ادبی مجلہ ’لوح’ کا تازہ شمارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد الیاس بابر

0
  • 47
    Shares

ادبی مجلوں کی اشاعت ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ ادارت بظاہر غیر تخلیقی لیکن کسی ایک خاص عہد کی تخلیقی ’’پوزیشن‘‘ کو دستاویز کرنے والا کام ہے۔ ادبی پرچوں کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔ ۱۹۲۳ میں برطانیہ سے ایک ادبی پرچہ Scrutiny کے نام سے شائع ہوا۔ جس کے مدیران میں ایف آر لیوس (فرینک ریمنڈ لیوس) اور ایل سی نائٹس (لائونل چارلس نائٹس) تھے۔

ایف آر لیوس کی پیدائش ۱۸۹۵ میں ٹی ایس ایلیٹ، جیمز جوائس، ایذرا پونڈ اور ڈی ایچ لارنس وغیرہ کے ایک دہائی بعد کیمبرج میں ہوئی ۔ لیوس کوئی چھوٹا آدمی نہیں تھا۔ ڈائونگ کالج میں تیس برس تک پڑھانے کے دوران لیوس نے ایل سی نائٹس ، اپنی اہلیہ کوین روتھ [جو اس کی طالبِ علم رہ چکی تھی] کے ساتھ مل کر سکروٹنی کا آغاز کیا۔ ۱۹۳۲ میں آغاز ہونے والے اس پرچے کا آخری شمارہ ۱۹۵۳ میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کے خریداروں میں ٹی ایس ایلیٹ، اولڈس ہکسلے، آر ایچ ٹونی، جارج سنٹیانا، آئی اے رچرڈز، ولیم ایمپسن اور دیگر معروف ادبی شخصیات رہیں۔

پہلا شمارے کی محض ۱۰۰ کی کاپیاں شائع ہوئیں رفتہ رفتہ ان میں اضافہ ہوتا گیا تاہم اس اہم پرچے کی کاپیاں کبھی بھی ۱۵۰۰ سے زائد نہ شائع ہوئیں باوجود یکہ اپنے وقت کے تمام اہم کالجوں اور جامعات کی لائبریری کا یہ نہایت اہم جزو ہوا کرتا تھا۔ اس پرچے نے جہاں معروف نقادوں اور لکھاریوں کی ایک کھیپ متعارف کروائی وہیں ایک عہد کی جمالیاتی، ادبی، سیاسی، ادارہ جاتی، علمی اور دانش ورانہ تصویر کشی کی جو رہتے زمانوں تک محفوظ رہے گی۔ لوح پر لکھنے سے قبل سکروٹنی کا حوالہ دینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ فی زمانہ شائع ہونے والے ان گنت ادبی پرچوں میں سے لوح اپنے انتخاب، ضخامت اور ادبی منظر نامے کے تمام اہم ناموں سے مزین یہ پرچہ اپنی مثال آپ ہے۔ لوح کے مدیر ممتاز شیخ صاحب ہیں جو بنیادی طور پر شاعر ہیں تاہم اپنی تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنے اندر کے شاعر کو کم کم ہی سامنے لاتے ہیں۔

اولڈ راویئنز کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف اس ممتاز ادبی دستاویز کو بالاہتمام شائع کرتے ہیں بلکہ اس بھاری بھرکم ’’ کتاب‘‘ کو تمام کونٹریبیوٹرز کے گھروں میں پوسٹ بھی کرتے ہیں اور یاد رہے کہ اس کے قارئین بھارت سمیت پوری دنیا میں موجود ہیںاور اس کی اشاعت سے لے کر تقسیم تک کے کام ادارت کے مسائل اضافی ہیں۔ ادارت کے مسائل وہی سمجھ سکتا ہے جو باقاعدہ طور پر اس سے منسلک ہو۔ میں اپنی یونیورسٹی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز کے ادبی مجلے ’’ نملین‘‘ کا ایڈیٹر ہوں اور میں یہ بات اعزاز کے ساتھ بتلاتا ہوں کہ میں نے ادارت کا کام ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب سے سیکھا جو کسی زمانے میں اکادمی ادبیات پاکستان کے افسرِ خوباں کے ساتھ ساتھ اکادمی کے مجلے ’’ ادبیات‘‘ کے اولین مدیر رہے ہیں اور بعد ازاں جامعہ میں صدرِ شعبہ رہے۔ ہمیں سال میں ایک پرچہ نکالنا ہوتا ہے لیکن معیاری تخلیق کے حصول کے لیے نجانے کہاں کہاں اور کس کس کے پاس چکر لگانا پڑتے ہیں اور پھر اس پر ادارتی عقابی نظروں سے چھان پھٹک کرنا پڑتی ہے کہ اس دورانیے میں بندہ دو عدد ناولز تحریر کرسکتا ہے۔ بظاہر آسان نظر آنے والا یہ کام انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ نملین مجلہ چودہ ہزار سے زائد شائع ہوتا ہے گویا اس کے قارئین ایک لاکھ سے زائد ہیں۔

۶۷۸ صفحات پر مشتمل لوح کا شمارہ نہم و دہم اس وقت میرے ہاتھ میں ہے ۔ جس میں ادب سے متعلقہ تقریبا ً ہر صنف کے نمائندہ اظہارے شامل ہیں تاہم صفحہ ۲۱ پر حرفِ لوح کے نام سے ممتاز شیخ صاحب کا دردمندی سے تحریر کردہ اداریہ بہت خاصے کی چیز ہے۔ وہ اس لحاظ سے کہ اس اداریے میں دو اہم معاملات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ایک تو ادب کے ’’بزعمِ خود نام ور فرزندان‘‘ کا رویہ اور دوسرے ادبی کانفرنسز جو ادارہ جاتی بیانیوں کی تشکیل سازی بطورِ آزاد اداروں یا جامعات میں کرواتی ہیں اور جن کا بنیادی قضیہ کاروبار اور ادبی فیک آئی ڈیزکا شخصی ارتفاع ہے۔ شاید یہ دونوں وجوہات ہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اردو اور انگریزی مابعد نو آبادیاتی ادبی اظہاریوں میں سے ’’مقامیت‘‘ اور ’’ پاکستانیت‘‘ کی پوزیشنز کشید کرنے میں ناکامی ہو رہی ہے۔

کچھ بین الاقوامی اشاعتی ادارے جہاں اپنی ادبی میلوں ٹھیلوں میں بظاہر کتاب کلچر کو فروغ دے رہے ہیں وہیں اس کلچر کی آڑ میں ایسے بیانیوں کی پرورش کرتے ہیں جو مقامی مرکزی بیانیوں سے متصادم ہوتے ہیں ۔ ہم ادب کے’’ عہدِ خبریت ‘‘سے گزر رہے ہیں ۔ اس عہد میں سن کر یا پڑھ کر سطحی خبریت کی تفہیم کی بجائے ترسیل یا شیئرنگ کا چلن ہے لہٰذا سب کچھ من و عن تسلیم کرکے اس کے پھیلائو میں ہم سبھی اپنی سی کر رہے ہیں۔ بہت کم سنجیدگی ادبی پرچوں میں نظر آتی ہے۔ اس وقت جو اہم ادبی مجلے منظر نامے پر دکھائی دے رہے ہیں ان میں تسطیر ، فانوس ، دنیا زاد ، فنون ، چہار سو، استفسار ، بیاض ، ادبیات ،امروز، تفہیم باقاعدگی سے نہ صرف شائع ہو رہے ہیں بلکہ معیار کو بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

لوح نے ہمارے سامنے آغاز کیا اور شمارہ نہم دہم تک کا سفر جن بلندیوں کی طرف رواں ہے وہ بے مثال ہے۔ موجودہ پرچے میں چار عدد حمدیں، چھ عدد نعوت شریف ،وفیات ، گوشہ ء اسد محمد خان ، ۲۱ عدد افسانے ، ۱۱۱ کے قریب نظمیں، ۲۱ عدد تنقیدی مضامین، ۱۲۹ غزلیات ، دو عدد ناولز کے ابواب ، ۵ عدد تراجم ، دو عدد طنزیہ مزاحیہ مضامین ، ایک مضمون موسیقی پر، ایک عدد خاکہ ،۶ عدد کافیاں اور اردو ماہیوں کے ساتھ کچھ دیگر اظہاریے بھی شامل ہیں۔

معاصر تنقیدی و تخلیقی منظر نامے کی اتنی جامع اور معیاری تصویر کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔ شمس الرحمٰن فاروقی، مستنصر حسین تارڑ، فتح محمد ملک، روئف پاریکھ، ناصر عباس نیر، معین الدین عقیل، ابولکلام قاسمی، احسان اکبر، سلیم کوثر، ڈاکٹر رشید امجد، اسد محمد خان، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی، خالد فتح محمد، حمیرا اشفاق، عبدالرشید، امجد اسلام امجد، سعادات سعید، ارشد معراج، اقبال نوید، ثنا اللہ میاں، غافر شہزاد، توصیف تبسم، انور شعور، شمیم حنفی، سرمد صہبائی، خالد اقبال یاسر، غلام حسین ساجد، عباس تابش، منظر بھوپالی، ضیاالحسن، محمد الیاس، ڈاکٹر امجد پرویز اور بے شمار اہم نام اس اہم ادبی دستاویز کا حصہ ہیں۔

ہارڈ بائنڈنگ اور بڑے سائز کے ۶۷۸ صفحات پر مشتمل لوح کا ہدیہ ۸۰۰ روپے ہے جو کراچی، حیدر آباد، ملتان، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد کے بڑے بک اسٹالز سے بآسانی دستیاب ہے۔ یہ مجلہ اردو تنقید و تحقیق کے لیے ایک نادر اور شاندار دستاویز ہے۔

(Visited 149 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: