فلم، تھیٹر اور انصار عباسی —— ثوبیہ بتول

1
  • 29
    Shares

صحافی انصار عباسی نے ٹوئٹر اکاونٹ پہ ایک ٹوئٹ کیا

”خواب مدینہ ریاست کا دکھایا جا رہا ہے لیکن ترقی فلم انڈسٹری کو دی جارہی ہے۔ ملک بھر میں ہزار سینما گھر بھی بنائے جا رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے لیے تو سبسڈی بھی ہے لیکن حج کی سبسڈی ختم کر دی گئی۔ فلم چاہے پاکستانی ہو یا بھارتی، فحاشی کو فروغ دیا جا رہا ہے”

ایک پڑھی لکھی اور میڈیا سے وابستہ شخصیت کے منہ سے یہ الفا ظ حیرت زدہ کر رہے ہیں۔

ہمارے ہاں جس قسم کی فلم، سٹیج اور تھیٹر رہاہے اس سے یہ تاثر پختگی پکڑ گیا ہے کہ فلم ہو یا سٹیج یہ معاشرے میں فحاشی اور عریانیت کو فروغ دیتے ہیں لہذا ان کا وجود ہی ختم کر دیا جائے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے آرٹ کے تمام شعبہ جات جیسے فلم، ڈرامہ، تھیٹر اور سٹیج بہت اہم ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے میں نہ صرف جمالیاتی ذوق کو پروان چڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ معاشرتی مسائل کو ہائ لائٹ کرنے، ذہن سازی کرنے اور مختلف سماجی پہلووں کو اجاگر کرنے کے لیے پوری دنیا میں طاقتور میڈیم سمجھے جاتے ہیں۔

سماج میں فنون لطیفہ کے فقدان سے بے حسی، خود غرضی اور بے مروتی جیسے احساسات پروان چڑھتے ہیں جس کا آئے روز ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ زندگی کو اپنی رنگارنگی کے ساتھ محسوس کرنا ہو یا اس کی بوقلمونی کو اجاگر کرنا آرٹ سے بڑھ کر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا۔

ڈرامے، سٹیج اور تھیٹر کی تاریخ کوئی تین ہزار سال پرانی ہے۔ ارسطو جس کو معلم اول کہا جاتا تھا۔ اس نے جب اپنا concept of tragedy دیا تو اس میں یہ کہا کہ ”ہم اپنے جذبات کا انخلا کرنے کے لیے تھیٹر جاتے ہیں” ارسطو نے اس کو کتھارسس کا نام دیا۔ ارسطو المیہ کے ذریعے اخلاقی قدروں کا پرچار کرتا ہے۔

تاریخ میں بہت سے اعلی ڈرامے لکھے گئے۔ جو اپنے زمانے میں سٹیج کئے گئے۔ اس وقت پورا ایک ماحول تھا۔ تخلیقی کام زوروں پہ تھا۔ اس ماحول نے ہی سولہویں سترھویں صدی میں شیکسپئر جیسے عظیم دماغ پیدا کیے۔ oedipus rex,sophocles,hamlet اور william becket’s”waiting for godot”ا ور (Ieneso’s chairs(1952 جیسے لازوال ڈرامے دئیے۔ جن کی اہمیت اور معیار آج بھی کم نہیں ہوئے۔ اس وقت سے لیکر آج تک یہ اپنا اثر رکھتے آرہے ہیں۔

آج تو اسباب اس دور کی نسبت سو گنا زیادہ ہیں۔ تو کیا وجہ ہے ہم ایسا کوئی خواب دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتے اور اپنی سسکتی بے چین قوم کی تنی ہوئی رگوں کو سکون پہنچانے کے لئے معیاری آرٹ کا سہارا نہیں لے سکتے۔

انتہائی پڑھے لکھے اور میڈیا سے وابستہ لوگوں کے منہ سے جب میں ایسی بات سنتی ہوں تو شدید حیرت ہوتی ہے کہ فنون لطیفہ فحاشی اور جرائم کے فروغ کا ذریعہ ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ شعبہ شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ اس کو بے شک الف سے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر یہ حکم لگا دینا کہ سرے سے انکا وجود ہی فحش ہے بہت محرومی کی بات ہے۔

ہاں فلم کے contents اور سنسر بورڈ پر بات ہو سکتی ہے۔ اس کو ایک سو ایک فی صد فحاشی اور عریانیت سے پاک ہونا چاہیے۔ فنون لطیفہ کو ہمارے مذہب، روایات اور ملکی سلامتی سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

انصار عباسی جیسے کہنہ مشق صحافی اس حقیقت سے کیسے نابلد ہو سکتے ہیں کہ مقامی فلم انڈسٹری کو نظر انداز کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی رسائی کو آسان بنادیں گے۔ فلم بین تو سینما کا رخ ہر صورت کرے گا چاہے وہ فلم ہالی ووڈ سے آئے یا بالی ووڈ سے۔ ایسے میں اپنی فلم انڈسٹری کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہوگی۔

ایران کو ہی دیکھ لیں وہاں پر سنسر شپ بہت سخت ہے اور ان کی آرٹ فلمیں ہوں یا دوسری وہ ان کی روایات کے مطابق ہیں۔ اس کے با وجود عالمی سطح پر وہ فلم کا بہت بڑا ایکسپورٹر ہے۔ انکے فلم بین پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔

یہ اصرار خود مضحکہ خیز ہے کہ جناب عباسی ٹیلی ویژن یا دیگر جدید ذرائع ابلاغ سے چمٹے نظر آتے ہیں اور پھر انہی کا سہارہ لیتے ہوئے لٹھ اٹھا کر ایک دوسرے مؤثر ذریعہ کا تعاقب کرتے ہیں۔ ریاست مدینہ کی پیروی میں اگر ٹوئٹر اور ٹی وی کی گنجائش ہے تو لاچار فلم انڈسٹری کا کیا دوش ہے؟

حکومت فلم، سٹیج اور تھیٹر کو بحال کرنےمیں اگر سنجیدہ ہے تو بہترین اور مضبوط قسم کا سنسر بورڈ بنائے۔ جس میں اس شعبے کے ماہرین ہوں جن کی نہ صرف فحاشی والے معاملے پہ ہو بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ آیا سکرپٹ یا کہانی عالمی معیار اور اعلی ادب کے مطابق ہے اور اس میں ہدایت کاری اور دوسرے تکنیکی معاملات اور کیمرہ ورک شاندار ہے یا نہیں۔

حکومت کو ایسی اکیڈمیاں بنانی چاہیئں جہاں سے اچھےکہانی کار، سکرپٹ رائٹر، تربیت یافتہ ہدایت کار اور تکنیکی سٹاف کو آگے لایا جاسکے۔ اداکاروں کی بہترین تربیت کا نظام ہو۔ صرف چانس پہ ہی کام نہ چلے۔

ایک بار پھر وضاحت کرتی چلوں یہ چیزیں ہماری علمی اور دینی روایات سے ہر گز متصادم نہ ہوں۔

گزشتہ دہائیوں میں ‘گجر داکھڑاک’ ٹائپ فلمیں، سٹیج اور تھیٹر پر پھکڑ پن اور لغو سکرپٹ اور “صرف بالغوں کے لیے” ٹائپ فحش اور حیا باختہ فلمیں دکھا کر نہ صرف نئی نسل کی اخلاقی اور ذوقی گراوٹ کا سامان کیا گیا بلکہ یہ سب فلم انڈسٹری اور آرٹ کے دوسرے شعبوں کے زوال کا سو فی صد سبب بھی بنا اور مجموعی طور یہ تاثر بھی راسخ ہوا کہ یہ شعبے صرف عریانیت اور فحاشی کا آلہ کار ہیں۔ اس کے ما سوا ان کا کوئی استعمال نہیں۔ اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے اپنی روایات اور تہزیب و تمدن کی عکاس فلم اور ڈرامہ کے فروغ پر کام کیا جانا چاہئے۔

فلم اور آرٹ کے دیگر شعبوں کو نظرانداز کیئے جانے کی وجہ سے معاشرے میں بےحسی، خود غرضی، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ذوقی اور جمالیاتی سطح پر ہم پستی کا شکار ہیں۔ اسی وجہ سے کافی عرصے سے ہمارے ہاں کوئی بڑا ادیب، کہانی کار اور ڈرامہ نگار پیدا نہیں ہو سکا۔ اور حکومتی سطح پر عدم دلچسپی سے نیا معیاری ادب تو دور کی بات ہے اپنے روایتی اعلی ادب نا پید ہوتا جا رہا ہے۔ سارا معاشرہ ہی سوشل میڈیا پہ لگا ہوا ہے۔ کوئی تخلیقی کام نہ ہونے کے برابر ہے۔

حکومتی سطح پر ادب سے وابستہ لوگوں کو آگے لانا چاہیے۔ فورم بنائے جانے چاہیئں۔ تاکہ انڈسٹری کی زبوں حالی پر قابو پایا جاسکے جس سےخود بخود باصلاحیت لوگ آگے آتے جائیں گے۔ آج کے ماحول میں یہ نہایت ضروری ہوچکا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. میاں مہتاب on

    فلم اور تهیٹر کا یہ مثبت رخ پہلی بار دیکہا جس کی طرف تحریر میں اشارہ کیا گیا…انسان کی حس جمالیات کے اظہار کے لیے ایسے فورمز کی پذیرائی ہونی چاہئے….

Leave A Reply

%d bloggers like this: