منظر حسن کے افکار کا ایک منظر: عدنان کریمی

0
  • 36
    Shares

حَسن منظر ہو یا منظر حَسن ہو، نام کے الٹ پھیر سے منظر نامہ کا حُسن ماند نہیں پڑتا۔ ادب کی نفسیات ہو یا نفسیاتی ادب ہو، دونوں کو اس طرح متوازی لے کر چلنا کہ ایک پیشن رہے اور دوسرا پروفیشن بن جائے، یہ کسی بھی فنکار کے فن سے کم نہیں۔ گو کہ منظر حسن صاحب، سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کے کزن ہیں، لیکن منور حسن اور منظر حسن کے افکار میں منظر سے منور تک کا بُعد اور منور و منظر جتنا فرق ہے۔ دونوں شخصیات میں ہم آہنگی ثابت کرنے کے لیے کوئی مثال موحود نہیں، تاہم جرأتِ اظہار، طریقۂ گفتار اور سلیقۂ کردار بتلاتا ہے کہ تربیت یافتہ گھرانے کا ایسا خاندانی فرد مخاطب ہے کہ جہاں صرف تہذیب کے نکتہ پر ہر دو حضرات کاعملی اتفاق نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر سید منظر حسن المعروف حسن منظر ماہرِ نفسیات اور صاحبِ طرز ادیب ہیں۔ آپ اپنے منفرد اندازِ نگارش، انوکھے طرزِ تحریر اور بہترین اسلوب کی وجہ سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ کی کئی تخلیقات اشاعت پذیر ہوچکی ہیں۔ ان میں “رہائی، ندیدی، ایک اور آدمی، العاصفہ، حبس، دھنی بخش کے بیٹے” سرفہرست ہیں۔ آپ بلاتکلف لکھتے ہیں اور قاری کو آخر تک ساتھ لے کر چلنے کا ہنر بخوبی جانتے اور نبھاتے ہیں۔ پیش ہے منظر صاحب سے ملاقات کا احوال۔

سلام اور تعارف کے بعد اس پرسکون کمرہ میں نسبتا سنّاٹا طاری تھا کہ یکایک سوال کی گونج نے ماحول میں ارتعاش پیدا کردیا۔ پہلو بدل کر گویا ہوئے:

ہر زندہ زبان اور اس کا ادب ارتقاء پذیر ہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ عوامی زبان اور سماج کی بولی پر جمود طاری ہوجائے اور وہ کوئی اثر پذیری قبول ہی نہ کرے، نیز یہ بھی کسی مفروضے سے کم نہیں کہ اردو لشکری زبان ہے، کہتے ہیں کہ اردو کا نام ترکی زبان سے مستعار ہے، لغات میں بھی یہی درج ہے لیکن میں اسے ترکی زبان کا لفظ نہیں مانتا، ہماری زبان اس قدر منگتو نہیں کہ اس کی سجاوٹ مانگ تانگ کر دیگر زبانوں سے کی جائے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اردو ادب میں دیگر زبانوں کی ادبیات کا کتنا دخل ہے اور وہ کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم ادب میں سب سے زیادہ ترجیح اس وقت کی رائج زبان، کہاوت، ضرب الامثال اور لطائف کو ہی ہوتی ہے۔ مجھے اپنے علمی افلاس کا اعتراف ہونے کے باوجود یہ کہنا غلط نہیں لگتا کہ ہم نے اردو ادب کو وہ مقام نہیں دیا جو دوسری قوموں نے اپنی زبانوں کی ادبیات کو دے رکھا ہے، اسی لیے تو ہم ادب کے باب میں ہمہ وقت ایک لاشعوری سے احساسِ کمتری میں مبتلا رہتے ہیں۔
خاکسار نے ایک ہی سوال کیا تو تین سوالوں کے جواب مل گئے۔

چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے دوسرے سوال کے لیے لب کشائی کی کہ کہاں نفسیات کی دنیا اور کہاں ادب کی دشت پیمائی، تضادات سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں؟ ڈاکٹری اور ادبیات کا دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا، کیا ایڈونچر کا کوئی شوق ہے؟ قدرے توقف کے بعد بولے:

دراصل میں نے ادب کو کبھی دھندا اور کمائی کا ذریعہ نہیں بنایا، لکھنا پڑھنا تو میرا بچپن کا وہ جنون ہے کہ نفسیات کی دکان اس کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ نفسیات کا علاج میرا روزگار اور ادب میرا شوق ہے، دونوں شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھتے ہوئے چلنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ادب و لٹریچر کا سارا تخلیقی کام فرصت کے وہ عطایا ہیں جو نفسیات کے جھمیلوں میں کبھی سلیقے سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہر دو شعبوں کو الگ تھلک رکھنا بھی کسی مشق سے کم نہیں بلکہ میں اس حد تک عملی مشق کا پابند ہوں کہ کبھی معالج ہوتے ہوئے ادب نہیں کیا اور ادب کرتے ہوئے کبھی علاج نہیں کیا۔ پیشن کے لیے فرصت اور پروفیشن کے لیے مصروفیت ایک لازمہ ہے۔

جواب کی دُم سے تیسرا جزوی سوال ٹانگ دیا کہ آپ ایک تجربہ کار ماہرِ نفسیات ہیں اور کہنہ مشق ادیب بھی ہیں، کیا کبھی نفسیاتی مریضوں کے چشم دید حالات و واقعات کو ادب، ناول یا افسانے کے قالب میں ڈھالنے کی کبھی کوئی کوشش بھی کی ہے؟ سوال سنتے ہی ایک گونہ برافروختگی کا اظہار کرتے ہوئے بولے:

یہ بددیانتی میں کیسے کرسکتا ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ستم رسیدہ مریض اپنا دکھڑا سنائے، علاج کی دُہائیاں دے، پھر میں اسے ناول کی زبان دے کر برسر بازار تذکرہ کرتا پھروں، گو کہ تلمیحات و اشارات کی دنیا وسیع ہے لیکن اس نوع کے حیلوں اور تاویلات سے مَن مطمئن نہیں ہوتا۔ معالج ایک راز دار ہوتا ہے اور راز دار ہی اگر راز افشاء کرتا پھرے تو یہ توقعات کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔

“سر! پھر آپ کے ناول “حبس” میں شیرون کا جو تذکرہ ملتا ہے، اس کی نفسیاتی مماثلت کو کیسے جسٹیفائی کریں گے؟”

دیکھیے! وہ کسی نفسیاتی معالج کی گواہی نہیں بلکہ وہ ایک ادیب کا ایسا فکری مشاہدہ ہے جو تمام تعلقات و علاقوں سے بالاتر ہوکر سماج کے تاثرات کو قلم کی نوک پر لاتا ہے تو شیرون برآمد ہوجاتا ہے۔

چوتھے سوال کا آغاز ادب اور حقیقت کے لگاؤ سے ہوا۔ جواب میں ایک صاحبِ مطالعہ ادیب کی خوشبو رچی بسی تھی۔ کہا کہ

اصل ادیب ہی وہ ہوتا ہے جو اپنی تخلیقات کو حقیقت سے آشنا رکھتے ہوئے اس سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ حقیقت کے بغیر تو صرف افسانہ ہی افسانہ اور قصے ہی قصے ہیں۔ ادب اور حقیقت نگاری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

نفسیات کے متعلق ایک سوال ان سے کیا گیا کہ کیا جِنّوں کا انسانوں پر حاوی ہونا، حال آنا، بے حال ہونا، نادیدہ قوتوں کی ایما پر دھمال ڈالنے کی بھی کوئی حقیقت ہے یا محض ڈھونگ ہے؟ مسکرا کر کہنے لگے

یہ سب ایک سو دس فیصد جھوٹ اور فراڈ ہے۔ نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا لوگوں کی کارستانیاں جن، آسیب اور حال کی صورت عوام کو خوف میں ڈالے رکھتی ہے۔ انسان تو اشرف المخلوقات ہے، سب مخلوقات سے اشرف و افضل، برتر و بالا۔ کیا کبھی آپ نے سُنا ہے کہ انسان جن پر حاوی یا فریفتہ ہوگیا ہو؟ جب انسان جنوں پر حاوی نہیں ہوسکتا تو جن انسان پر کیونکر حاوی ہوسکتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے یورپ میں غیر مسلموں پر جن چڑھتے دیکھا ہے؟ نہیں قطعا نہیں! یہ سب برصغیر اور خلیج کا دھندا ہے۔ ایک عجیب واقعہ سنیے، لطف اٹھائیے، میرے پاس حیدر آباد کے اسپتال میں ایک پیر صاحب لائے گئے جو جن نکالتے نکالتے کسی چڑیل کا شکار ہوگئے تھے، کبھی عورتوں کی آواز میں بات کرتے تو کبھی دیو کی طرح چنگھاڑتے، کبھی اٹھکیلیاں کرتے تو کبھی غصہ سے بے حال ہوجاتے۔ میں نے سوال کیا کہ آپ جن ہیں نا؟ کہا ہاں! میں جن پلس چڑیل ہوں، اس پیر سے انتقام لینے آیا ہوں، اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے کہا کہ آپ طاقتور بھی ہوں گے؟ کہا بالکل طاقتور بھی ہوں۔ میں نے کہا کہ ذرا اس شخص کے پاخانے کے مقام سے بات کیجیے۔ بس یہ کہنے کی دیر تھی کہ پیر صاحب ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور ان پر نفسیات کا جو غلبہ تھا وہ جاتا رہا، بالکل سیدھے نارمل ہو کر چلے گئے۔

اجازت چاہنے سے پہلے آخری سوال کیا کہ آج کل آپ کونسی اور کس قسم کی کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ آہ بھر کر کہنے لگے

اک عمر بیت گئی پڑھتے پڑھتے لیکن اب بھی بہت ساری انعام یافتہ کتابیں نہ پڑھ سکا۔ عمر کے اس حصے میں تفاسیر کا مطالعہ کررہا ہوں، مختلف تفاسیر سے استفادہ کیا۔ استفادہ کرتے کرتے فضل الرحمن صاحب کی تفسیر “احسن البیان” مَن کو بھا گئی، چار مرتبہ بالاستیعاب مطالعہ کرچکا ہوں، کچھ طباعت کی غلطیاں تھیں تو ایک خط کے ذریعے ان کو مطلع بھی کیا، خدا کرے کہ نئی اشاعت میں وہ تمام خامیاں دور ہوجائیں۔

خاکسار نے سوال کیا کہ کونسے فضل الرحمن صاحب مراد ہیں؟ کہنے لگے زوّار اکیڈمی والے سید فضل الرحمن صاحب، جن کے والد بڑے عالم تھے، اپنے صاحبزادے پر بھی وہ اپنا نقش چھوڑ گئے ہیں۔ سید صاحب کا نام سنتے ہوئے ہم نے ان سے کہا کہ آپ اغلاط کی نشاندہی فرما دیں، خاکسار آپ کی بات اُن تک ضرور پہنچائے گا۔ ہم نے اجازت چاہی تو مصافحہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ “احسن البیان”  کی نئی اشاعت سے متعلق مجھے ضرور اطلاع دیحیے گا۔

(Visited 143 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: