ٹیکنالوجی کا چیلنج: اکیسویں صدی کے اکیس اسباق —– یوول نوح حریری

0
  • 133
    Shares

ٹیکنالوجی کا چیلنج
انسانوں کااُس لبرل کہانی پر سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے، جس نے حالیہ دہائیوں میں عالمی سیاست پرحکمرانی کی ہے۔ یہی وہ وقت بھی ہے جب بائیوٹیک اور انفوٹیک کا اتصال سب سے بڑا چیلنج بن کر ہمارے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔

تاریخ کا اختتام ملتوی ہوگیا
حقائق، شماریات، یا تسویہ equation کی نسبت، انسان قصہ کہانیوں کے انداز میں زیادہ سوچتے ہیں، یہ آسان اور بہتر لگتا ہے۔ ہر شخص، گروہ، اور قوم کی اپنی کہانیاں اور دیو مالائی داستانیں ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے دوران، عالمی اشرافیہ نے نیویارک، لندن، برلن، اور ماسکومیں بیٹھ کرتین عالمی کہانیاں وضع کیں، جن میں ماضی کی مکمل وضاحت کا دعوٰی کیا گیا، اور پوری دنیاکے مستقبل کی پیش گوئی کی گئی، یہ کہانیاں ہیں: فاشسٹ کہانی، کمیونسٹ کہانی، اور لبرل کہانی۔ دوسری عالمی جنگ نے فاشسٹ کہانی کا خاتمہ کردیا، پھر چالیس کی دہائی کے اواخر سے اسی کی دہائی کے آخرتک دنیا لبرلزم اور کمیونزم کی دو کہانیوں کا میدان جنگ بنی رہی۔ پھرکمیونسٹ کہانی بھی تمام ہوئی، اورصرف لبرل کہانی واحد مقتدر قوت رہ گئی، جو عالمی اشرافیہ کی نظرمیں، ماضی کی رہنما اور مستقبل کی اٹل قوت خیال کی گئی تھی1۔

لبرل کہانی میں آزادی کی قدر اور طاقت کی بھرپور توانائی ہے۔ یہ کہتی ہے انسانوں نے ہزاروں سال ظالم حکمرانوں کے جبر تلے زندگی بسر کی، جہاں برائے نام سیاسی حقوق، معاشی مواقع، شخصی آزادی تھی، اور جہاں فرد، فکر، اور سامان ضرورت کی نقل وحرکت پر کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ مگر پھر لوگ اپنی آزادی کیلئے لڑے، اور یوں قدم بہ قدم، آزادی حاصل کی۔ ظالم آمریتوں کی جگہ جمہوریتوں نے سنبھال لی۔ فرد معاشی پابندیوں سے آزاد ہوا۔ لوگوں نے متعصب پادریوں اورتنگ نظرروایتوں کے بجائے، اپنے دماغوں سے سوچنا شروع کیا، اور اپنے دلوں کی ماننے لگے۔ سڑکوں، پُلوں، اورہوائی اڈوں نے فصیلوں، خندقوں، اورخاردارباڑوں کی جگہ لے لی۔ لبرل کہانی نے یہ تسلیم کیا کہ دنیا میں سب کچھ اچھا نہیں ہے، اور یہ سب اچھا کرنا ہے۔ ابھی بہت سی رکاوٹیں طے کرنی ہیں۔ ہمیں انسانی حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔ منڈیاں آزاد کروانی ہیں۔ جارج ڈبلیو بش اوربارک اوباما جیسے رہنما تھوڑے بہت فرق سے دنیا کو یقین دلاتے رہے، کہ لبرل سیاسی اور معاشی نظام کو فروغ دینا ہے، عالمگیر بنانا ہے، یہاں تک کہ پوری دنیا میں امن اور ترقی کا بول بالا ہو۔ انیس سو نوے اور دوہزار کی دہائی میں یہ کہانی عالمی منترا بن چکی تھی۔ برازیل اور بھارت تک بہت سی حکومتوں نے لبرل کہانی کا یہ نسخہ اپنایا، اور تاریخ کی اس پیشرفت کا حصہ بننا چاہا۔ جو ایسا کرنے میں ناکام ہوئے، انہیں گزرے ہوئے وقتوں کی بوسیدہ ہڈیاں سمجھا گیا۔ انیس سو ستانوے میں امریکی صدر بل کلنٹن نے چین کواس بات پر لتاڑا کہ وہ لبرل سیاسی اقدار کیوں نہیں اختیار کرتا! وہ (چین) تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا ہے۔

تاہم، سن دوہزار آٹھ کے مالی بحران نے دنیا بھر کے لوگوں میں لبرل کہانی کو مشکوک بنادیا۔ امیگریشن پر پابندیاں لگنے لگیں۔ تجارتی معاہدے بڑھنے لگے۔ جمہوری حکومتیں عدالتی نظام کی آزادی پراثر انداز ہونے لگیں۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی خواب و خیال ہونے لگی۔ ہرقسم کی بغاوت غداری قرار دی جانے لگی۔ روس اور ترکی کے طاقتور حکمرانوں نے لبرل جمہوریتوں کے ایسے تجربے کیے، جو واضح طور پر آمریتیں تھیں۔ آج، ایسے چند ہی لوگ ہوں گے، جو کہہ سکیں کہ چین تاریخ کے غلط رخ پرکھڑا ہے!

برطانیہ میں بریگزٹ ووٹ سال دوہزار سولہ کا اہم واقعہ ہے، یہی وہ سال ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کو امریکا میں عروج حاصل ہوا، یہ دونوں واقعات ایسے تھے، جنہوں نے لبرل کہانی کو مغربی یورپ اور امریکا میں مزید کمزورکر دیا۔ جبکہ چند ہی سال قبل یہی یورپ اور امریکا گن پوائنٹ پرلیبیا اور عراق میں لبرلزم نافذ کروارہے تھے، اب صورتحال یہ ہے کہ کینٹکی اور یارک شائر کے لوگ لبرل وژن کو یکساں طور پر ناگوار اور ناقابل حصول سمجھتے ہیں۔ کچھ نے قدیم روایتی دنیا میں پناہ لی، کچھ نسلی اور قومی وابستگیوں سے چمٹ گئے۔ جبکہ دیگرنے یہ باور کیا کہ لبرل ازم اور عالمگیریت محض اکثریت پراقلیتی اشرافیہ کی حکمرانی کا عنوان ہے۔ ۔ ۔ یوں اچانک دنیا کی کوئی کہانی باقی نہ رہی، یہ ہولناک صورتحال تھی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، بالکل اسی طرح جب سوویت یونین کی اشرافیہ، اور لبرل دنیا کے دانشور نہ سمجھ پائے تھے، کہ تاریخ کس طرح سوچے سمجھے رستے سے انحراف کرگئی! 2 اسے تاریخ کی ناکامی سمجھا گیا، اور سب جیسے آرمیگاڈون کی جانب دھکیلے جانے لگے۔

مچھر مارنے سے لیکر خیالات کچلنے تک
لبرل سیاسی نظام صنعتی دور میں وضع کیا گیا تھا، تا کہ اسٹیم انجن، آئل ریفائنریز، اور ٹی وی سیٹ کی دنیا کا انتظام کیا جائے۔ تاہم آج یہ لبرل سیاسی نظام انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی میں آنے والے انقلابات نہیں سمجھ سکا ہے۔ سیاستدان اور ووٹرز جومشکل ہی سے نئی ٹیکنالوجیز کی کوئی سمجھ رکھتے ہیں، وہ کیسے ان کی حیرت انگیز قوتوں کا اندازہ لگاسکتے ہیں! نوے کی دہائی سے انٹرنیٹ نے دنیا بدل کر رکھ دی ہے، اور یہ انقلاب سیاستدان نہیں بلکہ انجینئرز نے برپا کیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی انٹرنیٹ کے حق میں کوئی ووٹ دیا ہے؟ جمہوری نظام اب تک یہ سمجھنے کی سعی کر رہا ہے کہ کس چیز نے اسے دھچکہ پہنچایا ہے، اوراب تک مشکل ہی سے اس نے مزید دھچکوں سے نمٹنے کی کوئی تیاری کی ہے، جیسے کہ آرٹیفشل انٹیلجنس اور بلاک چین کا انقلاب وغیرہ۔

پہلے ہی کمپیوٹرز مالیاتی نظام کو اتنا پیچیدہ بناچکے ہیں، کہ جسے کم ہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلجنس) میں بہتری آرہی ہے، انسان کی مالی و اقتصادی معاملات میں سوجھ بوجھ کم ہوتی جارہی ہے۔ سوچیے! پھر یہ آرٹیفیشل انٹیلجنس سیاسی نظام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کرے گا؟ کیا آپ ایسی حکومت کا تصور کرسکتے ہیں، جو ٹیکس اصلاحات اور بجٹ کی منظوری کیلیے مؤدبانہ انداز میں ایلگوریتھم (algorithm) کی منظوری کی منتظر ہو؟ اور جب بلاک چین (انفوٹیکنالوجی) کے جوڑے نیٹ ورکس کی صورت میں سارا مالیاتی نظام ہی بدل کر رکھ دیں؟ اس سے بھی بہت زیادہ اہم بات یہ ہے، کہ انفو ٹیک اور بائیو ٹیک کا جڑواں انقلاب معاشیات اور معاشروں کو از سر نومنظم اور تعمیر کریں، یہاں تک کے ہمارے جسموں اور دماغوں کو بھی! ماضی میں انسانوں نے خارجی دنیا پر حکمرانی کی ہے، لیکن داخلی دنیا پربہت ہی کم کنٹرول رہا ہے۔ ۔ ۔ اگر مچھر نیند میں تنگ کریں تو ہم جانتے ہیں کہ کیسے مارنا ہے، مگر کوئی فکر یا خیال نیند اڑادے، تو ہم میں سے اکثرنہیں جانتے، کہ کیسے اس خیال کو کچلا جائے۔ بائیو ٹیک اور انفو ٹیک انقلابات خارجی دنیا کے ساتھ ساتھ داخلی دنیا پر بھی قابو پاسکے گا۔ ہم انسانی زندگی کو انجینئر اور مینوفیکچر کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ ہم جان سکیں گے کہ کس طرح دماغ کو ڈیزائن کرنا ہے، زندگی کی مدت بڑھانی ہے، اور فکر و پریشانی کو کس طرح ختم کرناہے۔ کوئی نہیں جانتا، ان تجربات کے کیا نتائج ہوں گے! ہم آلات کی ایجادات میں بہتر، مگر استعمال میں غیردانش مند رہے ہیں3۔ مگر انجینئرز اور سائنسدان انفو ٹیک اور بائیو ٹیک میں جو انقلاب لائے ہیں، وہ نہ صرف خارجی دنیا پر قابو پاسکے گا، بلکہ انسانوں کی داخلی دنیا بھی بدل کر رکھ دے گا!یہی وجہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت سال دو ہزار اٹھارہ سے خود کوعالمی معاشرتی نظام سے لاتعلق ہوتا محسوس کررہی ہے۔ ۔ ۔ لبرل کہانی عام لوگوں کی کہانی تھی۔ یہ سائی بورگز اور ایلگوریتھم نیٹ ورکس کی دنیا میں کس طرح چل سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ آج انسانوں کی اکثریت لاتعلقی کے بحران میں گھرتی جارہی ہے۔ شاید اکیسویں صدی میں اشرافیہ کے معاشی استحصال کے خلاف بغاوتوں کے بجائے، ایسی اشرافیہ کے خلاف بغاوتیں ہوں، جنہیں لوگوں کی ضرورت ہی نہ رہی ہو، جوان سے بے پروا ہوچکی ہو۔

لبرل فینکس
ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ لبرل کہانی پر اعتماد کا بحران آیا ہو۔ جب سے اس کہانی نے عالمی اثرورسوخ حاصل کیا، یعنی انیسویں صدی کے دوسرے نصف سے، یہ بحرانات کی زد میں رہی۔ لبرلائزیشن اور عالمگیریت کا پہلا دور پہلی عالمی جنگ کے کشت وخون پرہی تمام ہوگیا تھا۔ عالمی طاقتیں لبرل اقدار کے بجائے استعماری پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں۔ سب زیادہ سے زیادہ دنیا پرقبضہ کی دوڑ میں لگ گئے۔ انسانوں نے بدترین قتل وغارت کا مشاہدہ کیا۔ استعماریت کی ہولناک قیمت چکانی پڑی۔ پھر ہٹلرکا عہد آیا، اور فاشزم نا قابل شکست لگنے لگا۔ ۔ ۔ اس مرحلے پر کامیابی بھی محض اگلے محاذ پر لے گئی، پچاس سے ستر کی دائیوں تک ’چی گوویرا‘ جدوجہد کا زمانہ تھا، مستقبل کمیونزم کالگ رہا تھا۔ مگر پھر بالآخر کمیونزم زمین بوس ہوگیا۔ ۔ ۔ لبرل سرمایہ دارانہ نظام نے استعماریت، فاشزم، اور کمیونزم کو شکست دی۔ ۱۹۹۰ تک مغربی مفکرین اور سیاستدان تاریخ کی اس مبینہ تکمیل پر رطب اللسان تھے۔ بڑے اعتماد سے کہا جارہا تھا کہ ماضی کے سارے سیاسی ومعاشی سوالوں کے جواب حاصل کرلیے گئے ہیں، سرمایہ دارانہ لبرل جمہوریت نے انسانوں کی ساری ضرورتیں پوری کردی ہیں۔ تمام حقوق ادا کردیے گئے، تمام سرحدیں کھول دی گئیں، تمام رکاوٹیں ہٹادی گئیں، اور بنی نوع انسان کو آزاد عالمی برادری میں ڈھال دیا گیا ہے۔

مگر تاریخ ختم نہیں ہوئی۔ ٹرمپ مومنٹ آگیا۔ اس بار لبرلزم کا سامنا کسی نظریہ یا کلیہ سے نہیں تھا4، اس بار یہ بحران تباہ کن ثابت ہوا ہے، لبرلزم بے حقیقت ہوکر رہ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو کسی لبرلائزیشن اور عالمگیریت کی پیشکش نہیں کی۔ بلکہ اس نے پیغام دیا کہ دنیا کو کوئی عالمگیر وژن دینا امریکا کا کام نہیں۔ بالکل اسی طرح بریگزٹرز کے سامنے یورپ کے مستقبل کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہیں ووٹ دینے والوں کی اکثریت کا عالمگیریت پر سے ایمان اٹھ چکا ہے۔ بلکہ وہ اس بات کے حامی ہوچکے ہیں کہ سرحدوں پر دیواریں اٹھادی جائیں، تاکہ غیر ملکیوں کا داخلہ روکا جاسکے۔ چین، روس، اسلامی خلافت، اور دیگرنظریات بھی بادی النظرمیں عالمگیریت کی اہلیت نہیں رکھتے۔

اب ہم سوائے اس کہ کچھ نہیں کرسکتے، کہ دنیا کی نئی کہانی تخلیق کریں۔ بالکل اسی طرح، جیسے صنعتی انقلاب نے بیسویں صدی کیلئے نت نئی صنعت و حرفت متعارف کروائی تھیں۔ چنانچہ ہمارے سامنے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیوٹیکنالوجی ہیں، جونئے وژن تشکیل دے رہی ہیں۔ آئندہ چند دہائیاں شاید نئے سیاسی اور معاشرتی نمونے سامنے لائیں۔ کیا اس صورت میں بھی لبرلزم خود کو از سر نو قابل استعمال بناسکے گا؟ جیسا کہ اس نے ۱۹۳۰ اور ۱۹۶۰ کے بعد کیا تھا؟ کیا پہلے سے زیادہ پرکشش ہوسکتا ہے؟ کیا روایتی مذاہب اور قوم پرستی ان سوالوں کے جواب مہیا کرسکے گی، جولبرلزم سے حل نہ ہوسکیں گے؟ اور کیا یہ قدیم علم و دانش کے سہارے کوئی نیا تصور جہاں پیش کرسکیں گے؟ یا پھر وقت آگیا ہے کہ ماضی سے یکسر تعلق توڑ دیا جائے، اور بالکل نئی کہانی لکھی جائے، جو نہ صرف پرانے خداؤں اور اقوام پرستی سے ماورا ء ہوں، بلکہ آزادی اور برابری کی جدید اقدار سے بعید تر بھی ہوں؟

اس وقت، بنی نوع انسان ان میں سے کسی بھی سوال کے جواب پراتفاق رائے سے محروم ہے۔
پھر اگلی کہانی کیا ہوگی؟ سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے، کہ خوف اور بے یقینی کی حالت سے نکلا جائے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بائیو ٹیکنالوجی کا جڑواں انقلاب ابتدائی مرحلے میں ہے، اور یہ بھی فی الحال متنازع فیہ ہے کہ لبرلزم کے موجودہ بحران میں اس کا کتنا کردار ہے۔ آج بھی برمنگھم، استنبول، ممبئی، اور سینٹ پیٹرس برگ میں اکثر لوگ آرٹیفیشل انٹیلجنس اور اس کے انسانی زندگیوں پرگہرے اثرات سے واقف نہیں ہیں۔ یہ بھی یقینی ہے کہ آئندہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجیکل انقلابات ظاہر ہوجائیں گے، اور بنی نوع انسان کیلئے اب تک کی سب سے بڑی آزمائشیں لائیں گے۔ اب انسانوں میں وہی کہانی چل سکے گی، جو انفو ٹیک اور بائیو ٹیک کا مقابلہ کرنے کی اہل ہوگی۔ اگر لبرلزم، قوم پرستی، اسلام، یا کوئی بھی نیا عقیدہ یا نظریہ ۲۰۵۰ کی نئی دنیا تشکیل دینا چاہے گا، تو اس کیلیے نہ صرف یہ ضروری ہوگا کہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، بگ ڈیٹا ایلگوریتھم، اور بائیو انجینئرنگ کی سمجھ بوجھ حاصل کرے بلکہ انہیں ایک بامعنی بیانیے میں ڈھال بھی سکے۔

درپیش ٹیکنالوجیکل چیلنج کی نوعیت سمجھنے کیلئے، شاید بہترین آغاز روزگار کی منڈی ہوگی۔ کیونکہ ٹیکنالوجیکل انقلاب شاید اربوں انسانوں کو بے روزگار کردے گا، اور ایک بہت بڑا بے کار طبقہ وجود میں لے آئے گا۔ جو بہت بڑے سیاسی اور معاشرتی وسماجی بحران کا سبب ہوگا، جس سے نبٹنے کیلیے اس وقت کوئی نظریہ تیار نہیں۔ اس وقت ٹیکنالوجی اور نظریہ کی یہ بات عجیب اور موجودہ حالات کے سیاق و سباق سے باہر محسوس ہو، مگر درحقیقت اس وقت درپیش خدشہ ممکنہ بیروزگاری کا ہے، جس سے کسی کو بھی استثنٰی حاصل نہ ہوگا۔

————

حواشی
۱۔ ’’ ایک وقت وہ آئے گا جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لئے پریشان ہوگا۔ سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لئے لرزہ براندام ہوگی۔ مادّہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونیورسیٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا۔ نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی۔ اور یہ آج کا دور صرف تاریخ میں ایک داستانِ عبرت کی حیثیت سے باقی رہ جائے گا۔ ‘‘(شہادت حق، سید ابوالاعلیٰ مودودی، 30 دسمبر1946)‘‘

۲۔ اشارہ جہاد افغانستان میں سوویت یونین کی شکست پرکریملن کی نظریاتی کمزوری اورلاچارگی، اور اس کے بعد تاریخ کے اختتام کی خام خیالی، اورپھر تہذیبوں کے تصادم کی جانب ہے۔

۳۔ انتہائی خوفناک اورغیر انسانی صورتحال ہے۔ پروفیسر ہراری نظریہ ارتقاء کے بھرپور معتقد ہیں، اورمستقبل کی ممکنہ تاریخ پر اپنی کتاب Homo Deus کے نئے انسانی ایجنڈے میں اس پر تفصیل سے اپنا تصور انسان پیش کرچکے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ نشہ آور ادویات انسانی کے روحانی ونفسیاتی مسائل میں معاون ومددگار ہوں گی۔ امریکی سی آئی اے پوسٹ ٹراما اسٹریس کے مریض فوجیوں پرایسی ادویات استعمال کرتی رہی ہے، اس کے علاوہ خود کش حملوں کیلیے نشہ آور انجیکشن کا کثرت سے استعمال سامنے آچکا ہے۔ پروفیسر ہراری جسے بائیو ٹیک انقلاب فرمارہے ہیں، یہ انسانی تہذیب کیلئے زہر قاتل ہے۔ یہ زہرمغرب اور مغرب زدہ دنیا میں عام ہورہا ہے، خودکشی اورنفسیاتی بیماریاں تیزی سے بڑھتی جارہی ہیں۔ انسانوں کی مجموعی فلاح بائیو ٹیک کی منفی سرگرمیوں سے انتہائی محتاط رہنے میں ہے۔

۴۔ پروفیسرہراری کا یہ دعوٰی درست نہیں۔ جس ٹیکنالوجی کے انقلاب کی یہ بات کررہے ہیں، اس کی جڑیں خالص سائنس پرستی اور نظریہ ارتقاء میں گہری ہیں، یوں یہ مادہ پرستی کی وہ بدترین صورت ہے، جس میں عالمی اشرافیہ کے استعماری اور استحصالی عزائم واضح ہیں، طویل عرصہ سے جدید ترین ٹیکنالوجی مسلسل تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری پرکام کررہی ہے۔

ترجمہ وتلخیص: ناصر فاروق

دوسرے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حضہ کیجے۔

تیسرے باب کا ترجمہ و تلخیص اس لنک پر ملا حضہ کیجے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: