اقبال کی ردِ استعماریت —– اعجاز الحق اعجاز

1
  • 366
    Shares

حال ہی میں اکمل سومرو صاحب کا مضمون ایک معاصر ویب گاہ پہ ’’برطانوی راج میں نظم شکوہ، جواب شکوہ کے سماجی اثرات‘‘ شائع ہوا ہے جس میں مصنف نے اقبال کی نظموں شکوہ اور جواب شکوہ کو اقبال کی طرف سے استعماریت کے قدم مضبوط کرنے کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور اقبال پر استعمار کی حمایت، وظیفہ خواری، جاگیرداری کلچر کے حامی ہونے کے الزامات لگائے ہیں جو کہ حقائق کے سراسر خلاف ہیں۔ ادب کا ایک ادنیٰ سا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ شکوہ اور جواب شکوہ کے موضوعات کیا ہیں اور یہ کس سیاق و سباق میں لکھی گئی نظمیں ہیں۔ شکوہ میں اقبال اپنی قوم سے ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے دکھوں کا ذکر بہت درد بھرے انداز میں کرتے ہیں۔ یعنی وہ اس ابتلا کے دور میں انگریز کو نہیں بلکہ اپنے خدا کو پکارتے ہیں۔ شکوہ غیر سے نہیں بلکہ اپنے سے کیا جاتا ہے جس سے زیادہ توقعات وابستہ ہوں۔ جواب شکوہ میں اقبال مسلمانوں کے مسائل کا یہ حل بتاتے ہیں کہ وہ اپنی تہذیب سے مضبوطی سے منسلک رہیں۔ وہ یہاں انگریز سے وفا کا نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ سے وفا کا درس دیتے ہیں۔ کیا انگریز اس سے خوش ہوا ہو گا کہ اقبال مسلمانوں کو انگریز کی اطاعت کے بجائے اپنے پیغمبرؐ کی اطاعت کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس سے استعماریت کے کون سے ایجنڈے کی تکمیل ہوتی ہے؟ یہ تو سراسر استعماریت کی صف لپیٹنے کے مترادف ہے کہ استعمار زدہ لوگ استعمار کاروں کی تہذیب کو اپنانے کے بجائے اپنی تہذیب کی طرف مراجعت کرنے لگیں۔

اب آتے ہیں اقبال کی شاعری اور دیگر تحریروں کی طرف اور موصوف کے لزامات کو حقائق کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موصوف الزام لگاتے ہیں کہ اقبال مسلمانوں کو انگریز کا مقابلہ کرنے کے بجائے انھیں مسجدوں میں گھس جانے کا مشورہ دیتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فاطمہ بنت عبداللہ، خضر راہ، طلوع اسلام، ذوق و شوق اور مسجد قرطبہ جیسی شاندار نظمیں انگریز استعماریت کی حمایت کے لیے لکھی گئیں یا ان کی بنیادوں پہ لرزہ طاری کرنے کے لیے؟ اقبال ہرگز مسلمانوں کو انگریز راج سے کبوتر کی طرح آنکھیں چرا کر مسجدوں میں گھس کر فراریت اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ ان کا پیغام تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی ’’محفوظ پناہ گاہوں‘‘ مسجدوں اور خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کرنی چاہیے:

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

ایک انٹرویو میں اقبال نے کہا کہ:

’’میرے نظریے کے مطابق ہماری قوم کی ترقی کا راز سیاسی آزادی میں پنہاں ہے۔ برطانوی استعمار ہمارے رستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ہندووں کا غلبہ بھی ہمارے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں طرف کا دبائو ہمیں کچل رہا ہے۔‘‘

اقبال نے استعماریت کا مقابلہ فکری، تہذیبی، مذہبی، معاشی اور سیاسی ہر محاذ پر کیا ۔ اقبال کا یہ ردعمل محض سیاسی نعرہ بازی اور خالی خولی جذباتیت پہ مبنی پمفلٹ نہ تھا، بلکہ گہرا، دیرپا، دور رس اور ٹھوس ردعمل تھا۔ یہ ردعمل گہری فلسفیانہ بصیرت ، تاریخ و تہذیب کے عمیق مطا لعے اور ہشت پہلوحکمت عملی کا آئینہ دار تھا۔ اقبال نے مغربی استعماریت کے اس سیلاب کے خلاف مسلمانان برصغیر کی فکری، سیاسی، تہذیبی، تعلیمی ٖغرض ہر پہلو سے راہنمائی کی۔

اقبال ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میں نے اپنے کلام سے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو بیدار کیا ۔ کیا میں نے مسلمانوں میں کمتری کے غلط احساس کو کم نہیں کیا؟۔ کیا میں نے یہ تلقین نہیں کی کہ مسلمان انگریزی استعمار کے خلاف جہاد کریں؟ کیا میں نے انجام کار اس برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور نہیں دیا؟‘‘

اسی انٹرویو میں وہ قائداعظم کے متعلق فرماتے ہیں:

’’مسٹر جناح برطانوی سامراج کی اصلیت سے بھی واقف ہیں اور وہ کانگریس کی ذہنیت کے بھی بھیدی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف وہی ان دونوں سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں اور ان کو شکست دے سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں علامہ صاحب کے ’’سر‘‘ کے خطاب کی طرف۔ یہ درست ہے کہ علامہ کو یہ خطاب قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مگر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ اس اعزاز کے کس حد تک متمنی یا خواہش مند تھے اور انھوں نے اس خطاب کے لیے درپردہ کوئی لابنگ تو نہیں کی؟

اقبال اعزازات کی دوڑ میں کبھی نہ پڑے۔ ان کا قد کاٹھ ان سے بہت بلند تھا۔ سر کا خطاب انھیں انگریز کی وفاداری کے صلے میں ہرگز نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان کی علمی و ادبی خدمات کے صلے میں دیا گیا۔ پہلے تو دیکھتے ہیں کہ سر کے خطاب کی اصل کہانی کیا ہے۔

پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سر شادی لال نے علامہ اقبال سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ حکومت پنجاب نے مجھ سے خطابات کے لیے سفارشات طلب کی ہیں اور میں آپ کے لیے خان بہادر کا خطاب تجویز کر رہا ہوں جس کے جواب میں علامہ نے کہا: ’’میں کسی خطاب کا خواہاں نہیں اس لیے آپ سفارش کی زحمت گوارا نہ کریں‘‘۔ سر شادی لال نے یہ سن کر کہا کہ اتنی جلدی فیصلہ نہ کیجیے ذرا کچھ دن سوچ لیجیے۔ علامہ نے جواب دیا؛ ’’میں سوچ چکا ہوں، مجھے خطاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

کچھ دن بعد کی بات ہے آپ اپنے کمرے میں استراحت فرما رہے تھے کہ علی بخش حاضر ہوا اور مطلع کیا کہ چیف جسٹس صاحب کا آدمی آیا ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ علامہ نے کہا کہ اسے بلائو۔ وہ آدمی اندر آیا اور سر شادی لال کا یہ پیغام گوش گزار کیا کہ وہ علامہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ علامہ نے اس سے کہا کہ؛ ’’آپ انھیں میرا پیغام دیجیے کہ اگر خطاب کے بارے میں بات کرنی ہے تو بے سود ہے کیوں کہ میں انھیں اپنے فیصلے سے مطلع کر چکا ہوں۔ بہر حال اگر کوئی اور کام ہے تو حاضر ہو سکتا ہوں۔‘‘

اس زمانے میں سر ایڈورڈ میکلیگن پنجاب کے گورنر تھے۔ ان سے علامہ کے قریبی دوست نواب ذولفقار علی خاں کے بہت اچھے مراسم تھے۔ ایک روز نواب صاحب نے اپنے طور پر باتوں باتوں میں کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ آپ نے ٹیگور کو تو سر کے خطاب کا مستحق سمجھا مگر اقبال ابھی تک اس قدر دانی سے محروم ہیں حالانکہ وہ ان سے بڑے شاعر ہیں۔ گورنر نے جواب میں کہا کہ ہم انھیں خان بہادر کا خطاب دلوا دیں گے۔ نواب صاحب نے کہا کہ یہ ان کے شایان ِ شان نہیں۔ گورنر نے کہا کہ شمس العلما کیسا رہے گا تو نواب صاحب نے کہا کہ یہ بھی مناسب نہیں۔

انھی دنوں ایک برطانوی صحافی اور دانشور گورنر کا مہمان تھا۔ اس نے اسرارِ خودی کا ترجمہ از نکلسن پڑھ رکھا تھا اور بہت سے اسلامی ملکوں کے سفر کے دوران اقبال کی علمی شہرت سے آگاہ ہو چکا تھا اور اپنی ایک کتاب کے بارے میں اقبال کی رائے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے گورنر سے فرمائش کی کہ اقبال کو گورنر ہائوس چائے پہ مدعو کیا جائے تاکہ ان سے ملاقات ہو سکے۔ چناں چہ گورنر نے بصد ادب اقبال کو چائے پہ مدعو کر لیا۔ اسی دن بیرسٹر مرزا جلال الدین جو اقبال کے گہرے دوست تھے ان سے ملنے تشریف لائے۔ انھوں نے اقبال سے پوچھا کہ سننے میں آیا ہے کہ گورنر نے آپ کو مدعو کیا ہے۔ علامہ نے جواب دیا کہ: ’’یہ درست ہے مگر شاید میں نہ جائوں۔‘‘ مرزا صاحب نے حیران ہو کر پوچھا؛ ’’وہ کیوں؟‘‘ تو علامہ نے جواب میں کہا: ’’تمھیں معلوم ہے کہ میں حکام سے ملنا پسند نہیں کرتا۔‘‘ اور یہ بات درست ہے کہ اقبال کو حکام سے ملنے کا کبھی شوق نہ رہا اور اقبال کا ان سے رویہ زیادہ گرمجوشی لیے نہ ہوتا تھا۔ مرزا جلال الدین نے اصرار کیا کہ اقبال کو ضرور گورنر سے ملنا چاہیے کیوں کہ یہ مروت کے خلاف ہے کہ کوئی مدعو کرے تو جانے سے انکار کیا جائے۔ اس پر اقبال نے بہانہ کیا کہ میرے پائوں کے انگوٹھے میں تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت ہے۔‘‘ اس پر مرزا صاحب نے کہا کہ ہمت کریں میں خود اپنی گاڑی پہ گورنر ہائوس چھوڑ آئوں گا۔ جب مرزا صاحب نے حد سے زیادہ اصرا ر کیا تو علامہ مان گئے۔ چناں چہ مرزا صاحب علامہ کو گورنر ہائوس چھوڑ آئے۔

گورنر نے علامہ صاحب کا پرتپاک استقبال کیا۔ رسمی باتوں کے بعد گورنر نے برطانوی صحافی سے اقبال کاتعارف کرایا اور ان دونوں کو کمرے میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ان دونوں کی کافی دیر بات چیت ہوتی رہی۔ جب ملاقات اختتام پذیر ہوئی تو گورنر نے اقبال کو پیغام بھیجا کہ جانے سے قبل مجھ سے ملتے جائیے۔ چناں چہ اقبال گورنر کے کمرے میں تشریف لے گئے۔ گورنر نے ان سے کہا کہ حکومت نے اب تک آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں تساہل سے کام لیا ہے، میری خواہش ہے کہ آپ کے لیے سر کے خطاب کی سفارش کی جائے۔

علامہ نے کیا جواب دیا وہ بھی سن لیجیے۔ علامہ نے کہا: ’’میں معذرت چاہوں گا کہ میں خطابات اور اعزازات کے بکھیڑے میں نہیں پڑنا چاہتا اور یوں بھی اسلام معاشرتی امتیازات کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر گورنر کے چہرے پہ تکدر کے آثار رونما ہوئے۔ اس نے زیادہ اصرار کیا تو اقبال نے ٹالنے کے لیے سوچنے کی مہلت مانگی اور رخصت چاہی۔ اقبال جب گھر تشریف لائے تو نواب ذولفقار علی خاں اور مرزا جلال الدین نے اقبال پر زور دیا کہ انھیں یہ اعزاز قبول کر لینا چاہیے کیوں کہ اعزاز انھیں ان کی ادبی خدمات کے صلے میں دیا جارہا ہے اور اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ اقبال کی طبیعت میں مروت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ انھوں نے ہاں کر دی۔ مگر ساتھ ہی ایک شرط رکھ دی کہ وہ اس وقت تک یہ اعزازقبول نہیں کریں گے جب تک ان کے استاد محترم مولوی میر حسن کو شمس العلما کے اعزاز سے نہیں نوازا جاتا۔ شاید ان کے دل میں یہ بات ہو کہ ایسی شرط کون سا مان لی جائے گی اور وہ بھی بچ جائیں گے۔ حکومت نے یہ شرط سن کر کہا کہ مولوی میر حسن کو کیسے اس اعزاز سے نوازا جا سکتا ہے ان کی تو کوئی تصنیف ہی نہیں جس پر اقبال نے کہا کہ میں خود ان کی زندہ تصنیف ہوں۔ یہ شرط مان لی گئی اور اقبال کو سر کے اعزاز سے نواز دیا گیا۔

اس پر ان کے خلاف ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ میر غلام بھیک نیرنگ نے جب اقبال سے سر کا خطاب ملنے پر شکوہ کیا کہ اس سے کہیں اقبال سے وہ توقعات پوری کرنے میں کوتاہی نہ ہو جائے جو قوم کو آپ سے وابستہ ہیں تو اقبال نے ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا: ’’جس دنیا کے میں اور آپ رہنے والے ہیں اس دنیا میں اس قسم کے واقعات احساسات سے فرو تر ہیں۔ سیکڑوں خطوط اور تار آ رہے ہیں اور مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ لوگ ان چیزوں کو کیوں گراں قدر جانتے ہیں۔ باقی رہا وہ خطر جس کا آپ کے قلب کو احساس ہوا ہے سو قسم ہے خدائے ذوالجلال کی جس کے قبضے میں میری جان اور آبرو ہے اور قسم ہے اس بزرگ و برتر وجود کی جس کی وجہ سے مجھے ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں دنیا کی کوئی طاقت مجھے حق کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ انشااللہ۔ اقبال کی زندگی اگرچہ مومنانہ نہیں مگر اس کا دل مومن ہے۔‘‘

اسی سلسلے میں مولانا عبد الماجد دریا بادی کو علامہ نے ایک خط میں لکھا؛ ’’یہ بات دنیا کو عنقریب معلوم ہو جائے گی کہ اقبال کلمہ حق کہنے سے کبھی باز نہیں رہ سکتا۔‘‘

یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقبال کو یہ اعزاز اس لیے دیا گیا کہ ان کو برطانوی استعمار کی حمایت کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اقبال نے یہ بات مان لی کہ اب انگریز حکومت نے ان کو اعزاز سے نواز دیا ہے تو انھیں انگریز کی مخالفت ترک کر دینی چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم اقبال کی اس شاعری، خطوط اور مضامین کا جائزہ لیں جو اس اعزاز کے بعد لکھے گئے تو رد استعماریت کی لے دھیمی ہونے کی بجائے اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔

زبور عجم1927 میں اشاعت پذیر ہوئی۔ اس کتاب میں ایک نظم ہے ’’بندگی نامہ‘‘۔ اس میں اقبال نے غلامی کی نفسیات کا نہایت موثر تجزیہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے طائر آزادی کو شہپر لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں اقبال نے ایک خوفناک جہنم جیسا منظر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جہنم میں سو سال رہنا غلامی ایک پل سے ہزار گنا زیادہ بہتر ہے۔ اقبال کی یہ نظم ایک پلڑے میں اور ہندوستان کا سارا رد استعمار دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو یقینی طور پر اس نظم کا پلڑا بھاری ہو گا۔

در چنیں دشت بلا صد روزگار
خوشتر از محکومی یک دم شمار

ضرب کلیم (1936) کی نظموں ’’انقلاب‘‘، ’’نفسیات غلامی‘‘، ’’سیاست افرنگ‘‘، ’’غلاموں کے لیے‘‘ اور ’’غلاموں کی نماز‘‘ جیسی نظموں میں آزادی اور رد استعماریت کا پیغام دیا ہے۔ اسی مجموعہ کلام کی ایک نظم ’’ہندی مکتب‘‘ میں انھوں نے آزادی اور غلامی کی نفسیات پہ بہت عمدہ روشنی ڈالی ہے۔

آزاد کا ہر لحظہ پیام ابدیت
محکوم کا ہر لحظہ نئی مرگ مفاجات
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور
محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات

اسی طرح آخری مجموعہ کلام ’’ارمغان حجاز‘‘ کی ’’ ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘، ’’بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو‘‘، ’’عالم برزخ‘‘، ’’معزول شہنشاہ‘‘ اور دیگر نظموں میں رد استعماریت کی گونج بہت زور دار اور موثر ہے۔

’’عالم برزخ‘‘ میں تو قبر اپنے مردے کو قبول کرنے سے انکاری ہے کیوں کہ اس نے محکومی کی زندگی گزاری ہے۔ اس نظم کا آخری شعر دیکھیے:

الحذر، محکوم کی میت سے سو بار الحذر
اے سرافیل، اے خدائے کائنات، اے جان ِ پاک

ایک اور نظم میں وہ آزاد اور غلام کا فرق یوں واضح کرتے ہیں:

ممکن نہیں محکوم ہو آزاد کا ہمدوش
وہ بندہ افلاک ہے، یہ خواجہ افلاک

1929 میں اقبال انگریز استعماریت کے خلاف مزاحمت کی سب سے بڑی علامت سلطان ٹیپو کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور کہتے ہیں:

در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہم چوں مرداں جان سپردن زند گیست

1931ء میں علامہ اقبال نے سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک مضمون لکھا اور مطالبہ کیا کہ اگر برطانیہ نے مسلمانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو مسلمان مجبور ہوجائیں گے کہ سخت ترین حربے انگریز حکومت کے خلاف استعمال کریں گے اور ایسا نہ ہو کہ پورا مسلم ایشیا روس سے ہم آغوش ہونے پر مجبور ہوجائے۔ یہ ایک کھلی دھمکی تھی جو اقبال نے برطانوی حکومت کو دی۔

رابندر ناتھ ٹیگور نے اچھا کیا کہ سر کا خطاب واپس کر دیا مگر اقبال کی طرف سے اعزاز قبول کرنے کو ان کی استعمار دوستی پہ محمول کرنا زیادتی ہے۔ اے بی شمس الدولہ نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ٹیگور کو نوبیل انعام دلانے میں برطانوی استعمار کا بھی ہاتھ تھا۔ ایذرا پاونڈ جو ٹیگور کا مداح بھی رہا تھا اور اسے مغرب میں متعارف کرایا، ٹامس سٹرج مور، روز نتھائن اور ییٹس سے مل کر ٹیگور کو نوبیل انعام دلانے میں کردار ادا کیا، حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ لوگ کردار ادا نہ کرتے تو ٹیگور کو اس انعام کی ہوا بھی نہ لگتی کیونکہ نوبیل کمیٹی نے ٹیگور کو نہیں بلکہ فرانسیسی ادیب ایملی فیگویٹ کو نامزد کیا تھا۔ ایذرا پاونڈ نے بعد ازاں ٹیگور کے نوبیل انعام کو ایک سازش قرار دے دیااور اس کی شاعری کو حد سے زیادہ ٹھنڈا قرار دے دیا۔

اگر اقبال اور ٹیگور کی سیاسی جدوجہد کو ایک طرف رکھ کر شاعری کا باہمی موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ٹیگور کی شاعری اگرچہ دل موہ لینے والی ہے مگر اس میں استعمار کے خلاف ہلکا سا ردعمل یا مزاحمت کا انداز بھی نہیں ملتا اور یہ لگتا ہے کہ یہ شاعری سوئے ہوئوں کو مزید سلا دینے والی ہے۔ ٹیگور کی گیتان جلی کا اولین انگریزی ترجمہ جو 1912 میں ٹیگور نے خود کیا اور جس پر ییٹس اور ٹامس سٹرج مور نے اصلاحیں دے کر شائع کرایا تھا میری کتب کا حصہ ہے۔ اسی پہ اسے نوبل انعام ملا تھا۔ اس کو میں نے پہلے صفحے سے آخری تک کھنگال ڈالا ہے مگر اس میں کوئی نظم تو دور کی بات کوئی ایک لائن بھی ایسی نہیں ملی جس میں مغربی استعمار کے خلاف کوئی رد عمل نظر آتا ہو۔ البتہ اس کے ناولوں خصوصاً ’’گورا‘‘ میں استعماریت سے متاثر کرداروں اور قدامت پسندوں ہر ایک کے شدت پسند رویوں پر تنقید ملتی ہے۔ مگر اسے استعماریت کی اس طرح کی بیخ کنی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا جیسی اقبال نے کی۔

اقبال کی شاعری میں تو رد استعمار کی لے بہت جاندار اور واشگاف ہے۔ مگر یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ ٹیگور اپنی روایات، اپنی تہذیب، اپنی سر زمین اور اپنے لوگوں سے محبت کی شاعری کرتا ہے اور مقامیت پر یہ اصرار بھی ایک طرح سے رد استعمار رویہ ہے۔ اقبال اس سے کہیں زور دار انداز سے اپنی تہذیب، اپنے کلچر، اپنے ماضی اور اپنی روایات کی بات کرتے ہیں۔ انھوں نے استعمار کی تہذیب، سیاست، معیشت اور نظام تعلیم کو تاک تاک کر نشانہ بنایا ہے۔ جب زمانہ قیامت کی چال چل رہا تھا، اقبال نے استعمار زدہ انسانوں کے کانوں میں رس گھولنے کے بجائے صور اسرافیل پھونکنے کی کوشش کی۔ جب ٹیگور سکریت کی حامل شاعری کر رہا تھا، اقبال کہہ رہے تھے:

یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

یورپ کی غلامی پہ ہوا رضا مند تو
مجھ کو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے

مگر یہاں مقصود ٹیگور کے مقام و مرتبے کو گرانا نہیں۔ یقیناً ٹیگور ایک گوناں گوں تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک بڑا فنکار تھا۔ اس نے محبت اور انسان دوستی کا جو درس دیا ہے بے حد قابل قدر ہے۔

چناں چہ اقبال اپنی شاعری کے ذریعے انگریزی استعماریت کے خلاف ایک نہایت توانا، موثر اور مدلل آواز بن کر ابھرے اور ان کے کلام کی تاثیر نے نہایت سرعت سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔ اقبال نے انگریزی استعماریت کے رد عمل میں جو حکمت عملی مرتب کی وہ یہ تھی کہ غلامی کی نفسیات کو آشکار کیا جائے اور قوم کے اذہان و قلوب سے غلامی کے اثرات کو جڑ سے ختم کیا جائے، قوم کو اعتماد بخشا جائے اور اس کے لیے انھوں نے انفرادی اور اجتماعی خودی کا حیات آفریں درس اپنی قوم کو دیا۔ ان کے نزدیک دور غلامی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے اور ناخوب انھیں بتدریج خوب نظر آنے لگتا ہے اور وہ طوق غلامی کو ساز دلبری سمجھنے لگتی ہیں۔

اقبال کا فلسفہ آزادی، خود شناسی اور خود انحصاری کا فلسفہ ہے اور انگریز استعماریت کے قلع قمع کے لیے اس سے بہتر کوئی فلسفہ ہو نہیں سکتا۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ جب قوم میں ذوق یقیں پیدا ہوجائے گا اور اسے اپنی صلاحیتوں پہ اعتماد آجائے گا تو غلامی کی زنجیریں خود بخود کٹ جائیں گی۔ وہ مسلمان ممولے کو انگریز شہباز سے نبرد آزما ہونے کا درس دیتے ہیں۔

اقبال افلاطون اور حافظ کے دل سے قدر دان تھے مگر انھوں نے ان کو صرف اس لیے مسترد کر دیا کہ استعماریت کے مقابلے کے لیے گوسفندی ہو یاسکریت کند ہتھیار ہیں۔ اقبال آرٹ کے قدردان تھے مگر وہ بادل نخواستہ ہر اس آرٹ کو رد کر دیتے ہیں جو غلام قوم کے اعصاب کو مزید کمزور کر دے اور ان سے نبرد آزما ہونے کی ہمت سلب کر لے۔ اقبال تو قوم کے عروق مردہ کو قوت آفریں روح سے بھرنے کے لیے اس حد تک چلے گئے کہ ان پر فاشزم تک کا الزام لگنے لگا۔ ان کی جذبے کی شدت سے تھرکتی شاعری پژمردہ دلوں کو آزادی کے رقص پہ مجبور کرنے لگی۔

صاحب مضمون نے اقبال پر وظیفوں کا الزام بھی لگایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقبال نے انگریز حکومت سے کوئی وظیفہ لیا؟۔ اقبال نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے معاش کا خود بندوبست کیا۔ پہلے وہ اورینٹل کالج میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے رہے۔ یورپ سے واپسی پر وکالت کرنے لگے۔ اس دوران انھوں نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے، اپنی قومی خدمات کا کسی سے صلہ نہیں لیا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ قوم کی نابغہ روزگار شخصیات، شاعروں اور ادیبوں کو ویسے ہی فکر معاش سے آزاد کر دینا چاہیے تاکہ وہ پوری یک سوئی سے خدمات انجام دے سکیں۔ غالب کو پنشن کے حصول کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔ اقبال ایک خوددار انسان تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور نہ کسی کو کبھی وظیفے کے لیے درخواست گزار ہوئے۔ ان کو بہت سے معاشی مسائل سے گزرنا پڑا مگر انھوں نے یہ مسائل خود ہی جھیلے، کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ ان کے خاص دوستوں کو ان کی اس صورت حال کا علم تھا۔ زندگی کے آخری چار سال اقبال کا زیادہ تر وقت مختلف بیماریوں میں بسر ہوا۔ وکالت کا سلسلہ تقریباً مفقود ہو کر رہ گیا۔ کوئی اور ذریعہ معاش بھی نہ تھا۔ سر علی امام نے اقبال سے کہا کہ وہ انھیں مہا راجہ الور سے وظیفہ دلا دیتے ہیں۔ اقبال نے صاف انکا ر کر دیا کہ وہ بغیر کام کیے وظیفہ نہ لینا چاہتے تھے۔ سر علی امام نے اقبال کو راضی کر کے مہاراجہ الور سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا تا کہ ملازمت کے لیے بات ہو جائے۔ چناں چہ اقبال الور چلے گئے۔ وظیفے کے لیے نہیں بلکہ ملازمت کے لیے۔ اقبال کی ملاقات مہا راجہ سے ہوئی، مہا راجہ نے انھیں اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے لیے آفر کی۔ مگر اقبال اس ملازمت کے لیے راضی نہ ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو اقبال کے نزدیک یہ تھی کہ مہاراجہ کی باتوں سے انھیں یہ تاثر ملا کہ وہ اقبال پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ اقبال کی طبیعت مہا راجہ کی باتوں سے مکدر ہو گئی۔ دوسرے یہ کہ تنخواہ اقبال کی توقع سے کم تھی۔ اقبال کے بقول:ـ ’’اگرچہ جو رقم پیش کی گئی وہ میری ذاتی ضروریات سے زیادہ ہے تا ہم میرے ذمے اوروں کی ضروریات کو پورا کرنا بھی ہے۔ اس واسطے اِ دھر اُ دھر کی دوڑ دھوپ کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ گھر بھر کا خرچ میرے ذمے ہے۔ بڑے بھائی جان جنھوں نے اپنی ملازمت کا اندوختہ میری تعلیم پر خرچ کر دیا اب پنشن پا گئے ہیں، ان کے اور ان کی اولاد کے اخراجات بھی میرے ذمے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔‘‘

حیدر آباد دکن کے وزیر اعظم سر کشن پرشاد نے اقبال سے کہا کہ: ’’میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایسے آدمی کو فکر معاش سے آزاد ہونا چاہیے۔ اگر آپ منظور کریں تو ایک معقول وظیفے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔‘‘ علامہ کا جواب آب زر سے لکھے جانے کا مستحق ہے۔ انھوں نے فرمایا:ـ ’’آپ کی فیاضی کہ زمان و مکاں کی قیود سے آشنا نہیں مجھ کو ہر شے سے مستغنی کر سکتا ہے مگر یہ بات میری مروت اور دیانت سے دور ہے کہ اقبال آپ سے ایک پیش قرار تنخواہ پائے اور اس کے عوض میں کوئی ایسی خدمت نہ کرے جس کی اہمیت اس مشاہرے کے بقدر ہو۔‘‘

یہ جنوری1938 ء کی بات ہے جب اقبال بہت بیمار تھے۔ ان کی آنکھیں جواب دے چکی تھیں۔ سید نذیر نیازی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ نے انھیں دیکھتے ہی کہا کہ کچھ اشعار ہوئے ہیں۔ انھیں بیاض میں نقل کر دیجیے۔ علامہ انھیں اشعار لکھوانے لگے جو یہ تھے۔ آخری شعر یہ تھا:

غیرت فقر مگر کر نہ سکی ا س کو قبول
جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات

نیازی صاحب نے پوچھا کہ ان اشعار کی شان نزول کیا ہے؟ تو علامہ نے جواب میں کہا کہ ’’سر اکبر حیدری صدر اعظم حیدر آباد دکن نے یوم اقبال کے موقع پر مجھے ایک ہزار روپے کا چیک بھیجا تھا جس کے سرنامے کے الفاظ یہ تھے: ’’یوم اقبال کے موقع پہ حضور نظام کے توشہ خانہ سے جو صدر اعظم کے ماتحت ہے۔‘‘ مگر میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ اسے قبول کروں اس لیے چیک واپس کر دیا، یہ اشعار اسی تاثر کا نتیجہ ہیں۔

ْٓؓٓاقبال کی عمر عزیز کے اسی آخری دور کی بات ہے کہ سر راس مسعود نے اقبال کو آگاہ کیے بغیر بھوپال کے نواب حمید اللہ خان سے ان کے وظیفے کی بات کی۔ نواب حمیداللہ جو اقبال سے بہت عقیدت رکھتے تھے ان سے درخواست کی کہ وہ یہ وظیفہ قبول کر لیں۔ علامہ نے وظیفہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر آپ خدمت کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس کے بدلے میں ان سے کوئی کام لے لیں۔ چناں چہ ان کو قرآن پاک کی تفسیر کا کام سونپا گیا جس پر اقبال ماہوار پانچ سو روپے قبول کرنے پر راضی ہوئے۔ جب یہ وظیفہ آنے لگا تو سر راس مسعود نے سر آغا خاں سے بھی ایک اور وظیفے کی بات شروع کی تا کہ اقبال کی مزید معاونت ہو سکے تو اقبال نے انھیں سختی سے منع فرما دیا اور کہا کہ ’’میں کوئی امیرانہ زندگی کا عادی نہیں، بہترین مسلمانوں نے سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا روپے کا لالچ ہے جو کسی طرح بھی مسلمان کے لیے شایان شان نہیں۔‘‘

صاحب مضمون نے اقبال پر والی افغانستان ا میر امان اللہ سے اقبال کے تعلقات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مصنف نے اس طرح خود ہی اپنے اس دعوے کی تردید کر دی کہ اقبال استعمار کا رستہ ہموار کر رہے تھے۔ یہ ا میر امان اللہ ہی تھا جس نے افغانستان میں انگریز استعماریت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ جب اقبال نے اپنی کتاب پیام مشرق کو اس والی افغانستان کے نام منسوب کیا تو انگریز خوشی سے بغلیں بجاتے ہوں گے؟

ایک الزام اقبال پر ملکہ وکٹوریہ کے قصیدے کا بھی لگایا جاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ قصیدہ نہیں جو کہ کسی بادشاہ سے کچھ حاصل کرنے کے لیے لکھا گیا بلکہ یہ ایک مرثیہ ہے جو اقبال نے1901 ء میں ملکہ کی وفات پہ لکھا۔ شعرا اپنی شاعری کے آغاز میں مشق کے لیے یا جذبات کی کسی وقتی رو میں آ کر بہت کچھ لکھتے ہیں۔ مولانا غلام رسول مہر اس مرثیے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’اقبال نے یہ نظم بڑی حد تک ارتجالاً لکھی۔ موضوع کے باب میں کچھ عرض کرنا غیر ضروری ہے۔

1901 میں ملک کے سیاسی افکار و تصورات کا جو رنگ، انداز اور جو اسلوب تھا، اسے جانچنے کے لیے دس پندرہ سال بعد کا یا آج کا پیمانہ استعمال کرنا اتنا ہی غیر مناسب ہو گا جتنا کہ افلاطون یا بو علی سینا جیسے حکیموں کی زندگی سے بچپن اور طفولیت کا عہد خارج کر دینا غیر مناسب سمجھا جا سکتا ہے۔ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس زمانے میں ملک کی عام جماعتوں اور قوموں کا طریق فکر و نظر وہ نہ تھا جو بعد میں اختیار کر لیا گیا اس سلسلے میں خواجہ حالی کا مرثیہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جو انھوں نے ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر لکھا اور جو رسالہ معارف میں شائع ہوا‘‘۔

مانا کہ اقبال کو یہ مرثیہ نہیں لکھنا چاہیے تھا۔ مگر ہم بہت ڈھٹائی سے یہ حقیقت فراموش کر دیتے ہیں کہ اقبال نے خود ہی اس پر بعد ازاں خط تنسیخ بھی پھیر دیا تھا یعنی اسے اپنے کسی مجموعہ کلام میں شامل کرنا گوارا نہ کیا۔ یہ سمجھ نہیں آتی کہ جس شے کو اقبال نے ترک کر دیا اور اس سے دست بردار ہو گئے اس کو ہم کیوں اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں۔ کیا یہ اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ ہم اقبال کے متروک کلام میں سے چیزیں اٹھا اٹھا کر ان کے خلاف استعمال کرنے کی منفی روش کو ہوا دیتے رہیں؟

اقبال پر الزامات لگانے والے ان کی آزاد منش طبیعت کے اصل جوہر کو بھول جاتے ہیں۔ یہ اقبال ہی تھے جنھوں نے انگریزی حکومت کا انڈین ایجوکیشن سروس میں پیش کردہ عہدہ ٹھکرا دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں فلسفے کی پروفیسری اور گورنمنٹ کالج لاہورمیں تاریخ کی پروفیسری کی لفٹنٹ گورنر پنجاب کی آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

1924 میں سر فضل حسین نے سر میلکم ہیلی گورنر پنجاب سے اقبال کو ہائی کورٹ کا جج لگانے کی سفارش کی۔ گورنر نے حامی بھرلی مگر انھی دنوں اقبال نے حکومت پر بے لگام تنقید کر کے اس کی ہمدردیاں کھو دیں۔ گول میز کانفرنسوں کے بعد حکومت پر شدید نکتہ چینی کی وجہ سے اقبال فیڈرل سٹرکچر کمیٹی کا رکن مقرر ہونے اور لیگ آف نیشنز میں ہندوستانی وفد کے رکن کے طور پر جانے سے محروم رہے۔
1933 میں برطانوی حکومت نے اقبال کو جنوبی افریقہ میں ہندوستان کے سفیر کے طور پر بھیجنے پرزور اصرار کیا مگر اقبال نے صاف انکار کر دیا۔ اب اسی کولونیلزم کے پروردہ جو مغربی ملکوں کے ویزوں کے لیے اپنا ایمان بھی بیچ دیتے ہیں سر کے بل گھنٹوں ان کے سفارت خانوں کے باہر کھڑے رہتے ہیں، اقبال پر استعمار کی حمایت کا الزام لگانے سے گریز نہیں کرتے۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’انگریزی سیاست سے ان کو خیال اور عمل دونوں میں سخت نفرت تھی۔ بارگاہ حکومت سے وہ کوسوں دور بھاگتے تھے۔ سرکار اور اس کے پرستار دونوں سے بدگمان تھے اور ان کی ذات کو اپنے مقاصد میں حارج سمجھتے تھے۔ سیاست میں ان کا نصب العین محض کامل آزادی ہی نہ تھا بلکہ وہ آزاد ہندوستان میں دار الاسلام کو اپنا حقیقی مقصود بنائے ہوئے تھے۔

مصنف کی طرف سے اقبال پر جاگیرداروں کی حمایت کا بھونڈاالزام بھی لگایا گیا ہے۔ اس الزام کے جواب میں بس اقبال کے یہ اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

دہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں

حقیقت یہ ہے جسے یہ اقبال ناشناس سرے سے فراموش ہی کر دیتے ہیں کہ اقبال نے استحصال کی تمام صورتوں چاہے وہ استعماریت ہو یا ملوکیت، سرمایہ داری یا جاگیرداری سب کو ہدف تنقید بنایا ہے اور ان کی شاعری کا ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ:

’’کیوں نہیں ہوتی سحر حضرت انساں کی رات؟‘‘

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سعید ابراہیم on

    اقبال کی ناکام وکالت جس کی خاطر مصنف کو بہت سے حقائق چھپانے پڑے۔ کوشش ہے کہ جلد ہی ان حقائق کو پیش کرسکوں۔ فی الحال یہ خط پڑھ لیجئے جو اکتوبر 1925ء کو گورنر پنجاب کے معاون افسر جے پی تھامسن کو مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار میں ملازمت کے لئے لکھا گیا۔
    ’’میں آپ کو یہ خط ایک ایسی ضرورت سے لکھ رہا ہوں جس کا فوری تعلق میری اپنی ذات سے ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسے وقت میں میری مدد فرمائیں گے جب کہ مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جو جگہ خالی ہوئی تھی اس کے متعلق حکومت کے فیصلے کی خبر تو آپ کو مل چکی ہوگی۔ میری یہ بدقسمتی ہے کہ لوگوں نے مجھے اس سلسلہ میں ملوث کیا۔ مسلم پریس نے یہاں جتنا احتجاج کیا ہے یا آئندہ کرے گا‘ اس سے مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ چیف جج کا خیال ہے کہ چند اشخاص جن میں میرا نام بھی شامل ہے اس احتجاج کی پشت پناہی کر رہے ہیں حالانکہ میرے خیال میں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جس قسم کی سازشوں میں مجھے ملوث کیا جا رہا ہے میرا ان سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ بہرحال ان حالات میں میرے لئے یہاں پر ایک وکیل کی حیثیت سے کام کرنا بے حد مشکل ہو جائے گا‘ خاص کر جب کہ مجھے ماضی میں بھی کئی طریقوں سے نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ چند دیگر ناقابل اظہار اسباب کی بنا پر جن کا اس خط میں تذکرہ مناسب نہیں‘ میں اس ماحول سے قطعی بیزار ہو چکا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جاؤں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے قلم کی ایک جنبش مجھے ان تمام مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے۔ اس وجہ سے اور آپ کی فیاضی اور ہمدردی پر یقین رکھتے ہوئے میں آپ کی سرپرستی کا خواہاں ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مجھے کشمیر کی سٹیٹ کونسل میں کوئی منصب دلوا سکیں۔ شاید آپ کو علم ہو کہ کشمیر میرا آبائی وطن ہے اور کشمیر کے لئے میرے دل میں ایک خاص لگن موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ (کشمیرکا) نیا مہاراجہ (ہری سنگھ) اپنی حکومت میں کچھ تبدیلیاں لانے کی سوچ رہا ہو۔ اگر ایسا ہے تو مجھے یقین ہے کہ اس معاملہ میں سلسلہ جنبانی کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ اگر آپ مجھے تھوڑا سا سہارا دے سکیں تو یہ میرے لئے روحانی اور دنیاوی طور پر ایک بہت بڑی نعمت ثابت ہوگی اور میں آپ کے اس لطف و کرم کا ہمیشہ ممنون رہوں گا۔۔۔ اگرچہ اس معاملہ میں مجھے آپ کی ذات پر مکمل اعتماد ہے لیکن میں یہ بات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں کہ پالن پور کے نواب صاحب جو ہری سنگھ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں میرے بھی دوست ہیں‘‘۔(پاکستان کی سیاسی تاریخ جلد۵، مسلم پنجاب کا سیاسی ارتقا، زاہد چوہدری، صفحہ 247,248)

Leave A Reply

%d bloggers like this: