط رہائی عظیم اور سلجھی ہوئی امن کی تحریک ہے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے، امید کرتے ہیں کہ اس سے تناؤ اور ٹینشن میں کمی واقع ہوگی اور دونوں ملک سنجیدہ اور صحت مند سمت میں اقدامات کرینگے ، دونوں ہی ملک جنگ برپا نہیں کرنا چاہتے۔

حکومت ہند کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف جرنلسٹ آدتیہ مینن لکھتے ہیں:
عمران خان کی طرف سے امن کی تحریک کے طور پر فوجی ابھینندن کی رہائی پر حکومت پوری طرح سے انجان بنی ہوئی ہے، وزیراعظم نریندر مودی ایوارڈ فنکشن میں مصروف ہیں، مسلح افواج کی پریس کانفرنس ملتوی ہوچکی ہے، کوئی بھی ایمانداری کے ساتھ اسے حکومت کے حق میں نہیں کرسکتا۔

صحافی نونیت مدھرا اور ماہر معاشیات تجزیہ نگار اجے شکلا نے اسے پاکستان کی نظریاتی اور اخلاقی جیت قرار دیا ہے۔

معروف پروفیسر اور اقوام متحدہ میں لکچر پرسن رہ چکے اسکالر اشوک سوائن صاحب لکھتے ہیں:
عمران خان نے ایک سلجھے ہوئے لیڈر کی طرح برتاؤ کیا ہے، ان کی جانب سے گرفتار شدہ ہندوستانی پائلٹ کی غیر مشروط اور غیر متوقع رہائی ایک عظیم تحریک/ ایک اعلیٰ سطحی پیغام ہے،اور نریندر مودی کی جانب سے بعض وجوہات نے اس تنازعے کو طول دیا، مودی اس ٹکراؤ میں بری طرح ہارے ہیں اور اس ہار کے لیے وہ خود زمہ دار ہیں، پائلٹ کی رہائی کے پاکستانی اعلان کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ایک سائنسی ایوارڈ تقریب میں خطاب کیا اور اس میں اشاروں ہی اشاروں میں اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ” ابھی ابھی ایک پائلٹ پروجیکٹ ہوگیا ، ابھی حقیقی کرنا ہے یہ تو پریکٹس تھا”
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر اشوک صاحب نے لکھا ہے کہ ” بے شرم انسان ! اس نے اپنا سنگھی کیریکٹر اور علم سے عاری شخصیت/ جہالت کا مظاہرہ کردیا۔

معروف سماجی و علمی شخصیت، انصاف پسند مراٹھی صحافی نکھل واگلے لکھتے ہیں:
وہ لوگ جو عمران خان کی تحریک کو مودی کی جیت بتارہے ہیں، وہ اس بات میں آزاد ہیں کہ اپنی خیالی جنت میں مست رہیں لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ عمران خان نے مودی کو ایک خاموش جنگ میں ایک بڑی شکست دی ہے۔

پاکستان کی جانب سے تحریک امن کو ہندوستانی میڈیا نے مودی کی جیت اور پاکستان کی شکست سے تعبیر کرنا شروع کیا تو معروف صحافی ابھیشار شرما،خاتون صحافی روچیکا تلوار سمیت کئی سیکولر دلت و ہندو دانشور مبصرین نے اسے کم ظرفی اور ابھینندن کی اخلاقی رہائی میں غیر اخلاقی حرکت سے تعبیر کیا، وہیں پاکستان کے تعلیمیافتہ سوشل میڈیا صارفین نے ہندوستانی میڈیا کے اس رویے پر دل شکنی کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ از:سمیع اللہ خان مہاراشٹر انڈیا


Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: