سائنسی انقلاب مغرب میں ہی کیوں رونما ہوا؟ ایلکس روزن برگ

0

 [زیر نظر تحریر پروفیسر ایلکس روزن برگ کی کتاب "فلسفہ سائنس کا عصری تعارف”سے لیے گئے ایک اقتباس کا ترجمہ ہے۔مترجم کے پیشِ نظر صرف قارئین کو ایک دلچسپ اور امکانی  و جزوی طور پر درست نقطۂ نظر سے اس کی صحت پر اصرار کیے بغیر متعارف کروانا ہے]

 ہمیں اچھا لگے یا برا، بظاہر یورپی تہذیب کی واحد دین جسے دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے وہ صرف  سائنس ہے کیونکہ یورپ میں ظہور پذیر ہونے والی  چیزوں میں سے صرف یہی ایسی ہے جسے تقریباً ہر معاشرے، ثقافت، قوم، خطے، آبادی اور نسل نے  یورپیوں سے سیکھا  اور اختیار کیا ہے۔ اس کے برعکس یورپی آرٹ، میوزک، ادب، فنِ تعمیر، معاشی و قانونی نظام اور اخلاقی و سیاسی اقدار کو عالمی پذیرائی نہیں مل سکی اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی اکثر جگہوں پر غیر یورپیوں نے یورپی تہذیب کی ان”نعمتوں”کو خدا حافظ کہہ دیا ہے۔لیکن سائنس کو نہیں۔

دراصل   سائنس کے ساتھ "مغربی” کا اضافہ کرنا ہی  غلط ہے کیونکہ سائنس کی "مغربی” کے علاوہ کوئی قسم ہے ہی نہیں اور نہ ہی 2500 سال پہلے یونان میں سائنس کی پیدائش سے پہلے، ساتھ ہی یا بعدمیں کسی دوسری جگہ پر سائنس آزادنہ طور پر نمودار ہوئی ہے۔ باقی دنیا پر مغربی اقتدار کی راہ ہموار کرنے والی کچھ ٹیکنالوجیز جیسے کہ باردو، چھپائی ،  اور پاستا وغیرہ غیر یورپی  خطوں خصوصاً چین سے  ضرور آئیں اور کئی غیر یورپی قوموں نے فلکیاتی مظاہر کے بہت تفصیلی ریکارڈ بھی مرتب کیے لیکن یہ قومیں ان  اکا دکا ٹیکنالوجیز اور فلکیاتی  تقویمات  کی پیش گوئیانہ صلاحیتوں کو   عقلی تفہیم  کی اس ادارہ جاتی مہم میں تبدیل نہ کر پائیں جو  یونان سے شروع ہو کر ازمنہ وسطیٰ کی مسلم دنیا، اطالوی نشاۃ ثانیہ اور پروٹسٹنٹ اصلاحی تحریک سے ہوتی ہوئی بالآخر  جدید سیکولرازم پر منتج ہونے والی مغربی سائنس کا خاصہ رہی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سائنس یورپ میں ہی کیوں پیدا ہوئی؟ ( یہاں پروفیسر روزن برگ نے ایک اور سوال بھی اٹھایا ہے جس کا جواب اس اقتباس میں نہ ہونے کی وجہ سے  اسے ترجمے سے حذف کردیا گیا  ہے۔ مترجم)۔

اس سوال کے کچھ جوابات تو فوری طور پر رد کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً قدیم یونانی جن کے ہاں نظریاتی سائنس نے جنم لیا ، ازمنہ وسطیٰ کے مسلمان جنہوں نے اسے محفوظ کیا یا نشاۃ ثانیہ کے دور کے یورپی جنہوں نے اسکی ترقی کی رفتار بڑھائی ،ہرگز  دنیا کی باقی قوموں سے زیادہ ذہین یا  متجسس نہیں تھے۔  سائنس ان کے” جینز اور ڈی این میں” نہیں تھی۔ اسی طرح  کل سائنسی ترقی کا  سہرا اقلیدس،  ارشمیدس، بوعلی سینا، گلیلیو اور نیوٹن جیسے چند  افراد کے سربھی نہیں باندھا  جاسکتا۔ ایک یا چند افراد کی محنت  اکثریت کی بے اعتنائی سے ضائع ہوسکتی ہے۔ مزید برآں، قبل ازمسیح کے  وسط امریکہ سے لے کر موجودہ دور کے نیوگنی تک ہر معاشرے نے ہی نے ان تاریخ ساز سائنسدانوں  جتنے ہی ذہین کئی افراد پیدا کیے ہیں   (لیکن  ان معاشروں میں  تو سائنس نے ترقی نہیں کی۔  لہذا  چند ذہین افراد  کے کارناموں کی وجہ   سے سائنسی ترقی کا نظریہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مترجم )۔

سائنس کے مغرب ہی میں جنم اور ترقی کی متاثر کن وضاحت وہ ہے جو جارڈ ڈائمنڈ کی کتاب "بندوقیں، جرثومے اور فولاد” سے متاثر ہوکر پیش کی گئی ہے۔ یادرہے کہ ڈائمنڈ اپنی کتاب میں سائنس کے مغرب میں جنم اور باقی دنیا میں اس کی پذیرائی کی نہیں بلکہ اس چیز کی وضاحت کررہا ہے کہ یورپی اقوام کیونکر باقی دنیا کے اتنے بڑے حصے پر اپنا فوجی اور سیاسی غلبہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ وہ بالکل آغاز میں ہی کہتا ہے کہ قریب دس ہزار سال قبل شکاریانہ طرز ِ زندگی تقریباً ساری دنیا پر ایک ساتھ ہی متروک ہوا اور اس وقت تمام انسانوں کی ذہانت اور ثقافتی ارتقاء ایک ہی سطح پر تھا (لہذا سیاسی و فوجی طاقت میں بعد کے فرق کی وجہ ذہانت کا فرق نہیں ہوسکتا۔ مترجم)۔

ڈائمنڈ نے اس دعوے کے حق میں متعدد شواہد پیش کیے ہیں کہ مغربی یورپ کی اقوام کے عالمی طاقتیں بنے کی وجہ ان کے اداروں، ثقافت اور تہذیب کی برتری نہیں تھی۔ اور یورپی اور غیر یورپی اقوام کے افراد کے خصائص میں فرق کو تو بالکل ہی اس کی وجہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس کی بجائے اقوامِ مغرب کا دوسری اقوام کو محکوم بنانا اور ان کا استحصال کرنا محض چند سادہ "قدرتی”  جغرافیائی و ماحولیاتی عوامل کے زیرِ اثر ممکن ہوا۔

ایسے پودے جن کو آسانی   اور سود مند طریقے سے کاشت میں لایا جاسکتا ہے انکی درجن بھر انواع میں سے  نصف صرف ایک ہی خطے  مشرقِ قریب (مغربی ایشیا )  میں پائی جاتی ہیں۔ فطری طور پر زراعت یہیں شروع ہونی تھی۔  زراعت کے ساتھ ہی قابلِ ذخیرہ  اجناس آتی ہیں اور حساب کتاب رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے لہذا تحریر کا آغاز بھی یہیں سے ہوا (قریب ہزار سال بعد تحریر کا آغاز آزادنہ طور پر وسط امریکہ میں بھی مکئی کو زراعت کیلئے استعمال میں لانے کے بعد انہی ضروریات  کے تحت ہوا)۔ زراعتی پیداوار میں اضافہ (ہل وغیرہ چلانے کیلئے) کھینچنے والے جانوروں سے ہوتا ہے۔ ایسے جانوروں کو جن کو گھریلو بنا کر  اس مقصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے  ان کی  بھی لگ بھگ ڈیڑھ درجن انواع میں سے بھی زیادہ تر اسی خطے یعنی مغربی ایشیا میں پائے جاتے ہیں جبکہ دنیا میں کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں زراعت کیلئے استعمال کیے جاسکنے والے پودے تو پائے جاتے ہیں مگر ایسے جانور نہیں پائے جاتے۔ جب زراعتی پیداوار بڑھتی ہے تو آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اور گنجان آبادیوں میں پھر گھریلو جانوروں سے وبائی امراض انسانوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ اس سے مختصر دورانیئے میں تو آبادی  تباہی کا شکار ہوتی ہے لیکن  اس سے آبادی میں ان بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا ہوتی ہے اور چند نسلوں بعد قریب  قریب  پوری آبادی میں جانوروں سے منتقل  ہونے والی ان بیماریوں کےخلاف  مدافعت پیداہوچکی ہوتی ہے۔یوں، قابلِ ذخیرہ اجناس اور نقل و حمل کے ذرائع کے بل بوتے پر مغربی ایشیائی باشندے بڑھتی ہوئی آبادی کا دباو کم کرنے کیلئے دور دراز کے نئے آباد و غیر آباد علاقوں تک پہنچنے کے قابل ہوئے۔ سب سے پہلے وہ یورپی زمینوں تک پہنچے۔

 ڈائمنڈ نے ایک اور اہم نشاندہی یہ کی ہے کہ 30 سے 45 شمالی عرض بلد کے درمیان جو پٹی ہے اس میں مغربی یورپ میں اوقیانوس کے ساحلوں سے لے کر مشرقِ بعید میں بحرالکاہل کے ساحلوں تک کوئی ایسی بڑی موسمیاتی رکاوٹ نہیں ہے جو اس پٹی میں ٹیکنالوجی کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی میں حائل ہوسکے۔ اس کے برعکس شمالی و جنوبی امریکہ میں رابطہ صرف پانامہ کی تنگ پٹی کے ذریعے ہی ممکن ہے اور وہ بھی پہاڑیوں اور مچھروں سے اٹی پڑی ہے۔ اسی طرح افریقہ میں رابطے کی راہ میں صحرائے صحارا اور اس کے جنوب میں وہ علاقے حائل ہیں جو بیماریاں پیدا کرنے والے حشرات کی آماجگاہ ہیں۔ اسی لیے متذکرہ بالا پٹی میں کسی بھی جگہ موجود لوگوں کو مغربی نصف کرے، آسٹریلیا اور افریقا کے باشندوں کی نسبت دوسرے علاقوں میں ہونے والی ایجادات اور اختراعات تک بہتر رسائی حاصل تھی۔ اور پھر آخر میں براعظم یورپ کے اندر جا بجا پہاڑی رکاوٹیں جبکہ بندرگاہوں کیلئے موزوں سواحل اور ان کے ساتھ ہی ماہی گیری کے مواقع کی موجودگی میں اس خطے کے لوگوں نے جہازرانی میں نسبتاً جلدی مہارت حاصل کی۔

یوں مغربی ایشیا اور یورپ میں زراعت کیلئے قدرتی طور موزوں پودوں اور جانوروں کی دستیابی، جانوروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے خلاف ان علاقوں کے لوگوں میں نسبتا ًجلدی پیدا ہوجانے والی مدافعت، چین اور جاپان تک ایجاد ہونے والی ٹیکنالوجی کی دستیابی اور جہاز رانی میں نسبتا جلدی مہارت حاصل کرنے کی ترغیب کی موجودگی میں یہ ناگزیر تھا کہ سب سے پہلے مغربی یورپ کے لوگ ہی دودراز ساحلوں پر اتریں گے اور ان سے اور ان کے جانوروں سے منتقل ہونے والی بیماریاں مقامی آبادیوں کے بڑے حصے کو نابود کردیں گی قبل اس کے کہ وہ اس احسان کو لوٹا سکیں۔ اس کے بعد ہتھیاروں اور نقل و حمل کے برتر ذرائع کی بنیاد پر یورپیوں نے باقی ماندہ مقامی آبادیوں کو محکوم بنایا۔ آج کے تناظر سے (قدرتی عوامل کے)  یہ نتائج کسی طور بھی خوش کن نہیں۔ یورپیوں نے انسانی جانوں اور ثقافتوں کا جو اتنا بڑا اتلاف کیا اور جس اخلاقی نقصان کا خود شکار ہوئے وہ نہایت برا ہے۔

 ڈائمنڈ کی تھیوری تو بس یہیں تک ہے لیکن اسے آسانی سے وسعت دے کر سائنس کے سب سے پہلے مغرب میں ظہور کی وضاحت بھی کی جاسکتی ہے۔ ڈائمنڈ نے تو یہ نہیں کہا کہ خالص سائنس ٹیکنالوجی کے حوالے سے زیادہ ترقی یافتہ اقوام میں ہی پیدا ہونی تھی لیکن اس کے تجزیے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل جائز ہوگا۔ آخر  مہندسانہ سوچ بچار اور خالص سائنسی سوچ بچار میں بس کچھ درجے کا ہی فرق ہے اور کچھ عرصے میں اتفاقی طور پر یہ ہو کر ہی رہنا تھا کیونکہ یہ ناگزیر ہے کہ ٹیکنالوجی میں عملی بہتریوں کے متعلق سوچ بچار کے نتیجے میں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی شخص اطلاقی کی بجائے خالص سائنسی بنیادوں پر سوچنا شروع کردے۔ گویا جس معاشرے میں اگر جرثومے نہیں بھی تو "بندوقیں اور فولاد” جتنی جلدی پہنچتے ہیں اس میں اتنی ہی جلدی وہ چیز بھی پذیرائی پاتی ہے جسے ہم سائنس کہتے ہیں۔ تو یہ وہ وجہ ہے کہ کیوں سائنس سب سے پہلے مغرب میں ظہور پذیر ہوئی۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: