احمد جاوید: کیسے کیسے چہرے —– کرامت علی بھٹی

0
  • 179
    Shares

قدیم یونانی فلاسفر اور مفکرین عالم بننے کے لیے علمی ذوق و شوق کے ساتھ تحمل اور برداشت کی موجودگی لازمی سمجھتے تھے۔ نامی گرامی اساتدہ اپنی اکیڈمیوں میں داخلہ دینے سے پہلے طلبہ کے ٹمبرامنٹ کا امتحان لیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح پہلوانوں کو جسمانی اعتبار سے مضبوط ہونا چاہیے، اسی طرح اگر کسی عالم میں تحمل نہ ہو تو وہ معاشرے کے لیے ناسور بن جائے گا۔ مسلم صوفیوں کی تربیت میں بھی اس وصف کو غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ ابتدائی تعلیم کے دوران پہلے سالک کی ’’میں‘‘ کا خاتمہ کیا جاتا۔ اس حوالے سے صوفیا کے سینکڑوں اقوال ملتے ہیں۔ اسی تربیت اور توجہ کا نتیجہ تھا کہ درویش ہر قسم کے حالات کو صبر اور برداشت سے کاٹ لیتے۔ بد قسمتی سے آج ہمارے علماء میں تحمل ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ رہے خانقاہوں کے گدی نشین تو وہ مدتوں پہلے عجز و انکسار کو خیر باد کہہ چکے۔ جناب احمد جاوید سے ملاقات اس حوالے سے خوشگوار تجربہ تھا کہ ان کی شخصیت میں قدیم علماء جیسا حلم اور صوفیوں کا عجز گھلا ملا ہے۔ قدیم و جدید علوم پر ان کی گہری نظر ہے۔ دلیل ہی ان کی واحد قوت ہے۔

احمد جاوید 1955ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سکول و کالج کی تعلیم پائی۔ گھر میں پڑھنے لکھنے کا ماحول تھا۔ دادا بہت پڑھے لکھے آدمی تھے لہٰذا بچپن ہی سے مطالعے کا شوق جنون کی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہیں آٹھویں جماعت سے مشفق اساتذہ مل گئے۔ دسویں جماعت میں مولانا ایوب دہلوی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے زندگی کا رخ بدل دیا۔

مولانا ایوب دہلوی مذہبی اور فلسفیانہ موضوعات پر اعلیٰ درجے کی فی البدیہہ تقاریر کرتے تھے۔ لوگ ان کی تقاریر شائع کرا کے بانٹتے۔ وہ بڑے عالم ہونے کے علاوہ اچھے انسان بھی تھے۔ احمد جاوید کا کہنا ہے زندگی میں ساری معنویت ان دو برسوں کی ہے، جو انہوں نے مولانا ایوب کی خدمت میں گزارے۔ جب کراچی کے حالات بگڑے تو احمد جاوید صوبہ سرحد چلے گئے۔ پھر 1985ء میں اقبال اکیڈمی لاہور سے منسلک ہوئے۔ تب سے یہیں مقیم ہیں۔ شاعری بھی کرتے ہیں۔ ’’ستارئہ غیب‘‘ کے نام سے مجموعہ آنے والا ہے۔ ادب میں سلیم احمد کو اپنا استاد مانتے ہیں۔

احمد جاوید سے گفتگو کے آغاز میں ان سے پوچھا کہ قوم کی تشکیل کرنے والے اجزائے ترکیبی کیا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا،

’’اول مفادات میں یکسانیت، دوم ان کے حصول میں سب کی یکساں دسترس اور سوم ایثار و قربانی کے جذبات کی موجودگی۔ جس معاشرے میں انسانوں کے درمیان ایثار شرطِ تعلق نہ رہے، وہ انسانی معاشرہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ معاشرہ عمارات کی بلندی یا کثرت، گاڑیوں اور موبائلوں کی تعداد اور خام قومی پیداوار کے اعتبار سے نہیں جانچا جاتا۔ ایک انسانی معاشرے میں ایثار اور خیر خواہی بنیادی اقدار ہونی چاہئیں۔‘‘

احمد جاوید سے سوال کیا کہ ہمارے ہاں ڈاڑھی اور مذہبی وضع قطع رکھنے والے ہر شخص کو مولوی یا مولانا سمجھا جاتا ہے چاہے وہ علوم دین پر دسترس نہ رکھتا ہو، کیا یہ رویہ صحیح ہے؟ اس سوال پر ایک لمحے کے لیے وہ رکے اور پھر بولے،

’’انسان کا ذہن (یا عقل) ہی سب کچھ نہیں، اسے اخلاقی فضائل سے بھی جانچا جاتا ہے جنہیں علم بناتا سنوارتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تصور رائج ہے کہ جو شخص دین کا علم حاصل کر لے، وہ اس کا ترجمان بن گیا، یہ تصور مکمل نہیں۔ مکمل تصور یہ ہے کہ ہم دین یا کسی بھی علم کا مطالعہ کریں اور وہ ہمارے ذہنی اور اخلاقی وجود میں پورا ادغام کرے۔ اگر میرے ذہنی آئیڈیل مجھ میں اخلاقی فضائل پیدا نہیں کرتے، تو ان آئیڈیلز کی منطقی ترتیب، تنظیم اور تشکیل بے فائدہ ہو گی۔ جب مسلمانوں نے ہلاکو خان سے شکست کھائی تو وہ انتہائی بلند دانشورانہ سطح حاصل کر چکے تھے۔ اس سطح کا مسلم ذہن پھر کبھی پیدا نہیں ہو سکا۔ علامہ اقبال، جیسے عالم ان کے مدرسوں کے طالب علموں جتنے ذہین تھے۔ یاد رہے، مسلمانوں نے اس لیے ہلاکو سے شکست کھائی کہ ان کا علم ان کی طبیعت میں مرغوب اور محبوب حقائق نہیں بن سکا۔ اس شکست سے بہر حال مذہب کو بہت نقصان پہنچا، ہمارے ہاں مذہبیت چند ظواہر کا نام بن گئی۔ یعنی جو چیزیں دوسرے کو نظر آئیں، ان پر تو زور دینا اور جو نظر نہ آئیں، ان سے بے پروا ہو جانا۔ اسی لیے مذہبی ظواہر پر پوری اترنے والی شخصیات اخلاقی امتحان میں سب سے پہلے ناکام ہو جاتی ہیں۔ ڈاڑھی میری بھی ہے۔ ٹوپی پہنتا اور پائینچے اونچے رکھتا ہوں لیکن ان ظاہری باتوں کو دین کے فکری ڈھانچے میں انتہائی ثانوی حصے میں رکھتا ہوں۔ میری نظر میں یہ دین کی ایک کلچرل روایت ہے دین کی روح نہیں۔ دین کا جوہر اپنی بناوٹ میں اخلاقی ہے۔ آپ جتنے اچھے انسان ہوں گے، آپ کا دین سے وابستگی کا دعویٰ اتنا ہی زیادہ سچا ہو گا۔‘‘

ہم نے احمد جاوید سے پوچھا کہ ہمارے ہاں عام بحث ہے کہ پاکستانی کلچر (ثقافت) کا آغاز موہنجوڈارو دور سے کیا جائے یا جب مسلمان برصغیر میں داخل ہوئے؟ اس پر وہ مسکرائے اور بولے،

’’یہ مصنوعی بحث ہے۔ میرے ایک دوست، ڈاکٹر مبارک علی ایک رخ پر ہیں اور کچھ لوگ دوسرے رخ پر۔ بھئی کلچر یہ تھوڑی ہے کہ آپ کچھ چیزیں لیجیے اور باقی چھوڑ دیں۔ میرے نزدیک کلچر وہ ہے جس نے تسلسل کے ساتھ میری تہذیب میں اپنے اثرات مرتب کیے۔ گو میں مسلم کلچر سے تعلق رکھتا ہوں لیکن اس کی تاریخ میں موہنجوداڑو آتا ہے، گندھارا بھی اور ہڑپہ بھی۔ لہٰذا میں اپنے کلچر کی تاریخ نہ چھپائوں گا اور نہ اس کا انکار کروں گا۔ لیکن مجھے اپنے زندہ کلچر کو کوئی عنوان دینا پڑا، تو کہوں گا کہ یہ مسلم کلچر ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردہ رابطوں سے بھی تعلق رکھا جائے۔ اب موہنجوداڑو سے میرا کوئی زندہ رشتہ نہیں، جو بھی رابطہ ہے، وہ تاریخی ہے اور اس کا بھی انکار نہیں۔ مگر میری زندہ رابطہ تو مسلمان کی حیثیت سے ہے اور پھر اسلام نے میرے کلچر پر اثرات بھی چھوڑے ہیں۔ لہٰذا صدیوں تک ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود اب میرا کلچر ہندو کلچر سے مختلف ہے۔‘‘

احمد جاوید جو قادری اور نقشبندی سلسلوں میں بیعت ہیں، بتاتے ہیں

’’درحقیقت مجھے اس شعبے سے بہت شغف ہے۔ تصوف ایک مکمل نظام ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے حامی اور مخالف، دونوں اس کی دم پکڑے ہوئے ہیں۔ اس وقت دنیا کا سب سے جدید نظریہ ’’ٹکسٹ ریڈنگ‘‘ ہے یعنی مخصوص متن کو پڑھنا اور اس کے نظام معنویت میں خود کو شریک کرنا۔ آپ ٹیکسٹ ریڈنگ کا سارا فلسفہ پڑھیے اور پھر صوفیانہ ٹکسٹ ریڈنگ کے طریقے دیکھ لیں، تو وہ پس ماندہ محسوس ہوتا ہے۔ تصوف پر اعتراض کرنے والے دراصل صوفیوں کے ہاں رائج تصوف کی غلط اقسام کو ہی تصوف سمجھتے ہیں۔ انہیں تو تمام بڑے صوفیوں نے خود رد کر رکھا ہے۔ اب اگر آپ ایک شے کے بازاری ورژن پر تنقید کریں اور اسی کو کُل قرار دیں، تو یہ درست رویہ نہیں۔ تنقید کرنی ہے تو ابن عربی پر کیجیے۔ صوفیا سے جو کرامات وغیرہ وابستہ ہیں، وہ واقعی عجیب ہیں، لیکن وہ مخصوص صوفیانہ نظام میں بامعنی لگتی ہیں۔ مثلاً قیوم کون ہوتا ہے؟ قیوم وہ ہے جو اپنے زمانے میں روحانیت کی جتنی بھی قابل ادراک اور قابل اظہار جہتیں ہوں، ان پر قادر ہو۔ اگر اس صورت حال میں رہ کر آپ صوفیا کے تجربات، کرامتیں، وارداتیں دیکھیں تو ان کی معنویت سامنے آ جائے گی لیکن نظام سے باہر نکل کر انہیں دیکھیں، تو وہ بے معنی اور عجیب دکھائی دیں گی۔ میرے ذہن میں اس مسئلے کے دو حل ہیں۔ اول یہ کہ صوفیا جن واقعات کو اپنی کرامات یا اعجاز قرار دیتے ہیں، ان کی دین میں کوئی حیثیت نہیں، ویسے صوفیا بھی اپنی کرامتوں کو دین نہیں کہتے۔ مثلاً ایک شخص اپنے احوال بیان کر رہا ہے، وہ کہتا ہے ’میں شاعر ہوں میں نے نماز پڑھی، تو شدتِ تعلق کی وجہ سے یہ احوال یا اللہ تعالیٰ سے تعلق کے یہ یہ رنگ مجھ پر ظاہر ہو گئے۔ لیکن جو کچھ مجھ پر ظاہر ہوا، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ دین کا حصہ ہے، صوفیوں میں مشہور ہے کہ کشف حجت نہیں ہے، خود صاحب کشف کے لیے بھی۔ میں دس بڑے صوفیا کے اقوال بتا سکتا ہوں، جو کہتے ہیں، ہمارے احوال پر نظر نہ رکھو، ہماری تعلیمات پر چلو۔ حضرت جنید بغدادیؒ بہت بڑے صوفی گذرے ہیں، وہ کہتے ہیں ’ہماری دو ہی قوتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک کتاب اور دوسری سنت۔ ان سے باہری تیسری قوت میں حرکت کرنا ہم پر حرام ہے۔‘ اب وہ جھوٹے لوگ نہیں تھے، وہ ایسے نہیں تھے کہ کسی کو خوش کرنے کے لیے ایک نقاب ابھی اوڑھ لیں اور دوسرا کسی اور موقع پر۔ جو آدمی اپنے زمانے کی مقتدر قوتوں کو للکار رہے ہوں، وہ مجھے یا آپ کو خوش کرنے کے واسطے اپنا تشخص نہیں بدلیں گے۔ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ تصوف کا ادارہ اگر دینی دلائل اور فطری بنیادوں پر درست ہے، تو یہاں بات مکمل ہو جاتی ہے۔‘‘

ان سے دہشت گردی کے پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے پوچھا گیا تو کہنے لگے،

’’دہشت گردی کا مسئلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آج جدید دنیا کی بناوٹ ہی کچھ ایسی ہو گئی ہے۔ جدید دنیا سے میری مراد وہ دنیا ہے جس کو سرمایہ دارانہ نظام نے پیدا کیا اور پھر وہ اس دنیا کے سائز کو بڑھانے کی مہم پر نکلا۔ اس سرمایہ دارانہ ایجنڈے نے انتہائی سفاکی کے ساتھ دوسری تہذیبوں کو کھانا شروع کیا، بے رحمی کے ساتھ اپنے سے مختلف قوموں کو بے بسی کے احساس میں مبتلا کیا اور کمال مہارت سے انہوں نے ریاست و معاشرے کو دولخت کیا یعنی سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے کی دنیا اپنی خرابیوں اور خامیوں کے باوجود ایک ایسا تہذیبی نمونہ ضرور رکھتی تھی جس میں ریاست اور معاشرے کے درمیان تصادم کا رشتہ یا تعلق نہیں تھا۔ جدید دنیا یا یوں کہہ لیں کہ امریکہ اور مغرب کے تسلط سے پیدا ہو جانے والی دنیا نے Globalization یعنی عالمگیریت کے عمل کے دوران اپنے سے مختلف تہذیبوں کو اس طرح سے روند کر رکھ دیا کہ ان کا معاشرہ ریاست کے ساتھ متصادم ہو گیا۔ ادھر مسلم ریاستیں تو سرمایہ دارانہ استعمار کا آلہ کار بن گئیں لیکن مسلم معاشرہی اپنی ان اقدار کو اپنے حافظے، اپنے عمل اور اپنے آئیڈیلز سے نکالنے پر راضی نہیں۔ ریاست مغرب کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے ان کا آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ معاشرہ اس ایجنڈے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے موقع پر کوئی مولانا صاحب، کوئی فقیہہ صاحب یا کوئی جدید مغربی فکر کے نمائندے اگر آ کر یہ تقریر کریں گے کہ ریاست کی رٹ چیلنج ہو رہی ہے، جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کے بغیر یہ فساد ہے۔ تو یہ بات اپنی اثر اندازی کے اعتبار سے ایک بہت محدود اور مصنوعی بات ہو گی۔ مغرب کے تسلط نے مسلم ریاستوں کو بے دست وپا کر کے رکھ دیا ہے تو مسلم معاشرے، جس قدر بھی قوت میسر ہے اس کو استعمال میں لاکر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے اور بعض لوگ اپنے دستیاب جذبات سے ان کا مقابلہ کریں گے۔ تو یہ دستیاب قوتیں، یہ دستیاب جذبات اب ایسی شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں جن پر قابو پانے کی قوت نہیں رہی۔‘‘ اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا، ’’یہ تصادم بڑھے گا اور اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا۔ یہ کسی کی حتمی فتح یا کسی کی حتمی شکست پر ختم ہو گا۔ مسئلے کو اس راویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ فرض کیا خودکش حملہ آوروں کو روک لیا جائے۔ اس میں کیا شک ہے کہ یہ حملے انتہائی غیر انسانی ہیں اور اس میں کوئی دوسری رائے ہو ہی نہیں سکتی لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جن خطرات کو ہم نے نظر انداز کیے رکھا ان خطرات میں وہ (جہادی) آخری صف بن کر لڑ رہے ہیں۔ جب مغرب کے ساتھ میدان جنگ لگ ہی گیا ہے تو میں نے اور آپ نے تو اس معرکے میں کچھ بھی نہیں کیا۔ ہماری تو ساری کاوشیں یہ ہیں کہ ہم اب اپنے معاشرتی ڈھانچے کو بھی امریکہ کے لیے قابل قبول بنا دیں جو میرے خیال میں خودکش حملوں اور عسکریت پسندی سے زیادہ بھیانک بات ہے۔ اس طرح کی مشکل صورت حال میں مہلت حاصل کرنے کی حکمت عملی تاریخ میں بار بار استعمال ہوئی ہے۔ اس میں دو طرح کی رائے ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ہم مہلت لیں اور اپنی پوزیشن ہر طرح سے مستحکم کر لیں اور اپنی بقا کے تمام تہذیبی، معاشی اور سیاسی انتظامات کرنے کے لیے جو وقت درکار ہے وہ وقت ہم لیں اور کسی ایسے تصادم میں نہ پڑیں جس سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی قابل استعداد طاقت ہم میں فی الحال نہیں ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ مہلت کون لے گا؟ کیا اس وقت اس مہلت کو سود مند طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت موجود ہے؟ ہمارے سامنے راستہ ہے کہ ہم اپنی اقدار کو اگر ترقی دے لیں تو ہمارے تحفظ اور بقاء کا پورا پورا سامان فراہم ہو جائے گا۔ لیکن ہمارے یہاں معاشرے میں اپنی اقدار پر قائم رہنے کا کوئی مادہ باقی ہی نہیں رہ گیا۔ اس حوالے سے ہمیں بہت لمبی مہلت چاہیے اور اس کا بہت ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مہلت کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے لیے نئے سرے سے ادارے پیدا کرنا ہوں گے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے ہوں یا معاشرتی ادارے، کوئی بھی اس قسم کی مہلت سے فائدہ اٹھانے کی نہ تو خواہش رکھتے ہیں اور نہ صلاحیت۔ جہاد بھی انہی میں سے ایک ہے۔ دفاعی جہاد پر مبنی عسکریت پسندوں کا موقف درست نہیں۔ دفاعی کارروائی وقتی ہوتی ہے، یعنی اس وقت تک ہوتی ہے جب ریاست تک میری آواز نہ پہنچ جائے۔ اس کو دفاعی جہاد کہنا بے معنی بات ہے۔ مثال کے طور پر میرے گھر پر حملہ ہو جاتا ہے تو میں اس وقت وزیر اعظم سے اجازت لینے کی کوشش تو نہیں کروں گا لیکن میں اس حملے کو اس وقت تک روکوں گا جب پولیس کی مدد آ جائے۔ عسکریت پسند تنظیموں کا مئوقف یہ ہے کہ یہ ریاستیں اسلامی نہیں بلکہ کفار کی حکومتیں ہیں اس لیے ان سے اعلان جہاد کی توقع کیسی؟ ان کے مطابق جہاد کے وجود کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں اور ہماری ریاستیں ٹس سے مس نہیں ہو رہیں لیکن میں اس مئوقف کو درست نہیں مانتا۔‘‘

کلچر کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے احمد جاوید کا کہنا تھا،

’’ہماری مذہبی دانش نے بعض (شاید نادانستہ) غلطیاں کی ہیں۔ ایک غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنی ثقافت (کلچر) کو ہمیشہ اس نظر سے دیکھا کہ وہ دین کا مخالف ہے اور پھر جتنا حصہ قبول بھی کیا، اسے اس کی ثقافتی قوت سے جدا کر دیا۔ یہ غلطی درحقیقت دین کے ساتھ دشمنی ہے۔ میرے خیال میں انسان کی جمالیات کی ضروریات عقل سے بڑھ کر ہیں۔ وجہ یہ کہ جمالیات ہم میں تسکین پیدا کرتی ہے، عقل یہ کام نہیں کر سکتی۔ میرے نزدیک اگر کوئی مذہبی روح جمالیاتی نہیں، تو وہ مذہب سے تعلق ہی نہیں رکھتی۔ جمالیات سے دو بڑی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ اول وہ آپ کو میرے لیے پرکشش بناتی ہے۔ دوسرے میں آپ کو اپنی قیمت پر حاصل کرنا چاہوں گا۔ جمالیاتی اقدار، ظاہر و باطن، دونوں میں خیر و حسن کے جذبات پیدا کر کے زندگی کو دیکھنے کا تازہ اور قابل قدر زاویہ فراہم کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں انسان کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً کوئی شخص معمولی گویوں پر فدا ہے تو اس کی تربیت کی جائے تا کہ وہ استاد بڑے غلام علی خان (مرحوم) اور اس قبیل کے دیگر بڑے اساتذہ کو سننے کے قابل ہو سکے۔ اب عورت کے ساتھ بدسلوکی کو لیجیے۔۔۔۔۔ خاتون ک ےساتھ بدسلوکی اخلاقی جرم بعد میں، جمالیاتی جرم پہلے ہے۔ آپ نے کبھی سچا ذوقِ جمال رکھنے والے انسان کو ظلم کرتے دیکھا ہے؟ اس کو متکبر پایا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جمالیاتی ذوق انسان کو نیک، نرم خو اور منکسز المزاج بناتا ہے۔‘‘

فن و ادب کے بارے میں پاکستان کے اس منفرد و دانشور ادیب کا کہنا تھا،

’’اردو غزل کی روایت میں میر تقی میر کو سب سے بڑا شاعر سمجھتا ہوں۔ فارسی غزل میں، حافظ اور نظیری کا عاشق ہوں۔ غیر ملکی شعرا میں ایک شاعر ایسا ہے جسے اگر میں چار دن نہ پڑھوں تو لگتا ہے جیسے جینے سے غفلت برت رہا ہوں۔ اس کا نام ہے پابلونرودا! میں مانتا ہوں کہ ڈیلو ای ییٹس، پابلو سے بڑا شاعر ہے لیکن میرا تعلق پابلو سے مختلف قسم کا ہے۔ اردو کے جدید شعراء میں اقبال بیسویں صدی کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ اقبال کے بعد مجھے غزل میں عزیز حامد مدنی اور نظم میں ن م راشد پسند ہیں۔ مدنی صاحب بڑے شاعر تھے اور انہیں نظر انداز کرنا بدذوقی ہو گی۔ فیض صاحب کی شاعری بھی خوب ہے لیکن بعض اوقات بے توجہی کے باعث فنی پختگی کی کمی نظر آتی ہے، میں راشد کو ان سے بڑا شاعر سمجھتا ہوں۔ میرا جی کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے، اگر وہ نہ ہوتے تو راشد وغیرہ کو راستہ نہ ملتا۔ علامتیت پیدا کرنے کی جتنی طاقت اردو میں تھی، وہ میرا جی نے دکھا دی۔ مجید امجد اچھے شاعر تھے۔ ان کی کمزوری یہ ہے کہ ان کی ہر نظم کا لحن ایک جیسا ہے اور نظمیں سپاٹ ہیں، اگرچہ لوچ اور رس بہت ملتا ہے۔ اردو افسانے میں منٹو، انتظار حسین اور بیدی پسندیدہ ہیں۔ نیز دو افسانہ نگاروں کی ایک ایک کہانی پسند ہے۔ ان میں سے ایک ہیں سریندر پرکاش جن کا افسانہ ’ادھورے آدمی کا ڈرائنگ روم‘ غیر معمولی ہے۔ دوسرے ہیں بلراج مین را، ان کا افسانہ ’ماچس‘ کمال مہارت سے لکھا گیا۔ منٹو کی خرابی یہ ہے کہ وہ نقال تھے، ان پر ’اوہنری‘ کا اثر ضرورت سے زیادہ تھا۔ اوہنری کو پڑھ لیا جائے تو منٹو کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ گو موضوعات میں منٹو موپساں کے قریب ہیں۔ میری رائے میں اردو ادب میں ناول نگار ایک ہی ہیں یعنی قرۃ العین حیدر۔ فاروق حسن کا ’سیاہ آئینے‘ بھی اچھا ناول ہے لیکن مقبول نہ ہو سکا۔ غیر ملکی ناول نگاروں میں دوستو فسکی پسند ہے، اسے دنیا کا سب سے بڑا ناول نگار قرار دیا جا سکتا ہے۔ پھر جوزف کانریڈ کا ’ہارٹ آف ڈارک نیس‘ پسند ہے اور کافکا کے دونوں ناول بھی۔ ٹالسٹائی کا ’ وار اینڈ پیس‘ بھی بڑا ناول ہے لیکن اس کی خرابی یہ ہے کہ آپ ’برادرز کرامازوف‘ (دوستوفسکی) کا ایک فقرہ نہیں نکال سکتے، لیکن میں اگر ’وار اینڈ پیس‘ کا ایک چوتھائی حصہ نکال بھی دوں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

’’مجھے کلاسیکل موسیقی پسند ہے، جدید انداز نہیں بھاتا۔ بسم اللہ خان کا بہت شہرہ ہے لیکن مجھے بندو خان کی شہنائی بہت ہے، وہ جادو کر دیتے تھے۔ روی شنکر کا ستار بھی سحر طاری کر دیتا ہے اس کی گہرائی اور وسعت لا محدود لگتی ہے، وہ موجد تھے انہوں نے نت نئے قاعدے بنائے ہیں۔ گانے والوں میں استاد بڑے غلام علی خان اور روشن آرا پسند ہیں، افسوس کہ ہم ان کی قدر افزائی نہ کر سکے، میں ان دونوں کو برابر کا فنکار سمجھتا ہوں۔ غزلوں میں برکت علی خان پسند ہیں، انہیں سن کر فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ غزل بڑی ہے یا گائیکی۔ ستار میں ایک اور نام استاد رئیس خان کا ہے۔ انہوں نے ستار میں گائیکی انگ یعنی گلے کی گائیکی پیش کرنے کا اپنا دعویٰ واقعی سچ کر کے دکھایا ہے۔‘‘

مسلم فلاسفرز کا ذکر چھڑا تو احمد جاوید کہنے لگے،

’’ہندوستانی مسلم روایات نے دو بنیادی آدمی پیدا کیے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب کی فکر آج بھی تازہ ہے اور صحیح بھی۔ یہ ہیں شاہ ولی اللہ! آپ ہندوستانی مسلم روایات میں وہ مذہبی مفکر ہیں جن کے دلائل سے اختلاف کسی بھی ذہن کے لیے خاصا مشکل کام ہے، دوسرے علامہ اقبال ہیں۔ اقبال کا فلسفیانہ، مذہبی، فکری نظام بھی حال و مستقبل سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے اجزا سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن اختلاف بھی اثر انداز ہونے کی قوت رکھنے والے سے کیا جاتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایسے موضوعات و نظریات پر کام کیا جو اب تک پرانے نہیں ہوئے۔ اسی لیے جب بھی ہم اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں یا اپنے حال کا تجزیہ کریں تو اقبال سے بے توجہی برتنے کا خطرہ مول نہ لیں۔ تازگی اقبال کے فکری نظام کا نادر خاصا ہے۔ اقبال کو دراصل یہ برتری حاصل ہے کہ وہ مفکر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے۔ آج بھی ان کی شاعری ہمارے اندر ہم رنگ جذبات پیدا کر دیتی ہے۔ مگر میں یہ بات نہیں مانتا کہ کوئی صرف اقبال کی رہنمائی میں کام کرے یا یہ کہنا شروع کر دے کہ اقبال رہبر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود سے کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔‘‘

یہ بھی دیکھئے:
 دین اور موجودہ سوشل سائنسز ——– احمد جاوید


میرا ذوق مطالعہ اور پسندیدہ کتب —— احمد جاوید (1)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: