ایک فقیر منش چیف جسٹس: جواد ایس خواجہ —– نجیبہ عارف

0
  • 383
    Shares

(زیر طبع کتاب ’’راگنی کی کھوج میں‘‘ سے اقتباس)

صمدانی بھائی کے چہلم کے لیے ہم قادر نگر پہنچے تو مرمت کا کام ابھی جا ری تھا۔ باباجان کی خواب گاہ کی تعمیر نو مکمل ہو چکی تھی مگر ابھی کمرہ بالکل خالی پڑا تھا۔ تزئین و آرائش کے بغیر۔ فرش پر چاندنی بچھی تھی۔ اگر دان میں اگر بتی جل رہی تھی۔ پر ہیبت پہاڑوں کی طرف کھلنے والی عقبی کھڑکی کھلی تھی۔ کمرے میں کوئی بھی نہیں تھا۔ میں خاموشی سے کمرے میں داخل ہو ئی اور ایک کونے میں لیٹ گئی کہ میں اس فضا کو اپنی سانسوں میں سمو لینا چاہتی تھی۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ مجھے باہر کے برآمدے میں کچھ لوگوں کی باتوں کی آواز سنائی دی۔ میں نے دھیان نہیں دیا۔ پھر یوں لگا کہ کوئی زور زور سے زمین پر قدم رکھ کر دھمک کی آواز گن رہا ہے۔
’’ون۔ ٹو۔ تھری۔ فور۔‘‘
میں نے نظر اندازکیا۔

لیکن کچھ دیر بعد یہ آواز، یہ دھمک، پوری فضا پر چھا گئی اور میں کمرے سے نکل کر برآمدے میں آنے پر مجبور ہو گئی۔

درانی صاحب کی خواب گاہ کے بیرونی برآمدے میں، کھلے آسمان کے نیچے اور ہلکی ہلکی سرور انگیز ہوا کے جھونکوں کے درمیان، میری ملاقات ایک ایسے جوڑے سے ہوئی جس سے متعارف ہونا میرے لیے ایک نایاب اور قیمتی تحفے کی طرح تھا جسے صمدانی بھائی جاتے جاتے مجھے عطا کر گئے تھے۔ یہ جسٹس جواد ایس۔ خواجہ اور ان کی باوقار، خوب صورت اور درویش مزاج بیگم بینا سے پہلی ملاقات تھی۔ سردار— جسٹس صاحب کا ’’ بڈی‘‘، شاعر اور نثر نگار، انتہائی سلجھے ہوئے ذوق کا مالک اور صاحب مطالعہ—وہیں کہیں تھا لیکن وہاں میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ کافی عرصے بعد اسلام آباد میں جب مجھے سردار کی ایک کتاب کا تعارف لکھنے کا حکم ہوا تو میں نے اس میں پہلی ملاقات کا حال بھی مختصراً لکھا تھا مگر جسٹس صاحب نے بوجوہ اس حصے کو حذف کر دیا تھا۔ یہاں وہ حذف شدہ تحریر درج ہے جو اس بے مثال جوڑے سے پہلی چند ملاقاتوں کے بعد لکھی گئی تھی:

سردار اور ان کے محسن و ممدوح جسٹس جواد ایس۔ خواجہ سے تعارف تو بعد میں ہوا، پہلے میں بیگم جواد خواجہ یعنی بینا سے ملی اور ملتے ہی ان کی محبت میں مبتلا ہو گئی۔ یوں بھی قادر نگر جیسی جگہ پر اگر کوئی مل جائے، تو اس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ بینا کتھک کی ماہر ہیں اور کلاسیکی موسیقی کی رمزآشنا بھی۔ کھلی کھلی، پاٹ دار، اونچی، بہت اونچی ہوتی، آسمانوں کو چھوتی ہوئی آواز۔ ان کی شخصیت میں ایک موہنی ہے جو ان کی غیر معمولی آواز اور سنگیت کے زیر و بم کے ساتھ ساتھ ان کی دلکش گفتاراور لب و لہجے سے بھی پھوٹتی ہے۔ اس پر مستزاد زندگی کے بارے میں ان کا بہت خوبصورت اور سادہ سا نقطۂ نظر! فالسے کے شربت پر کیسے انھوں نے اپنی تینوں خوب صورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹیوں کو بے مثال سادگی سے رخصت کر دیا۔ قادر نگر، وادیِ بنیرکے گھنے سر سبز درختوں کی چھاؤں میں بچھے، قدم دوست پتھروں اور اونچے نیچے راستوں کو پھلانگتے ہوئے، جون کی ایک ٹھنڈی ٹھار شام کو، انھوں نے یہ قصہ سنایا تو میں حیرت سے انھیں تکتی رہ گئی۔ لیکن اس وقت تک مجھے ان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ ہم سب قادر نگرکی جنت میں جسٹس صمدانی کے چہلم کے موقع پر جمع تھے۔ دعا ہو چکی تو قرب و جوار سے آئے ہوئے مہمان رخصت ہو گئے اور دور دراز کے لوگ ٹھہر گئے۔

 کسی محبوب مقام پرخاموش بیٹھ رہنا بھی کس قدر نشاط انگیز ہوتا ہے، اور پھر اگر کوئی اپنی بے پناہ آواز میں صحراکے گیت بھی چھیڑ دے، وہ گیت جن میں روح کی پکار بے نقاب دکھائی دیتی ہو اور آواز ایسی جو اس ہوش ربابے حجابی کا آئینہ بن جائے۔ میں کیا، کوئی بھی ہوتا تو مسحور ہو جاتا۔ میں نے بڑی لجاجت سے ان سے پوچھا کہ ’’کیا میں یہ آواز پھر کبھی سن سکتی ہوں؟‘‘ اور انھوں نے میری آواز سے میری مانگ بھانپ کر مہربانی سے کہا، ’’میں نے اور میری بیٹیوں نے گائیکی کا ایک چھوٹا سا گروپ بنا رکھا ہے، ’سکھیاں‘، اس گروپ کی ایک سی ڈی بھی ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے نہیں۔ میں کل لاہور جا رہی ہوں، سردار کے ہاتھ اسلام آباد بھیج دوں گی۔ آپ، اس سے لے لیجیے گا، آپ سردار کو جانتی ہیں نا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
’’اچھا؟‘‘ وہ یوں حیران ہوئیں جیسے سردار کو نہ جاننا بہت عجیب بات ہو۔

’’ہاں سردار! بس وہ ہمارا اپنا ہی ہے! جواد کے ساتھ ہوتا ہے‘‘۔ انھوں نے جسٹس صاحب کی طرف اشارہ کیا، جو اس ٹیرس نما صحن کے ایک کونے میں، بانس کی کھرّی چارپائی پر، ہرے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس، بالوں کی پونی باندھے بظاہرسو رہے تھے، بے خبر یا با خبر خدا جانے!۔ تب مجھے معلوم ہواکہ بینا جسٹس جواد خواجہ کی بیگم ہیں۔

دو ہی دن بعد سردار کا فون آگیا کہ سی ڈی آگئی ہے۔ میں اور عارف سی ڈی وصول کرنے اسلام آباد کے خوب صورت ترین علاقے میں واقع ججز کالونی میں جسٹس جواد خواجہ کے سرکاری گھر پہنچے۔ بینا تو موجود نہیں تھیں مگر اس گھر کے کئی اسرار کھلے۔ سادہ سی رہائش، سادہ سا کھانا، بالکل بے تکلف اور کھلا کھلا ماحول۔ مجھے ذرا حیرت ہوئی۔ جسٹس صاحب کا نام خبروں کی زینت بنتا رہتا تھا، وہ اس ملک کے اہم ترین عہدے داروں میں سے ایک تھے۔ لیکن اس گھر کے ماحول میں ایک غیر معمولی لطافت اور برکت محسوس ہوئی، کشادگی، جو دلوں کی کشود سے پیدا ہوتی ہے اور سکون جو قناعت اور توکل کے سوا دنیا کی کسی شے سے نہیں ملتا۔ جسٹس صاحب نے موجود و غیر موجود جن اہم شخصیات سے تعارف کروایا ان میں ایک تو سردار صاحب تھے، جو اس وقت ان کے ڈرائیور کے عہدے پر فائز تھے اور دوسرے علی رحمان۔ علی رحمان عدالت عالیہ کے نائب قاصدتھے اور ایک کتاب کے مصنف۔ ان کا تعارف بذریعہ کتاب ہوا جس کا عنوان تھا، ’’عدالت عالیہ کے نائب قاصد کی کہانی‘‘۔ سردار کا تعارف کراتے ہوئے جسٹس صاحب نے کہا،

He is my buddy

پھر پتا چلا کہ وہ بھی صاحب کتاب ہیں اور ’’وہ‘‘ کے عنوان سے ان کا شعری مجموعہ بھی چھپ چکا ہے۔ میں نے یونہی اپنی ’’خوئے سلطانی‘‘ یعنی امتحان لینے کی استادانہ عادت سے مغلوب ہو کر کہا کہ اپنے کچھ اشعار عطا کیجیے۔ اب جو سردار صاحب نے غزل سنانی شروع کی، تو میں جو کسی ناپختہ اور نومشق شاعر کے کلام کی توقع کر رہی تھی، چونک اٹھی۔ موضوع اور اسلوب دونوں ہی توجہ طلب تھے۔

میری داد سن کر جتنی خوشی جسٹس صاحب کو ہوئی، اتنی شاید سردار کو بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ باتوں باتوں میں انھوں نے خود بھی حافظ ؔ کے ایک دو مصرعے پڑھ ڈالے۔

’’ ؂؂  کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکل ہا‘‘

بعد کی ملاقاتوں میں ان کے لکھے ہوئے چند ایک عدالتی فیصلے پڑھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی حافظؔ و رومی ؔکے شعروں اور شیخ سعدی ؔ کی حکایتوں سے مزین تھے۔ اردو، فارسی اور عربی ادبیات کا یہ ذوق اب نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہو چکا ہے۔ تصوف سے بھی لگاؤ رکھتے ہیں، جس کا اندازہ ان کے مداحوں کی تحریروں سے ہوا جو انھیں کم و بیش اپنے روحانی مرشد کا مقام دیتے ہیں اور ثبوت میں ان کے طرزِ زندگی اورطرزِ عمل کی کئی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ہمارے صمدانی بھائی سے انھیں گہری عقیدت ہے اورپاکستان کے عوام کی حالت زار پر نہ صرف کڑھتے ہیں بلکہ اسے بدلنے کے جتن بھی کرتے رہتے ہیں۔ مختصر سے دورانیے میں کسی ایک شخصیت کے بارے میں اتنی بہت سی باتیں معلوم ہو جانا بھی عجیب ہے۔

—————

بینا اورجواد خواجہ صاحب سے ملاقات بڑھی تو معلوم ہوا کہ تسلیم و رضا کی جس منزل پر وہ فائز ہیں وہاں تک پہنچ پانا، مجھ جیسوں کے لیے محض ایک خواب ہی ہو سکتا ہے۔

تقریباً ہر ملاقات میں ایک دو بار ان کے منہ سے یہ جملے ضرور سننے کو ملتے ہیں:

’’او باجی!بندہ تے ککھ بھن کے دوہرا نئیں کر سکدا۔ کیہ سمجھے او، ککھ بھن کے دہرا نئیں کر سکدا۔ یہ اوہدی رضا اے، تے ساڈا سرِ تسلیم خم اے۔‘‘

شروع شروع کی چند ملاقاتوں کے بعد ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا،
’’میں تہانوں کی کہہ کے بلایا کراں؟‘‘ ان دنوں وہ ابھی چیف جسٹس آف پاکستان نہیں بنے تھے۔
میں سمجھی شاید وہ میرا نام بھول گئے ہیں۔
’’میں نے کہا، سر میرا نام نجیبہ ہے۔‘‘
’’اوہ تے ہے، پر میں تہانوں باجی کہواں گا۔ ‘‘ انھوں نے فیصلہ سنا دیا اور میرے پاس سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

وہ بے تکلف گفتگو کرتے ہیں اور پنجابی بول کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ پنجابی صوفی شعرا کے کلام سے بھی انھیں خاص لگاؤ ہے۔

 مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ رہے ہوں، نہایت توجہ سے بات سن رہے ہوں، یا اپنی مستحکم اور نپی تلی رائے کا اظہار کر رہے ہوں، ان کی نگاہ کا تاثر کچھ اور ہوتا ہے۔ کسی دور کے سفر پر نکلی ہوئی آواز جیسا۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی گم گشتگی، ایک ایسی ناموجودگی ہے، جو حیران کرتی ہے۔ جیسے وہ بیک وقت کئی سطحوں پر، کئی دنیاؤں میں جی رہے ہوں۔ مجھے یہ تو اندازہ ہے کہ وہ صاحبِ نسبت ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ کس سلسلے اور کس ہستی سے وابستہ ہیں۔ میں نے کئی بار پوچھنے کی کوشش کی مگر وہ اس معاملے میں لب کھولنے سے گریز کرتے ہیں اور بات ادھر ادھر پھیر دیتے ہیں۔ البتہ میں نےان کی شخصیت سے نکلتی ہوئی شعاعِ مہر و مروت کو اکثر محسوس کیا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے اندر ایک اطمینان، ایک تقویت، ایک شانتی سی پیدا کر دینے پر قادر ہیں۔ خود اپنے آپ میں وہ جس قدر راضی برضا، جس قدر پر سکون، جس قدر قانع نظر آتے ہیں، وہ بھی اپنی جگہ ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ پھر ان کی بات یہ بھی ہمیں بہت بھاتی ہے کہ وہ انسان کی تکریم کرتے ہیں۔ خاص خاص انسانوں کی نہیں، ہر انسان کی۔

 ہم نے انھیں گھر کے ملازموں سے برتاؤ کرتے دیکھا ہے، اس برتاؤ میں ایک فطری برابری ہے، مصنوعی عاجزی یا نمائشی رویہ نہیں۔
 طالب علموں کا حوصلہ بڑھاتے دیکھا ہے، انھیں دوست بن کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے، منصف بن کر فیصلے صادر کرتےہوئے نہیں۔
چھوٹے چھوٹے بچوں سے اس طرح محو گفتگو پایا ہےجیسے وہ کسی دانش ور سے گفتگو کر رہے ہوں۔ ، لطف اندوزی اورمذاق میں نہیں، نہایت سنجیدگی اور انہماک سے۔ بھرپور اور مکمل ابلاغ میں مصروف۔

 ان کے گھر کا ماحول بھی عجیب ہے۔ گھر کی دیواروں پر فارسی اور پنجابی شعروں کے طغرے آویزاں ہیں۔ دیواروں اورچھت کے نقش و نگار ان کی بیگم بینا نے خود پینٹ کیے ہیں۔ کمروں میں رنگین پایوں والی چارپائیاں بچھی ہیں جن پر دیسی کپاس سے بنے ہوئے کھڈی کے کھیس بچھائے جاتے ہیں۔ ان کااکلوتا بیٹا حیدر چین سے روایتی چینی طب کی تعلیم پا رہا ہے۔ ایک بھانجا یونانی حکمت کے قدیم نسخوں کی تلاش میں شہر شہر پھرتا ہے اور پرانے خاندانی حکیموں کو ڈھونڈتا رہتا ہے۔ نواسے نواسیاں خطاطی سیکھتے ہیں۔ گھر میں ایک غیر رسمی سکول قائم ہے جہاں بینا اور ان کی تینوں بیٹیاں خود بھی پڑھاتی ہیں اور باقاعدہ استاد بھی مقرر ہیں۔ یہ سکول اپنے اور ارد گرد رہنے والے غریب بچوں کو مفت تعلیم دیتا ہے۔ ان بچوں کو اردو اور فارسی کے شعر یاد کروائے جاتے ہیں۔ خطاطی سکھائی جاتی ہے، ترانے یاد کرائے جاتے ہیں اور اگر کوئی شوق رکھتا ہے تو کتھک بھی سیکھ سکتا ہے۔ بینا لڑکیوں کے ایک سکول میں کتھک کی استاد ہیں۔ زینب یوگا کی مشقیں کرواتی ہیں۔ غرض ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ ان سب سے الگ ان کا مہمان خانہ ہے۔ مہمان خانہ کیا پورا آشرم ہے جہاں چاہنے والے مہینوں رہ سکتے ہیں۔

بینا کے ساتھ ساتھ، ان کی تینوں بیٹیاں، زینب، سلیمہ اور عصمت بھی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم پا چکی ہیں اور باقاعدہ ریاض کرتی ہیں۔ مگر گانے کے لیے وہ لوک گیتوں خاص طور پر صحرا کے مقامی بولوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ روہی اور چولستان کے نعتیہ سہرے، ٹپے، کافیاں اور دوہڑے، تھر ننگر پارکر کے ہندو بھگتوں کےبھجن، امیر خسرو کے گیت، ان بولوں میں ایک پراسرار اثر، ایک تیکھا پن، ایک گہرا جادو ہے۔ اس پر مستزاد ان کی آواز۔ اس آواز میں روایتی مٹھاس، سوز اور نزاکت نہیں۔ ایک ایسی دم بخود کر دینے والی سادگی، شکوہ اور بلند آہنگی ہے، ایک ایسی وارفتگی اور بے نیازی ہے، ایک ایسی شعلگی ہے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی اور بلند ہوتی جاتی ہے، ایک ایسی گونج ہے جو پلٹ پلٹ کر آتی ہے اور بار بار سماعت کی اندرونی تہوں سے ٹکراتی ہے۔ اس آواز کا اتار چڑھاؤ اور اس میں پڑنے والے بھنور، صحرائی بولوں کے ناتراشیدہ، ان گھڑ موڑ، کچے راستوں پر ٹپے کھاتی ہوئی بیل گاڑی جیسے غیر متوقع سٹریس (stress)، اور ان سب باتوں سے سوا، ان کا سہولت اور ہمواری سے گانا۔ ایک فطری اعتماد اور مہارت کے ساتھ۔ یہ سب باتیں مل کر ایک غیر معمولی فضا تخلیق کرتی ہیں اور انسان خود کو اپنے وجود سے نکلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔

 میرا جی چاہتا ہے ان بولوں کو لکھ لوں کیوں کہ یہ کسی کتاب میں نہیں ملتے۔ روایتی طور پر انھیں گانے والے لوگ اب روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں یا پھر شہروں کی دنیا سے اتنے دور ہیں کہ ابھی تک ان کی بے ریائی، ان کا اخلاص، ان کاکنوار پن باقی ہے۔

اچھی بنرے دی چھب بنی
موتیَن دا سیورا                            یا محمد چھتر چڑھائیو، میں واری
اچھی بنرے دی چھب بنی
تن تن سوہے بی بی آمنہ              جس محمد بیٹاجائیو رے
موتیَن دا سیورا                           یا محمد چھتر چڑھائیو، میں واری

اچھی بنرے دی چھب بنی
نبی ہوئے سوار، معراج چلے        سب اولیا، انبیا لڑ لگے
حوراں نے منگل گایو رے
موتیَن دا سیورا                           یا محمد چھتر چڑھائیو، میں واری
اچھی بنرے دی چھب بنی
پڑھو لاالہ الا اللہ                          یا محمد پاک رسول اللہ
کلمہ نام محمد آیو رے
موتیَن دا سیورا                           یا محمد چھتر چڑھائیو، میں واری
اچھی بنرے دی چھب بنی

(۲)

اے گھڑولی وے، کنگریاں والی وے                          بھَرساں کلمے دے نال
وے بھلا وےمینوں بھر کے چَوَاویں وے                     خواجہ سَید جلال
رانجھن میرا وے، گُڑ دی روڑی وے                           میں تے مَٹ وی شراب
وے بھلا وےمینوں بھر کے چَوَاویں وے                    خواجہ سَید جلال
چکل چکلی وے، کھوہ نوں سوہے وے                     کانجن منُیاں دے نال
وے بھلا وےمینوں بھر کے چَوَاویں وے                    خواجہ سَید جلال
آپ بھریساں وے، بھرَن نہ دیساں وے،                     بھَرساں چاہواں دے نال
وے بھلا وےمینوں بھر کے چَوَاویں وے                     خواجہ سَید جلال

(۳)

سوہنی کا دیا را، میں چاہوں مکھ واروں                       اپنے خواجہ پہ میں تن من واروں
آئے ری آئے، مورے بھاگ جگائے                                مورے گھر خواجہ معین الدین آئے
چأ، نی سیو مینوں خواجہ دے ملن داچا ٔ                     آ وے لوڑیں دا، توآ وے لوڑیں دا
چأ، نی سیو مینوں خواجہ دے ملن داچأ
خواجہ دی صورت میرے من پر وَس رہی                     دل دی توں تپش بُجھا، وے لوڑیں دا
چأ، نی سیو مینوں خواجہ دے ملن داچأ
آ وے لوڑیں دا، توآ وے لوڑیں دا                                   آ وے لوڑیں دا، توآ وے لوڑیں دا 

(۴)

پھُل چُن لاواں، سیج وچھاواں نی                            نی میں پھل چن لاواں کلیاں
ہو مہاراج بنے، میرے سانورے بنے                          دے سہرے نوں لاواں کلیاں
سُتڑا ایں تے، جاگ پیاریا وے                                    نی میں کیہڑے ویلے دی کھلی آں
ہو مہاراج بنے، میرے سانورے بنے                          دے سہرے نوں لاواں کلیاں
پھُل چُن لاواں، سیج وچھاواں نی                          نی میں پھل چن لاواں کلیاں
رانجھن میرا، کیسری بھنیانی، بنڑا میرا کیسری بھنیا نی      نی میں جوڑ جڑیندی کھلی آں
ہو مہاراج بنے، میرے سانورے بنے                          دے سہرے نوں لاواں کلیاں
پھُل چُن لاواں، سیج وچھاواں نی                           نی میں پھل چن لاواں کلیاں

(۵)

سمجھ سہاگ دا ڈولا سسّی                     وڑ وچ صندوق دے گئی ای
لُڑھدی پئی اے
ہتھ وچ گانا، لب نام پُنوں دا                        سر چادر عشق دی لئی اے
لُڑھدی پئی اے
راتیں جمی، تے ٹُر پئی دھمی                  مہمان خضر دی تھئی اے
لُڑھدی پئی اے
زخمی چھوڑ کے ماں پے، شاہیاں            ہِک تاہنگ پنھل دی رکھ لئی اے
لُڑھدی پئی اے 

(۶)

فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
گھٹ ماہیں سورج، گھٹ ماہیں چندرما                              تو گھٹ ماہیں نو لکھ تارا
فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
گھٹ ماہیں گنگا، گھٹ ماہیں جمنا                                    تو گھٹ ماہیں ہَر دا دوارا
فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
گھٹ ماہیں برہما، گھٹ ماہیں وشنو                                 تو گھٹ ماہیں شِو دا پسارا
فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
گھٹ ماہیں ہیرا، گھٹ ماہیں موتی                                   توگھٹ ماہیں پلکن ہارا
فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
کہے قلندر، تن من اندر                                                   تو ڈھونڈ لیا جگ سارا
فقیراں نوں صاحب لگدا اے پیارا ولا
(گَھٹ بمعنی دل، باطن)

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  مادری زبان اور ماڈرن ازم ——– سحرش عثمان
(Visited 397 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: