رومی کی مغرب میں مقبولیت اور رومی عصر —- اعجاز الحق اعجاز

0
  • 233
    Shares

مغرب میں کس قسم کی شاعر ی مقبولیت کی حدوں کو چھو رہی ہے؟ کیا یہ مابعد جدید صورت حال کی حامل شاعری ہے؟ کیا یہ لایعنیت کو شعری جوہر کا مرکزہ تسلیم کرنے کی شاعری ہے؟ کیا یہ معدومیت کی پرچھائیوں میں اپنی ہی شناخت گم کر دینے کی شاعری ہے؟ کیا یہ مایوسی اور شکستگی کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں انسان کے دھندلائے ہوئے مستقبل کی شاعری ہے؟ کیا یہ تشکیک پسندی کے صحراوں میں بے سمت رستوں کی شاعری ہے؟ کیا یہ مادیت کو ایک پرستش قرار دینے والے نظریوں کی شاعری ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب یہ ہے کہ نہیں! ایسا نہیں! مغرب یہ سب تجربے کر چکا ہے۔ مغرب میں دلوں کو مسخر کرنے والی شاعری رومی کی شاعری ہے جو ایمان و ایقان کے سرسبز نخلستانوں کی شاعری ہے، جذب عشق کی شدتوں کی شاعری ہے، ابدی اخلاقی اور جمالیاتی اقدارسے مہکتے ہوئے عنبرستانوں کی شاعری ہے، روحانیت کے پاکیزہ اور اجلے جہانوں کی شاعری ہے، سریت اور باطنی کیفیات کے سربستہ رازوں کی شاعری ہے، وجدان کے روشن جھماکوں سے فروزاں آستانوں کی شاعری ہے، حقیقت مطلقہ کو پا لینے کی جستجو میں سرگرداں لفظوں کی شاعری ہے۔ عصر رواں میں امریکہ کا سب سے مقبول شاعر رومی ہے جس کی کتابوں کے انگریزی تراجم دھڑا دھڑ بک رہے ہیں۔ مغرب کو اس وقت مادے کی نہیں روح کی، ظاہر کی نہیں باطن کی ضرورت ہے۔ اور یہ ضرورت رومی بطریق احسن پوری کر رہا ہے۔ مغرب بھی خرد کی بہت سی گتھیاں سلجھا جا چکا ہے اور شاید وہ صاحب جنوں ہونا چاہتا ہے اسی لیے تو وہ رومی کو پڑھ رہا ہے۔

یہ1976 ء کی بات ہے رابرٹ بلائے نے کولمین بارکس (Coleman Barks) کو آربری کا کیا ہوا رومی کا ترجمہ تھمایا اور کہا: “These poems need to be released from their cages.” چناں چہ کولمین نے جب ان نظموں کو پڑھا تو ان پہ سو جان سے فریفتہ ہوگیا۔ اس نے ان پہلے سے اکیڈمک انگریزی میں ترجمہ شدہ نظموں کو امریکی عوامی محاورے میں ڈھالا۔ The Essential Rumi کے نام سے یہ نظمیں جب امریکیوں تک پہنچیں تو وہ رومی کے دیوانے ہوگئے۔ اس قسم کی شاعری اس سے پہلے نہ انھوں نے پڑھی تھی نہ سنی تھی۔ اب تک اس ترجمے کے تیس سے زیادہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور ہر ایک ایڈیشن لاکھوں کی تعداد میں چھپتا ہے۔ مگر بارکس یہاں نہیں رکا اس کی رومی پر دیگر کتب میں Rumi The Book of Love. Rumi Bridge to the Soul. The Soul of Rumi  بھی امریکہ اور دیگر ممالک میں دھوم مچا دی۔ یونیسکو نے 2007 کو رومی کا سال قرار دے دیا۔

کولمین بارکس نے امریکہ میں رومی کی ہر دلعزیزی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ رومی کے تخیل میں بے پناہ تروتازگی اور نیا پن ہے۔ اس کے خیال میں رومی انسان کے وجودی اور روحانی کرب کا علاج اس کے اپنی اصل کی طرف مراجعت میں ڈھونڈتا ہے اور گمشدہ انسان کی بازیافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

براڈ گوش (Brad Gooch) جس نے رومی کی سوانح لکھی ہے کے بقول:

“He is the compelling figure in all cultures. His work come out of the deeling with the separation from the Shams, and from love and the source of creation, and out of facing death. Rumi’s message cuts through and communicates.”

جب کہ اینے والمین (Anne Walman) کے بقول:

“Rumi is a very mysterious and provocative poet and figure of our times, as we grapple with understanding the Sufi tradition and understanding the nature of ecstacy and devotion was power of his poetry.”

لی بریسیٹی (Lee Bricetti) نے رومی کی امریکہ میں مقبولیت کا راز ان کے شاعری میں پیش کیے گئے خیالات کا زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہونا قرار دیا ہے۔ اس کے خیال میں رومی کی شاعری کسی ایک کلچر یا تہذیب تک محدود نہیں بلکہ اس میں پوری انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے اوررومی روح پر لگے زخموں پہ مرہم رکھ کر شانتی عطا کرتا ہے۔

مغرب میں رومی کو متعارف کرانے میں این میری شمل کا بہت زیادہ کردار ہے۔ شمل رومی کی سچی پرستار تھی۔ اس نے اپنی کتب Rumi’s World, The Triumphal Sun اور Rumi میں رومی کی صوفیانہ شاعری اور فلسفہ حیات کو موضوع بنایا ہے۔ مغرب میں رومی شناسی کا ایک اور بہت بڑا نام ولیم سی چیٹک کا ہے۔ ولیم سی چیٹک کو مسلم صوفیانہ اور فلسفیانہ روایت پہ دسترس حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی کتب  “The Sufi Path of Love”, “The Sufi Doctrine of Rumi ” اور ” Me and Rumi ” میں رومی پہ اصل تاریخی دستاویزات تک رسائی حاصل کرتے ہوئے داد تحقیق دی ہے۔ بعض مقامات پر ان کی توضیحات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے مگر بحیثیت مجموعی یہ رومی ادب میں ایک خاص مقام کی حامل کتب ہیں۔ آخر الذکر کتاب میں شمس تبریز اور رومی کے بے مثل روحانی تعلق پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور بعض غلط روایات کو طشت ازبام کیا گیا ہے۔

رومی کی مغرب میں پذیرائی میں ایلک شفق کے ناول The Forty Rules of Love  نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

اب جب کہ مغرب میں رومی کی اس درجہ پذیرائی ہو رہی ہے تو رومی عصر علامہ محمد اقبال کو مغرب میںپہلے سے بہتر انداز اور حکمت عملی سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ اقبال کو بھی وہاں پہلے سے زیادہ پذیرائی ملے۔ کیوں کہ عصر رواں میں جس شاعر کا کلام رومی سے قریبی مماثلت رکھتا ہے وہ اقبال ہی ہیں۔ اقبال بھی رومی کی طرح وجدان، روحانیت اور عشق پر بہت زور دیتے ہیں۔ دونوں کے پاس انسان کے روحانی کرب اور اس کی نفسیاتی الجھنوں کا شافی علاج ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دونوں کا شعری ماخذ قرآن ہے اور دونوں کا سرمایہ عشق رسول ﷺ ہے اور دونوں کا مزاج صوفیانہ ہے۔ مغرب اقبال سے ناآشنا نہیں، ان پہ کچھ کام ہوا ہے۔ بعض مغربی یونیورسٹیوں میں اقبال پر پی ایچ ڈی کے مقالات لکھوائے گئے ہیں اور ان کی کتب کا ترجمہ مغرب کی تقریباً ہر بڑی زبان میں ہو چکا ہے اور ان کے فکر و فن پہ بہت سی کتب بھی لکھی جا چکی ہیں۔ مزید برآں اقبال کو یہ اہمیت بھی حاصل ہے کہ وہ عصری تہذیبی، سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیں۔ رومی کی طرح ان کی شاعری بھی صرف اسلام تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت پہ محیط اور آفاقی ہے اوریہ دونوں شعرا قلب و ذہن کے انقلاب کے داعی ہیں۔ این میری شمل نے رومی کے ساتھ ساتھ اقبال کو مغرب میں متعارف کرانے کی بہت سی سنجیدہ کوششیں کی ہیں مگر اقبال کو کسی کولمین بارکس کی اشد ضرورت ہے۔

 

 

 

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  اقبال کی دانش اور سوز و ساز رومی : حبیبہ طلعت
(Visited 316 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: