روزگار: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق (2) —– یوول نوح حریری

0
  • 27
    Shares

اس کتاب کے پہلے باب کا ترجمہ اس لنک پر ملا حضہ کیجیے۔


روزگار: تم جب جوان ہو گے، تمہیں شاید کوئی نوکری نہ ملے

ہم نہیں جانتے کہ روزگار کی منڈی ۲۰۵۰ تک کیا صورت اختیار کرے۔ اس بات پر عمومی اتفاق رائے ہے کہ دہی جمانے سے یو گا سکھانے تک، مشینیں اور روبوٹکس (خدمات) تقریباً ہر کام کی نوعیت اور زاویہ بدل دیں گی۔ تاہم اس تبدیلی کی نوعیت اور وسعت پر مختلف تصورات باہم متصادم ہیں۔ کچھ لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک یا دو دہائیوں میں اربوں انسان معاشی طور پر بے کار ہو جائیں گے۔ جبکہ دیگر سمجھتے ہیں کہ آٹومیشن روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرتا رہے گا اور سب کی ترقی کا کچھ نہ کچھ بندوبست کر لیا جائے گا۔

کیا ہم واقعی ایک خوفناک تبدیلی کے قریب پہنچ چکے ہیں یا پھر محض بے بنیاد ہوائی باتوں کی زد میں ہیں! کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ آٹومیشن کے سبب، بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے خدشات انیسویں صدی میں بھی تھے، مگر وہ کبھی حقیقت میں نہ ڈھل سکے۔ جب سے صنعتی عہد شروع ہوا، ہر وہ روزگار جو مشین نے چھینا، اس کی جگہ نیا روزگار پیدا کر دیا گیا۔ معیار زندگی ڈرامائی رفتار سے بہتر ہوا۔ مگر اس بار صورتحال برعکس ہے اور ایسا سمجھنے کی کافی معقول وجوہات ہیں۔ اس بار مشین درحقیقت گیم چینجر بننے جا رہی ہے۔

انسانوں میں دو طرح کی قابلیتیں ہیں۔ ایک جسمانی اور دوسری عقلی و ادراکی۔ ماضی میں مشینیں انسانوں سے جسمانی مہارتوں میں مقابلہ کرتی رہی ہیں، مگر انسان کی ذہانت اور منصوبہ بندی نے اُسے ہمیشہ بہت آگے خاص مقام پر رکھا ہے۔ جب زرعی و صنعتی روزگار مشینوں نے چھین لیے، تو انسانوں نے وہ سارے کام سنبھال لیے، جن میں دماغی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ مگر اب Artificial Intelligence مصنوعی ذہانت کا نیا نظام انسانوں کو اُن سب کاموں سے نکال باہر کرے گا جن میں دماغ استعمال ہوتا ہے۔ جسمانی و دماغی، ہم ان دو انسانی صلاحیتوں کے سوا کسی تیسری انسانی خاصیت سے واقف نہیں، جو اُسے انفو بائیو ٹیک انقلاب سے محفوظ و مامون بنا سکے1۔

یہ سمجھنا انتہائی اہم ہو گا کہ آرٹیفیشل انٹیلجنس کا انقلاب صرف کمپیوٹرز کی کارکردگی یا تیز رفتاری سے متعلق نہیں ہے۔ یہ علوم حیاتیات اور علوم سماجیات میں فیصلہ کن تبدیلیاں لانے کی توانائی سے بھرپور ہو گا۔ جیسا کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بائیو کیمسٹری کا مکینزم انسانی جذبات، خواہشات اور پسند نا پسند کو کس طرح تقویت دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح کمپیوٹرز بھی انسانی رویوں کا تجزیہ، انسانی فیصلوں کی پیش بینی اور انسانی ڈرائیورز، بینکرز اور قانون دانوں کی جگہ سنبھال سکتے ہیں2۔

آخری چند دہائیوں میں نیورو سائنس اور معاشی رویوں کے علوم میں تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ سائنس دان بہت حد تک انسانی فیصلوں کو جاننے کے قابل ہو چکے ہیں۔ یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ خوراک سے لیکر باہمی تعلقات تک ہماری ہر خواہش کا تعلق کسی’ پر اسرار آزاد ارادے‘ سے نہیں ہے بلکہ یہ اربوں نیورونز کا وہ حساب و شمار ہے، جو امکانات مدنظر رکھ کر لمحے بھر میں فیصلہ کرتا ہے3۔

’انسانی بصیرت و وجدان‘ کی شیخی دراصل ’صورت یا نمونے کی شناخت‘ ہے۔ ماہر ڈرائیورز، بینکار اور قانون دان کسی جادوئی سمجھ کے سبب ٹریفک، سرمایہ کاری اور بحث و دلائل ممکن نہیں بناتے، بلکہ متواتر پیش آنے والی صورتوں (عادتوں) کی شناخت کے ذریعہ لاپروا راہگیروں ، ناتجربہ کار قرض خواہوں اور بددیانت عیار آدمی سے بچتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ انسانی دماغ کے بائیو کیمیکل ایلگوریتھم بے عیب نہیں ہیں4۔ یہی وجہ ہے کہ ماہر ڈرائیورز، سرمایہ کار اور قانون دان بھی احمقانہ غلطیاں کر جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی دماغ کو بھی پچھاڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آرٹفیشل انٹیلیجنس کو انسانی روح سے مسابقت کی کوئی ضروت ہو گی؟ تو یہ ناممکن لگتا ہے! اور اگر AI کو واقعی انسانی نیورون سسٹم سے مقابلہ کرنا پڑ گیا، تو اس کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہ ہو گی5۔

بالخصوص، یہ AI انسانوں کے بہت سارے ایسے کام سنبھال لیں گے، جن میں جھوٹ فریب کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ یہ AI انسانی کیفیات اور رویوں کا بہتر تجزیہ کر سکیں گے۔ یہ بہترین ڈرائیور، بہترین سرمایہ کار اور بہترین قانون دان بن سکیں گے۔ کون سا بچہ کب اچانک سڑک پر آ سکتا ہے؟ اور کیا یہ سوٹڈ بوٹڈ شخص میرا پیسہ لیکر بھاگ تو نہیں جائے گا؟ اور کیا یہ وکیل محض دھمکیاں دے رہا ہے یا واقعی کچھ کر گزرے گا؟ اگر یہ جذبات اور رویے محض بائیو کیمسٹری ایلگوریتھم کا نتیجہ ہیں، تو پھر انہیں سمجھنے میں کمپیوٹرز کیوں انسانوں سے پیچھے رہ سکتے ہیں؟ یہ AI چہروں کے تاثرات تک پڑھ سکیں گے، آواز کا اتار چڑھاؤ محسوس کر سکیں گے، ہاتھ پیروں کی حرکات سے اندازہ لگا سکیں گے کہ سامنے والا کیسا ہے؟

مستقبل کی نوکریوں کو صرف انفوٹیک سے ہی خطرہ نہیں ہے، بلکہ بائیو ٹیک بھی بہت بڑی تبدیلیاں لا رہا ہے، دماغ کے سائنسدان ایسی چیزوں پر کام کر رہے ہیں، جو ۲۰۵۰ تک ماہرین نفسیات اور محافظوں کی جگہ AI کی تقرری ممکن بنا دیں گی۔ AI میں صرف انسانی خوبیاں ہی نہیں بلکہ غیر انسانی صلاحیتیں بھی حیرت انگیز ہیں: ان میں سے ایک بہترین رابطہ اور دوسری اپ ڈیٹنگ کی اہلیت ہے۔ کروڑوں انسانوں کی جگہ سنبھالنے کیلئے کروڑوں روبوٹس یا کمپیوٹرز کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک جدید نیٹ ورک کے ذریعہ بہت کچھ سنبھال سکیں گے۔ مثال کے طور پر انسان ڈرائیورز عموماً ٹریفک قوانین سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوتے، حادثات کے خدشات ہمیشہ رہتے ہیں، جبکہ باہم ربط و ضبط کا نظام AI خودکار گاڑیوں کو حادثات سے بہت زیادہ محفوظ رکھ سکے گا۔ اسی طرح جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو کسی نئی بیماری یا دوا کا علم ہو گا، تو تمام انسان ڈاکٹرز کو اس بارے میں اپ ڈیٹ رکھنا ناممکن ہو گا، جبکہ اس کہ برعکس اگر دنیا بھر میں دس ارب AI ڈاکٹرز بھی ہوں تو فوراً سب ہی اس بیماری اور دوا سے واقف ہو جائیں گے۔ اس سے انسانی معاشرے کو صحت عامہ میں بے حد فائدے حاصل ہو سکتے ہیں، انتہائی سستا علاج آسان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں AI کی خدمات انسانوں کیلیے بہت مفید ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ بہت فعال اور غلطیوں سے پاک ہو گی۔

انسانوں کا روزگار بچانے کیلیے ٹرانسپورٹ اور صحت عامہ کے شعبے میں AI کا راستہ روکنا پاگل پن ہو گا۔ کیونکہ ہمیں انسانوں کو محفوظ بنانا ہے، روزگار کو نہیں۔ فارغ ڈاکٹرز اور ڈرائیورز کوئی اور کام بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔

مشینی موزارت
فوری طور پر، AI اور روبوٹکس تمام صنعتوں کو یکسر ختم نہیں کر رہے۔ روزمرہ کی وہ سرگرمیاں، جن میں اسپیشلائزیشن درکار ہوتی ہے، فی الحال وہی آٹومیشن پر جائیں گی۔ تاہم وہاں انسانوں سے مشینوں میں تبدیلی کافی دشوار ہوگی، جہاں کام کی ایسی مختلف نوعیتیں پیش آئیں گی، جن کا تعلق غیر معین صورتحال اور فیصلہ سازی سے ہو گا۔ مثال کے طور پر شعبہ صحت کو لیجئے، زیادہ تر ڈاکٹرز معمول کی معلومات پر ذمے داریاں ادا کرتے ہیں، میڈیکل ڈیٹا جمع کرتے ہیں، اس کا تجزیہ کرتے ہیں اور علاج تجویز کرتے ہیں۔ جبکہ نرسز کا کام حساس ہوتا ہے، انہیں احتیاط سے تکلیف دہ انجیکشن لگانے ہوتے ہیں، مریض کی نفسیاتی و اخلاقی مدد بھی کرنی ہوتی ہے اور غصیلے مریض پر قابو بھی پانا ہوتا ہے۔ لہٰذا، اس بات کا امکان زیاہ ہے کہ اسمارٹ فون پر خاندانی AI ڈاکٹر کا استعمال روبوٹک نرسز سے دہائیوں پہلے شروع ہو جائے۔ انسانوں کی دیکھ بھال کا کام غالباً طویل عرصہ انسانوں ہی کے ذمے رہے گا۔ غالباً یہ انسانوں کی مزدور منڈی میں سب سے زیادہ فروغ پانے والا شعبہ قرار پائے۔

اس کے ساتھ ساتھ تخلیقی سرگرمیوں والے کام بھی فوری طور پر آٹومیشن پر نہ لائے جا سکیں گے۔ ہمیں انسانوں سے موسیقی خریدنے کی ضرورت نہیں رہی، وہ ہم آسانی سے ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں، مگر موسیقار، گلوکار اور فنکار اب بھی گوشت پوست کے انسان ہی ہیں۔ ہمیں ان کی تخلیقی صلاحیتیں درکار ہوں گی۔

اس سب کے باوجود، کوئی بھی روزگار مکمل طور پر آٹومیشن سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہاں تک کہ فنکار بھی نوٹس پر چلے جائیں گے۔ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ موسیقی انسانی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے، مگر اس صورت میں کیا ہو گا جب خارجی ایلگوریتھم انسانی جذبات سمجھنے لگیں گے اور انہیں شیکسپئیر اور فریڈا کاہلو سے بہتر انداز میں پیش کریں گے؟

بہرحال، جذبات اب کوئی پراسرار شے نہیں رہے، یہ محض بائیو کیمیکل عمل ہے۔ بہت جلد مشینی ایلگوریتھم سینسر کے ذریعہ ہمارے جسم کے بائیو میٹرک تجزیے کریں گے، پسند ناپسند اور موڈ کا پتا لگائیں گے اور اس کے مطابق مطلوبہ موسیقی سنوا دیں گے، پسند کا گیت اور ُسر تک الگ نکال کر مہیا کر دیں گے۔

نئی نوکریاں؟
شعبہ صحت اور اینٹرٹینمنٹ میں روزگار کی کمی کو جزوی طور پر نئی نوکریوں سے حل کیا جائے گا۔ جنرل میڈیکل پریکٹیشنرز، جو عموماً مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، وہ شاید AI کی جگہ سنبھال سکیں۔ انسانی ڈاکٹرز، لیب اسسٹنٹ وغیرہ تحقیق اور نئی دواؤں کی تیاری سے کافی آمدنی پیدا کر سکیں گے۔ AI شاید ایک اور طریقہ پر انسانی نوکریوں کا انتظام کر سکیں، وہ یہ کہ انسان AI سے مسابقت کے بجائے ُان کی خدمات پر مامور ہو جائیں، ان کے معاون بن جائیں۔ مثال کے طور پر، ڈرون کی ایجاد نے انسانی پائلٹس کی نوکریاں ختم کیں، مگر ساتھ ہی مینٹیننس، ریموٹ کنٹرول، ڈیٹا کا تجزیہ اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں نئی اسامیاں پیدا کر دیں۔ امریکی فوج میں ایک ڈرون کنٹرول کرنے کے لیے تیس آپریٹرز کام کرتے ہیں اور جائزہ و نتائج کے لیے اسی افراد مامور ہیں۔ اگر صورتحال اسی طرح رہی، تو ۲۰۵۰ تک جاب مارکیٹ میں انسانوں اور AI کے درمیان مقابلہ کی فضا شاید پیدا نہ ہو، بلکہ تعاون و اشتراک ہو۔ پولیس اور بینکاری کے شعبوں میں تعاون صرف انسانوں اور صرف کمپیوٹرز دونوں کو مات دے سکتا ہے۔ تاہم ان سب نوکریوں کے ساتھ ایک مسئلہ درپیش رہے گا، وہ ہے انتہائی مہارت کا۔ روزگار کا حصول شاید پھر بھی اتنا مشکل نہ ہو، جتنا دشوار انسانوں کو از سرنو تربیت دینا ہو گا۔ ماضی میں بھی آٹومیشن کی کئی لہریں آئیں، مگر ایک پیشے سے دوسرے پیشے میں منتقل ہونا چنداں دشوار نہ تھا۔ مگر ۲۰۵۰ میں ایک کیشئیر یا ٹیکسٹائل ورکر ۔ ۔ ۔ کینسر ریسرچر، ڈرون آپریٹر یا آرٹیفیشل انٹیلجنس بینکنگ ٹیم کا حصہ نہیں بن سکے گا، اس کے لیے غیر معمولی مہارت درکار ہو گی۔

اس طرح، انسانوں کے لیے بہت سے نئی نوکریوں کے باوجود عمومی صورتحال خوفناک ہو گی، شاید ایک بہت بڑا ’بے کار‘ طبقہ وجود میں آ جائے ۔ غیر تربیت یافتہ ملازمین اور بے روزگاری دونوں مل کر شاید بڑا بحران پیدا کر دیں۔ کوئی بھی انسانی روزگار آٹومیشن سے ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں رہے گا۔ ۔ ۔ ۲۰۵۰ تک نہ صرف ’تا حیات روزگار‘ ، بلکہ ’تا حیات پیشہ‘ کا تصور بھی بالکل دقیانوسی ہو چکا ہو گا۔ ایسی صورتحال میں انسانوں پر ذہنی تناؤ بڑھے گا، بے روزگاری اور بے کاری کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون کی ادویات کے استعمال میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ یقیناً ابھی، یعنی بہ وقت تحریر، یہ باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔ آٹومیشن نے صنعتوں میں ہلچل ضرور پیدا کی ہے، مگر روزگار کا بحران پیدا نہیں ہوا۔ ابھی یہ کہنا انتہائی دشوار ہے کہ مشینیں کب تک انسانوں کی جگہ لے لیں گی۔ اس کا بہت کچھ انحصار سیاسی فیصلوں اور ثقافتی تبدیلیوں سے ہی سامنے آئے گا، خاص طور پر ٹیکنالوجی کی پیشرفت اس حوالے سے فیصلہ کن ہو گی۔ تاہم ہم خواب خرگوش کے مزے نہیں لے سکتے۔ یہ باور کرنا خطرناک ہو گا کہ روزگار کی کمی نئی نوکریوں سے پوری کر لی جائیں گی۔ سیاسی اور سماجی انتشار اس قدر زیادہ ہے کہ سنجیدگی اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اکیسویں صدی میں انفو ٹیک اور بائیو ٹیک سے پیدا ہونے والا چیلنج ماضی کے کسی بھی صنعتی چیلنج سے زیادہ بڑا اور ہولناک ہے۔ اب ہم مزید جنگوں اور خونیں انقلابات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ اس بار ناکامی نیوکلئیر جنگ کی صورت میں سامنے آئے گی، جینیاتی انجینئرنگ سے نہ جانے کیسے کیسے عفریت سامنے آئیں گے۔ کرہ ارض پر زندگی مکمل طورپر خطرے میں پڑجائے گی۔

استحصال سے لاتعلقی تک
روزگار کے بحران سے بچنے کے تین رستے نظر آتے ہیں۔ نوکریوں کے زیاں سے بچنا قابل عمل اور دانشمندی نہیں، کیونکہ روبوٹکس اور AI کے فوائد سے ہاتھ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ حکومتیں شاید یہ کوشش کریں کہ آٹومیشن کے نفاذ کی رفتار سست رکھی جا سکے، تا کہ اچانک صدمات اور بھونچال سے بچا جاسکے۔ ٹیکنالوجی کبھی بھی جبرکی صورت نہیں بنی، اور یہ کہ کچھ ہو سکتا ہے کہ مطلب یہ نہیں کہ وہ لازماہوگا ہی۔ یہ ممکن ہے کہ حکومتیں ٹیکنالوجی کا رستہ کامیابی سے روک سکیں، اور اس سے ضروری کمرشل اور معاشی فائدے بھی سمیٹ سکیں۔ جیسے انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کا راستہ سرکاری سطح پر روکا گیا ہے، جبکہ یہ اربوں کھربوں کا کاروبار بن سکتا ہے۔ اگر تبدیلی کا عمل سست کردیا جائے، تو خاطر خواہ نوکریاں پیدا کی جاسکتی ہیں۔ مگر اس کے لیے بھی حکومتوں کوعمر بھر کی تعلیم کے لیے مکمل سب سڈی کا انتظام کرنا ہوگا، اورطویل عرصہ تک کے لیے سیفٹی نیٹ مہیا کرنا ہوگا، تاکہ لوگ ٹیکنالوجی میں مہارتیں حاصل کرسکیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ لوگ ساری زندگی تیزی کے ساتھ پیشہ ورانہ تبدیلیاں برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔ یقینا، ایک بہت بڑا طبقہ ایسا نہیں کرپائے گا۔ تو پھر بے روزگار بے کار دنیا کیا کرے گی؟ اس کے لیے نئے معاشرتی نمونے ڈھونڈنے ہوں گے، یا تیار کرنے ہوں گے۔ مگر اس سے بھی پہلے دیانت داری سے اعتراف کرنا ہوگا کہ موجودہ معاشی و سیاسی نظام درپیش چیلنج سے نبرد آزما نہیں ہوسکتا۔

شاید کچھ لوگ کہیں کہ انسان کبھی بھی معاشی طور پر لاتعلق نہیں ہوسکتا، کیونکہ صارف تو وہی رہے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مستقبل میں انسان صارفین کی ضرورت بھی شاید نہ رہے۔ روبوٹکس اور AI کی اپنی دنیا اپنی ضروریات ہوں گی، وہ ایک دوسرے کے صارف بھی ہوسکتے ہیں۔ شاید انہیں اس بات کی ضرورت ہی نہ ہو کہ انسان ان سے کچھ خریدیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الگوریتھم پہلے ہی تاجر اور بیوپار بن چکے ہیں، آج اسٹاک ایکسچینج میں وہ بانڈز کے اہم خریدار بن چکے ہیں۔ مثلا اشتہار کی دنیا میں اس وقت سب سے بڑا خریدار گوگل سرچ انجن ایلگوریتھم ہے۔ ظاہر ہے ایلگوریتھم ہوش و حواس نہیں رکھتا، نہ جذبات رکھتا ہے نہ خواہشات6، اور نہ ہی آئس کریم کھاسکتا ہے، مگر آج کی دنیا میں بہترین آئس کریم کون سی ہے؟ اس کا فیصلہ گوگل رینکنگ کرتی ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب کوئی کتاب اشاعت کے لیے بھجواتا ہوں، توناشر کے ساتھ ساتھ ایلگوریتھم کی مہارت درکار ہوتی ہے، جو زبان کی تصیح کرتا ہے۔

بہرصورت ہمیں روزگار سے زیادہ انسانوں کی فکر کرنی چاہیے۔ اس کے لئے ہمیں انہیں لاتعلقی سے بچانا ہوگا، ایک ایسا معاشرتی نمونہ تیار کرنا ہوگا، جس میں بے روزگار دنیا کی جسمانی اور نفسیاتی بقاء کا سامان وافردستیاب ہوسکے۔ اگر ہم عالمی سطح پرنئے متحد انسانی معاشرے تشکیل دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، توAI اور ایلگوریتھم وغیرہ ہمارے لیے نعمت سے کم نہ ہوں گے۔ مگر یہ بات ہمارے لیے ہولناک ہوسکتی ہے کہ اختیارات سارے ایلگورتھم کے ہاتھوں میں چلے جائیں! اس طرح ڈیجیٹل ڈکٹیٹرشپ کا عروج ہوگا، اور یہ لبرل کہانی کا افسوسناک اختتام ہوگا!

حواشی:
۱۔ خالص مادی نکتہ نظر ہے۔ پروفیسر ہراری اور نظریہ ارتقاء پر ایمان رکھنے والے حضرات روح کے قائل نہیں۔ مگرانسانوں کی بہت بڑی اکثریت، جوبڑے مذاہب سے تعلق رکھتی ہے، نہ صرف روح سے تعلق رکھتی ہے بلکہ اسے انسانی عزوشرف سمجھتی ہے، اوردیگر مخلوقات سے انسان کو ممتاز بنانے والی یہی وہ صفت ہے، جس کے بغیرانسان واقعی درندہ صفت نظر آتا ہے۔

۲۔ یہاں دو باتیں دلچسپ ہیں، ایک یہ کہ انسان کی آزاد خیالی کا مغربی تصور مادی نکتہ نظر سے ہی غلط ثابت کیا جارہا ہے، دوسرا یہ کہ آزاد ارادے کا یہ اختیار اربوں نیورونز کو دیا جارہا ہے اوران کے اس اختیار پر قابو پانے کیلیے کیمیائی ہتھکنڈوں کے استعمال کوبائیو کیمسٹری کی اکادمی اصطلاح میں قابل قبول بناکر پیش کیا جارہا ہے، یعنی پہلے انسان پرظلم کے جو خارجی طریقے تھے، وہ اب ادویات اورطبی تشدد کی صورت اختیار کرلیں گے، حقیقت تو یہ ہے کہ عرصہ دراز سے ایسا ہی ہورہا ہے، LSDکا استعمال واضح مثال ہے۔

۳۔ پروفیسر صاحب کی دانشوری میں نیورونز کی شماریات کس قدر ’بصیرت افروز‘ شیخی کا ثبوت دے رہی ہے؟ اس کا درک انہیں واقعی نہیں ہے، مگر وہ انسانی دماغ کی خودکاری ثابت کرنے پرجس جذبے اور لگن سے زور دیتے ہیں، وہ از خود ’خود کارمشینی‘ دماغ کی نفی کررہی ہے۔ ہماری اس رائے میں ہمارے نیورونز کی کوئی من مانی ہرگز نہیں ہے، یہ ہمارا یقین ہے، اگر ہمارا یہ یقین نیورونز کی شرارت ہے، تب بھی ہم یقین سے کیسے دستبردار ہوسکتے ہیں؟ اور مزے کی بات یہ کہ بصیرت کی شیخی بھی شیخی نہیں اگر وہ واقعی نیورونز کی شرارت ہے۔

۴۔ یہ عیب جاننے کا دعوٰی محل نظر ہے، کیونکہ اس طرح پروفیسر صاحب کا دماغ بھی بے عیب نہیں۔

۵۔ پروفیسر ہراری صاحب AI ورلڈ آرڈر کی خبر دے رہے ہیں۔

۶۔ یہاں ہراری صاحب تضاد کا شکار ہورہے ہیں، پہلے باب میں اور دیگر مقامات پر وہ انسانی احساسات اور جذبات کو مشینی قرار دیتے رہے ہیں، اب یہاں انہیں اعتراف ہے کہ مشین کے کوئی جذبات اور خواہشات نہیں ہوتیں۔

ترجمہ وتلخیص: ناصر فاروق

پہلے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حضہ کیجے۔

تیسرے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حضہ کیجے۔

(Visited 366 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: