قائداعظم پر فرضی اعتراضات اور جھوٹے دعوی کا جواب —– محمد عبدہ

0
  • 289
    Shares

برصغیر میں قائداعظم وہ شخصیت ہیں جن کی بےبنیاد کردار کشی نہ صرف ان کی زندگی میں کی گئی بلکہ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، کردار کشی کرنے والوں میں قائداعظم کے سب سے بڑے دشمن کانگریسی ہندو اور ان کے حامی کانگریسی علماء تھے، ان میں انگریز بھی تھے اپنے اور بیگانے بھی۔ وہ باتیں جن کے جوابات کئی بار دیے جا چکے مگر وہی اعتراضات ہر بار نئی شکل میں سامنے لائے جاتے ہیں، جب سے سوشل میڈیا نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے، ہر کہہ و مکہہ محقق بن بیٹھا ہے۔

ایک صاحب نے، جنہیں قائداعظم سے خدا کے واسطے کا بیر ہے، کچھ عرصہ قبل انہوں نے قائداعظم پر دو اقساط میں بے بنیاد الزامات لگائے، اور اتنے دھڑلے سے جھوٹ لگتے ہیں کہ فرضی واقعات بیان کرنے کیلئے جھوٹے انڈیا، کینیڈا کے سفر کیئے اور دینا جناح و اسلم جناح سے سرکاری ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں۔ طریقہ واردات بہت شاطرانہ ہے کسی کتاب سے ایک واقعہ لیجئے پھر اسے اپنی مرضی کے مطابق بدلئیے ساتھ ہی کچھ تاریخی شخصیات و کتابوں کے نام لکھ دیں کہ یوں محسوس ہو جیسے حوالہ دیا جارہا ہے جبکہ غور سے دیکھنے پر پتہ چلتا ہے واقعات اور بیان کیئے گئے حوالہ جات کا موضوع سے سر پیر نہیں ملتا لیکن لاعلم لوگوں کے ذہنوں میں شک کا بیج بو دیا جاتا ہے اور بیمار ذہن کو تو بس بہانہ چاہئے ہوتا ہے۔ اعتراضات کے سرسری جوابات تو اسی وقت دے دیے تھے اب انہی اعتراضات کا مفصل احوال حاضر ہے۔

موصوف کا پورا مقدمہ قائداعظم کے مسلک کے گرد گھومتا ہے کیونکہ مقصد فرقہ وارانہ نفرت اور پختون نفرت کا پرچار ہے اور جب قائد کی ابتدائی زندگی کا مطالعہ کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ قائد نے اپنا عقیدہ آغاخانی یا خوجہ اسماعیلی شیعہ سے اثنا عشری میں تبدیل کر لیا تھا، پوری زندگی خوجہ مسلک کا زکر کیا نا کوئی عمل سامنے آیا جبکہ قائد کا نکاح بھی مولوی نے پڑھایا جو اثنا عشری کے جیّد عالم تھے راجہ آف محمود آباد گواہ تھے، ساری زندگی سنی علما (دیوبندی، بریلوی) کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے، قائد کا نماز جنازہ بھی وقت کے سب سے بڑے دیوبندی عالم محسن پاکستان حضرت علامہ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ نے پڑھایا تھا۔ لہذا قائد کو اسماعیلی یا آغاخانی کہنا بد دیانتی ہے یہاں موصوف نے آغاخانیوں پر ایک بہتان باندھا ہے۔ جو لکھنا مناسب نہیں۔ موصوف کی اس پر دلیل آغاخان پر بنی فلم ہے فلم کب سے دلیل بن گئی موصوف کو چاہیے آغاخانی کسی عالم کی کتاب سے یہ بات ثابت کریں۔

اعتراض ایک۔
کراچی میں مقیم اسماعیلی خوجہ مصنف ممتاز علی تاج الدین صادق علی نے انسائکلوپیڈیا آف اسماعیلزم میں جناح پر ارٹیکل میں لکھا ھے کہ ”اڑتالیسویں اسماعیلی امام سلطان محمد شاہ کی ماں اور سینتالیسویں امام آقا علی شاہ کی بیوی لیڈی علی شاہ جمعرات کو کھارادر جماعت خانے اتی تھی اور نوزائدہ بچوں کےنام خوجہ روایات کے مطابق رکھتی تھی۔ ایک بار پونجا خاندان کا ایک بچہ لایا گیا تو لیڈی علی شاہ نے اسکا نام خوجہ روایات کے مطابق مام دالی جینا رکھا جو بعد میں محمد علی جناح میں تبدیل ھوا“۔

جواب۔
یہ پورا واقعہ جھوٹ پر مبنی ہے قائداعظم کا نام ان کے ماموں قاسم موسی نے “محمدعلی” رکھا تھا اور والد کا نام ساتھ ملا کر “محمد علی جناح” ہوگیا۔ قائد کے والد کا نام “جینا پونجا” تھا، گجراتی میں جینا دبلے کو کہا جاتا ہے جبکہ اسی تلفظ میں “جناح” کے معنی بازو اور شہہ پر ہے قائد کے والد نے اپنا نام کراچی آنے کے بعد جینا سے جناح لکھنا شروع کردیا، پونجا کو ہ کے اضافے کے ساتھ پونجاہ بنا لیا، یوں پورا نام جینا پونجا سے “جناح پونجاہ” بن گیا۔ معزز محقق جو کہانی قائد کی ولادت اور نام سے سنا رہے ہیں وہ حقیقت میں قائد کے والد نے نام تبدیل کیا تھا باقی رہی قائد کے نام “مام دالی جینا” تو یہ بالکل ہی فرضی ہے کہ جینا تو قائد کی پیدائش سے پہلے ہی جناح ہوچکا تھا۔ رہی بات تلفظ کی تو محمد علی کو کسی دوسری زبان کے تلفظ میں کیسے بولا جاتا ہے اس سے اصل نام پر کیا اعتراض بنتا ہے موصوف خود پشتو بولتے ہیں اور کتنے ہی اردو، سندھی، انگریزی نام پشتو لہجے میں عجیب و غریب بنا کر بولتے ہوں گے، پنجابی میں فیصل آباد کو فیصلاباد اور محمدعلی کو ممدعلی زبان زد عام ہے، نام بھارت بھی ہندی، تامل، تیلگو، مراٹھی، بنگالی میں عجیب و غریب تلفظ میں بولا لکھا جاتا ہے۔

اعتراض دو۔
قائداعظم کے سیکریٹری چوھدری غلام نبی نے خود لکھا ھے کہ ایک بار بمبئی میں مسلمانوں کے ایک جلسہ سے خطاب کیلیے دہلی سے وہ جناح کیساتھ روانہ ہوئے تو راستہ میں ریل سفر میں میں نے ان کو اعوذبااللہ سکھانے کی کوشش کی۔ (اجکل دہلی سے ممبئی رجداھانی ٹرین تقریباً 28 گھنٹے میں پہنچ جاتی ھے۔ راقم 2005 میں گیا 1700 روپے کرایہ پہ گیا ہے، قبل از تقسیم یہ سفر تقریباً چالیس گھنٹے کی ہوگی) جناح نے راستے میں اعوذباللہ۔ ۔ ۔ بسم اللہ سیکھ لیا۔ جب جلسے میں تقریر کا آغاز کیا تو کہنے لگا، ” اعوذباللہ من سیٹان رحیم“!

جواب۔
قائداعظم کے ایک ساتھی ملک غلام نبی تھے اور ان کی ایک ہی کتاب “قصہ ایک صدی کا” ہے جو عام دستیاب ہے اس میں یہ واقعہ نہیں ہے۔ محترم دوست نے یہ نہیں بتایا یہ کب کا واقعہ ہے کون سی تقریر ہے کہاں ہوئی تھی، تقریر کا حوالہ نہیں دیا کیونکہ قائد کی تمام تقریریں تو کیا ان کی زندگی کی تمام ابتدائی بیانات خط و کتابت، پھر سیاست میں آنے کے بعد ہر ملاقات میٹنگ تقریر کی دستاویزات ڈیڑھ لاکھ صفحات سے بھی زیادہ قائداعظم انسٹیٹیوٹ و ریسرچ میں محفوظ ہیں کسی میں ایسی کوئی تقریر کا زکر نہیں ہے۔ دہلی سے ممبئی سست ترین ٹرین بھی 28 نہیں 18 گھٹنے میں پہنچتی ہے اور حیران کن بات ہے راشد یوسفزئی کبھی بھارت گئے ہی نہیں ہیں اب یا تو پورا واقعہ ہی جھوٹ بیان کردیا ہے یا پھر یہ کسی اور کی تحریر ہے جو اپنے نام سے بیان کررہے ہیں۔

اعتراض تین۔
سال 2007 پاکستان کے اعلی ترین مقابلے کے امتحان CSS کے لازمی پرچات کے مجوزہ کتب میں ورجینیا یونیورسٹی کے پروفیسر کے بی سعید کے دو کتاب شامل تھے۔ The Political System of Pakistan اور Pakistan the Formative Phase، اب نصاب تبدیل ھوا ھے پتہ نہیں یہ کتب اب شامل نصاب ھیں یا نہیں۔ اس دوسرے کتاب کا ایک جملہ مجھے اب تک یاد ھے: (جملہ اتنا غلیظ ہے کہ لکھنا مناسب نہیں)

جواب۔
افسوسناک حد تک جھوٹ اور بہتان ہے جو یہاں لگایا گیا ہے میں یہاں اعتراض پر بات کرنے کی بجائے حقیقت بتاتا ہوں جس کے بعد الزام پر بات کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ کے بی سعید کی مذکورہ بالا دونوں کتابیں آکسفورڈ پریس نے شائع کی ہیں اور پاکستان بھر میں باآسانی دستیاب ہیں اور حیران کن طور پر دونوں کتابیں ابھی بھی CSS میں پڑھائی جاتی ہیں اور ان میں ایسا کوئی جملہ واقعہ نہیں ہے۔

اعتراض چار۔
میری جب پروفیسر خالد بن سعید تک رسائی تو میرا پہلا سوال تھا، ”سر، جناح کے اسلامی عقائد کے بارے میں صحیح حقیقت کیا ھے؟“ پروفیسر کے بی سعید نے جواب دیا ”وہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نجی محفلوں میں حضور اقدس صلعم کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیتا تھا، یہی بات جناح پہ اتھارٹی سٹینلے ولپرٹ نے بھی بتائی۔ (یہاں اتنے گستاخانہ الفاظ تھے کہ نقل کرتے ہوئے بھی شرم اور خوف آتا ہے)۔

جواب۔
پورے جملے میں کوئی سر پیر بات کا حوالہ کہیں نظر نہیں آرہا، کے بی سعید صاحب نے قائد بارے جو جملے موصوف کو بتائے وہ کے بی سعید نے کس حوالے سے بیان کئے تھے، سٹینلے والپرٹ نے یہی بات کس کو کب کہاں بتائی یا لکھی ہے اور موصوف تک یہ باتیں کس حوالے سے پہنچی ہیں۔ جبکہ خالد بن سعید 60 کے عشرے میں کینیڈا چلے گئے تھے 2014 میں وہیں فوت ہوئے، جناب کی کے بی سعید سے کوئی رابطہ ملاقات ہے تو کب کیسے کہاں ہوئی تھی جس کی بنیاد پر اتنے گھناؤنے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

اعتراض پانچ۔
قیام پاکستان کے بعد جناح کی زندگی پر پہلی کتاب خود اسکی بہن فاطمہ نے لکھی۔ قدرت اللہ شہاب نے اپنے خود نوشت سوانح عمری ”شھاب نامہ“ میں اس کتاب کے دو صفحات کے نقل شائع کیے ھیں۔ جسمیں یہ واقعہ نقل ھے کہ زیارت بلوچستان میں جب لیاقت علی، جناح کی بیمار پرسی کیلۓ آۓ اور فاطمہ نے جاکے جناح کو اطلاع دی کہ لیاقت حال پوچھنے آ آیا ھے تو جناح نے جواب دیا کہ وہ بیمار پرسی نہیں بلکہ یہ دیکھنے آیا ھے کہ میں مرنے کی کتنے قریب ھوں! اس کتاب کو اسٹبلشمنٹ نے فوراً ضبط کیا۔ پاکستان کے جاسوسی ادارے آئی ایس آئی کےتربیتی ادارے حمزہ اکیڈمی واقعہ حمزہ کیمپ (اجڑی کیمپ) کے لائبریری میں بہت سارے ممنوع اور نایاب کتب کیطرح یہ کتاب بھی موجود ھے۔ قائداعظم کی سرکاری سطح پر سوانح عمری سٹینلے والپرٹ سے لکھوائی گئی تھی۔ اسماعیلی کمیونٹی میں ماں بہن سے جنسی تعلقات زیادہ معیوب نہیں۔ (یہاں ایک نہایت گھناؤنے الزام لگایا گیا تھا جسے نقل کرنا نقص امن کا اندیشہ ہے)۔

جواب۔
قیام پاکستان کے بعد قائد کی زندگی پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں سب سے مشہور کتاب 1954 میں ہیکٹر بولیتھو نے Jinnah Creator of Pakistan لکھی، اس کتاب کے بہت بعد فاطمہ جناح کی قائد پر صرف ایک ہی کتاب “مائی برادر” آئی، شہاب نامہ میں فاطمہ جناح کی جس کتاب کے دو صفحوں کا زکر ہے وہ یہی “مائی برادر” ہے اور کبھی بھی ضبط نہیں کی گئی بلکہ اب بھی ہر جگہ دستیاب بھی ہے۔ فاطمہ جناح نے “مائی برادر” کتاب اکیلے میں نہیں بلکہ جی الانہ کی مدد سے لکھی گئی، فاطمہ جناح کی وفات کے بعد اس کا ٹائپ شدہ مسودہ کاغذات سے ملا تھا۔ 72- 73 میں اس کا ترجمہ و تلخیص ضیا شاہد نے اور پھر لاہور کے ایک کالج نے بھی چھاپا تھا، بعد میں یہ مسودہ ماہر قائدیات شریف المجاہد نے ایڈٹ کرکے قائداعظم اکیڈمی سے شائع کیا یعنی اس کا مسودہ ہر کسی کی پہنچ میں تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہی ٹائپ شدہ اصل مسودہ آرکائیو اسلام آباد میں موجود ہے اور ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ سرکاری سطح پر سوانح عمری سٹینلے والپرٹ نے نہیں ہیکٹر بولائیتھو نے لکھی تھی، شہاب نامہ میں جہاں فاطمہ جناح کی کتاب کا زکر ہے اسی جملے میں ہیکٹر بولائیتھو کا زکر بھی ہے لیکن کیا بددیانتی ہے کہ ایک جگہ سے ایک واقعہ غلط بیان کردیا اور دوسرا یکسر فراموش کردیا۔ اب اس جھوٹ کے بعد اس کتاب کا نام لیکر جو اسماعیلی کمیونٹی بارے فرضی قصے لکھے ہیں ان کی حقیقت خود جان لیجئیے۔

اعتراض چھ۔
سٹینلے ولپرٹ کی جناح پر کتاب شائع ھوئی تو پاکستانی حکومت نے فوراً اس پہ سخت پابندی لگائی۔ اسی دوران جمشید مارکر اسلام آباد واپس جاتے ھوۓ ایوان صدر پالیسی لینے جنرل ضیاء سے ملنے گیا تو صدر پاکستان نے کہا کہ سٹینلے ولپرٹ نے زبردست تحقیق کی ھے میرے طرف سے اسکو پاکستان کا سرکاری دعوت دو۔ واشنگٹن واپسی پر میں نے ولپرٹ سے ملاقات کی اور صدر پاکستان کا دعوت نامہ پیش کیا۔ تو ولپرٹ نے لگی لپٹی بغیر جواب دیا میں ایسے ملک نہیں جاتا جھاں میرے کتاب پہ پابندی ھو۔

جواب۔
سٹینلے والپرٹ کی کتاب Jinnah of Pakistan پاکستان میں بین تھی اور نا ہے آکسفورڈ کے ہر سٹور پر دستیاب ہے اس جھوٹ کے بعد باقی واقعہ وضاحت کے قابل ہی نہیں ہے۔

اعتراض سات۔
جمشیدمارکر دور ایوبی میں وزارت داخلہ میں پاکستان کے سفیر بن گئے۔

جواب۔
کہاں کے سفیر بن گئے اور وزارت داخلہ میں کون سا سفیر ہوتا ہے۔

اعتراض آٹھ۔
پاکستانی نصابی کتب میں ھے کہ جناح نے لنکن اِن میں داخلہ اس بناء پر لیا تھا کہ وھاں عالمی قانون سازوں میں پیغمبر اسلام کا نام سرفہرست تھا۔ یہ بات پچیس جنوری، سن اڑتھالیس کو جناح نے سندھ ھائ کورٹ سے خطاب میں خود کہی۔ سٹینلے ولپرٹ نے اپنے کتاب:Jinnah Of Pakistan میں لکھا ھے کہ ”جناح نے جھوٹ بولا تھا۔ لنکن اِن میں قانون سازوں کے فھرست میں پیغمبر اسلام کا نام کبھی نہیں تھا بلکہ ایک دیوار پر موسی’ اور سولن اور یسوع مسیح کے بعد پیغمبر اسلام کی تصویر ہے۔

جواب۔
وہاں نام نہیں تصویر ہے تو اس میں جھوٹ کی بجائے داخلہ لینے کی وجہ اور مضبوط ہوجاتی ہے جبکہ والپرٹ کے نام سے کہا جارہا ہے “جناح نے جھوٹ بولا تھا” والپرٹ کی کتاب میں جناح بارے ایسا کوئی جملہ شامل نہیں ہے۔

اعتراض نو۔
جناح کسی مقدمہ میں سَر ڈینشا کے ھاں مقیم تھا۔

جواب۔
محترم نے بتایا نہیں کس مقدمہ میں کب کتنا عرصہ سر ڈنشا کے ہاں مقیم رہے جبکہ قائد کے تمام مقدمات کی تفاصیل پر کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور قائد کا ممبئی میں اپنا گھر تھا پھر سر ڈنشا کے ہاں قیام کہاں سے جواز نکل آیا۔

اعتراض دس۔
قائداعظم اور رتی جناح کے تعلقات پر کچھ الزامات لگائے گئے ہیں جنہیں نقل کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور اسی میں آگے لکھا جارہا ہے کہ جب قائد کی بیٹی دینا جناح 2004 میں لاہور آئیں تو راقم کی ان سے ملاقات جاوید اقبال کے گھر ہوئی تھی۔

جواب۔
محترم محقق کیا بتانا پسند کریں گے قائداعظم و رتی جناح بارے جو بیان فرمایا ہے اسے کس کتاب سے نقل کیا ہے، اور یہ بھی بتا دیں ان کی دینا جناح سے لاہور میں جاوید اقبال کے گھر ملاقات کیسے ہوئی تھی اس کی تفصیلات کیا ہیں۔

اعتراض گیارہ۔
گزشتہ حکومت نے ترقیاتی کاموں سے فراغت کےبعد جمشید مارکر کے سفارش سے دینا کی فیملی کو پاکستان منتقل کیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جناح کے پوتے اسلم جناح کے بشمول تین افراد کے خاندان کو باھرسے کراچی منتقل کیا۔ ماھانہ فی کس پچاس ھزار روپیہ بمعہ دیگر الاٶنسز کےمقرر کیۓ اور ایک پوری شاھی محل رھائش کیلیے عطاء کی۔ راقم مرکزی حکومت کے اجازت سے کئی بار ملا۔ آپ چاھیں تو شرف دیدار حاصل کرسکتے ھیں۔ تاھم حکومت سے پیشگی اجازت شرط ہے۔

جواب۔
دینا جناح کی کونسی فیملی پاکستان منتقل کیا تھا جبکہ دینا کی تمام اولاد اب بھی انڈیا میں رہتی ہے۔ اسلم جناح قائد کے پوتے نہیں بلکہ قائد کے چچا کی اولاد سے ہیں اور کہیں باہر سے منتقل نہیں ہوئے بلکہ شروع سے ہی پاکستان میں رہ رہے ہیں، سرکاری شاہی محل تو کوئی نہیں البتہ ایک سرکاری گھر ضرور دیا تھا۔ راقم (راشد یوسفزئی) کئی بار ملنے کا دعوی کررہے ہیں کسی ایک ملاقات کا حال احوال بیان کردیں۔

اعتراض بارہ۔
مولانا محمد خان شیرانی نے اسمبلی میں قرداد پیش کیا کہ جناح پر تحقیق اور پی ایچ ڈی کی اجازت دی جاۓ۔ سپیکر خاموش رھا۔ اسی دوران بھاولپورکے ایک سکالر نے جناح پہ ریسرچ کی ٹھان لی اور یہ دعوی کیا کہ جناح کی سندھ مدرسة الاسلام کی سرٹیفیکٹ جعلی تھی۔ لنکن ان میں بیرسٹری میں داخلہ کیلیے انٹری ٹسٹ میں برٹش ھسٹری، رومن لاء اور لاطینی زبان سب کےتین پرچے لازمی پاس کرنے تھےجبکہ جناح لاطینی کےالف باء سے ناواقف تھا تو انٹری کسطرح پاس ھوئ؟ نوجوان سکالر ڈاکٹر عبدالمجید کی گھر پہ حملہ ھوا۔ ماں کو دھمکی دی گئ۔ عبدالمجید زندہ بمعہ تحقیق غائب ھوگیا۔ مولانا محمد خان شیرانی نےاسمبلی میں اور زور سے آواز اٹھائی۔ پھر اس قردادکا پتہ ھی نہیں چلا۔ گزشتہ رمضان لونگین ولی خان کی دعوت پر مولانا شیرانی کیساتھ مردان سے چارسدہ جا رھے تھے۔ نوجوان قانون دان اور جسٹس شاھجہان خان یوسفزئ کے بیٹے بابر خان پراڈو جیپ کی ڈرائیونگ کررھے تھے ساتھ امام شیرانی تشریف فرما تھے۔ پیچھےمیں اور نوجوان نیشنلسٹ ایم فل سکالر جان عالم مھمند بیٹھے تھے کہ میں نے امام شیرانی سے اس قرداد کےانجام بارے سوال کیا۔ امام شیرانی نےجواب دیا:” اس قرارداد پر تاکیدکے بعد نیشنل اسمبلی کے سولہویں سپیکر الہی بخش سومرو نے مجھے اپنے چیمبر بلایااو پوچھا کہ شیرانی صاب آپ کیا چاھتے ھیں جنا ح پہ پی ایچ ڈی کی اجازت کی قرارداد زیربحث لاکر سارے اسمبلی کی چھٹی کرادی جاۓ؟“ میں نےکہا :”سپیکر صاب کیوں جناح تو بانی پاکستان تھے؟“۔ سومرو نے جواب دیا:”جس اسٹبلشمنٹ نےجناح کو بانئ پاکستان بنایاوھی اسٹبلشمنٹ اپکی قرارداد کو نہیں مانتی“! الہی بخش سومرو بھی زندہ ھیں اور مولانا شیرانی بھی۔ اپ خود تصديق وتسلی کرسکتے ھیں۔ (ھمارے بزرگ، باصلاحیت و بابصیرت سیاستدان، سابق وزیر صحت جناب شمس کاکڑ صاحب Shams Kakar اسی قرارداد اور اس کے انجام کے عینی شاہد ھیں. آپ ان سے تسلی کرسکتے ہیں)۔

جواب۔
ایک فرضی بات کو بیان کرنے کیلئے فرضی واقعہ گھڑا گیا ہے کہ مولانا شیرانی نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی تھی اور پھر اس قرارداد کا پتہ ہی نہیں چلا کدھر گئی، جبکہ اسمبلی کی تمام کاروائی تقاریر قرارداد سوال جواب تک محفوظ رکھے جاتے ہیں جو قومی اسمبلی ویب سائٹ اور اسمبلی کے ریکارڈ میں محفوظ ہوتے ہیں کیا محترم اس قرارداد کا کوئی ریکارڈ پیش کرنا پسند کریں گے یا اتنا بتا دیں یہ قرارداد کب پیش کی گئی تھی تاکہ اس تاریخ سے ریکارڈ میں دیکھ لی جائے۔
پھر لکھتے ہیں بہاولپور سے سکالر عبدالمجید کو قائد پر تحقیق کرنے پر غائب کردیا گیا، لیکن یہ نہیں بتایا کب غائب ہوئے اور کسی تھانے میں کوئی مقدمہ درج کروایا یا نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قائد پر ایم فل اور پی ایچ ڈی پر کوئی پابندی نہیں ہے بہت سارے مقالہ جات لکھے جاچکے ہیں اور مسلسل لکھے جارہے ہیں حتی کہ چند ایک تو قائد کی زاتی زندگی حتی کہ ازدواجی زندگی پر بھی کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں پھر ایسے میں مولانا شیرانی کی قرارداد اور سکالر کا غائب ہونا کتنی حقیقت رکھتا ہے۔

قائد پر چند ایک ایم فل و پی ایچ ڈی مقالہ جات درج ذیل ہیں۔
۱- جناح اتحاد سے تقسیم تک۔ رابعہ شبیر احمد
2-Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah The Formative Hears by Riaz Ahmad.
3-Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah and MK Gandhi, a comparative study 1915-31 by Iftkhar Ahmad Raja.
4-MA Jinnah Leadership pattern by Shehla Kazmi.
5-The Charismatic Leader by Skindar Hayat
6-Quaid I Azam Muhammad Ali Jinnah as the Governor General of Pakistan by Farooq Ahmad Dar
7-Quaid I Azam MA Jinnah and creation of Pakistan by Skindar Hayat 1986
8-The Personal life of Muhammad Ali Jinnah by Ghazala Khan 1993
9-The Linguistics analysis of Quaid I Azam MA Jinnah’s Speeches by Samina Nadeem 1998
10-Jinnah Mountbatten relations March August 1947 by Sahira Abbasi 2012

(Visited 406 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: