نظریے اور ترقی کی جنگ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

0
  • 35
    Shares

انسانی تاریخ کا عمومی مطالعہ کچھ اور بتائے یا نہ بتائے لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ ہر دور میں اچھائی اور برائی کی جنگ چلتی رہی ہے۔ ایک ہی معاشرے کے افراد اچھائی کے ساتھ بھی تھے اور برائی بھی اسی معاشرے میں پنپتی رہی ہے۔ افراد کی ذہنی صلاحیت اور سمجھ کا معیار چونکہ مختلف ہوتا ہے اس لیے کسی ایک ہی بات کو سمجھنے اور ماننے میں فرق پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک ہی بات کو دو افراد مانتے ہوں لیکن وہ کیسے اور کن وجوہات کی بنا پر مانتے ہیں، یہ سوال نتائج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ افراد کی یہ تقسیم صرف اچھائی اور برائی تک ہی محدود نہیں بلکہ اور بہت سی باتوں نے بھی افراد کو ہمیشہ تقسیم رکھا، جن میں سے ایک نظریے اور ترقی کی جنگ ہے۔ یہ جنگ جب اپنے وسیع تر منظر نامے کے ساتھ کسی بھی گھر اور معاشرے میں داخل ہوتی ہے تو اچھائی و برائی سمیت اور بہت سی جنگیں اس کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں نظریہ یا ترقی کی خواہش لازمی کارفرما ہوتی ہے اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی معاشرہ ان میں سے کسی ایک اکائی کے بغیر تشکیل دیا گیا ہو گا، یقیناً انسانوں کا بنایا ہوا پہلا معاشرہ بھی انہی میں سے کسی ایک خواہش کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو گا۔ نظریہ سے جڑے رہنے یا ترقی کی انسانی خواہش صرف معاشروں کے وجود میں آنے کی وجہ نہیں بنتی بلکہ معاشروں کے بکھرنے اور ختم ہونے کی ایک لازمی وجہ بھی ہوتی ہے۔ نظریے کی بنیاد پر بننے والے معاشرے ترقی کی حرص میں پہلے تو بکھرتے ہیں اور پھر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ترقی پسندوں پر بھی ایسا وقت آتا رہتا ہے کہ ایک دن وہ بھی اپنی ترقی کی خواہش سے اوبھر جاتے ہیں اور کسی نظریے سے جڑتے ہوئے ترقی پسند معاشرے کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ یہی انسانی فطرت ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔

پاکستانی معاشرے میں پچھلی تین چار دہائیوں سے نظام تعلیم کو لے کر ایسی ہی ایک بحث اور جنگ چل رہی ہے۔ انگریزی کو ترقی کی علامت تو انگریزوں کے ہوتے ہوئے بھی سمجھا جاتا تھا لیکن ترقی کے لیے جو پاگل پن پچھلی تین چار دہائیوں میں پاکستانی معاشرے کا حصہ بنا ہے اس نے معاشرے کو حصوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے۔ انگریزی میڈیم اسکولوں نے اس جنگ میں تیزی پید اکر دی ہے اور آج معاشرہ واضح طور نظریے کے حامیوں، ترقی پسندوں اور ان دونوں کے مخالفوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔

نظریے کے حامی سب سے پہلے انگریزی سکولوں کے لباس اور نصاب کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ نامناسب لباس بچے اور معاشرے کے بگاڑ کی پہلی سیڑھی ہے، اسی لیے پچھلے دنوں کچھ اور سکولوں نے جب اپنے لباس میں تبدیلی کا اشارہ دیا تو اس کے خلاف کافی سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ انگریزی اسکولوں میں ’کو ایجوکیشن‘ اور بہت زیادہ آزاد ماحول کے ساتھ ساتھ نصاب میں پاکستان اور اسلام مخالف اسباق کی موجودگی پر نظریے کے حامی خاصے جذبذ ہوتے رہتے ہیں اور گاہے بگاہے ان کی طرف سے ردعمل بھی آتا رہتا ہے لیکن ترقی پسند ان باتوں کی ذرا پرواہ نہیں کرتے۔ ایلیٹ کلاس تو اپنے بچوں کو بہترین انگریزی اسکولوں میں داخل کرواتی ہی ہے لیکن ایک عام آدمی بھی اپنے بچوں کے لیے انہی انگریزی اسکولوں کا انتخاب کرتا ہے کیونکہ اس کا بھی یہی خیال ہے کہ ان اسکولوں سے پڑھ لکھ کر اس کے بچے اچھی نوکری حاصل کر سکتے ہیں اور ان کی زندگی اچھے انداز سے گزر سکے گی۔ اس اچھی نوکری اور آسائشوں والی زندگی کے بدلے میں وہ اسلام اور پاکستان مخالف نصاب سے صرف نظر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا اب ایک عالمی گاوں میں بدل چکی ہے جہاں اب ہمیں بھی خود کو بدل لینا چاہیے ۔ سرحدیں اب کاغذوں پر رہ گئی ہیں اور انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہونا چاہیے۔

دلائل دونوں کے پاس ہیں، سوال بھی اور ان کے جواب بھی، دونوں حالت جنگ میں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے کوشاں ہیں لیکن تاریخ سے سبق دونوں نہیں سیکھ رہے۔ کوئی ان دونوں سے کچھ کہہ نہیں سکتا کہ دوسروں کے سوال اپنے پر تنقید لگتے ہیں اور پوچھا گیا سوال بھلے ہی وضاحت کے لیے ہو، لیکن مخالفت لگتا ہے۔ ایسے میں دونوں گروہوں کو اپنے آپ سے سوال کی ضرورت ہے کہ کیا ترقی اور نظریے کی یہ جنگ کسی ایک کے فائدے کے لیے ہے۔۔۔؟؟ اس جنگ میں ہونے والی جیت کی کیا حیثیت ہو گی جب کہ رہنا تو اسی معاشرے میں ہارنے والوں کے ساتھ ہے؟ کیا صرف نظریے سے جڑے رہنا ہی کامیابی ہے؟ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اس سے نظریں چرا لی جائیں؟ اسلام اور پاکستان مخالف نصاب پڑھ کر، ایک اچھی نوکری لے لینا کون سی کامیابی ہے اور ریٹائر ہونے کے بعد ساری زندگی کی کامیابیوں کا کیا مول ہو گا؟

دنیا ایک تغیر کا نام ہے اور یہاں ہر پل کچھ نہ کچھ ایسا ضرور وقوع پذیر ہو رہا ہوتا ہے جس سے فوری یا کبھی نہ کبھی کوئی تبدیلی ظہور پذیر ہو لیکن اس سب کی قیمت بھی ادا کی جاتی ہے۔ دنیا میں معاشروں کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے، نئی گروہ بندیاں ، نئے ہم مفاداتی طبقے آپس میں ملتے رہتے ہیں لیکن کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اور اگر کچھ کھونے کو پاس نہ ہو تو پانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ اب یہ ہمیں سوچنا ہے کہ ترقی پانے کے لیے ہمارے پاس کھونے کو کیا ہے؟ کیا ہم اپنی اقدار کا سودا کر لیں یا اپنی محنت سے ترقی کا سفر شروع کریں؟ ہمیں سوچنا ہے کہ کیا نظریے سے ساتھ جڑے رہ کر دوسروں میں برائیاں نکالنے سے ہم خود کو بہتر کر سکتے ہیں اور دنیا میں کوئی مقام حاصل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں اپنے معاشرے میں موجود مخالفوں کو ساتھ لے کر چلنا سیکھنا ہو گا؟

یاد رکھئے کہ نظریہ کی بنیاد پر ترقی ہو یا ترقی کے پیچھے کوئی نظریہ ہو ، انسانیت کی بہتری اسی مین ممکن ہے لیکن اگر نظریہ اور ترقی آپس میں آمادہ جنگ ہوں تو صرف اور صرف تقسیم اور زوال ہی معاشروں کے حصے میں آتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ جنگ شروع ہو چکی ہے، اب ہمیں سوچنا ہے کہ اپنے آنے والے کل کے لیے، اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے نام پر ہم اس جنگ کا رخ موڑ سکتے ہیں کہ نہیں؟

ہم اپنے بچوں کا مستقبل اچھا کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔؟؟ اور کیا ہم نظریے اور ترقی کو اس کے اصل مطلب اور مفہوم سے سمجھ سکتے ہیں کہ نہیں؟ خود سے سوال پوچھئے کہ آپ کے بچے سر میدان بیٹھے آپ سے کسی اچھی بات کے منتظر ہیں۔

(Visited 90 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20