متاع شام سفر: کتاب اور صاحب کتاب —– شاہد اعوان

0
  • 22
    Shares

آپ بیتی یا خودنوشت لکھنا اور پھر اس میں ایسا دلچسپ لوازمہ فراہم کرنا کہ مصنف سے ذاتی تعلق نہ رکھنے والا قاری بھی اسے اتنی دلچسپی سے پڑھ سکے کہ کتاب ختم کرنے پر مجبور ہوجائے، ایک مشکل کام ہے۔ سچ پوچھیں تو کسی شریف آدمی کے لئے تو یہ کارِ دارد ہے۔ گل و بلبُل کے قصے ہوں نہ ساغرومینا کی قلقُل، تصویر بتاں کی جگہہ متشرع چہرے والی اپنی ہی تصویر اور حسینوں کے بجائے مولانا مودودی کے خطوط ہوں تو قاری کیوں کر ملتفت ہو۔ ہمارے ممدوح، انور عباسی صاحب نے اس خامی کا دف مارنے کو اپنی ’’جڑیں کھودتے‘‘ ہوئے مقامی ثقافت کے متروک نقوش اور زندگی کے مٹتے رنگوں سے ایسی خوبصورت تصاویر پینٹ کیں کہ ایک غیر محسوس کشش نے کتاب کے حسن کو نامیاتی چاشنی بخش دی۔

ماضی کسی بھی انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ ہوتا ہے، اور ہم مشرق والے تو جیتے ہی ماضی میں ہیں، جدید ترین کار کے سفر کو بھی گاوں کی خچر سواری یاد کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ سو، انور صاحب نے بھی اپنے ماضی کو آواز دی اور ہمارے سامنے تصویر کرکے رکھ دیا۔ قاری کے لئے ٹائم مشین کا یہ سفر دنیا کے کسی بھی سفر سے زیادہ کیف آور ہے۔

قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت موجود متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے مصنف سے صاحب سلامت ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اعداد و شمار سے الجھتا ایک بینکار، تُس پہ مذہبی اور فلسفیانہ مباحث سے اشتغال، اسکے باوجود شگفتہ اور ہر دلعزیز۔ یہ کیسے ممکن ہوتا ہے اور اگر ہوتا ہے تو انکے دیگر ساتھی ایسے کیوں نہیں۔ شاید انہوں نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ مصنف زبان حال سے نہ کہہ رہا ہوتا

جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
تم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میں

عباسی صاحب معیشت دان ہونے کے باوجود انسانی تعلقات کی سماجی سائنس سے اس طور واقف ہیں کہ اپنے خلوص اور فطری سادگی کے باعث لوگوں سے تعلق آخر دم تک نبھاتے ہیں۔ رائج اقدار کے مطابق تو یہ روش سماج کو نہ جاننے کی نشانی ہے مگر انسانی سطح پر زندگی کرنے والے اس نارنگی کے رنگ کو زندگی کا رنگ جانتے ہیں۔ مجھے اسی انور عباسی سے انس ہوا، جونہ جانے کب بڑھتا ہوا محبت کی اقلیم میں داخل ہوگیا۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

حسن ظن اور حسن عمل کے نہات متناسب کلیہ سے معاملت کرنے والے عباسی صاحب اپنی انہی خوبیوں کے باوجود ان خرابیوں سے بچ رہے جو اس کلیہ کے اجزائے ترکیبی کے بگڑ جانے سے اکثر افراد میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ علمی دنیا کے تفردات ہوں یا کلمہ حق بلند کرنے کی نامقبول عادت، انور صاحب کی مدد کو انکی سلیم فطرت موجود رہی۔ زندگی کا سفرنیک نامی اور راست بازی سے طے کیا۔

میرے تاثر کی تائید، زمانہ سازی اور ملمع کاری سے مامون لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ ہاں ایک اور صورت اسکی یہ کہ آپ کتاب کامطالعہ شروع کریں اور بین السطور صاحب کتاب کا۔ مجھ سے اتفاق ہوا تو میں کامیاب اور نہ ہوا تو آپکی کم نصیبی۔

پس نوشت: میں نے یہ تحریر ناشر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عزیز اور بزرگ دوست کو خراج کے لئے لکھی۔ ایسا خراج جو ہمیں اپنے عزیزوں کو انکی زندگی میں ہی پیش کرنا چاہئے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: