جھوٹی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ نجیبہ عارف

0
  • 169
    Shares

عصر کا وقت ہے یا شاید اس کے کچھ بعد کا۔ میں سوچتی ہوں کہ مغرب تک مجھے گھر پہنچ جانا چاہیے۔

’’پہنچ جاؤں گی‘‘۔ ارد گرد دیکھتے ہوئے میں اعتماد سے خود کو بتاتی ہوں اور اپنے قدم تیز کر دیتی ہوں۔ میرے ذہن میں کچھ دیر پہلے کے واقعات گھومنے لگتے ہیں۔ میں انھیں خوب اچھی طرح دہرانے اور یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ گھر جا کر سب کو بتا سکوں کہ کیا کیا ہوا تھا۔ سب کو انتظار ہو گا۔سب پوچھیں گے، بتاؤ کیا ہوا تھا؟

میں پھر سے اپنی یادداشت مرتب کرنے لگتی ہوں۔ واقعات مجھے اچھی طرح یاد ہیں لیکن بار بار سوچنے سے وہ کچھ دھندلانے لگتے ہیں۔ جیسے گلاس پر گیلے ہاتھوں کے نشان۔ تھوڑی دیر بعد ہی کہیں کہیں سے مٹنے لگتےہیں۔ جہاں جہاں گیلاہٹ باقی ہوتی ہے، وہاں وہاں میں نظریں جما دیتی ہوں اور ان مٹتے ہوئے نشانوں کی مدد سے مٹ گئے ہوئے نشانوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آدھی باتیں یاد رہتی ہیں اور آدھی بھول جاتی ہیں؟ جو بھول جاتی ہیں وہ بھی پوری طرح نہیں بھولتیں بلکہ ان کے دھبے یادداشت کی سلیٹ پر مسلسل موجود رہتے ہیں۔کبھی کبھی ان دھبوں سے شکلیں سی بن جاتی ہیں۔ کبھی کبھی وہ شکلیں پہچانی بھی جاتی ہیں لیکن عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ بس انسان ساری عمر یہی سوچتا رہتا ہے کہ یہ کیا تھا؟کیسے تھا؟ کیوں تھا؟ کچھ یاد نہیں آتا؛ سوا ئے اس کے ، کہ کچھ تھا ضرور۔

میں اپنے خیالوں میں گم تیزی سے چلتی ہوں کہ اچانک میرا راستا مجھے روک لیتا ہے۔ رک کر اپنی طرف دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ میں جو بے دھیانی سے مگر اس یقین کے عالم میں چلی جا رہی تھی کہ گھر جا رہی ہوں، وہ دھیان ٹوٹ سا جاتا ہے۔

میں چونک کر ادھر ادھر دیکھتی ہوں۔ دونوں طرف کے منظر نامانوس معلوم ہوتے ہیں۔ اجنبیت فرش سے اٹھ اٹھ کر میرے گلے پڑتی معلوم ہوتی ہے۔ جیسے آندھی چلے تو دھول آنکھوں میں گھس کر اپنا آپ جتا دیتی ہے۔

یہ کون سی گلی ہے؟ باغبان پورہ کی؟ نہیں0، انار کلی کی؟
نہیں انارکلی تو نہیں ؛ کوئی اور ہے؟

پہچانی کیوں نہیں جا رہی؟
میں تو ہزاروں دفعہ یہاں سے گزری ہوں۔ ہر بار گھر جانے کے لیے یہیں سے تو گزرتی تھی۔

اولڈ کیمپس سے نکل کر گھر جانے کے لیے۔
اولڈ کیمپس؟

میرا ذہن کسی اورہی زمان و مکاں میں بھٹکنے لگتا ہے۔پھر اچانک یاد آتا ہے کہ میں اولڈ کیمپس میں نہیں پڑھتی تھی، میں تو نیو کیمپس میں تھی ۔ اور گھر کیسا؟ تب تو میں ہوسٹل میں رہتی تھی۔

’’ہاں ٹھیک ہے، ہوسٹل میں تھی لیکن انارکلی تو اکثر آنا ہوتا تھا۔ انارکلی سے گھر جاتے ہوئے۔۔۔۔۔‘‘ میرا ذہن پھر بھٹک جاتا ہے۔

مجھے اپنی الجھن پر الجھن ہونے لگتی ہے اور میں جھلا کر اپنی سوچ کو جھٹک دیتی ہوں۔

’’اچھا چلو، جو بھی ہے، میں ان راستوں سے تو کئی بار گزری ہوں۔میں ضرور گھر پہنچ جاؤں گی‘‘۔

میں خود کو تسلی دیتی ہوں۔لیکن دل میں خدشہ سا ہونے لگا ہے اس لیے میں گلی کو خوب اچھی طرح ، غور غور سے دیکھنے اور پہچاننے کی کوشش کرتی ہوں۔
کبھی دائیں اور کبھی بائیں۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ گلی پہلے کی نسبت تنگ ہوتی جا رہی ہے اور دونوں طرف کی دکانیں اوپر چڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔میں گھبرا کر نیچے دیکھنے لگتی ہوں، فرش پر پتھر بھی اکھڑ اکھڑ کر باہر نکل رہے ہیں۔ اونچے نیچے ، غیر ہموار، گندگی سے لتھڑے ہوئے کالے کالے پتھر۔جن سے کسی کو بھی ٹھوکر لگ سکتی ہے۔

’’غریب لوگ یہاں کیسےگزارا کرتے ہیں‘‘۔
ایک اچٹتا ہوا خیال میرے ذہن سے ٹکرا کر گزرتا ہے اور مجھے خود پر شرم آتی ہے۔

’’مجھے آج برسوں بعد اس گلی سے گزرنا پڑا ہے تو میں کیسے جھلا رہی ہوں۔ یہ غریب لوگ، جو یہیں رہتے ہیں، یہیں جیتے مرتے ہیں، ان کے بچے انھی فرشوں پر کھیل کھیل کر بڑے ہو جاتے ہیں، ان کےجنازے انہی گلیوں سے نکلتے ہیں‘‘۔

ساتھ ہی مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے کتنی آسانی سے خود کوان غریب لوگوں سے جدا کر لیا ہے۔ ’’غریب لوگ‘‘ کہہ کر میرے اندر اپنی بڑائی کا ، ان سے الگ ہونےکا، برتر ہونے کا جو طمانیت بھرا احساس پیدا ہوا ہے، اس کا تعفن میرے وجو دکا حصہ بن گیا ہے۔

’’میں خود بھی کبھی انھی گلیوں کا روڑا تھی‘‘۔
میں اس تعفن کو جھاڑنے کی ندامت بھری مگر ناکام کوشش کرتی ہوں۔

میرا دل بھرآتا ہے اور میں گلی کی دونوں سمتوں میں بے ترتیبی سے بنی ہوئی چھوٹی بڑی دکانوں کو دیکھنے لگتی ہوں۔ سب کے اندرونی منظر ایک سے تاریک ہیں۔ بجلی کے، مکھیوں کے فضلے سے اٹے ہوئے، تاروں سے لٹکے ہوئے چالیس واٹ کے بلب، جن کی پیلی پیلی روشنی ، ڈھلتے دن کی اداس کرنوں کے ساتھ مل کر ایک مایوس کن ماحول پیدا کر رہی ہے۔۔۔ کسی جعلی عامل یا جادوگر کی کوٹھڑی جیسا ۔۔۔۔ جس میں ہڈیوں کے جلنے کی آواز اور گوشت کے سڑنے کی بو ہوتی ہے۔

میں دیکھتی ہوں ایک دکان پر بان کی رسیاں پڑی ہیں۔ کچھ گولوں کی شکل میں لپٹی ہوئی ، کچھ بڑے بڑے لچھوں کی صورت میں۔ دکاندار ایک موٹی توند والا ٓدمی ہے جس نے مٹ میلا سا سفید کرتا پہن رکھا ہے اور وہ ایک ہاتھ میں بان کی رسی کا لچھا پکڑے ہوئے ہے دوسرے ہاتھ میں گولا۔ پتا نہیں وہ گولے کا لچھا بنا رہا ہے یا لچھے کا گولہ۔ مجھے کچھ ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا لیکن اس کی شکل دیکھ کر کوئی ناگوار سا احساس مجھے اپنےاندر باؤ گولے کی صورت اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ میں منہ موڑ کر دوسری طرف دیکھنے لگتی ہوں۔

ایک تیلی کی دکان نظر آتی ہے۔ کالے کالے پیپوں میں کالا کالا تیل۔ وہ ایک پیپے کو الٹ کر اس کا تیل شیشے کی ایک تنگ بوتل میں ڈال رہا ہے۔ بوتل کے منہ پر سلور کی قیف پڑی ہے جو کبھی سفید ہوتی ہو گی لیکن اب بالکل کالی ہو چکی ہے۔ میں اس منظر میں محو ہو جاتی ہوں۔ پورے دھیان کے ساتھ۔ مجھے ڈر لگتاہے کہ ابھی سارا پیپا الٹ جائے گا اور تیل زمین پر بہہ جائے گا۔ میں احتیاطاً اپنی سانس روک لیتی ہوں اور کافی دیر تک روکے رکھتی ہوں۔ پھر اچانک میرا دم گھٹنے لگتا ہے تو مجھے احساس ہوتا ہےکہ تیل کا پیپا میں نہیں، تیلی الٹ رہا ہے۔ میرے سانس روکنے سے تیل کا بہہ جانا رک نہیں سکتا۔ میں یہ مشقت نما احتیاط بلاوجہ کر رہی تھی۔ مجھے خودپر غصہ آنے لگتا ہے۔ میں یوں ہی اپنے ساتھ ظلم کرنے کی عادی ہوں۔ دوسروں کی زندگیاں خود پر بتا بتا کر میں نے خود کو وقت سے بہت پہلے بوڑھا کر لیا ہے۔ اسی لیے میں زندگی کے لطف سے محروم ہو گئی ہوں۔ زندگی جو ایک ہی دفعہ ملتی ہے، اسے بھرپور طریقے سے جینا تو چاہیے۔ میں یوں ہی دوسروں کی فکر کرتے کرتے اپنے جینے کا عمل بے لطف کرتی رہتی ہوں۔

مجھ پر ایک بیزارکن مایوسی اور بے دلی سی چھا جاتی ہے۔ گلی کچھ اور تنگ ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ میں اپنے قدم اور تیز کر دیتی ہوں اور خود کو یقین دلاتی ہوں کہ ابھی ادھر سے مڑ کر ایک دو گلیاں اور ہوں گی ، پھر گھر آ جائے گا۔ یہ گلی بس ختم ہونے کو ہے۔

سامنے ایک گھر یا دکان کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ لوگ کچھ زیادہ ہو گئے ہیں۔ مجھے اپنے جسم پر نظروں کے پتھر برستے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، میں سر اٹھا کر دیکھتی ہوں، بہت سے لوگ کھڑے شور مچا رہے ہیں۔ شاید لینٹر ڈالا جا رہا ہے۔ سیمنٹ کی بھری ہوئی تغاریاں اٹھا اٹھا کر اوپر پہنچا ئی جا رہی ہیں۔ ساتھ ساتھ اونچی آواز میں قہقہے لگ رہے ہیں۔ مزدور پیشہ لوگ قہقہے لگا رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں سیمنٹ کی تغاریاں ہیں، ان کے ارد گرد گیلی اینٹوں کے ڈھیر ہیں۔ ایک طرف گلی میں سریہ پڑا ہے۔ لمبے لمبے نیزے گلی میں بچھ گئے ہیں اور وہ زور زور سے ہنس رہے ہیں۔

کس پر ہنس رہے ہیں؟
مجھ پر؟

میں جو اکیلی یہاں سے گزر رہی ہوں۔
میں جو ایک عورت ہوں۔

ایک عورت جو اکیلی اس وقت گلی سے گزر رہی ہے۔
ہا ہا ہا
یہ عورت ضرور کوئی۔۔۔۔

شاید وہ ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں۔ میری خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔ میں اندر سے لرزنے لگتی ہوں اور قدم تیز کر دیتی ہوں لیکن گلی فوراً ختم ہو جاتی ہے۔ اور ختم ہونے سے ذرا پہلے ایک اور گلی کا سرا اس میں کھلتا دکھائی دیتا ہے۔ میں تیزی اور قدرے بدحواسی سے اس گلی میں داخل ہوجاتی ہوں۔
یہ دوسری گلی ٹیڑھی میڑھی اور چھوٹی سی ہے۔بالکل سامنے کُب نکالتی ہوئی دائیں ہاتھ کو مڑتی ہے۔ لیکن مجھے بالکل اجنبی محسوس ہوتی ہے۔ اس گلی سے مانوسیت کی کوئی لہر نہیں اٹھتی۔ کچھ بھی جانا پہچانا نہیں۔ نیم جانا پہچانا بھی نہیں۔ ایک دم اجنبی۔

تو کیامیں راستا بھول گئی ہوں؟
یہ خیال پہلی بار میرے شعور سے ٹکراتا ہے اور مجھےلگتا ہے کہ یہ خیال پہلے بھی میرے ذہن میں موجود تھا لیکن میں اسے اپنے شعور میں آنے سے روک رہی تھی۔ میں جانتی تھی کہ میں راستا بھول رہی ہوں لیکن میں خود کویہ فریب دینا چاہتی تھی، کہ مجھے راستا معلوم ہے۔

ٹیڑھی میڑھی گلی میں کوئی چیز بھی جانی پہچانی نہیں لگ رہی۔ میں ایک لمحے کے لیے رک کر ادھر ادھر دیکھتی ہوں۔

اب کیا کروں؟
واپس جاؤں یا اسی گلی میں آگے بڑھ جاؤں؟ کہیں نہ کہیں سے تو راستا مل ہی جائے گا۔

لیکن اگردائیں مڑنے والی گلی بند ہوئی تو؟
مجھے یاد آتا ہے کہ ان علاقوں میں گلیاں کتنی پر پیچ اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔ مغرب کی طرف مڑو تو مشرق کی طرف لے جاتی ہیں، کہیں میں کسی اور ہی سمت میں نہ نکل جاؤں؟

کس سمت میں؟ دنیا میں بس چار ہی سمتیں ہیں کیا؟ کوئی اور سمت ہوتی تو کس طرف ہوتی؟
ایک فلسفیانہ سا خیال شریر ضدی بچے کی طرح میرے ذہن سے سر نکالتا ہے اور میں بدمزاج ماں کی طرف اسے چپت مار کر واپس دھکیل دیتی ہوں۔

میں راستا بھول گئی ہوں اور ادھر یہ ذہن کم بخت سمتوں کی تعداد اور ابعاد پر غور کرنے چلا ہے۔
مجھے اپنے ذہن پر غصہ آنے لگتا ہے جو ہمیشہ بے وقت، چوکس ہو جاتاہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو کام نہیں آتا۔

اب بتاؤ بھلا، مجھے یاد ہی نہیں آ رہا کہ کس طرف جانا تھا۔ اب کیاکروں، اسی گلی میں چلتی جاؤں یا واپس ہو جاؤں؟ ہو سکتاہے میں پہلے ہی غلط گلی میں داخل ہو گئی ہوں۔
مجھے واپس جا کر کسی دوسری گلی میں داخل ہونا ہو، جو گھر تک جاتی ہو۔

یہ کشمکش کے چند لمحے مجھ پر قیامت کی طرح بھاری ہوتے ہیں۔ فیصلہ کرنا مجھے ہمیشہ مشکل لگتاہے۔ میری زندگی کی ناکامیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں دو امکانات میں سے ایک کو چننے کا فیصلہ جلدی اور قطعیت سےنہیں کر سکتی۔ چنتی ایک کو ہوں اور دیکھتی دوسرے کو رہتی ہوں۔ خیر یہ تو میری شخصی کمزوری ہے، اللہ مجھے معاف کرے۔ کر ہی دے گا۔ اسی نے مجھے ایسا بنایا ہے لیکن اب کہاں جاؤں۔

میرا خیال ہے مجھے کسی سے پوچھ لینا چاہیے۔
مگر کس سے پوچھوں،

جو ذرا شریف دکھا ئی دیتا ہو، جو مجھے غلط نہ بتائے، جو میری طرف گندی نظروں سے نہ دیکھے،
آؤ میرے ساتھ آ جاؤ،‘‘ کہتی غلیظ اور مکروہ نظریں، جو میرے جسم پر ایسے گرتی ہیں جیسے کسی نے پیشاب کی دھار مار دی ہو،

گرم گرم ، بد بودار، پیلے پیشاب کی دھار۔
میرے اندر متلی ہونے لگتی ہے اور میں لڑکھڑانے لگتی ہوں۔

کس سے راستا پوچھوں؟
مجھے یاد آتا ہے کہ گلی مڑنے سے پہلے بائیں ہاتھ ایک چائے والا نظر آیاتھا۔ سر پر گول ٹوپی اور گلے میں مٹیالا سا کرتا۔ وہ سلور کے پوّے کو ہاتھ میں پکڑے چائے اچھال رہا تھا اور بڑی توجہ سے اپنا کام کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ میرا گزرنا بھی اس کی نظر سے نہیں گزرا۔

چائے والے سے پوچھتی ہوں، اسے ضرور معلوم ہو گا۔

مجھے معلوم نہیں کہ میں نے چائے والے کو کیوں منتخب کیا ؟ ا س کی گول ٹوپی کی وجہ سے؟ اس کی اپنے کام میں محویت کی وجہ سے یا اس کی بے نیازی کی وجہ سے۔ واپس مڑ کر میں دوبارہ اسی پچھلی گلی میں داخل ہوتی ہوں۔

چائے والے کے پاس رک کر اس سے پوچھتی ہوں کہ یہ گلی مڑ کر کہاں نکلتی ہے؟
لیکن چائے والے کے جواب دینے سے پہلے ہی میرے اردگرد ایک ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ نوجوان شریر لڑکوں کا ہجوم۔

وہ سب دانت نکال رہے ہیں۔ مجھے راستہ بتا رہے ہیں لیکن ہر ایک الگ الگ راستہ بتا تا ہے۔ ان کے لہجے بتاتے ہیں کہ انھیں خود کچھ معلوم نہیں۔ وہ محض اپنی لاعلمی چھپا رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک کے انداز میں اتنا تیقن ہے جیسے میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ مجھے زبردستی اس طرف لے جائے گا۔

سامنے ہی مزدوروں کا پورا جتھا جمع ہے۔ انھوں نے اپنا کام چھوڑ دیا ہے اور تغاریاں زمین پر رکھ کر سب ٹکٹکی باندھ کرمیری طرف دیکھ رہے ہیں۔

اب میں واقعی گھبرا جاتی ہوں۔ میں اپنے لہجے کو درشت اور خود اعتماد بناتے ہوئے ڈانٹ ڈانٹ کر لڑکوں کو پیچھے ہٹنے کو کہتی ہوں۔ مگر وہ سب پوری طرح لطف اٹھانے کے موڈ میں ہیں۔

ایک نوجوان لڑکی۔۔۔
مگر میں تو اب نوجوان نہیں رہی۔ یہ عمر گزرے تومدتیں ہو گئیں۔

اچھا تو ایک فیشن ایبل عورت۔۔
لیکن میں کہاں فیشن ایبل ہوں۔ میں تو۔۔۔

ہا ہا ہا۔۔۔۔ کٹے ہوئے بالوں والی بوڑھی عورت۔ ۔۔ جو ان کے نرغے میں ہے اور ان سے راستہ پوچھ رہی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اس انوکھے موقع سے پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

میں چلانے لگتی ہوں جس پر وہ اور ہنستے ہیں۔
میں بے بسی سے چائے والے کی طرف دیکھتی ہوں۔ وہ اسی بے نیازی سے پوّے سے چائے انڈیل رہا ہے۔

پھر میرے چلّانے پر وہ ایک طرف ہٹ جاتے ہیں اور میرا راستہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں، اچھا تو پھر جاؤ، جہاں جاتی ہو، دیکھتے ہیں ہم بھی، راستہ کیسے ملتا ہے۔

یہ بات وہ منہ سے نہیں کہتے مگر ان کے پورے وجود چلا رہے ہیں۔

ان کے باہر نکلے ہوئے دانت، ان کے چڑھے ہوئے ابرو، ان کے کرتوں کی الٹی ہوئی آستینیں، ان کے چہروں پر حظ اٹھانے کی خواہش۔

میں جلدی سے واپس اسی گلی میں مڑ جاتی ہوں اور ایک لمبا سانس لے کر نئے سرے سے یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔

کیا میں پہلے کبھی اس گلی سے گزری ہوں؟
اگر میں یہاں سے آگے نکل جاؤں تو کس طرف کو مڑو ں کہ گھر تک پہنچ جاؤں؟
لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔

اوفوہ! میں ٹیکسی کیوں نہ لے لوں؟ اوہ میرے خدا، یہ خیال پہلے میرے ذہن میں کیوں نہیں آیا؟ میں ایک لمبا سانس لے کر اپنی بدحواسی کو کوستی ہوں۔

ہاں ٹھیک ہے، میں ٹیکسی لے لیتی ہوں۔
میں ادھر ادھر دیکھتی ہوں؛ کہیں کوئی ٹیکسی نظر نہیں آتی۔

ان گلیوں میں ٹیکسی کہاں سے آئے گی۔ ٹیکسی تو یہاں سے گزر ہی نہیں سکتی۔
اچھا تو پھر رکشا؟

ہاں رکشا تو یہاں سے گزرتا ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک رکشا گزرا تھا اور اسے جگہ دینے کے لیے مجھے ایک دکان کی دیوار کے ساتھ جڑ کر کھڑا ہونا پڑا تھا۔

اچھا تو میں رکشا لے لیتی ہوں۔
اب مجھے کچھ اطمینان ہوتا ہے اور میں دائیں کندھے سے لٹکے اپنے بیگ کو کھول کر دیکھتی ہوں۔ میرا بٹوہ؟

میں گھبرا کر دوبارہ بیگ میں جھانکتی ہوں۔
بٹوہ کہاں گیا؟ پیسے تو اسی میں تھے۔

مجھے یاد آتا ہے وہ تو میں نے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔ ہاں، وہ ہاتھ میں ہی تھا۔ جب میں ان شریر لڑکوں سے بات کر رہی تھی۔

میں جلدی سے اپنے ہاتھ کھول کر دیکھتی ہوں۔ گھبراہٹ میں اپنے کپڑے جھاڑتی ہوں۔

دونوں ہاتھ خالی ہیں۔ کپڑوں سے بھی کوئی برآمدگی نہیں ہوتی۔
اچھا چلو کوئی بات نہیں، میں گھر جا کر رکشے والے کا کرایہ ادا کر دوں گی۔ میں خود کو اطمینان دلاتی ہوں اور اس بات پر خود کو شاباش دیتی ہوں کہ میرا ذہن ہر مشکل میں کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ ہی نکالتا ہے۔

اچھا تو اب کوئی خالی رکشا ڈھونڈتے ہیں تا کہ میں مغرب کی اذان سے پہلے گھر پہنچ جاؤں۔

روزہ کھلنے سے پہلے پہلے۔
مجھے یاد آتا ہے کہ آج تو میرا روزہ ہے۔

لیکن اس یاد کے ساتھ ہی ایک اور خیال اچانک جست لگا کر عقب سے اچھلتا ہے اور میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ ابھی اس گلی میں داخل ہونے سے پہلے میں جہاں بیٹھی تھی، وہاں تو میں نے پیٹ بھر کر کھایا پیا تھا؟

چائے، پکوڑے، پیٹیز اور بھی بہت کچھ تھا۔ میں صوفے پر پاؤں رکھ کر بیٹھ گئی تھی اور جی بھر کر کھاتی پیتی رہی تھی۔

تو میرا روزہ ٹوٹ چکا ہے۔
میرا روزہ ضائع ہو گیا ہے۔
جیسے بچہ ضائع ہو جائے۔

روزے کے ٹوٹ جانے کا الم میرے اندر ایسے اترتا ہے جیسے شیشے کی بوتل میں گاڑھے گاڑھے تیل کی دھار۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ چپکتی ہوئی، پوری طرح لتھڑ جاتی ہوئی۔

اچانگ گلی میں مغرب کی اذان گونجنے لگتی ہے۔
روزہ کھل گیا ہے۔

لیکن میرا روزہ تو ٹوٹ چکا ہے۔
اب گھر جانے کی جلدی کیا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: