قومی زبان اور فیشن —— اے خالق سرگانہ

0
  • 23
    Shares

کچھ اور مسائل کے علاوہ پاکستان کو زبان کے معاملے میں بھی ایک مشکل درپیش ہے وہ یہ کہ چاروں صوبوں میں رہنے والے لوگوں کی مادری زبان اپنی اپنی ہے پھر اُردو سب کے درمیان رابطے کی زبان ہے اور انگریزی سرکاری زبان۔ سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان پہلا تنازعہ اُردو زبان کا نفاذ ہی بنا تھا لہٰذا کسی بھی زبان کے نفاذ کو معمولی معاملہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ ہمارے ہاں 1973ء کے دستور میں کہا گیا کہ اگلے پندرہ سالوں میں اُردو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا اب حال ہی میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اُردو کو آئین کی روح کے مطابق سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے لیکن اس حکم پر بھی عملدرآمد مشکل نظر آ رہا ہے انگریزی ہی سرکاری زبان کے طور پر پوری طرح نافذ ہے بلکہ وقت کے ساتھ انگریزی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔

اب سرکاری سکولوں میں انگریزی چھٹی جماعت کی بجائے پہلی جماعت سے شروع کر دی گئی ہے پھر انگریزی سکولوں کی بھرمار ہو گئی ہے اور جس کے پاس مالی وسائل ہیں وہ اپنے بچوں کو انگریزی سکولوں میں ہی پڑھا رہے ہیں کیونکہ انگریزی جاننے والے بچوں کو عملی زندگی خصوصاًسرکاری ملازمت میں اولیت دی جاتی ہے بلکہ ہمارے ہاں عام طور پر انگریزی کو قابلیت کا سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ ہماری ذہنی مرعوبیت کا یہ عالم ہے کہ ہم زندگی کے تمام شعبوں میں اُسے لیڈر ماننے کیلئے تیار نہیں جسے انگریزی پر عبور نہ ہو۔ خیر انگریزی سے مرعوبیت اور کئی اور چیزیں ہماری غلامی کے دور کا نتیجہ ہیں لہٰذا اس سے کسی حد تک صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اِس وقت میں ایک اور مسئلے کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اکثریت نہ صحیح انگریزی بول سکتی ہے اور نہ اُردو۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم اُردو میں مونث مذکر کا خیال نہ رکھنے پر اپنے پٹھان بھائیوں کا مذاق اُڑایا کرتے تھے لیکن اب یہ ایشو ختم ہو گیا ہے کیونکہ اب ہر کوئی اُردو کی وہ درگت بنا رہا ہے کہ حیرت ہوتی ہے لہٰذا اب تو مذاق اُڑانے کے لطف سے بھی محرومی ہو گئی ہے کیونکہ اب غلط اُردو بولنا فیشن میں شامل ہو گیا ہے ہمارے میڈیا نے لوگوں کی قابلیت اور اہلیت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ چند دن پہلے ایک ٹیلی ویژن چینل پر بحث ہو رہی تھی کہ بلاول بھٹو زرداری نے شیخ رشید کے بارے میں ’’پنڈی کا شیطان اور بے غیرت انسان‘‘ کے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں جس پر بعد میں انہوں نے معذرت بھی کر لی حالانکہ شیخ رشید صاحب بلاول کے بارے میں بہت نامناسب باتیں کر چکے ہیں لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ بلاول کے دفاع میں قومی اسمبلی کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کہہ رہی تھیں کہ بے غیرت کوئی بُرا لفظ نہیں ہے گویا بے غیرت کا مطلب ہمیں ڈکشنری میں دیکھنا پڑے گا۔ خیر یہ تو ایک واقعہ کی بات ہے معاملہ ایک آدھ لفظ یا جملے کا نہیں ہے بلکہ یہاں تو صورتحال یہ بن گئی ہے کہ بدزبانی ہے زباں میری۔

عام آدمی کی نہیں بلکہ پڑھی لکھی مڈل کلاس اور اپر کلاس جس طرح کی اُردو ٹیلی وژن، پارلیمنٹ اور سیمینارز وغیرہ میں بول رہی ہے اُسے سن کر آدمی سر پیٹ لیتا ہے یعنی وہ نہ صرف غلط زبان بولتے ہیں بلکہ اِس پر انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی کیونکہ وہ اِسے فیشن سمجھتے ہیں، فیشن بھی عجیب چیز ہے اِس میں معقولیت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا مثلاً آجکل پڑھی لکھی کلاس میں فیشن ہے کہ گلے میں مفلر ٹائی کی جگہ لٹکا لیا جائے۔ یہ شروع تو خواجہ آصف جیسے لوگوں نے کیا تھا لیکن اب میاں نواز شریف کے بعد عمران خان نے بھی اِسے اپنا لیا ہے کم از کم کسی بات پر تو اتفاق رائے ہوا۔ ایک اور چیز بھی فیشن ہے کہ قمیض کے بازوئوں کے بٹن بند نہ کئے جائیں بلکہ گلے کے ایک دو بٹن بھی کھول لئے جائیں اِس سے آدمی ماڈرن ہو جاتا ہے۔ ماڈرن بننے کا کتنا آسان طریقہ ہے۔ مشہور سیاستدان جناب رضا ربانی نے پونی بنائی ہوتی ہے غالباً پاکستان جیسے کنزرویٹیو معاشرے میں کم از کم انہوں نے پہل کی ہے۔ پتہ نہیں ایسے بے تکے فیشنز پر رونا چاہئے یا ہنسنا چاہئے خیر اب زبان کی طرف آتے ہیں۔ اِس معاملے میں آجکل ہر جملے کا مقبول ترین حصہ ہے ’’جو ہے‘‘ غالباً اس کے چیمپئن تو خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ تھے لیکن اب یہ الفاظ قبولیت عالم کا درجہ حاصل کر گئے ہیں۔ اب ہر آدمی کم از کم ہر جملے میں ’’جو ہے‘‘ کا ضرور استعمال کرتا ہے بلکہ بعض تو جملے کے شروع اور آخر میں دو جگہ اس کا استعمال کرتے ہیں جیسے کسی چھوٹے افسر کوکوئی سینئر افسر فون کرے تو وہ جواب میں ہر جملے سے پہلے اور آخر پر سر کا استعمال ضرور کرتا ہے پھر مونث مذکر کا تو اب سوال ہی ختم ہو گیا ہے۔ سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی صاحب کہہ رہے تھے کہ امریکہ کہتی ہے۔ سیٹھی صاحب اکثر کہتے ہیں الیکشن ہو رہی ہے، کوئی کہتا ہے سپریم کورٹ کہتا ہے۔ پھر تلفظ کی طرف آ جائیں کافی پڑھے لکھے لوگ کچھ عام استعمال کے الفاظ ہمیشہ غلط بولتے ہیں مثلاًغلَط (Ghalat) کو غلّط (Ghalt) کہتے ہیں۔ مُلک کو مُلَک (Mulak) کہتے ہیں۔ اُردو اور انگریزی کو ملانا تو خیر ہماری ضرورت ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اب اس غلط رحجان کو کوئی برائی یا غلطی نہیں سمجھا جا رہا۔ یہ حال ہماری اشرافیہ کا ہے۔ ہماری جدید نسل تو ویسے ہی اُردو نہیں پڑھ سکتی اور یوں وہ اپنے ادبی اور ثفافتی ورثے سے کٹ چکی ہے۔ افسوس کہ اِس نقصان کا ابھی کسی کو ادراک ہی نہیں۔

(Visited 108 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: