ہم جنس پرستی (گے ازم) ایک المیہ —— علی عبداللہ

0
  • 36
    Shares

جنس مخالف کی کشش روز اول سے ہی نہ صرف انسان بلکہ تمام جانداروں میں رکھ دی گئی تھی تاکہ وہ اپنی فطری اور جسمانی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ بات تب بگڑی جب دنیا کا پہلا معاشرہ جسے قوم لوط کہا جاتا ہے، اپنی ہی جنس کی جانب مائل ہوا اور ہم جنس پرستی یعنی گے ازم کا آغاز ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستی مختلف معاشروں میں پھیلتی چلی گئی۔ یونان اور روم میں یہ اپنے عروج پر پہنچ گئی حتی کہ قدیم یونان میں مشہور ہو گیا کہ،
“women are for business, boys are for pleasure”۔

ہم جنس پرستی موجودہ دور میں افریقہ سے لے کر یورپ، امریکہ اور ایشیا تک مختلف صورتوں میں موجود ہے۔ کہیں اسے قانونی سرپرستی حاصل ہے اور کہیں یہ پس پردہ اپنی جڑیں پھیلاتی چلی جا رہی ہے۔ سترھویں صدی سے پہلے لفظ Gay صرف خوشی اور شادمانی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا لیکن سترھویں صدی کے آغاز میں لفظ Gay کو بدکردار اور بد اخلاق کے معنوں میں لیا جانے لگا۔ انیسویں صدی میں Gay طوائف اور ایسے مردوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا جن کے ایک ہی وقت میں کئی عورتوں سے جسمانی تعلقات ہوتے تھے۔ 1960 کی دہائی میں Gay خاص طور پر ہم جنس پرست مردوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا اور اس کی وجہ ہم. جنس پرست طبقے کا خود اس لفظ کو اپنے ساتھ منسلک کر لینا تھا۔

سکندر اعظم اور دیگر یونانی و رومی امراء سے لے کر رچرڈ شیر دل، شاہ فلپ دوم اور نئے زمانے میں مشہور کمپیوٹر سائنس دان ایلن ٹورنگ، ناول نگارآسکر وائلڈ، سکرین رائٹرٹونی کشنر، گورے ویڈال اور مشہور شاعر افتی نسیم سمیت کئی مشہور و معروف شخصیات ہم جنس پرستی یا گے ازم میں مبتلا تھیں۔ کیتھولک چرچ ایک طویل عرصے سے اغلام بازی اور ہم جنس پرستی جیسے قبیح واقعات کے باعث مختلف مسائل اور تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ بظاہر یہ چرچ ہم جنس پرستی کی حوصلہ شکنی اور اس بات کی تردید کرتےچلے آئے ہیں کہ کیتھولک چرچ کا کوئی پادری یا رکن اس میں ملوث ہے لیکن سابقہ ادوار میں ہم جنس پرستی کے بے شمار واقعات نے چرچ کے تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوپ فرانس نے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہم جنس پرستوں، خصوصاً بچوں سے زیادتی کرنے والے پادریوں کو شیطان کا ساتھی کہا ہے۔ مگر چرچ کے قول اور افعال میں تضاد تاریخی طور پر عیاں ہے۔

طویل عرصے سے سائنسی بنیادوں پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ ہم جنس پرستی جینیاتی طور پر منتقل ہوتی ہے یا یہ معاشرتی سطح پر فرد میں پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب مذہبی ذہن رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ چرچ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں پھیلے ہم جنس پرستی کے عوامل پر روشنی ڈالے۔ لیکن حال ہی میں شائع ہونے والی فرانسیسی مصنف فریڈرک مختل کی کتاب، “In the Closet Of the Vatican” میں مختل نے عیسائیت کے مرکز ویٹیکن کے بارے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ مختل کا کہنا ہے کہ کیتھولک چرچوں کے 80 فیصد پادری اور کارڈینلز ہم جنس پرستی میں ملوث ہیں۔ فریڈرک مختل نے 41 کارڈینل اور 52 بشپ سمیت دو سو پادریوں اور سفارتکاروں سے ملاقات اور ان سے انٹرویو لینے کے بعد یہ راز منکشف کیا ہے۔ ان کے نزدیک ویٹیکن ایک حوس زدہ اور ہم جنس پرست تنظیم ہے۔ اس کتاب پر ابھی ملا جلا رد عمل ظاہر ہوا ہے اور تقابل ادیان کے ماہر جیمز مارٹن نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ، مصنف نے متاثرکن تحقیقات کی ہیں لیکن یہ گپ شپ اور قیاس آرائیوں پرمشتمل ہونے کی بنا پر پڑھنے والوں کو کشمکش میں مبتلا کر دیتا ہے کہ حقیقت کیا ہے۔ یاد رہے کہ فریڈرک مختل خود بھی ایک ہم جنس پرست ہیں۔

پاکستان چونکہ اسلامی ملک ہے، یہاں پر ہم جنس پرستی کو نہایت برا اور قبیح سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے ہم جنس پرستی کی شدت سے حوصلہ شکنی ہے اور اس کے لیے سزا بھی مقرر کی ہے لیکن باوجود اس کے ہم جنس پرستی کا رجحان یہاں موجود ہے۔ کراچی کو بعض لوگ “ہم جنس پرستوں کی جنت” کا لقب بھی دیتے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں اور مدارس میں بھی گے ازم کا اژدھا منہ کھولے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے اکثر شہروں میں غیر اعلانیہ ہم جنس پرست موجود ہیں اور میرے مشاہدے میں کئی ایسے مرد موجود ہیں جو ہم جنس پرستی کی جانب مائل ہیں یا کبھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکوں سے زیادتی کے واقعات تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ طبی، نفسیاتی اور تعلیمی سطح پر باقاعدہ نوجوانوں کی تربیت کی جائے اور ان کو ہم جنس پرستی کے نقصانات اور اس سے متعلقہ پیچیدگیوں کے بارے آگاہ کیا جائے تاکہ اگر خدا نخواستہ کوئی اس طرف مائل ہو بھی رہا ہو تو یہ تربیت اس میں بدلاؤ لا سکے۔ حکومتی سطح پر اس بارے ممکنہ اقدامات کرنا ضروری ہیں تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ہم جنس پرستی کے رجحانات کو ختم کیا جا سکے۔ وگرنہ یہ نوجوانوں میں مزید نفسیاتی، طبی اور مذہبی مسائل کا باعث بن کر معاشرے کو بیمار اور ایڈز زدہ بنا دیں گے۔

یہ بھی دیکھئے: ہمارے معاشرے میں جنسی رجحانات: Lack of Libido OR Lack of Love — فارینہ الماس
(Visited 349 times, 1 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: