جنگ شروع ہوتی ختم کبھی نہیں ہوتی —– قاسم یعقوب

0
  • 144
    Shares

جنگ اور زندگی کی خواہش دو ایسی سرحدیں ہیں جن کی تقسیم خون کی ندی کرتی ہے۔ آج کے دور میں جنگ نے ہماری زندگیوں کو حیران کن حد تک متاثر کیا ہے۔ ہمارے شب و روز، ہماری اقتصادیات اور ہماری زبان تک جنگ اور اس کے مضمر اثرات سے بچ نہیں پاتی۔ ادب کا بڑا حصہ بھی براہِ راست اور بالواسطہ جنگ سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہاں کیرل کوہن کا ایک منفرد اور دلچسپ مضمون ’’عسکری اصلاحات اور جنسیات‘‘ جس کا اُردو ترجمہ مسعود اشعر نے کیا ہے، کا حوالہ دینا بے جا نہ ہو گا:

’’روزمرہ کی زبان استعمال کر کے خود جنگی ماہرین بھی اپنی زندگی کو خوش گوار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایٹمی ہیڈ کو بلا اجازت چھوڑنے کے لیے جو الیکٹرانک سسٹم بنایا گیا اس کا پیارا نام رکھا ہے۔ PAL یعنی دوست۔ اینٹی بلیسٹک میزائیل سسٹم کے لیے ابتداء میں جو نام رکھا تھا اس کا نام ‘‘بامبی‘‘ تھا۔ صدر کی طرف سے ہر سال ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے جو منصوبہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ کیا بنانا ہے اور کس تعداد میں بنانا ہے؟اسے ‘‘شاپنگ لسٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی خرید کی جانے والی اشیاء کی فہرست۔ جب ایٹمی ہتھیاروں کے نشانے طے کئے جاتے ہیں تو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ’’مینیو‘‘ سے اس کا انتخاب کرتی ہے۔ ایک خاص ایٹمی حملے کا نام ’’بسکٹ کاٹنے والا آلہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ محکمہ دفاع نیوٹرن بم کے لیے بھی یہی لفظ استعمال کرتا ہے۔ ان الفاظ اور ان استعاروں سے انسانی زندگی اور انسانی جانوں کی طرف بھی توجہ ہٹ جاتی ہے۔‘‘ (کیرل کوہن: مشمولہ مضمون ’’عورت :زبانِ خلق سے زبانِ حال تک‘‘، مرتب:کشور ناہید، سنگِ میل پبلشرز، لاہور، ۲۰۰۰ص۱۶۰)

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ آج کا شاعر حالات کو سمجھتا ہے۔ نظریہ اور نظریاتی مہم کو جانتا ہے۔ وہ سرحدوں سے پار جا کر انسانیت کی حمایت کرتا ہے، خطے کے سیاسی مقاصد کو بچانے کی خاطر حکمرانوں کا آلۂ کار نہیں بنتا۔ اپنے شاعر ہونے کا بنیادی فریضہ ادا کرتا ہے۔ محبت، امن، زندگی اور انسانیت اُس کے ’’مذہب‘‘ کے بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نظریہ ( Stance) کا اعلان انہی قدروں کی پاسداری کے لیے کرتا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ یہ قوانینِ انسانیت (Humanitarian Laws) ہر جگہ ایک سے ہیں، جغرافیائی یا نظریاتی حد بندی سے ماورا ہیں۔ اس سلسلے میں ۲۰۰۰ء میں چھپنے والی ایک کتاب ’’زمین کا نوحہ‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب کا موضوع ایٹم بم کی تباہ کاریوں پر لکھا جانے والا ادب ہے۔ کتاب کے مرتب ضمیر نیازی نے مختلف افسانہ نگاروں اور شاعروں کو ایک جگہ اکھٹا کر کے اُردو شاعری کی جنگ کے متعلق مجموعی سوچ کو پیش کر دیا ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے ٹھیک دو سال ۲۸ مئی ۲۰۰۰ء کو شائع کی گئی۔ یہ ایک قسم کا اس اقدام کے خلاف احتجاج بھی تھا۔ جنگ کے خلاف عمومی روّیوں میں افسانہ نگاروں میں آصف فرخی، انتظار حسین، مبین مرزا، امر جلیل، مسعود اشعر، زاہدہ حنا، محمد سلیم الرّحمن، حسن منظر وغیرہ نے فکشن میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ شاعروں میں احمد فراز، محسن بھوپالی، انور احسن صدیقی، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، حسن عابدی، ہلا ل نقوی، ن۔ م دانش، ذیشان ساحل، علی محمد فرشی، شیراز راج، زاہد حسن اور حارث خلیق وغیرہ نے ایٹم بم کے خلاف ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے انسانیت کے لیے جنگ سے آزاد معاشرے کے خواب بُنے۔  چند ایک نظمیں دیکھیے:

چند ایک نظمیں دیکھیے:

سائرن بج رہا ہے        (مصطفی ارباب)

سائرن بج رہا ہے
اور میں
فنا سے پہلے ایک نظم لکھ رہا ہوں
مجھے نہیں معلوم
کوئی اس نظم کو پڑھ بھی پائے گا
پھر بھی میں لکھنا چاہتا ہوں
ایک نظم جس کا نصف حصہ سرحد کے پار
کوئی سر جھکائے میرے ساتھ لکھ رہا ہے
میں جانتا ہوں سائرن وہاں بھی بج رہا ہے
جنگ کی کوکھ سے جنمی نظم
(زاہد حسن)

میں نے پوچھا اس سے، اس کے شہر اور شہر میں آباد لوگوں کے بارے میں
میں نے پوچھا اس سے بارش، ہوا اور رنگوں کے بارے میں
میں نے پوچھا اس سے اس کے جیون اور جیون میں رچے دکھوں کے بارے میں
میں نے پوچھا اس سے شہر کی بے سود بڑھتی بھیڑ
اور پچھلے برس چھڑی جنگوں کے بارے میں
میں نے پوچھا اس سے میک اپ کی دکانوں، رنگ برنگے کپڑوں
اورلڑکیوں کے بارے میں
میں نے اس سے نیلے سمندروں، دہکتے صحرائوں
اور گہرے جنگلوں کے بارے میں پوچھا
میں نے اس سے ہر اس شے کے بارے میں پوچھا
جو ہمارے ماضی میں آباد دنیا کا
بہت عرصے تک خواب بنی رہی
اس نے میرے وجود کو ٹٹول کے دیکھا
اور میرے سینے سے لگ کر رونے لگی
(زمین کا نوحہ:(مرتب :ضمیر نیازی)، شہرزاد کراچی، ستمبر۲۰۰۱، ص ۲۴۶)

اُردو شعرا نے ملک کے اندر اور ملک سے باہر دوسرے ممالک کے درمیان جنگوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو یقینا غیر جانبدار اور خالصتاً نظریۂ انسان دوستی پر مبنی ہے۔ فیض صاحب، قاسمی صاحب اور دیگر ترقی پسند شعرا نے فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیلی جارحیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایسا بھی ہوا کہ صرف مسلم ممالک پر مسلّط کی گئی جنگوں پر پاکستانی شعرا نے ردّعمل کا اظہار کیا مگر نوّے کی دہائی میں یہ صورتِ حال یکسر تبدیل ہو گئی۔ گو کہ اب بھی مسلمان ہی صیہونی طاقتوں کا نشانہ بن رہے ہیں مگر مظلومیت بہرحال ایسا مظہر ضرور ہے جس نے کمزور اور طاقتور میں کمزور کا ساتھ دینے کا جذبہ پیدا کیا۔ آج صرف مسلمان ہی عراق، افغانستان، فلسطین اور لبنان میں جاری سامراجی طاقتوں کی جنگ کے خلاف نہیں بلکہ ہر ذی شعور دانش ور کا احتجاج اس کا گواہ ہے کہ شاعر اور شاعری کا مذہب صرف انسان دوستی اور انسانیت کادر س ہوتا ہے۔

جنگ خواہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہی کیوں نہ ہو، انسانیت کش اور نفرت آمیز انسانی رویہ ہے، جو حیوانیت (Brutality) کے قریب تر ہے۔ اس کا استعمال بزدل عمل ہے جو کسی طرح بھی نہیں ہونا چاہیے۔ امن اور آشتی کے فروغ کے لیے گفتگو (Table Talk) کو ہی اوّلیت حاصل ہونی چاہیے۔ صرف ابن ِ انشا ایک ایسا شاعر تھا جو 65کی جنگ میں بھی جنگ کے خلاف بات کررہا تھا جب پورا خطہ جنگ جنگ پکار رہا تھا۔ کلاسوٹز کے بقول جنگ شروع ہوتی ہے ختم کبھی نہیں ہوتی۔ یہی وہ پیغام ہے جو انسانیت کا پیغام ہے جسے شاعر پیش کرتے آ رہے ہیں اور آئندہ بھی پیش کرنا چاہیے۔

(Visited 157 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: