سیکولرزم اور دو قومی نظریہ تاریخ کی عدالت میں ۔۔۔ ابوبکر

0

Abu Bakr

گذشتہ دنوں میں مختلف فورمز پر سیکولر ازم اور دو قومی نظریے کی بحث اس انداز سے کی گئی جس سے قاری کو یہ تاثر ملتا تھا کہ گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ایسا کرنا تاریخ اور تاریخی عمل کی انفرادی واقعیت کو نظریے پر قربان کرنے کے مساوی ہے۔

یہ تحریر تاریخ کو نظریات سے بالا ہو کر دیکھنے کی ایک طالبعلمانہ کوشش ہے جسے حالیہ بحث کے فریق ایک فورم (ویب ساءٹ) کی طرف سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر نہیں چھاپا گیا۔

 ۔۔۔۔ مدیر دانش۔۔۔۔

 

کارل پوپر  کے نزدیک ” آئیڈیالوجی” کی بنیاد  اس  منطقی مغالطے  پر ہے کہ تاریخ کو سائنس میں بدلا جا سکتا ہے۔  پوپر کا خیال تھا کہ ” آئیڈیالوجی” مطالعہء تاریخ میں قطعیت کا عنصر شامل کرتی ہے اور سائنسی علم کے ماڈلز کی طرز  پر تاریخی عمل کے بارے میں پیشگوئی  کرتی ہے۔ بہرحال یہ پیشگوئیاں ہرگز بھی سائنسی علم کا درجہ نہیں رکھتیں اور محض  نظریہ سازوں کا  ذہنی اپچ ہیں۔

”آئیڈیالوجی” یا نظریہ  دور جدید کی منفرد ترین اختراعات میں سے ایک ہے۔ یہ ایک مبہم اور پیچیدہ اصطلاح ہے جس کے معنی میں ایک وسیع تر سماجی تشکیل کے اندر واقعہ ہونے والے تاریخی تسلسل کو شعوری و بامقصد   انداز سے ایک کلی طرز کے فکری ڈھانچے میں تبدیل کر نا ہے۔   نظریہ کے بارے میں کوئی بھی نظریہ پیش کرنے سے پہلے یہ سمجھ لینا چائیےکہ فکر انسانی کا یہ پہلو دور جدید کی پیدوارہے۔  ہرچند مذہب بھی ایک کلی نظام فکر کے طور تمام ممکنہ انسانی احوال کےبارے میں اپنی ایک  رائے رکھتا ہے تاہم دور جدید کا ” نظریہ” اپنے باطن میں مذہب کے ساتھ کئی اشتراکات رکھنے کے باوجود بھی اس سے جدا اور منفرد عمل ہے۔ نظریہ جدید انسان کے  تاریخی عمل کی واقعیت پر  یقین سے جنم لیتا ہے۔ تاریخ پر یہ ایقان ایک مخصوص نظریہ فطرت کے اندر رہتے ہوئے ہی  ممکن ہے جس کے نزدیک انسان فطرت   کا وہ پرزہ ہے جو اپنے شعوری عمل کے بل پر فطرت  کو تسخیر کرنے  کی جستجو میں ہے۔ مذہب کا تصور فطرت اس سے مختلف ہے۔ وہ انسان کو اس کے فطری گردوپیش سے جدا سمجھتا ہے اور اسی وجہ سے اس کے نزدیک  ایک مخصوص وقت پر آ کر  انسانی تاریخ کا عمل اس فطری  گرد وپیش  سے  کٹ کر عالم روحانی میں میں داخل ہوجاتا ہے۔ مذہب کے تصور تاریخ میں فطرت اورمادی احوال کا مقام بنیادی نہیں ہے اور وجود انسانی کا تاریخی مقصد کسی اور عالم سے منسلک ہے۔  تاہم دور جدید کا ”  نظریہ ” انسانی تاریخی عمل کی فطری واقعیت اور شعوری قطعیت پر ایمان سے مشروط ہے۔  اس بنیاد سے پیدا ہونے کے بعد  دور جدید کا

   ” نظریہ ” بطور کل،  انسانی تجربے اور خارجی دنیا کی ایک تشریح  پیش کرتا ہے۔ یہ تشریح عمومی اور کلی نوعیت کے تصورات کے ایک نظام کی مدد سے تشکیل دی جاتی ہے اور انہی کلی اور عمومی تعینات کی مدد سے تاریخی عمل  کا ایک نیا جدول بنایا جاتا ہے جسے ٹھوس مادی تاریخی عمل کا شعور حاصل کرنے کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس جدول کی مدد سے تاریخی عمل کے بارے میں پیش گوئی کی جاتی ہے اور  اس تاریخی عمل کے ”پروگرام” کو متعین کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب اتنا  کچھ ہو جائے تو اس پروگرام کو حقیقت کا روپ بخشنے کے لئے سیاسی و سماجی اعتبار سے صف بندیاں تشکیل پاتی ہیں اور نظریہ اپنے ماننے والوں سے کامل تیقن جسے جدید احوال میں ” کٹمنٹ ” بھی کہا جاتا ہے کا تقاضہ کرتے ہوئے انہیں عملی جدوجہد میں جھونک دیتا ہے۔  

نظریے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ خارجی دنیا اور حقیقت  کو دیکھنے کے انداز کی حیثیت سے ایسی عادت میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ انسان خود نظریےکو ایک حقیقت سمجھ لیتا   ہے  اور پھرتمام حقیقت کو اس حقیقت کے آئینے میں ہی دیکھتا  ہے۔  کارل مارکس نے ” آئیڈیالوجی ” کو اس سے ملتے جلتے مفہوم میں استعمال کیا ہے اور اسے ‘’false consciousness’’  کا نام دیا ہے۔   ہمارا مقصد اس کی جزیات کا احاطہ نہیں ہے لہذا  مزید اتنا اشارہ ہی کافی ہے کہ  آئیڈیالوجی کے متوازی حقیقت کا روپ دھار جانے کے رجحان کا جواز  خود انسان کی نفسیات سے لانے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ میکس ویبر  اور کارل منہائم جیسے ماہر عمرانیات کا مجموعی موقف یہ ہے کہ نظریات کے ایسے نظام کا وجود چند  دیگر رجحانات اور ضروریات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان رجحانات کی کھوج لگانے کے لیے فرائیڈ کے تصور لاشعور سے بھی مدد لی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے آئیڈیالوجی کس طرح  طبقات کے لاشعوری رجحانات کو معقولیت کا لباس پہناتی ہے۔  

نظریے کے خود حقیقت بن جانے کا ایک اور نتیجہ یہ نکلتا ہے ٹھوس تاریخی واقعات اپنی انفرادیت اور تخصیص کے ساتھ پیش نظر نہیں رکھے جاتے ۔ انفرادی اشیا اور واقعات کے حقیقی تنوع  کو پش پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک یک رخی تصویر کو حقیقت کا نام دے کر سامنے رکھا جاتا ہے جس   میں تاریخی عمل کے گوناگوں پہلو اور متنوع محرکات نظریے کی عمومی ساخت کے اعتبار سے تصورات کا روپ دھار لیتے ہیں۔نظریہ خارجی دنیا   کے ٹھوس تاریخی عمل کی انفرادیت اور تنوع کو  نظر انداز کرتے ہوئے ایک مابعدالطبیعی انداز کی تشریح پیدا کرتا ہے جس میں تصورات اور  نظام ہائے فکر کے تجریدی استعمال کی مدد   سے  ایک مثالی صورت حال فرض کر لی جاتی ہے۔ اس کے بعد نظریہ اپنی کسی بھی وضاحت میں  عمل تجرید سے پیدا شدہ اس مثالی صورت حال کا استعمال ترک نہیں کرتا۔ نظریہ حقیقت کا حجاب بن جاتا ہے۔

کل رات  مجھے  محض اتفاقاً  دلیل ڈاٹ کام پر جناب آصف محمود جو اپنے بائیو کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنی بے باکی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں کا ایک مضمون بعنوان  ” کیا سیکولرازم لادینیت کا نام ہے ؟ ” پڑھنے کو ملا۔ مضمون بلاشبہ ایک بے باک بیان تھا اور  جیسا کہ بے باکی اپنی معراج میں داخلیت کا  روپ دھار لیتی ہے فاٖضل مضمون نگار نے  اپنی دلیل کی داخلی حرکیات کے اندر رہتے رہتے محض انگریزی کی متعدد لغات کی مدد سے ثابت کردیا کہ سیکولرازم  حقیقت میں ناصرف لادینیت بلکہ انتہا پسند لادینیت ہے۔  چونکہ ہمسایہ ملک کے مسلم  مذہبی و سیاسی اکابرین نے سیکولرازم کو لادینیت تو کیا مذہب مخالف یعنی اسلام  کا دشمن بھی  نہیں سمجھا اور حال ہی میں  بردار اسلامی ملک ترکی کے صدر نے ریاست کے سیکولر ہونے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے سو  مضمون پڑھ کر ہمارا اس نتیجے  تک پہنچنا عین منطقی تھا کہ  جناب آصف محمود کے پیش نظر   ہو نہ ہو مملکت خداداد  کا نقشہ ہے جو یار لوگوں کے نزدیک محض اسلام کے نام پر تجربات کی خاطر قیام میں لائی گئی ہے اور اپنی اس ترکیب میں خاص ہے۔  چونکہ پاکستان کے احوال میں سیکولرازم کی بحث کا  براہ راست تعلق دو قومی نظریے سے بھی ہے پس حیرت نہ ہوئی جب  “ہم سب” پر بھائی حاشر ابن ارشاد کا  طویل مضمون بعنوان ” دو قومی نظریے کو خدا حافظ کہنے کا وقت” پڑھتے  ہوئے  لاشعوری طور پر ذہن میں ان دونوں مضامین کے باہمی رشتے کی تصویر واضح ہونے لگی۔  دونوں مضامین ” نظریے” کی حدود کے اندر رہتے ہوئے تحریر کیے گئے اور دونوں کی نوعیت سلبی ہے۔ دونوں میں ایک نظریے  کا ابطال اور اس کی جگہ  کسی  اور نظریاتی متبادل کو بہتر بتا کر اپنا لینے کی تلقین شامل تھی۔ دونوں  مضامین  منطقی و معنوی  طور  پر “نظریے” سے متعلقہ مندرجہ بالا گذارشات کی حدود  کے اندر ہیں ۔ اس کی ایک مثال یوں بھی لی جا سکتی ہے کہ نظریے سے متعلقہ کسی بھی بحث میں اثر اور اصطلاح کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔  نظریے کا  کٹمنٹ کا پہلو نظریاتی تحریر کو پر اثر  بنانے پر زور دیتا ہے جبکہ اس کا تعقلی و تجریدی پہلو اصطلاحات کے بھرپور استعمال اور عمومی تجزیہ جات کی راہ ہموار کرتا ہے۔ چنانچہ دونوں مضامین نہ صرف پر اثر اور جذباتی انداز میں قارئین سے براہ راست مخاطب ہو کر لکھے گئے بلکہ  اسی متن میں اصطلاحات کو فیصلہ کن انداز میں کثرت سے استعمال کیا گیا۔ تاہم خالص علمی  ضروریات کی مناسبت سے راقم الحروف اصطلاحات کے اس  استعمال پر اپنے عجز کا اظہار ضروری سمجھتا ہے۔  میرے خیال میں کوئی بھی اصطلاح  کسی پہاڑی سرنگ کے دہانے کے مماثل ہوتی ہے۔ ہرچند دہانہ تنگ اور محدود ہوتا ہے اور شاید ہتھیلی سے بھی ڈھانک لیا جائے تاہم اس دہانے  کے ساتھ تاریخی احوال اور سماجی تناظر کی سرنگوں کا ایک لمبا جال جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل لیکن پہاڑ کے اندر بدستور موجود ہوتا ہے۔ اصطلاحات کا استعمال اس دہانے پر ہتھیلی دھرنا ہے تاہم اس سے قبل ہمیں دہانے سے جڑے جال کا درست اندازہ ہونا چائیے تاکہ اندر کی کوئی بلا ہماری ہتھیلی چیر کے باہر نہ آسکے۔

مضامین میں نظریاتی تحدید و تجرید کی گئی اور صورت حال کا ایک ایسا نمونہ سامنے پیش کیا گیا جس میں نظریے کی صداقت کا جواز تو موجود ہو سکتا ہے مگر ٹھوس تاریخی عمل کے تنوع اور انفرادیت کا خیال نہیں کیا  جا سکتا۔ چنانچہ آصف محمود صاحب کے مضمون میں جہاں مذہب اور سیکولر روایت کے  منفرد تاریخی تجربات کے تسلسل کو ایک طرف رکھتے ہوئے ناصرف  بھارت اور ترکی کے حالات اور اس پر ان کے اکابرین کے موقف کو نظر انداز کیا گیا وہیں لغت کے حوالہ جات سے تاریخ کی ترتیب نو کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔  یہ امر بھی نظر اندازکیا گیا کہ تجریدی اصطلاحات کے معنی تاریخی عمل کے بہاؤ کے ساتھ بہتے بہتے کیا سے کیا ہو جاتے ہیں۔ یہ علمیاتی و لسانی مشکل اپنی جگہ کہ  انسانی سرگرمی سے متعلقہ   کوئی اصطلاح آخر اس عمل کی کس حد تک تصویر کشی کر سکتی ہے اور کیا انسانی سماجیاتی سرگرمی کے کسی ایک پہلو کو تاریخی تسلسل سے کاٹ کر خالص ریاضیاتی اور سائنسی انداز سے کسی جامد و ثابت تجریدی اصطلاح کے خول میں یوں بند کرنا ممکن ہے کہ محض اصطلاح پر غور و خوض سے متنوع تاریخی عمل کی صاف صاف تصویر بن جائے؟

نظریے پر مبنی تجزیے کی اس اصطلاح جاتی سرگرمی اور تجریدی تصورات  کے آزادنہ استعمال کی ایک اور وجہ نظریے اور تصور تاریخ کا وہی تعلق ہے جس کی طرف مضمون کے شروع میں اشارہ کیا گیا۔ نظریہ ایک خاص قسم کے تاریخی پروگرام کا قائل ہوتا ہے اور تاریخیت کو سائنسی اصول سمجھ کر اپنے استعمال میں لاتا ہے۔ وہ تاریخ کی وضاحت اپنے نظریے کے اصول سے ہی کرتا ہے اوراسی  وجہ سے وہ  فکری طور پر پہلے سے طے شدہ احاطے کے اندر رہ کر ہی تمام واقعات کو دیکھتا ہے۔  تاریخی تبدیلیوں کے مجرد تصورات  کو جو نظریے کے عمومی ڈھانچے کی مدد سےاخذ کیے جاتے ہیں  تمام تر انسانی تاریخ پر لاگو  کیا جاتا ہے۔  ذیل میں اس کی ایک مثال دی جاتی ہے۔

ہمارے  مقامی تناظر میں سیکولرازم اور دوقومی نظریے کی بحث میں ہر دو طبقات کے پس پردہ موجود نظریاتی رجحانات کی وجہ کئی تاریخی عوامل کی درست تعبیر نہیں ہو پاتی۔ اس میں ایک کافی دخل نظریے سے جڑے مسائل تاریخ کا ہے۔  چنانچہ سیکولر طبقے کی طرف سے  جہا ں جدید یورپ کی  صدیوں پر مبنی متنوع تاریخی تبدیلیوں کے اصطلاحی  ماڈل کو  مقامی مسائل پر لاگو  کر دیا جاتا ہے وہیں مذہب پسند طبقے کی طرف سے جدید یورپ کی انہی تبدیلیو ں کو سامنے رکھ کر  تاریخ کا مذہبی بیانیہ مکمل کیا جاتا ہے۔ تاریخیت پر ایمان دونوں طبقات کا خاصہ ہے۔ چنانچہ سیکولر جہاں یہ نہیں  دیکھتے کہ جدید یورپ کے سیکولر سیاسی بندوبست  کے تاریخی ظہور کی وجوہات کیا تھیں اور کیا اس پورے تناظر سے کاٹ کر اس  جدید تصور کو  کسی بھی  دوسرے  تاریخی و تہذیبی تسلسل میں پیوند  کیا  جا سکتا ہے ؟  برطانوی سیاسی مفکر مائیکل اوکشاٹ کے نزدیک جان لاک کا تصور آزادی بھی ایسا ہی ایک تصور ہے جو انگریز ذہن کے تصور آزادی کی روایت کے اندر پروا ن چڑھا ہے۔ اگر اسے اس تناظر سے جو اس کی معنویت کی بنیاد ہے کاٹ کر دیکھا جائے تو یہ  محض  مابعد الطبیعی تصور رہ جائے گا۔  ہمیں تاریخی عمل کی عظیم وسعت اور تنوع کو سامنے رکھتے  ہوئے وہ راہ بنانی ہو گی جو خود ہمارے تجربے سے مشتق ہو۔

اس امر کی تحقیق کرنا چائیے کہ دوقومی نظریے اور سیکولرازم کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے کا مقبول عام رویہ کس حد درست ہے ۔ چنانچہ مذہب پسند طبقہ سیکولرازم کو لادینیت  تصور کرتے ہوئےدو قومی نظریے  کا نام لے کر مذہبی ریاست کی حمایت کرتا ہے جبکہ سیکولر طبقے کے نزدیک دو قومی نظریے کو خدا حافظ کہے بغیر وہ  نہ تو جدید نہ ہی سیکولر ہو سکتے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی شناخت اور ان کی قومی کلیت کا باہمی تعلق کوئی  مابعد الطبیعی مسئلہ نہیں ہے۔  یہ تحقیق   اسی صورت میں ممکن ہے جب ان سوالوں کو  ہمارے تاریخی تسلسل کے متنوع اور پیچیدہ رجحانات کے ساتھ  اپنی ٹھوس معروضیت   میں دیکھا جائے گا۔ تحریک آزادی کے مسلمانوں نے جس مسئلہ کو نمایاں کیا وہ برصغیر کے مسلمانوں کی امتیازی گروہی شناخت کو جائز انداز میں تسلیم کر کے سیاسی بندوبست میں اس کا معقول آئینی جواز پیدا کرنا تھا۔  اس تحریک کا مسئلہ ایک جماعت کی شناخت اور اس کی بنیاد پر حق خود ارادیت کا مسئلہ تھا۔ اس اعتبار سے یہ صورت حال ایک ٹھوس حقیقت تھی جو ابھی آئیڈیالوجی کے درجے تک بھی نہیں پہنچی تھی۔ جیسا کہ حاشر بھائی نے فرمایا کہ  اقبال نے کبھی یہ بات کی ہی نہیں اور خود جناح صاحب کابینہ مشن پلان کی ناکامی تک اس سے لاعلم تھے۔ یہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ صاحبان  نہ تو کسی بنیاد پرست ملائی ریاست کے قیام کے لیے سرگرداں تھے اور نہ ہی ان کے لیے تقسیم حرف آخر تھا۔ان کا مسئلہ وہی تھا جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا اور وہ بس اسی کا حل چاہتے تھے  ۔   تقسیم کے بعد دو قومی نظریے کی عقلی توجیہہ یا انتظام کا ممکن نہ ہو سکنا بھی اسی بات کا ثبوت ہے کہ ایک ٹھوس مطالبہ تاریخی حقیقت میں تبدیل ہونے کے بعد کس طرح لاتعلق ہو گیا۔   دو قومی نظریہ ایک مطالبہ تھا جو حقیقت کا روپ دھارنے کے بعد ایک نئے انتظام کا تقاضہ کرتا تھا۔ یہ نیا  انتظام خود دو قومی نظریے کے اندر موجود نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ  یہ نظریہ جس دور سے متعلق تھا وہ   پاکستان کے قیام کے لمحے  ہی ختم ہو چکا تھا۔   دو قومی نظریے کی بنیاد پر بننے والی ریاست اصولی طور  جناح کی گیارہ اگست کی تقریر اور قراداد مقاصد دونوں سے لاتعلق ہے۔  یہ قطعی طور پر  مختلف   بحث ہے کہ اس ریاست کے قیام کے بعد وہ کیا حالات پیش آئے جس  سے یہ ” لاتعلق توازن”   قرارداد مقاصد  کے علم برداروں کی جانب جھک گیا۔  سیکولر ازم کا مطالبہ شناخت کے مطالبے کے بعد  آتا ہے جب شہری آزادی اور سیاسی و ریاستی بندوبست کا عملی قیام لایا جانا ہو۔ یورپ کی سیکولر تحریک کا آغاز بادشاہتوں کی ان مزاحمت سے شروع ہوا تھا جس نے چرچ کے سیاسی کردار کو ختم کیا اور بادشاہ یعنی ریاست کو بنیاد کا درجہ دیا۔ بادشاہ کو مضبوط کرنے میں   جاگیرداری کے زوال  اور سرمایہ داری کا آغاز  کا کردار بھی تھا۔  ہماری قومی تاریخ میں یہ صورت حال کبھی موجود نہیں رہی۔ تخت کے مقابل ایک مضبوط اور مستقل کلیسا کا ادارہ برصغیر سمیت اسلامی دنیا میں موجود نہیں رہا۔  سیکولر ازم کا مطالبہ نو آبادیاتی  ہند کے مسلمانوں کے  مسئلہ ہی نہیں تھا اور نہ ہی دو قومی نظریے میں اسے  جلی طور پر  ردیا منظور کیا گیا ہے۔  آل انڈیا کانگریس کا سیکولر منشور ہر چند ہندوستان کی کثیر گروہی آبادی کو ذہن میں رکھ کر اختیار کیا گیا تھا تاہم وہ  مسلمانوں سمیت بعض گروہوں کو یہ تسلی دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ جدید پارلیمانی جمہوریت میں  عددیت کا اصول برصغیر کی ثقافتی و گروہی درجہ بندیوں کا  چنداں لحاظ  کر سکے گا۔  جمہوریت میں اکثریت کا یہ خوف ایک بجا حقیقت ہے اور یہ بھی کہ   ” میجارٹی بائس ” کے اس مسئلے کو برصغیر کی قومی سیاست تقسیم کےسوا حل نہ کر سکی۔ تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلم لیگ کے منشور میں سیکولر ریاست کی بجائے ملائی خلافت کا کوئی مثالیہ تھا۔ 

دو قومی نظریے کے شاکی احباب کی جانب سے دوسری دلیل ”قوم” کی تعریفات  کے لغوی حوالوں سے عبارت ہے جہاں دو دعوے کیے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ قوم کی خصوصیات میں زبان، لباس، خوراک، تہواراور خدوخال کا سمیت قوم کے ارکان کا باہمی ابلاغ اور پھر اس سارے عمل کا تاریخی تسلسل تو موجود ہے مگر مذہب موجود نہیں۔  اور دوسرا یہ کہ مذہب کو قومیت یا وطنیت کی بنیاد  بنانا  وہ غلطی ہے جس کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے  )نوٹ: قومیت اور وطنیت کو صاحب  مضمون تقریبا مساوی طور پر استعمال کر رہے ہیں جس پر ہماری  حیرانی بجا ہے۔ ان  دونوں کا فرق دیکھنے کے لیے یہ بات ہی کافی ہے کہ عرب ایک قوم ہونے کے باوجود کئی ممالک میں تقسیم ہیں (۔  یہ حیرانی اپنی جگہ کہ اس معاملے میں بنی  اسرائیل کے تاریخی استشنا کو  مضمون نگار خود بھی تسلیم کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ  نامعلوم وجوہات کی بنا  یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس مثال کو کسی اور قوم  ، مذہب اور خطے پر لاگو کرنا ممکن نہیں۔ گویا وہ اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ کم از کم بنی اسرائیل کی حد تک قوم مذہب اور خطہ ایک ہی تثلیث کے ارکان ہیں۔  کیا یہاں اس سوال کا کوئی مقام نہیں کہ بنی اسرائیل بھی اسی دنیا اور اسی تاریخ کا ایک کردار ہے اور وہ تمام محرکات جنہوں نے اس کی مخصوص صورت حال کی تشکیل دی وہ باقی اقوام سے متعلق کیوں نہیں ہو سکتے ؟ کیا بنی اسرائیل تاریخ کے کسی ” وکیوم ” میں پائے جاتے ہیں جہاں کے قوانین باقی سب سے لا تعلق ہیں ؟

ایک اور دلیل کی رو سے اگر مذہب کو قومیت اور وطنیت کا جز مان لیا جائے تو   ایک چینی کو کلمہ پڑھتے ہی پاکستانی  بن جانا چائیے ورنہ مذہب کا قومیت و وطنیت سے کوئی تعلق نہیں ۔  یہی وہ موقع ہے جب دو قومی نظریے کے رد کو سیکولرازم کا لازمی حصہ جاننے والے احباب سے پوچھنا چائیے کہ آخر وہ مذہب سے کیا مراد لیتے ہیں ؟ کیا وہ مذہب کو اسی مارائی اور آسمانی انداز سے تسلیم کر تے ہیں کہ جس طرح خود مذہب کا دعویٰ ہے یا پھر وہ اسے سماجی تشکیلات کے باہمی  انٹریکشن کے  تاریخی تسلسل  کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور اسی تاریخی روایت کے اندر ہی دیکھتے ہیں ؟  اگر  وہ ثانی الذکر کے قائل ہیں تو یقینا انہیں دیکھنا چائیے کہ گروہوں کی ثقافتی روایت کو صورت بخشنے میں مذہب کا کردار کیا رہا ہے۔  حالیہ دور تک  انسانی تاریخ   کی تقریبا تمام تہذیبوں کی اساس انسان ، کائنات اور خدا کے باہمی تعلق کی نوعیت کی کسی نہ کسی صورت پر اٹھائی گئی ہے۔  مذہبی علامت پسندی کا رجحان خود یورپ میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپی ثقافت کی امتیازی پہچان کو صورت دینے میں مسیحی روایت کا کتنا اہم کردار رہا ہے۔  محض صلیب کی علامت  اگر یورپ کے ثقافتی چہرے سے کھرچ دی جائے تو اس کی صورت کس قدر پہچانی جائے گی ؟ مغربی و مشرقی  یورپ کی سیکولر روایت ، اینگلو انگلش اور فرانسیسی سیکولر روایت کے باہمی فرق ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ خود مذہب کی مختلف صورتوں کی وجہ سے سیکولر روایت پر کیا اثر پڑا ہے۔  دو قومی نظریہ اسی ثقافتی امتیاز کو سیاسی بندوبست دینے کا مطالبہ تھا۔  اس نظریے کا سروکار برصغیر کے مسلم معاشرے سے تھا۔ عالمی خلافت یا تبلیغ  مذہب کو اس کا حصہ بنانا   ناانصافی ہے۔

اس سارے مسئلے کی وجہ صرف یہی ہے کہ جب تک نظریے کے اصطلاحی عدسے سے تاریخی عمل کی حرکیات اور تنوع کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا اور تاریخیت کا کوئی بھی اصول لاگو کیا جائے گا تو  کئی پہلو تشنہ اور کئی محرکات نظر سے اوجھل رہ جائیں گے۔

اسی غلطی کا ارتکاب مذہب پسند طبقہ بھی کرتا ہے جب وہ  بیک جنبش قلم سیکولر روایت کی تاریخی فعلیت کو اس کے پورے تناظر میں دیکھے بغیر رد کر دیتا ہے۔ یہ طبقہ بھی تاریخی عمل کی ایک نظریاتی  تشریح رکھتا ہے اور اس کی روشنی میں اپنا منشور ترتیب دیتا ہے۔ جدیدیت کے بعد سے  دور وسطی کے مذہب کو بھی جدید آئیڈیالوجی کے روپ میں  دیکھا جاتا ہے اور مذہبی تصورات کا اطلاق جدید کیٹاگریز کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مذہبی  تصور تاریخ میں الوہی عمل دخل کا امکان موجود رہتا ہے اور اسی حوالے سے  مذہب خود کو مشیت الہی کا نمائندہ سمجھتا ہے۔  تاہم جدید آئیڈیالوجی کے تصور تاریخ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں اور جمہوری ریاستی بندوبست میں بنیادی طور پر اقتدار اعلی عوام کے سپرد کر کے انسانی تاریخ  کا دائرہ انسانی اعمال تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس انداز سے مذہب پسند گروہ کا اس جدید سیاسی  تصور کو دور وسطی کی الہیات سے جوڑ کر پیش کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔   اس عمل سے اس طبقے کا  تاریخ میں  ترقی یا صعود کے تصور  اور مذہبی حدود سے بالا ہونے کے انکاری کا رویہ واضح ہوجاتا ہے۔ یورپ میں اقتدار اعلی کا مسئلہ بادشاہتوں اور چرچ   نیز بعد ازاں سرمایہ دار اور  ریاست میں جھگڑے کے دور سے مستعار ہے۔  برصغیر  اور  مسلم دنیا میں سلطنت کو اپنے اقتدار اعلی کے جواز کو پیش کرنے کی اس نوعیت کی کوئی تاریخی ضرورت پیش نہیں آئی۔  اموی و عباسی خلافت سمیت دیگر لاتعداد خاندانی بادشاہتوں میں اقتدار اعلی  کا مسئلہ ہمیشہ تلوار نے حل کیا ہے۔ خاندانی بادشاہتوں کے دور میں دربار خلافت سے تائید اقتدار کی سند حاصل کرنے کی روایت اس امر کا واضح ثبوت ہے۔  اس سارے دور میں اقتدار اعلیٰ کا خدا کی ملکیت ہونے اسی طرح کا بے اثر پیش فرضیہ  رہا ہے کہ جس طرح ملکہ برطانیہ کے شاہی خطابات میں ” محافظِ ایمان ” ۔ اقتدار اعلی کے جواز کی ضرورت کا موجودہ دور میں پیدا ہونے ہی اس بات کا اشارہ ہے کہ  یہ جدیدیت کا میلان ہے جس کی مذہبی دور میں اس طرح ضرورت موجود نہیں تھی۔

اس تحریر کا مقصد کسی بھی تصور کا ابطال یا رد نہیں ہے تاہم یہ مضمون اس ضرورت کا اشارہ ہے کہ خارجی حقیقت کے طور پر صرف انفرادی اشیا اور ان کے انٹریکشن کے باہمی احوال وجود رکھتے ہیں۔ یہ مضمون اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنے کی استدعا ہے کہ جو آئیڈیالوجی ہم سے چھپائے رکھتی ہے۔ ہمیں بلا شبہ  کسی بھی نظریے کو الہامی اور مطلق کا درجہ نہیں دینا چائیے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ان انفرادی اشیا اور متنوع رجحانات کو ان کے اپنے تناظر کے مطابق ضروری اہمیت دے کر دیکھا  جائے اور ان کے متعلق کوئی بھی رائے محض کسی عمومی و مطلق تصور کی بنیاد پر استوار کرنے کی بجائے وہ منفرد حل تلاش کیا جائے جو ر صورت حال اپنے انفرادی  تاریخی اظہار کے ہمراہ لاتی ہے۔ شورشِ دریا کا تخمینہ پانی میں اتر جانے کے تجربے کے بعد کیا جائے نہ کہ محض ساحل پر کھڑے ہو کر اندازہ لگایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ابوبکر فلسفے کا ایک طالب علم اور تصورات کی تاریخ کا دلدادہ ہے جو اس زندگی پر غور کرتا رہتا ہے جو ابھی گزاری نہیں جا سکی۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: