باقر نقوی مرحوم سے ایک یادگار گفتگو ۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم سہیل

0
  • 85
    Shares

تعارف: سید محمد باقر نقوی 1936 کو ہندوستان کے شہر الہٰ آباد میں پیدا ہوئے اور 13 فروری 2019 کو لندن میں انتقال ہوا۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم تھے۔ ان کی عمر کا ایک طویل عرصہ پاکستان میں بھی گزرا۔ پیشہ ورانہ کاموں کے سلسلے میں پاکستان آنا جانا رہا۔ وہ پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں مختلف اداروں میں متعدد کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کے علاوہ ادب، شاعری اور سائنس سے خاص شغف رہا، جس کا اظہار ان کی تحریری کاوشوں میں بھی ہمیشہ جھلکتا رہا۔ پانچ دہائیوں تک شعر و ادب سے جڑے رہے اور زندگی کے آخری چند برسوں میں تو انہوں نے اردو زبان کے قارئین کو اپنے شہرہ آفاق تراجم کے ذریعے ورطہ ٔ حیرت میں مبتلا کیے رکھا۔

سید محمد باقر نقوی کا شمار پاکستان کے ممتاز شعرا، ادیبوں اور مترجمین میں رہے گا۔ ان کی شہرت کا بنیادی حوالہ ترجمہ نگاری ثابت ہوئی۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ان کی پوری توجہ تصنیف و تالیف بالخصوص ترجمہ نگاری پر تھی۔ انہوں نے اردو زبان کو عالمی ادبیات سے مالا مال کر دیا۔ سویڈن کی مشہور عالمی شہرت یافتہ شخصیت ’’الفریڈ نوبیل‘‘ کے نام پر ہر سال مختلف شعبوں میں متعلقہ شخصیات کو گراں قدر خدمات پر اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے پر وقار اعزازات ہوتے ہیں، جن کا حصول کسی بھی شخص اور اس کی قوم کے لیے فخر کا باعث ہوتا ہے۔

نوبیل اعزازات حاصل کرنے کے موقع پر اعزاز یافتگان ایک خطبہ دیتے ہیں، جس میں ان کی فکری بصیرت نمایاں ہوتی ہے۔ 1901 سے نوبیل اعزازات دینے کی ابتدا ہوئی اور آج تک دیے جاتے ہیں۔ سید محمد باقر نقوی نے اردو زبان کے قارئین پر یہ احسان کیا، 1901 سے لے کر 2000 تک یعنی ایک صدی میں ادبیات، امن اور حیاتیات کے شعبے میں جتنی شخصیات کو یہ اعزازات ملے، انہوں نے ان تمام شخصیات کے اعترافِ کمال، خطبات و تقاریر کو اردو زبان میں سمو دیا۔ ان خدمات کی بنا پر انہیں پاکستان میں’’ماہرِ نوبلیات‘‘ بھی سمجھا جانے لگا تھا۔

With Literary figures – at PC Karachi

نوبیل اعزازات کے شعبے میں کام کرنے کے علاوہ انہوں نے جرمن اور فرانسیسی زبان کے کئی اہم ناول نگاروں کی تخلیقات کو بھی اردو قالب میں ڈھالا۔ جاپان کے نوبیل انعام یافتہ ادیبوں ’’یاسوناری کاوا باتا‘‘ اور ’’کنزا بورو اوئے‘‘ کے تین ناولوں کو بھی اردو زبان کا قالب دیا۔ دنیا کے پہلے ناول کے طور پر مشہور جاپانی ناول ’’گینجی کی کہانی‘‘ ان کی زندگی کا آخری ترجمہ ثابت ہوا۔یہ ضخیم ناول رواں برس پاکستان جاپان لٹریچر فورم شایع کرے گا۔

سید محمد باقر نقوی کی ادبی خدمات کے سلسلے میں انہیں کئی نجی نوعیت کے اعزازات سے تو نوازا گیا، لیکن پانچ دہائیوں سے کام کرنے والی اس شاندار علمی شخصیت کے حصے میں کوئی حکومتی اعزاز نہ آیا۔ کراچی اور لاہور کی جامعات میں ان پر دو ایم کے تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے۔ ان کی علمی خدمات کی ایک جھلک یہاں فہرست کی صورت میں درج ذیل ہے، جس سے ان کے تخلیقی و فکری سفر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

2019۔۔۔ گینجی کی کہانی (دنیا کے پہلے ناول کا ترجمہ، رواں شائع ہو گا)
2018۔۔۔ جاپان کا نوبیل ادب (جاپانی ناول نگار یاسوناری کاواباتا اور کنزا بورو اوئے کے ناولوں کے تراجم)
2015 ۔۔۔ مضراب (فرانسیسی ناول نگار وکٹر ہیوگو کے ناول کا ترجمہ)
2012 ۔۔۔۔ نشیبی سرزمین (جرمن ناول نگار ہرٹامیولر کے ناول کا ترجمہ)
2012 ۔۔۔۔ نوبیل حیاتیات (فزیالوجی اور میڈیسن کے شعبوں میں اعزازات حاصل کرنے والوں کے خطبات کا ترجمہ)
2012 ۔۔۔۔ نقارہ (جرمن ناول نگار گنتر گراس کے ناول کا ترجمہ)
2012 ۔۔۔۔ آٹھواں رنگ (افسانوں کا مجموعہ)

2011 ۔۔۔۔ نوبیل امن کے سو برس (قیام امن کے لیے اعزازات حاصل کرنے والوں کے خطبات کا ترجمہ)
2009 ۔۔۔۔ نوبیل ادبیات (ادب کے شعبے میں اعزازات حاصل کرنے والوں کے خطبات کا ترجمہ وتعارف)
2007 ۔۔۔۔ ای ایف یو، ایک تحریک(اردو میں ادارے کی تاریخ کا ترجمہ)
2005 ۔۔۔۔ مصنوعی ذہانت (سائنس کے موضوع پر کتاب)
2005 ۔۔۔۔ برقیات (معہ ایجادات کی تاریخ)
2005 ۔۔۔۔ دامن (شعری کلیات)
2004 ۔۔۔۔ بہتے پانی کی آواز (شعری مجموعہ)

2002 ۔۔۔ گنگا، جمنا، سرسوتی (منتخب ہندی نظمیں)
2001 ۔۔۔۔ خلیے کی دنیا (جینیاتی سائنس کی روشنی میں)
1999 ۔۔۔۔ الفریڈ نوبیل (حالات زندگی اور خدمات)
1994 ۔۔۔۔ موتی موتی رنگ (شعری مجموعہ)
1989 ۔۔۔۔ مٹھی بھر تارے (شعری مجموعہ)
1986 ۔۔۔۔ تازہ ہوا (شعری مجموعہ)


باقر نقوی سے خرم سہیل کا 2015 میں کیا گیا ایک یادگار مکالمہ پیش خدمت ہے۔

س: ماضی میں معیاری تراجم پڑھنے کو ملتے رہے ہیں، مگر عہد حاضر میں تو اس شعبے میں صورتحال قحط جیسی ہے، لیکن آپ کے تراجم تو ہمیں شاندار مستقبل کی راہ دکھا رہے ہیں، اردو زبان میں اتنے عمدہ پیرائے میں کیے جانے والے تراجم کا معیار اور تناسب دیکھ کر یہ پاگل پن کا سودا لگتا ہے، تو یہ سودا کیسے آپ کے سر میں سما گیا، آپ کا رجحان تراجم کی طرف کیونکر ہوا؟
ج: اس بات پر کیا کہیں، کبھی کبھی دماغ میں کوئی شے سماجائے، تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے(مسکراتے ہوئے)۔ دراصل بات یہ ہے، تقریباً 50 برس سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا، جب مجھے ادب میں دلچسپی ہوئی۔ اس شوق کی ابتدا 1968 سے ہوئی۔ آغاز میں تو مطالعہ کیا، پھر شاعری کی، اس حوالے سے کچھ کتابیں بھی شایع ہوئیں، لیکن مجھے پھر احساس ہوا، شاعری بہت ہوگئی، کچھ اور کام کرنا چاہیے، ویسے بھی شعرا کی بہتات ہے، کچھ ایسا کام کرنا چاہیے، جس میں انفرادیت ہو۔ 80 کی دہائی میں مجھے پہلی مرتبہ یہ خیال آیا کہ اردو زبان میں الفریڈ نوبیل پر کچھ نہیں لکھا گیا، جبکہ زمانہ طالب علمی سے ہم ان کے بارے میں سنتے آئے تھے۔ ملازمت کے سلسلے میں جب برطانیہ جانا ہوا، کچھ زندگی میں بھی ٹھہرائو آیا، تو سوچا، اب اس خیال پر کچھ کام کرناچاہیے، پھر وہاں وسائل بھی میسر تھے، کتب خانے بھی دستیاب تھے، اب جب اس شخصیت کے بارے میں مطالعہ شروع کیا، تو ایک جہان معنی مجھ پر آشکار ہوا۔

میں نے اپنے ہم زلف سے پوچھا جو اردو کے پروفیسر ہیں، کیا اردو میں کسی نے اس شخصیت پر کچھ لکھا ہے، تو ان کا جواب بھی نفی میں تھا، ان کے بقول کچھ مضامین ادبی جریدے نقوش میں نظر سے گزرے، اس کے علاوہ تو کوئی تحریر الفریڈ نوبیل کی شخصیت یا ان سے منسلک اعزازات کے حوالے سے دکھائی نہیں دی۔ میں نے سوچا، اگر کسی نے کام کیا بھی ہے تو کیا، میں اپنے انداز سے اس شخصیت اور اس سے متعلق مختلف پہلوئوں کو قلم بند کروں گا۔ اس کے بعد پھر میں نے شعوری طور پر اس شخصیت کا احاطہ کیا، اس کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کیا، اپنے پاس پرچیوں پر مختلف نکتے اور تفصیلات بھی لکھتا چلاگیا، دن میں ملازمت اور رات میں ادبی ریاضت، اس طرح یہ سلسلہ کئی برس تک چلا۔ ملازمت کے سلسلے میں پھر کراچی قیام کرنا پڑا، یہاں میں اکیلا ہوتا تھا، میرا کنبہ لندن میں تھا، اس لیے کافی وقت دستیاب ہوا تو میں اپنے اس لکھنے پڑھنے کے کام کو آگے بڑھاتا رہا۔ وہ پرچیاں جمع ہو کر کتاب کی بنیاد بن گئیں۔

Noble-Amn

س: لیکن یہ کام اشاعت کے مرحلے میں کیسے داخل ہوا؟
ج: وہ اس طرح، میں نے الفریڈ نوبیل کے حوالے سے جو کتاب لکھی، میںنے شہزاد احمد کو بھیجی، ان کو میرا کام بہت پسند آیا۔ اسی کام کا تذکرہ ڈاکٹر پیر زادہ قاسم سے بھی کیا، ان دنوں جو کراچی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی تھے۔ انہوں نے مجھے ملاقات کے لیے مدعو کیا، اسی وقت وہاں امجد اسلام امجد بھی آئے تھے، یہ وہ زمانہ ہے، جب امجد صاحب اردو سائنس بورڈ کے ڈی جی تھے، اس طرح میری پہلی کتاب وہاں سے شایع ہوئی اور میری نثری تحریروں کا اشاعتی دور باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کام کی ابتدا 1980 میں ہوئی اور اختتام 1999 میں۔ یہ پہلی نثری کتاب بہت دھوم سے شایع ہوئی، اسلام آباد میں اس کی تقریب رونمائی کا انعقاد بھی ہوا، جس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان مہمان خصوصی تھے۔ سویڈن کے سفیر بھی اس تقریب میں موجود تھے۔ اس طرح مجھے بہت اچھا آغاز ملا۔

During Study in Zurich Switzerland – Baqar Naqvi – standing extreme left.

س: نوبیل اعزازات حاصل کرنے والوں کے خطبات کو ترجمہ کرنے کا خیال کیسے آیا؟
ج: مجھے الفریڈ نوبیل کی شخصیت پر کام کرنے کے نتیجے میں اتنی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی تو میں نے سوچا، اسی سمت میں کام کو آگے بڑھایا جائے، لہٰذا میں نے سوچا، نوبیل اعزازات حاصل کرنے والے اپنے خطبات میں کس طرح اظہار خیال کرتے ہوں گے، ان کے افکار کیا ہیں، اس پر بھی کام کیا جاسکتا ہے، پھر وہی بات کہ اردو زبان میں ابھی تک اس نوعیت کا کام نہیں ہوا تھا۔ میں نے خطبات کے شعبے میں ادبیات سے ابتدا کی۔ اس میں کئی ادیبوں کے خطبے ایسے تھے، جن کے الفاظ سیدھے دل میں اترتے تھے، اس کی ایک مثال 1909 میں ادبیات کا انعام پانے والی سوئیڈن کی سِلما لاگیر لوئف کے خطبے کی دلکش زبان اور ِ تحریر تھی۔ میں نے جب خطبات کا ترجمہ کرنا شروع کیا تو مجھے ایک کمی محسوس ہوئی، وہ یہ کہ ان ادیبوں کو ہر کوئی نہیں جانتا، تو ان کے بارے میں مختصر تعارف بھی شامل ہونا چاہے، میں نے تمام ادیبوں کے خطبات کا تو ترجمہ کیا، لیکن اپنی تحقیق سے ان کے تعارف بھی قلم بند کیے، تاکہ قارئین کو یہ جاننے میں آسانی ہوسکے، وہ جس ادیب کا خطبہ پڑھ رہے ہیں، وہ کون ہے اور اس کے کام کا پس منظر کیا ہے۔ دلچسپ با ت یہ ہے، میں نے ادبیات کے خطبے ترجمہ کرنے کی ابتدا 1901 کی بجائے 2000 سے شروع کی۔ مستقبل سے ماضی کی طرف ترجمے کا رخ کیا اور پھر ان کو اپنی زبان میں منتقل کرنے میں جت گیا۔ جب میں نصف تک پہنچ گیا، تو اس حوالے سے اردو شعر و ادب کے معروف ناقد شمس الرحمن فاروقی سے اس کام کا تذکرہ کیا، انہوں نے بھی اس کام کو بہت پسند کیا۔ میرا خیال تھا، نصف خطبات کے تراجم کو ایک جلد میں چھاپ دیا جائے، باقی کے خطبات کی دوسری جلد تیار کرلی جائے، مگر فاروقی صاحب نے ایسا کرنے سے منع کیا اور ایک ساتھ ہی تمام خطبات کو شایع کرنے کا مشورہ دیا اور میں نے بھی اس تجویز پرہی عمل کیا، یوں نوبیل ادبیات کے نام سے 1901 سے 2000 تک میں دیے گئے ادیبوں کے خطبات کا ترجمہ مکمل حیثیت میں شایع کیا، جس کو بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ میں نے اس کام کو شایع کروانے سے پہلے سویڈن میں قائم نوبیل اکادمی سے باقاعدہ تحریری اجازت لی، اس کے لیے مجھے فیس بھی دینا پڑی، تمام قانونی مراحل سے گزر کر میں نے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

Alfred Nobel, Life and Work launching ceremony in Islamabad – with Amjed Islam Amjed, Dr AQ Khan and Swedish Ambassador

س: نوبیل ادبیات کے دیباچے میں آپ نے لکھا اور پروفیسر سحر انصاری نے بھی فرمایا، اس کام کرنے میں آپ نے بے حد محنت کی جسے labour of love ہی کہا جا سکتا ہے۔ ’’نوبیل امن کے سوبرس‘‘ پھر ’’نوبیل حیاتیات‘‘ حاصل کرنے والی شخصیات کے خطبات کو بھی تراجم میں ڈھال دیا۔ نوبیل ادبیات کے 100 برس کے خطبات کوترجمہ کرنے میں دو دہائیاں صرف ہوئیں، جبکہ دیگر دو شعبوں میں 100 برس کے خطبات کو چند برسوں میں ہی ترجمہ کر ڈالا، پھر اسی دوران آپ نے، ہرٹامیولر کا ناول ’’نشیبی سرزمین‘‘ گنٹر گراس کا ناول ’’نقارہ‘‘ اور وکٹر ہیوگو کا دو جلدوں میں ضخیم ناول ’’مضراب‘‘ ترجمہ کر ڈالا، یکدم سے یہ رفتار بہت زیادہ تیز نہیں، جبکہ آپ کا کہنا ہے، آپ چار گھنٹے اور کبھی کبھی 6 گھنٹے روزانہ کام کرتے ہیں۔ اس توانائی کا کیا راز ہے؟

Dinner at Baqar naqvi’s residenence on the occasion of Progressive Writers’ Association Golden Jubilee in London 1985

ج: میں ایک وقت میں کئی کتابوں پر کام کرتا ہوں۔ نوبیل ادبیات کی مقبولیت کے بعد، جو 2009 میں شایع ہوئی تھی، اس دوران اور کئی کتابوں پر بھی کام کر رہا تھا جو اس کے فورا بعد شائع ہوا۔ میں نے سوچا، بالخصوص امن کے خطبات کی ہمارے ملک کو بہت ضرورت ہے، اس لیے میں نے ان خطبات کا ترجمہ شروع کیا ۔اس بار میں نے انعام یافتگان پر تحقیق کا کام نہیں کیا اس لیے کہ وہ ادبیت سے دور کام ہوتا۔ اس کی جگہ میں نے اکیڈیمی کی تقریرِ اعلان کے تراجم کیے جس میں تحقیق کی ضرورت نہیں تھی، اور سب کچھ موجود تھا، صرف ترجمہ کرنا تھا تو اس میں زیادہ وقت درکار نہیں تھا۔ میں ان خطبات کے تراجم کے ذریعے یہ بتانا چاہتا تھا، دیکھیں دنیا میں لوگوں نے اپنے ملک میں، اپنی قوم کی خاطر قیام امن کے لیے کیا کچھ جھیلا۔ تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام نوبیل ادبیات کے خطبات سے آسان تھا اور میں کام کرتا چلاگیا۔ علم و ادب اور صحافتی حلقوں نے میرے کام کو بہت سراہا اور بے حد پسند کیا، جس کے لیے میں ان سب کا ممنون ہوں۔ ایک جملہ مجھے اکثر اپنے کام کے حوالے سے سننے کو ملا، اسے میں اپنا سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں، وہ یہ کہ’’ان خطبات کو پڑھ کرایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ خطبات اسی زبان میں دیے گئے ہوں۔‘‘ اس سے بڑھ کر میرے لیے بحیثیت مترجم کوئی ستائش نہیں ہوسکتی۔

L to R Baqar Naqvi, Dr AA Fatmi , Dr Aquil Rizvi, Ashfaq Husain, Dr Khalid Sohail

س: لیکن چندبرسوں میں جس رفتار سے آپ کے تراجم منظر عام پر آئے ہیں، جس کی تفصیل اوپر والے سوال میں دے چکا ہوں، تو اتنی کتابیں اور اس ضخامت کو دیکھ کر یقین نہیں آتا، یہ سب تن تنہا ایک شخص کا کارنامہ ہے، ایک خیال یہ بھی ہے، شاید آپ نے کوئی خفیہ ٹیم بنا رکھی ہے، جس کے ذریعے یہ سب کام ہو رہا ہے، کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے؟
ج: اچھا ،ایسا بھی سوچا جا رہا ہے، مجھ تک ایسی کوئی بات تو نہیں پہنچی، لیکن اگر فرض کریں کوئی ایسی خفیہ ٹیم ہے بھی، تو وہ سب لوگ ایک طرح کا ترجمہ تونہیں کرسکتے، میرا سب کام تو ایک ہی طرح کا ہے، یعنی وہ انداز، جس طرح سے میں ترجمہ کرتا ہوں۔ یہ بات سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی ہے اور میں اس بات کوبھی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں، میرے انفرادی کام کو اجتماعی کاوش سمجھا جا رہا ہے۔ ابتدا میں ملنے والی پذیرائی ہی میری توانائی بنی، جس کے ذریعے میں یہ تمام کام کر پایا، ابتدا میں تو مجھے خود بھی حیرت تھی، کیا میں بھی اتنا اچھا ترجمہ کرسکتا ہوں، مگر جب ادبی و عوامی سطح پر اس کی بے پناہ پذیرائی ہوئی، تو مجھے یقین کرنا پڑا کہ میں اچھا ترجمہ کرسکتا ہوں، اس کے بعد توپھر میں نے یہ ارادہ کرلیا، جتنی مجھ میں ہمت ہے، میں یہ کام کروں گا۔میں اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کے کام کو باقاعدگی سے وقت دیتا ہوں۔ کم سوتا ہوں، صبح سویرے چار بچے بیدار ہوتا ہوں، اگلے چار گھنٹے مسلسل کام کرتا ہوں اور کبھی کبھی دو گھنٹے شام میں بھی۔ یہ میری برسوں کی سرگرمی ہے، جس پر میں پابندی سے کار بند ہوں۔ اس طرح روزانہ کم سے کم چار صفحات مکمل ہوجاتے ہیں۔ اب آپ خود حساب لگا لیجیے کہ ایک برس میں کتنے صفحات ہو سکتے ہیں۔ اس کام کو وقت دینا پڑتاہے اور ہمت بھی ہونی چاہیے، میں نے اپنے اس کام کو دونوں چیزیں فراہم کی ہیں، تب جاکر یہ سب کر پایا ہوں۔ یہی وہ اراکین ہیں، جو’’میری ٹیم‘‘ کا حصہ ہیں(مسکراتے ہوئے)

س: پاکستان میں پذیرائی حاصل ہوگئی، انڈیا میں آپ کے کام کو کیسے دیکھا گیا، کیا ردعمل تھا، کیونکہ ابتدائی دور میں آپ نے وہاں کے معروف ناقد شمس الرحمن فاروقی کو اس کام کی نوعیت سے بھی آگاہ کیا تھا، تو وہاں کے ادبی حلقوں کا کیا ردعمل سامنے آیا؟
ج: ہندوستان ٹائمز نے میرے کام پر کئی مرتبہ لکھا۔ شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، عقیل رضوی اور دیگر ادبی شخصیات نے اس کام کوبہت پسند کیا، وہاں کے ادبی رسائل و جرائد نے میرے کام کو اہمیت دی اور اس کا تذکرہ کیا۔

Nasim Syed, BN

س: آپ کا کہنا ہے، نثری شعبے میں اور بالخصوص تراجم کی طرف آنے کی کوشش شعوری نہیں ہے، لیکن آپ نے تراجم کے لیے چاہے نوبیل اعزازات کے مختلف خطبات لیے ہوں یا پھر کوئی ناول منتخب کیا ہو، آپ کا انتخاب بہت پکا رہا ہے، یعنی خالص ادبی چیز، پیشہ ورانہ زندگی میں یہ ادبی خالص پن آپ کی شخصیت اور فکر میں کیسے در آیا؟
ج: یہ سب مطالعے کی دین ہے۔ میں جیسے جیسے پڑھتا چلاگیا، مجھ پر ایک سے بڑھ کر ایک شخصیت کھلتی چلی گئی۔ اس کی ایک مثال ’’ہرٹامیولر‘‘ ہے، جس کا خطبہ پڑھا، تو اس کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہوا، پھر اس کی سوانح پڑھی اور اس کے بعد میں نے اس کے سوانحی ناول کا ترجمہ کیا۔ یہ سارے کام دل کی گواہی کے ہیں، جو کچھ دل کو اچھا لگا، میں کرتا چلاگیا۔ میں مزاج کے لحاظ سے خاصا کم آمیز ہوں، میں نے کبھی کسی سے مشورہ نہیں کیا، بلکہ میں جب کام ختم کر لیتا ہوں، تو دوستوں کو خبر ہوتی ہے، اس لیے جیسا بھی انتخاب ہے، یہ سب میرا کیا ہوا ہے، جس کو میں نے تراجم کی شکل دی۔ جیسے میں نے جب وِکٹر ہیوگو کے ناول پر کام شروع کیا، تو مجھے اندازہ نہیں تھا، میں اس کو مکمل کر بھی پائوں گا کہ نہیں اس لیے کہ یہ بہت بڑ کام تھا، لیکن میں نے یہ کام مکمل ہونے تک کسی سے اس پر بات نہیں کی تھی۔

Allahabad-2006 – with Indiuan PM VP Singh

س: دیار غیر سے آنے والے شعرا اور ادیبوں کی اکثریت کے بارے میں پاکستان میں یہ بھی مشہور ہے، یہ پیسے کے زور پر اپنی چیزیں چھپواتے ہیں، پیسہ ان کا ہوتا ہے، ان کے نام پر یہاں کے مقامی ناشرین کتابیں چھاپ کر دیتے ہیں، خاص طور پر شاعری کے شعبے میں یہ چلن عام دکھائی دیتا ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا دیار غیر میں ان کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا، گمنامی کی زندگی سے اکتا کر یہاں شہرت کی گھاس چرنے یہ کیوں آجاتے ہیں،ماجرا کیا ہے؟
ج: یہ سب تو پیسے کا کھیل ہے، اس کے بارے میں اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو شہرت کا شوق ہوتا ہے۔ بیرون ملک جو لوگ رہتے ہیں ، وہ ایک آدھ مشاعرہ کرلیں گے، کچھ لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں، مگر انتہائی کم تعداد ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے گھر میں تقریب سجالی، کتاب چھپوانے کا شوق بھی ہوتا ہے، پھر آپ کے یہاں مقامی کئی ناشر بھی ایسے ہیں، جو پوری کی پوری کتابیں ان کو لکھواکر اور چھاپ کر دیتے ہیں، بدلے میں بھاری معاوضہ لیتے ہیں۔ کئی لوگوں کے بارے میں تو مجھے سو میں سے اسی فیصد یقین ہے، وہ ایسی شاعری کر نہیں سکتے، جس طرح کی شاعری ان کی کتاب میں پڑھنے کو ملتی ہے، حقیقی زندگی میں وہ بالکل کورے ہوتے ہیں، اس کے باوجود ان کی دھڑادھڑ کتابیں چھپ رہی ہوتی ہیں، تو صرف بیرون ملک مقیم لوگ ہی اس فضا کے خراب کرنے کے ذمہ دارنہیں ہیں، بلکہ یہاں پاکستان میں تو اب یہ ایک صنعت کی شکل اختیار کرچکی ہے، جہاں اس طرح کے غیر تخلیقی کام انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے کیے جارہے ہیں۔ جس زمانے میں برطانیہ میں اردو مرکز فعال تھا، اس وقت تو یہ کاروبار پاکستان میں اپنے عروج پر تھا، اب تو شاید کچھ کمی آگئی ہوگی۔ اس وقت لوگ اپنے شوق کی تسکین کے لیے پاکستان سے شعری مجموعے چھپواتے تھے، جبکہ ان کو دو اشعار بھی بحر میں پڑھنا نہیں آتے تھے، ایسے لوگ جب پاکستان آتے، تو دوست یار اعزاز میں محفل بھی منعقد کردیتے، اخبار والے بھی ان کی تشہیر کرتے، تو اس طرح ان کا نام بھی ہو جاتا اور کام بھی۔ بیرون ملک مقیم سب لوگ ناقص نہیں، کئی عمدہ شاعر بھی ہیں، مگر اکثریت کایہی مسئلہ تھا،جو میں نے بیان کیا۔

Baqar Naqvi with Japanese Consul Genreal Mr. Toshikazo Isomura at Karachi

س: برطانیہ میں اردو مرکز کا اردو زبان اور شعروادب کے فروغ میں کیا کردار رہا؟
ج: دنیا بھر میں جوبڑے بڑے ادیب آتے جاتے، تو وہاں لندن وغیرہ میں رکتے اور قیام کرتے، اسی بہانے وہاں اردو زبان میں بڑے اچھے جلسے ہوئے اور کئی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن کی شہرت دور دور تک پھیلی، اردو مرکز سے بڑی معیاری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ صرف پاکستان سے ہی نہیں بلکہ ہندوستانی شعرا اور ادیب بھی وہاں آتے، جن سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں، اگر اردومرکز نہ ہوتا تو شاید ہم ان سے کبھی نہ مل پاتے۔ میں نے اس دور میں روزنامہ جنگ کے لیے ان جلسوں کی روداد لکھنا شروع کی تھی، کافی عرصے تک میں اس طرح لکھتا رہا۔ اب موجودہ صورت حال بالکل خراب ہے، اردو مرکز بند ہوگیا۔ ادبی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

Muslim Shamim, BN, MM, Nasim Syed Prof Memon, Mazher Jameel, Salim Yazfdani at Avari

س: ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ اب نوبیل اعزازات بھی سیاسی بنیادوں پر دیے جاتے ہیں، آپ اردو زبان کے ماہر نوبلیات ہیں، اس حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے؟
ج: میں اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں، البتہ کچھ اعزازات میں حیرت ضرور ہوتی ہے، مثال کے طور پر جب’’بارک اوباما‘‘ کو امن کا نوبیل اعزاز دیا گیا، تو وہ خود حیران تھا، یہ مجھے کیوں ملا۔ اب یہ ضروری تو نہیں، سو فیصد شفافیت ہی ہو، کچھ نہ کچھ کمی تو ہر کام میں رہ جاتی ہے۔ ادب کے شعبے میں بھی کئی اہم نام نظر انداز ہوئے، لیکن نوبیل اکادمی کی بھی تواپنی کچھ شرائط ہیں، جیسے ان کا کہنا ہے، کم ازکم آپ کی تحریریں انگریزی میں یا کسی اسکینڈی نیویائی زبان میں شایع ہونی چاہییں۔

س: آپ کو ایک یوبی ایل ایوارڈ دیا گیا، حیرت انگیز طورپر اس کے کنوینرآپ کے ناشر ہی تھے اور ان کی ہی چھاپی ہوئی کتاب، جو آپ کی تھی، اسے وہ ایوارڈ مل گیا، اس پر ادبی حلقے بھی معترض ہوئے، یہی وجہ ہوئی کہ وہ ایوارڈ کراچی سے لاہور منتقل ہوا، آپ اس صورتحال پر کیا کہتے ہیں؟
ج: میرے ناشر کا کہنا ہے کہ وہ اس ایوارڈ کی جیوری میں شامل نہیں تھے، جسے ایوارڈ کا فیصلہ کرنا تھا، جس میں میری کتاب نامزد ہوئی تھی، اس لیے ان کااس مسئلے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویسے بھی میں اس مسئلے پر اور اس سے زیادہ کہہ بھی کیا سکتا ہوں۔

Baqar Naqvi, Shamsur Rahman Faruqi, Asrar Gandhi, Prof. Inamur Rahman Faruqi

س: آپ نے فرانسیسی ناول نگار ’’وکٹر ہیوگو‘‘ کے ناول کو بعنوان’’مضراب‘‘ دو جلدوں میں ترجمہ کیا، یہ تجربہ کیسا رہا؟ جبکہ یہ بھی ایک طویل اور ضخیم ناول تھا، یہ ترجمے کی چوٹی کیسے سر کی؟
ج: وکٹر ہیوگو یورپ کا مشہور ناول نگار ہے، کئی زبانوں میں اس ناول کا ترجمہ بھی ہوا۔ 1862 میں اس کا انگریزی زبان میں پہلی مرتبہ ترجمہ کیا گیا تھا۔ غور کیا آپ نے ! ایک برس کے اندر ہی انگریزی میں ترجمہ ہو گیا تھا۔ یعنی 365 دنوں میں ڈھائی ہزار صفحات۔ تو کیا اس وقت بھی فرشتے مدد کرنے آئے تھے (ہنستے ہوئے) برطانیہ میں اس کے ناول پر فلمیں بنیں، اس کو ڈرامائی تشکیل دے کر تھیٹر کے اسٹیج پر بھی پیش کیا جاتا رہا۔ آج بھی چل رہا ہے۔ میں نے بہت پہلے اس ناول کو پڑھا تھا، اب جب کچھ فرصت ملی، تو میں نے سوچا، ابھی تک اردو زبان میں کسی مترجم نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا، تو کیوں نہ یہ کام بھی میں کروں، لہٰذا میں اس کو کرنے میں جت گیا اور دل ہی دل میں یہ دعا کرتا رہا، خدا مجھے اس ناول کی تکمیل کی توفیق دے، شکر ہے میری دعا قبول ہوئی۔ اس ناول کا ترجمہ کرنے میں مجھے تخلیقی طورپر بہت لطف حاصل ہوا۔ اس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا، اردو زبان کو اس ناول کے ترجمے کی ضرورت تھی، اسی لیے میں نے یہ ترجمہ کیا۔ اس ناول سے ہم اور ہمارا معاشرہ بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔

س: ایک اچھے مترجم نگار کو کن باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ترجمہ کرنا چاہیے؟
ج: سب سے پہلے جوبات بے حد ضروری ہے، وہ یہ کہ جن دو زبانوں میں وہ کام کر رہا ہے، ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کا، ان دونوں زبانوں پر اسے کامل مہارت ہونی چاہیے۔ کچھ لوگ ترجمہ کرتے ہوئے غیرضرور ی لفظیات کا استعمال کرتے ہیں، وہ بھی ترجمے کی صورت کو بگاڑ دیتا ہے، یااس کے متن سے تاثر زائل کر دیتا ہے۔ ترجمہ ایک باریک کام ہے، جس کو انتہائی احتیاط اور ذمے داری سے کرنا چاہیے، اپنی تخلیق کے ساتھ تو آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں، لیکن ترجمے میں آپ کودوسرے کی تخلیق پر کام کرنا ہوتا ہے اور اس تخلیق کا ایک دائرہ اور حدبندی ہوتی ہے، جس میں رہ کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، آپ اس سے باہر نہیں جاسکتے، اسی لیے میرے نزدیک ترجمہ تخلیق سے زیادہ مشکل کام ہے۔

(Visited 287 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: