“اثبات” کا سرقہ نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 21
    Shares

برصغیر میں اردو کے ادبی جرائد کی تاریخ کم و بیش ڈیڑھ صدی پرانی ہے۔ مشہور ادیب اور دانشور انور سدید نے اپنی کتاب ’’اردو کے ادبی جرائد‘‘ میں لکھاہے کہ انیسویں صدی میں اردو کے پچاس علمی اور ادبی جریدے ایسے تھے جن کے مطالعے سے اس دور کی ادبی روایات کا سراغ ملتا ہے۔ تقسیم سے قبل ہندو پاک میں ان ادبی روایات کو فروغ ملا۔ مخزن، ہمایوں، اردوئے معلی، عصمت، نگار، ادبی دنیا، نیرنگ خیال، عالمگیر، زمانہ، ساقی، شاعر، ادب لطیف، شاہکار اور نیا دور جیسے بے شمار رسائل نے ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے بعد سویرا، سحر، فانوس، کائنات اور پھر ان سب سے بڑھ کر نقوش نے اپنا رنگ جمایا۔ فنون، اوراق، ماہ نو، سیپ، تخلیق جیسے ادبی جرائد کا آغاز ہوا۔ جن میں اکثر اب بھی جاری ہیں۔ بعد میں قومی زبان، صحیفہ، مکالمہ، کولاژ، معاصر، نقاط، لوح، دنیا زاد، آج، اجرا، روشنائی اور ادبیات بھی ادب کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہیں۔

بھارت میں بھی شاعر، شاہراہ، تحریک، سوغات، شعر و ادب، نیا ورق اور شب خون جیسے ادبی رسائل نے ادب کے فروغ میں بھر پور کردار ادا کیا۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب نے شب خون کے ذریعے چالیس سال تک تین نسلوں کو ادب سے روشناس کرایا۔ فاروقی صاحب نے خرابی صحت کے باعث شب خون یادگار چالیس سالہ نمبر کی اشاعت کے ساتھ بند کر دیا۔ نیا ورق کو ساجد رشید کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے شاداب رشید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اشعر نجمی بھارت کے مشہور شاعر اور ادیب ہیں۔ وہ انیس سو ساٹھ میں جمشید پور میں پیدا ہوئے۔ اشعر نجمی نے دو ہزار آٹھ میں ادبی جریدے ’اثبات‘ کا آغاز کیا اور بطور مدیر بھی اپنی دھاک بٹھا دی۔ اثبات نے نقش اول سے ہی منفرد انداز اختیار کیا۔

اس شمارے میں گبریل گارشیا مارکیز، شمس الرحمٰن فاروقی اور پاکستان کے ظفر اقبال اور منشا یاد کی نگارشات شائع ہوئیں۔ اثبات کا نواں شمارہ فیض احمد فیض صدی کی شخصیت نمبر تھا۔ جو فیض پر شائع ہونے والے رسائل کے خصوصی شماروں میں اپنی انفرادیت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ چند سالہ تعطل کے بعد اشعر نجمی نے اثبات کی اشاعت نو شروع کی۔ اس بار منفرد موضوعات پر خصوصی شمارے شائع کر کے اثبات کو پاکستان اور بھارت کے اہم جرائد میں جگہ دلا دی۔ یہی نہیں اشعر نجمی نے علمی و ادبی جریدے’ اثبات‘ کے دو خصوصی شمارے بیک وقت پاکستان اور بھارت میں شائع کر کے ایک نئی روایت بھی قائم کر دی۔ بے شمار تلخیوں اور تنازعات کے ساتھ اس مشترکہ علمی و ادبی شمارے کی دونوں ملکوں میں اشاعت ایک مثبت قدم اور پاک و ہند ادبی روابط کا ’اثبات ‘ہے۔

اثبات کے ’ادب میں عریاں نگاری اور فحش نگاری ‘پر خصوصی شمارے نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ سنجیدہ قارئین اور مشاہیر کے اصرار پر یہ خصوصی شمارہ کئی اضافوں اور نئی تحریروں کے ساتھ پاکستان میں بھی شائع کیا گیا ہے۔

سرقہ نمبر کے ذریعے اشعر نجمی کا ’اثبات‘ ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ اثبات کا یہ ضخیم سرقہ نمبر بیک وقت بھارت اور پاکستان سے شائع ہوا۔ پاکستان میں عکس پبلشرز نے اس بے مثال نمبر کو شائع کیا ہے۔ اس مشترکہ اشاعت کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے ادبی جرائد ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ امید ہے کہ ادبی سطح پر یہ اشتراک دونوں ملکوں کے درمیان اچھے روابط کے فروغ کا بھی باعث بنے گا۔

ادبی سرقہ بازی پر اردو میں بہت کم کام ہوا ہے۔ نصف صدی قبل ’مہر نیم روز‘ نے ’چہ دلاور است‘ کے زیر عنوان مستقل کالم کے تحت مشاہیر کی سرقہ بازیوں کا پردہ چاک کیا تھا۔ مہر نیم روز کی ادبی سراغرساں کی ان کاوشوں کو کراچی یونیورسٹی کے علمی اور ادبی مجلے ’جریدہ‘ نے ایک خصوصی شمارے کی صورت میں شائع کیا تھا۔ اثبات کے سرقہ نمبر علم و ادب کی نامور ادیب و شعراء کی سرقہ بازی کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ جس میں جریدہ کے خصوصی شمارے سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ لیکن کتابی شکل میں چار سو اٹھاسی صفحات کی ضخیم شمارے میں بیشتر نگارشات نئی اور چشم کشاہیں۔ عکس پبلشرز نے اس شمارے کی قیمت دو ہزار روپے رکھی ہے۔ عام قاری کے لیے کافی زیادہ ہے۔ لیکن براہ راست منگوانے پر معقول رعایت بھی قارئین کو دے رہے ہیں۔ یہ ادارے کا مثبت قدم ہے۔

اشعر نجمی نے اس خصوصی اشاعت کو ’چوں کفر از کعبہ برخیزد‘ کا عنوان دیا ہے۔ سرورق پر ’مشاہیر علم و ادب کے سرقوں کا محاسبہ ‘ذیلی عنوان دیا گیا ہے۔ ’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘ کے عنوان سے اشعر نجمی نے اداریے میں اس شمارے کی اشاعت کا مقصد بہت خوبی سے واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کہتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ یعنی ہر انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں خواہ وہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو۔ مذہبی صحائف میں حضرت آدم ؑ اور حواؑ کا قصہ مذکور ہے کہ ان دونوں نے شیطان کے بہکاوے میں آ کر شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کی غلطی کی اور بعد میں اپنی غلطی پر شرمسار ہوئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی، ’’اے پروردگار! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اگر آپ معاف نہیں فرمائیں گے اور ہم پر رحم نہیں فرمائیں گے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ ظاہر ہے کہ اعتراف جرم اور معافی تلافی کے بعد آدم و حوا کے مرتبے میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ ان کی بزرگی میں اضافہ ہوا۔

شخصیت پرستی کا رحجان زمانہ قدیم سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘ جیسے ضرب المثل محاورے اور روزمرہ نے شخصیت پرستی کے فروغ میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ایک ایسی فائر وال ہے، جس نے بزرگوں اور مشاہیر پر تنقید کو ممنوع بنا دیا اور اس بنیادی اصول کو سرے سے نظر انداز کر دیا کہ جو قومیں اپنے بزرگوں کے کارناموں اور غلطیوں کے درمیان تفریق نہیں کرتیں وہ ان غلطیوں کو آہستہ آہستہ اپنے اندر سموتی چلی جاتی ہیں۔ علم و ادب کے شعبے میں تصنیف و تالیف، ترجمہ اور تلخیص اور اخذ و استفادہ کے اصول و حدود متعین ہیں، جنہیں رواداری یا چشم پوشی سے پامال نہیں کیا جا سکتا۔ اسے پامال کرنے والا خواہ بزرگ ہو یا طفلِ مکتب، زندہ ہو یا مردہ؛ قابلِ مواخذہ ہے۔ البتہ بزرگوں اور مشاہیر کی خطائیں اس لیے زیادہ لائق گرفت ہیں کہ ان کے خطرناک اثرات نئی نسل کے اخلاق پر مرتب ہوتے ہیں، جس کی ایک جھلک آج ہم تعلیمی اداروں میں بخوبی دیکھ سکتے ہیں جہاں اس طرح کی جعل سازیوں کا بازار گرم ہے۔ مہرنیم روز کے ادبی سراغرساں سید حسن مثنیٰ ندوی نے سعدی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ بادشاہ اپنی رعایا کے گھر سے مرغی کا ایک انڈہ بھی چوری کر لیتا ہے تو اس کے وزرا و عمال ڈربے کے ڈربے صاف کر جاتے ہیں۔ لہٰذا علم و ادب کا معاملہ صرف ایک انڈے کا نہیں، بلکہ پورے پولٹری فارم کا ہے۔ لغزش بہر حال لغزش ہوتی ہے، جس کی اصلاح تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی تقلید ہرگز نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا یہ خصوصی شمارہ علم و ادب کے حلقوں میں سنسنی پھیلانے کی بجائے شخصیت پرستی سے آزادی، علمی و ادبی سرقوں کی حوصلہ شکنی اور نئی نسل کے لیے نسبتاً بہتر ماحول سازگار کرنے کی جانب ایک پہل ہے۔‘‘

سرقہ نمبر کا پہلا باب ’محاضرات‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں پانچ مضامین میں سرقہ بازی کی مختلف صورتوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔ خالد جامعی کا پہلا طویل مضمون ’سرقے کی روایت تاریخ کی روشنی میں‘ جامعہ کراچی کے علمی مجلے ’جریدہ‘ سے لیا گیا ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ خالد جامعی نے عمر حمید ہاشمی اور سمیہ ایوبی کے اشتراک سے لکھا ہے۔ جس کا تعارف اثبات کے مدیر نے اپنے شذرے میں یوں کرایا ہے کہ ’’زیر نظر مقالہ فارسی، عربی اردو اور یورپی زبان میں سرقوں کی مختصر تاریخ پر مشتمل ہے جو تقریباً ایک سو بیس صفحات پر پھیلا ہوا ہے جسے زیر نظر شمارے میں مکمل شائع کرنا مشکل تھا، لہٰذا اس کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔ چونکہ یہ شمارہ اردو سرقوں پر مبنی ہے، لہٰذا دوسری زبانوں کے سرقوں کو حذف کر دیا گیا ہے، نیز ان بعض اساتذہ کے سرقوں کے نمونے بھی اس لیے حذف کر دیے گئے ہیں، چونکہ انہیں عندلب شادانی کے حوالے سے مقالے میں شامل کیا گیا تھا، جب کہ زیرِ نظر شمارے میں عندلیب شادانی کا اصل مضمون براہ راست شامل اشاعت کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقالے میں شامل کچھ ضمنی مباحث کو بھی ایڈٹ کیا گیا ہے۔ اس مقالے کو کراچی یونیورسٹی پریس کے ڈائریکٹر سید خالد جامعی صاحب (جو اس مقالے کے مرتبین میں بھی شامل ہیں) کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے، جس کیلیے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہم ڈاکٹر صلاح الدین درویش صاحب کے بھی شکر گزار ہیں جن کے توسط سے ہمیں یہ اجازت حاصل ہوئی۔‘‘

اس مقالے میں ادب میں سرقہ بازی کی مکمل تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ جس سے قاری کو سرقہ کی نوعیت اور سرقہ بازوں کے طریقہ کار کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ اپنے موضوع پر بہت معلوماتی اور بھرپور تحریر ہے۔ مقالہ نگار تحریر کرتے ہیں کہ ’’سرقہ، تصرف، افادہ، استفادہ، استفاضہ، اخذ، تقلید، نقل، توارد، یکسانیت، مشابہت، مطابقت، متحدالخیالی، متوازیات، اثر اور امثال۔ سرقہ (نثر و نظم) سے متعلق مباحث علمی و ادبی تواریخ کے خصوصی موضوع رہے ہیں۔ لیکن ان مباحث پر کوئی جامع کتاب کم از کم اردو زبان میں ابھی تک نہیں لکھی گئی۔ مولوی نجم الغنی خان کی ’بحر الفصاحت‘ رسالہ ’الناظر‘ میں شائع شدہ دستاویز ’سرہ کا دور محیرہ‘، ناطق لکھنوی کا مضمون ’سرقہ وتوارد‘ یگانہ کی ’غالب شکن‘ ، پنڈت برج موہن کیفی کا خطبہ ’نظر اور خود نظری‘ اور ’منشورات‘ میں پہلے ایڈیشن پر نوٹ، عندلیب شادانی کے مضامین ’سرقہ و توارد‘ اور ’سرقہ یا چوری‘ ممتاز لیاقت کی ’بکف چراغ دارد ‘، ان مباحث، اصطلاحات اور موضوعات کا جزوی احاطہ کرتے ہیں۔ لیکن ان الفاظ کے مابین بال سے زیادہ باریک فرق کی تفصیلی وضاحت نہیں کرتے۔ ترجمہ سرقے میں شامل نہیں، اگر ترجمے کا اعتراف کر لیا جائے، مگر متقدمین، متوسطین اور اکابرین کسی نے بھی ترجمے کا اعتراف نہیں کیا۔ اگر اخذ و استفادہ یا استفاضہ کا اعتراف کر لیا جائے جیسے اقبال کی بیشتر نظموں کے آغاز میں ملتاہے، تو سرقہ کا داغ دھل سکتا ہے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب داغ کو داغ سمجھا جائے، داغ اور اجلاپن مترادف ہو جائیں تو اعترافِ گناہ بدتر از گناہ ہو جاتا ہے۔‘‘

ایک اور جگہ مقالہ نگار لکھتے ہیں کہ ’’پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ زیر ِبحث شعر حسن و خوبی میں اپنی اصل سے بڑھ گیا ہے یا نہیں؟ اگر بڑھ گیا ہے تو یقیناً قابلِ تعریف ہے، مستحق ملامت نہیں۔ آخر اس نے کچھ تو اضافہ کیا۔ دنیا کی ہر چیز میں ترقی کا یہی اصول کار فرما ہے اور شعر بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔‘‘

سرقہ کے لیے مختلف ادوار میں کیا کیا جواز تراشے گئے۔ ان کا بھی مقالے میں ذکر ہے۔ عظیم شعراء کے کلام اور ادباء کی تحریروں سے سرقہ کے نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ گویا مقالے میں دریا کو کوزے میں بند کر کے پیش کیا گیا ہے۔ عندلیب شادانی کے مضمون ’سرقات اساتذہ‘ کا نام ہی اس کی وضاحت کرتا ہے۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ ’’بادشاہ متغزلین یا دوسرے اساتذہ کی چوری کھولنے سے ہمارا منشا ان کی تنقیص ہرگز نہیں بلکہ یہ دکھانا مقصود ہے کہ غزل گوئی کا دار و مدار جب نقابلی پر ہو گا اور آپ بیتی سے گریز کیا جائے گا تو چوری ناگزیر ہے۔ اسی نقالی نے غزل کے تنگ میدان کو تنگ تر بنا دیا ہے اور ہم غزل گو شعرا سے اکثر یہ شکایت سنتے ہیں کہ کہنے والے سب کچھ کہہ گئے، اب کوئی غزل میں نیا مضمون کہاں سے لائے؟ درحقیقت آج بھی غزل کے لیے تازہ مضامین کی کمی نہیں، بشر طیکہ لکھنے والا آپ بیتی بیان کرے۔‘‘ مضمون میں غالب اور حسرت موہانی سمیت کئی اساتذہ کے کلام میں سرقہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس سے قاری حیران رہ جاتا ہے۔ محاضرات کے دیگر مضامین میں محقق اور دانشور مشفق خواجہ کا ’سرقہ نویسی‘ ، خالد علوی کا ’قصہ کچھ کتابوں کا‘ اور مرغوب علی کا مضمون ’سرقہ، توارد اور استفادہ‘ بھی چشم کشا تحریریں ہیں۔

دوسرا باب ’جراحیات‘ تقریباً تین سو بیس صفحات پر مشتمل ہے اور سرقہ نمبر کا طویل ترین حصہ ہے۔ جس میں شامل اکتیس مضامین میں ادب کے عظیم ترین نثر نگاروں کی سرقہ بازی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ فہیم کاظمی کے مضمون ’محمد حسین آزاد کے سرقے‘ کا عنوان ہی قاری کو ششدر کر دیتا ہے۔ ان کے لیے یہ انکشاف کسی المیہ سے کم نہیں ’’محمد حسین آزاد کی آب حیات میں غلطیوں اور تضادات کی موجودگی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ ان کی تحقیق نہیں بلکہ دوسرے سے مستعاریت جنہیں بغیر چھانے پھٹکے انہوں نے اپنی کتاب میں شامل کر لیا۔ آب ِ حیات دراصل میر قدرت اللہ خاں قاسم کی تالیف ’مجموعہء نغز‘ کا چربہ ہے۔ اگرچہ آزاد نے اس کتاب میں کہیں کہیں حوالہ بھی دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت ساری ایسی معلومات جو قاسم کے ’مجموعہ نغز‘ میں موجود ہے، انہیں بغیر کسی حوالے کے آزاد نے اٹھا لیا ہے۔‘‘ محمود شیرانی لکھتے ہیں کہ ’’ولی اور ناصر علی کے درمیان شاعرانہ تعلی کا قصہ، شاہ مبارک آبرو کے حالات، اشعار متفرق، مکھن پاکباز کا ذکر، شیخ شرف الدین مضمون کا حال اور اشعار، آرزو کا ذکر اور اشعار، آرزو کی بدیہہ شعر خوانی، سودا کے شعر کو حدیث قدسی کہنا، محمد شاکر ناجی کے حالات اور نادر شاہ سے جنگ کے متعلق ان کے خمسے کے دو بند اور متفرق اشعار، شاہ حاتم کے بیشتر اور اشرف علی خان فغان ویکرنگ کے کمتر حالات و اشعار اسی تذکرے سے منقول ہیں۔ سودا کا لطیفہ قائم علی امیدوار کے ساتھ، بقا اللہ خان بقا کے حالات، پیر خان کمترین کا حال اسی ماخذ سے ہیں۔‘‘ اسی طرح آزاد کے مرتب کردہ دیوان ذوق کے مقابل ویران کا مرتبہ دیوان ذوق کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

اس حصہ مضامین میں سید ابو الخیر کشفی نے ’نیرنگ خیال میں خیالِ مسروقہ‘ پیش کیا ہے۔ عبید اللہ نے ’مقدمہ شعر و شاعری کا مقدمہ‘ کے عنوان سے گراں قدر مضمون لکھا ہے۔ سید حسن مثنیٰ ندوی نے ’ترغیبات جنسی نیاز فتح پوری‘ کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ سید حسن مثنیٰ ندوی نے ’مولانا ابو الکلام آزاد سرقے کی زد میں‘ اور عارف گل نے ’دوسروں کی تحریریں اور مولانا ابو الکلام آزاد‘ میں برصغیر کی عظیم علمی اور ادبی شخصیت کی تحریروں کے اصل ماخذ پیش کیے ہیں۔ مہر نیم روز کے ادبی سراغرساں حسن مثنیٰ ندوی کا اصول یہ ہے کہ جن دو کتابوں کو اصل و نقل پاتا ہے، ان کی عبارتیں آمنے سامنے رکھ دیتا ہے اور جا بجا ضمنی طور پر اپنے اندیشے اور امکانات کا اظہار کر کے بیچ سے رخصت ہو جاتا ہے۔ یہی کچھ انہوں نے ابو الکلام آزاد کے ترجمان القرآن اور سید رشید رضا صاحب المنارکی تفسیر المنار کے ساتھ کیا ہے۔ رشید رضا نے مختصر دیباچے کے بعد شیخ محمد عبدہ‘ کا مقدمہ تفسیر بھی مختصر ہی درج ہے، جس میں انہوں نے تفسیر سے متعلق چند ضروری باتیں پیش کی ہیں۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رشید رضا کے دیباچے کی ابتدائی سطروں نے مولانا کو اصول موضوعہ دیدیا۔ اصول ترجمہ و تفسیر کے عنوان سے جو تحریر ان کے قلم سے نکلی، وہ اسی اصول موضوعہ کے گرد گھومتی رہی، اگرچہ جملے کے جملے اس میں شیخ کے ابھرتے رہے۔ تفسیر قرآن میں بھی اتنے بڑے اور جید عالم دین کی سرقہ نویسی عبرت ناک ہے۔

ماہر القادری نے ’نگار کے خدا نمبر کا خدا کون؟‘ میں نیاز فتح پوری کے خدا نمبر کے اصل ماخذ کی نشاندہی کی ہے۔ سید ابو الخیر کشفی نے بابائے اردو مولوی عبد الحق کی سرقہ بازی سے لفظاً نقطاً پردہ اٹھایا ہے۔ علی اکبر قاصد کے دو مضامین میں عصمت چغتائی اور کرشن چندر کی چوریوں کا بھانڈا پھوڑا ہے۔ پہلا مضمون ’عدالت خانم کی عدالت میں عصمت چغتائی‘ اور دوسرا ’کرشن چندر کس درجہ ہوئی عام یہاں مرگِ تخیل‘ کے نام سے ہے۔ ناصر عباس نیر نے ’شبلی نعمانی کی تنقید پر مغربی اثرات‘ اور منیر الدین احمد نے ’مولانا اشرف علی تھانوی کا علمی سرقہ‘ کے عنوان سے مضامین تحریر کیے ہیں۔ منصور آفاق کی تحریر ’فیض احمد فیض، قزاقی کا طوق‘ میں پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض کے اشعار سے سرقہ کی نشاندہی کی ہے۔ انجم رومانی نے ’ابو الیث صدیقی کا سرقہ‘ کے زیرِ عنوان مضمون لکھا ہے۔ فرمان فتح پوری نے ’آل احمد سرور کی کرامتیں‘ میں معروف ادیب کے سرقوں کی نقاب کشائی کی ہے۔ ممتاز لیاقت کے چار مضامین ’بکف چراغ دارد ‘، ’تاریخی ناول اور اس کافن: سید وقار عظیم‘ ، ‘ہنسی کے متعلق، سجاد باقر رضوی‘ اور ’امانت لکھنوی: سید وقار عظیم‘ اس حصے میں شامل ہیں۔

ناصر جمال نے ’سید معین الرحمٰن کا نسخہء مسروقہ‘ میں غالب کے مسروقہ دیوان اور اس کے لیے کی گئی جعل سازی کا دلچسپ قصہ بیان کیا ہے۔ ’’ڈاکٹر سید معین الرحمٰن نے 1998ء میں دیوان غالب کے ایک مخطوطے کو دیوان غالب نسخہ خواجہ کے نام سے مدون کر کے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر سید عبد اللہ نے رسالہ ماہ نو کراچی جولائی 1954ء میں بعنوان دیوان غالب کا ایک نادر قلمی نسخہ ایک مضمون لکھ کر چھپوایا اور ساتھ ہی اس کے پہلے دو صفحات کے عکس بھی۔ 1957ء میں قاضی عبد الودود پاکستان آئے اور پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں یہ نسخہ دیکھا اور اس کے فوٹولے گئے جو بعد میں مولانا عرشی کو بھیج دیے کیونکہ اس زمانے میں وہ دیوان غالب مرتب کر رہے تھے۔ قاضی عبد الودود نے رسالہ نقوش لاہور 1958ء میں اس نسخے کا مختصر تعارف متفرقات کے عنوان سے ایک مضمون لکھ کر کرایا۔ مولانا عرشی کا مرتب کردہ دیوان غالب نسخہ عرشی بھی 1958ء میں چھپ کر آ گیا۔ انہوں نے قاضی عبد الودود کے ارسال کردہ فوٹوؤں سے استفادہ کیا اور اس کو نسخہ لاہور کا نام دیا۔ معین الرحمٰن نے اصول تدوین کی خلاف ورزی کی ہے۔ جبکہ ان کے علم میں یہ بات آ چکی تھی کہ قاضی عبد الودود کا مضمون 1958ء میں چھپا اور مولانا عرشی کا مرتب کردہ دیوانِ غالب نسخہ عرشی بھی اسی سال شائع ہوا۔ دیوانِ غالب نسخہ خواجہ یا نسخہ مسروقہ ہے۔ لیجیے صاحب، تحقیق کی ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹی اور اس میں سے مسروقہ خزف ریزے باہر نکل کر سراغرسانوں کو دعوت تفتیش دینے لگے۔

ناصر عباس نیر کا مضمون ’اردو میں مغربی تنقید کی نصابی کتب ‘بھی بہت عمدہ ہے۔ عمران ناصر بھنڈر نے ’گوپی چند نارنگ کی سچائی‘ اپنے مضمون میں بیان کی ہے۔ توحید تبسم نے ’مرزا حامد بیگ کا مال و متاع‘ تحریر کیا ہے۔ اس حصے کے اختتام پر اثبات کے مدیر اشعر نجمی نے ’مدیر اثبات کا سرقہ ’تھی خبر گرم‘ کے عنوان سے خود پر لگے سرقہ کے الزام کی وضاحت کی ہے۔ طویل مضمون میں اشعر نجمی نے الزام کی تمام تفصیلات اپنی تحریر اور پاکستانی مصنف علی اقبال کی کتاب ’روشنی کم تپش زیادہ‘ کے اقتباسات آمنے سامنے پیش کر کے صورتحال کو واضح کیا ہے۔

اثبات سرقہ نمبر کا تیسرا باب ’مشتے نمونہ از خروارے‘ ہے۔ جس میں اردو کے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہونے والی چند ادبی سرقوں اور جعل سازی کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ گیان چند جین کا ’کچھ جعلی کتابوں کے بارے میں‘ ہماری زبان دہلی سے لیا گیا ہے۔ جس میں مختصراً ادب میں جعل سازی کے نمونے پیش کیے ہیں۔ جیسے عبد الباری آسی نے غالب کے نام سے چھبیس غزلیں تصنیف کیں ان میں سے کچھ کو نگار لکھنئو میں شائع کیا، بعد میں اپنی مکمل شرح کلام غالب صدیق بک ڈپو لکھنئو سے شائع بھی کروائی۔ اسی طرح محمد اسماعیل رسا گوالیاری نے نادر خطوط غالب کے نام سے مجموعہ شائع کیا۔ اس کی قلعی مالک رام نے اپنے مضمون نادر خطوط غالب پر ایک نظر میں کھولی۔ اس حصے میں پاک و ہند کے متعدد رسائل سے کئی مختصر اور جامع تحریروں کا اچھا انتخاب کیا گیا ہے۔

اثبات سرقہ نمبر کا آخری مضمون خورشید قائم خانی کا ’عبد اللہ حسین کا نادار لوگ‘ کے بارے میں ہے۔ خورشید قائم خانی نے خدیجہ گوہر کے انگریزی ناول کا ترجمہ ’امیدوں کی فصل‘ کے نام سے کیا ہے۔ خورشید لکھتے ہیں کہ ’’مجھے ایک صاحب کا خط موصول ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ناول مجھے بہت پسند آیا۔ لیکن ایک بات کے بارے میں آپ سے معلومات کرنی ہے۔ اس موضوع پر ایک ناول عبد اللہ حسین کا نادار لوگ بھی چھپا ہے۔ ان ناولوں میں کئی واقعات میں اس قدر مماثلت پائی جاتی ہے کہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ روشنی ڈالیں گے؟ میں اس بارے میں لکھنے کا سوچ ہی رہا تھا۔ اس خط نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ یہ صحیح ہے کہ بعض اوقات نظم و نثر میں خیالات یا جملوں میں تھوڑی بہت مشابہت ہو سکتی ہے، مگر کسی دوسرے ناول کا تھیم اور اسلوب اٹھانا اور تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ پورا کا پورا چربہ اتارنا جیسا کہ نادار لوگ میں کیا گیا ہے، یہ تو صرف عبد اللہ حسین کے ہاں ملتا ہے۔‘‘

غرض اثبات کا سرقہ نمبر اس موضوع پر مکمل اور جامع شمارہ ہے اور ادبی تحقیق کرنے والوں کے لیے بہت کار آمد ہے۔ ادبی شغف رکھنے والے ہر فرد کی لائبریری میں یہ شمارہ لازمی ہونا چاہیے۔ اشعر نجمی کے اثبات کا ’’سرقہ نمبر‘‘ اور اس کے بعد ’’ادب میں عریاں نگاری اور فحش نگاری‘‘ پر خصوصی شمارہ بھی عکس پبلشرز نے شائع کر کے پاکستانی قارئین کو بھی ان یادگار شماروں سے محظوظ ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اثبات کا اگلا شمارہ ’’احیائے مذاہب، اتحاد، انتشار اور تصادم‘‘ بہت جلد پاکستان اور ہندوستان میں ایک ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ جس کے مضامین کے اقتباسات اشعر نجمی فیس بک پر لگا کر قارئین کے انتظار کی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں۔ امید ہے کہ یہ بھی ایک شاندار شمارہ ہو گا۔ اثبات کے پاکستان سے بھی شائع ہونے سے اردو ادب کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ امید ہے کہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: