ہم تحقیق و ایجاد سے دور کیوں ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فارینہ الماس

0
  • 63
    Shares

سگمنڈ فرائیڈ نے دنیا میں پھیلائی گئی منافرتوں اور جنگوں کی وجوہات، انسان کی نفسیات اور جبلت میں تلاش کیں۔ اس کے خیال میں دنیا میں رونما ہونے والی بے انت و بے حساب تباہی، نفرت و انتقام کے خونی کھیل ، وحشی درندوں جیسے دیگر انسانی افعال دراصل انسان ہی کی فطرت میں چھپی تخریبی جبلتوں کا عکس ہیں۔ جن کا وہ کسی نہ کسی طور اظہار کرتا ہی چلا آیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ سماجی و تہذیبی قدغنیں انسان کی جبلتوں کو دباتی ضرور ہیں لیکن وہ جبلتیں مرتی نہیں بلکہ کبھی نہ کبھی موقع پاکر اپنا اظہار کسی نہ کسی رنگ میں کر ہی دیتی ہیں۔

جبلت کو قابو میں رکھنے کے لئے ہی انسان کا اپنی عقل و دانش پر عبور حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ جبلی خواہشات اندھی خواہشوں کا روپ دھار کر انسانی تہذیب کو ملیامیٹ نہ کرسکیں۔ ورنہ یہی اندھی خواہشیں بعد ازاں انسانی فطرت کو تخریبی اظہار پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تخریبی اظہار کو روکا کیسے جائے تو اس کے لئے اہم یہ ہے کہ انسان کو اس کی فطرت کا تخلیقی اظہار سکھایا جائے۔ معاشرے کو تخلیقی اظہار کے مواقع علم کی وساطت سے ہی عطا کئے جاتے ہیں ۔ علم ہی انسان کو شعورو آگہی عطا کرتا ہے خدا نے انسانی معاشروں کو راہ راست پر لانے کے لئے اپنے نبیوں اور پیغمبروں کے وسیلے سے عم و شعور اور آگہی کو ہی پھیلایا۔

انسان کی فطرت کے تخلیقی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لئے، علم کے ذریعے اس کے اندر موجود مثبت قوتوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہی مثبت قوتیں ایک طاقت بن کر انسانوں کو باہمی پیار محبت اور ہم آہنگی کے رشتے میں جوڑتی ہیں ۔ورنہ انسانی معاشرہ جنگل کی طرح وحشت انگیز واقعات و حادثات کا شکاربن کر رہ جائے۔ تہذیب صحتمند رہے گی تو انسان کے اندر موجود جبلتیں نا آسودہ نہیں رہیں گی، جبلتیں جب تخلیقی روپ اختیار کریں گی تو معاشرہ اختراع و ایجاد اور دریافت کی راہوں پر چل پائے گا۔ جس سے سماج سوچ و خیال کی بدعتوں اور فرسودگیوں سے نکل کر روشن خیالی کی طرف اپنا سفر شروع کر پائے گا۔ انسانی رویے اور طور طریقے بھی جدت آمیز ہو پائیں گے ۔

یہی وجہ ہے کہ مہذب قومیں معاشرہ سازی کے اس عمل کے لئے اپنی افواج سے کہیں ذیادہ اپنے تعلیمی اداروں، تعلیمی نظام اور اپنے اساتذہ پر یقین کرتی ہیں تا کہ ریاست کا دفاع اندرونی محاذوں پر ممکن ہو سکے اسی سے ہم میں وہ اخلاقی جرائت پیدا ہوتی ہے جس کی بنا پر ہم دنیا کے عالمی نظام میں باعزت طور پر جی پاتے ہیں۔

قوم کی تشکیل سازی میں علم کا بڑا کردار سوچ اور رویے میں تحرک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فرد کو عزت نفس کی حفاظت کرنا بھی سکھانا ہے تا کہ ہر فرد پوری ایمانداری و سچائی سے انتہائی درست طریقے سے اپنا کام کرتا رہے اور معاشرہ و ریاست ترقی کر سکے۔

تعلیم جب تخلیق و ایجاد کے راستوں پر چل نکلے تو کسی بھی معاشرے کو پستی کے اندوہ سے نکلنے کی قدرت عطا کر سکتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر وحشیانہ ہتھیاروں کے استعمال سے چشم زدن میں لاکھوں انسانوں کے وجود کی دھجیاں اڑ جانے کے واقعات سے کون واقف نہیں۔ جہاں انسانوں کے علاوہ وہاں موجود ہر عمارت، سکول، ہسپتال گھر بار تباہ و برباد ہو چکا تھا وہیں پوری قوم کے حوصلے بھی اس سانحے سے نیست و نابود ہو گئے تھے لیکن آخر کس طور یہ کٹی پھٹی قوم اک بار پھر سے مجتمع ہوئی؟۔ ان کا کہنا ہے ”ہماری از سر نو تعمیر اور ترقی میں ہمارے اساتذہ کا کردار سب سے اہم رہا۔ “جب امریکہ نے جاپان کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تو جاپانی بادشاہ نے اپنے تقدس و ناموس کو امریکی جنرل کے سامنے سرنگوں کرتے ہوئے بس اتنی استدعا کی کہ آپ ہماری معیشت، سیاست اور دیگر ہر شے پر بے شک قابض ہو جائیں صرف ایک شعبے پر ہماری دسترس قائم رہنے دیں اور وہ شعبہ تھا ”شعبہء تعلیم“۔ ٹوکیو کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور انہی اداروں کے فارغ التحصیل بیوروکریٹس نے جاپان کی ازسر نو تعمیر کا بیڑہ اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری تعلیم کی بنیاد قوم کی عزت نفس کی بحالی کے وصف پر رکھی گئی۔ انہوں نے نا صرف اس اصول پر چلتے ہوئے خود اپنی عزت کرنا سیکھا، بلکہ دوسروں سے بھی اپنی عزت کروائی۔ تعلیم ہی نے انہیں ٹیکنالوجی اور ترقی کی راہ پر ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تعلیم اور استاد دونوں ہی کی بہت عزت کرتے ہیں۔ وہاں کہاوت ہے کہ ”جاپانی طالبعلم اپنے استاد کے سائے پر بھی پاؤں رکھنا ان کے تقدس کے خلاف سمجھتے ہیں“ آج وہ ترقی کے سفر میں کہاں کھڑے ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اپنے زندہ و جیتے جاگتے شہروں کی نیست و نابودی کا ماتم کرنے یا کئی سالوں تک سوگ منانے کی بجائے جس طرح اپنی معیشت کو سنبھالا دیا اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی یہ قابل تعریف بھی ہے اور قابل تقلید بھی ۔ملک کو صنعتی ترقی کے رستے پر ڈالنے کے لئے ریسرچ لیبارٹریاں قائم کیں۔ ملٹری سے سویلین پراڈکٹس پر بھرپور کام کیا۔ 1959ء میں جاپان بحری جہاز تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا 1985 میں ایک کروڑ بائیس لاکھ ستر ہزار گاڑیاں سالانہ تیار کر کے موٹر سازی کی صنعت میں اول درجے پر آ گیا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بہت ہاتھ ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ تعلیم کی دین ہے اور جب معاشرے میں تعلیم اور استاد اپنا بہترین کردار ادا کرتا ہے تو نا صرف ٹیکنالوجی کی ترقی سے معاشرے کی معاشی پسماندگی ماند پڑتی ہے بلکہ معاشی و سماجی مسائل حل ہو جانے سے انسان کے رویوں اور طرز زندگی پر بھی واضح تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ صحت کے مسائل میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ غربت کا درجہ کم ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جو انسانی معاشرے کے کئی مسائل سے لڑنے میں کام آتا ہے اور معاشرتی رویوں سے دہشت و وحشت دونوں ہی کا تدارک ہوتا ہے۔ جاپان، ساؤتھ کوریا، چین اور انڈونیشیا تک نے اپنے مسائل کا حل اسی طریقہء کار میں ڈھونڈا اور آج وہ ریسرچ اور ایجاد میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔

آج کے جدید دور میں ترقی کا سیدھا سادہ فارمولہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ترقی ہے۔ یہی طریقہ کسی بھی ملک میں ترقیاتی پالیسیوں اور معیشت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں اس پر توجہ دی جا رہی ہے وہاں تحقیق کا ایک نیا کلچر متعارف ہو رہا ہے جو انسان کے بہت سے طبی و صنعتی کے ساتھ ساتھ ،جذباتی، اقداری اور سماجی مسائل کا بھی حل ہے۔ اگر تحقیق ہو گی تو سائنس کے ساتھ ساتھ آرٹ اینڈ کلچر کے شعبوں میں بھی جدت آئے گی اور معاشرے کا حسن بحال ہو گا۔ دنیا تحقیق کے شعبے میں آنے والے دنوں میں ربوٹک ٹیکنالوجی کا ایک نیا کلچر متعارف کروانے جا رہی ہے ۔ جو ایجاداتی طور پر ایک حیرت انگیز دور ہو گا۔ چین، امریکہ اور جرمنی جیسے ملکوں میں ریسرچ پر اپنے جی ڈی پی کا دو فیصد جب کہ جاپان اور تائیوان میں تین فیصد اور ساؤتھ کوریا اور اسرائیل میں چار فیصد حصہ خرچ کیا جاتا ہے۔ ان ملکوں میں تحقیق کی بنیاد پر ہی تعلیم کی تنظیم کی جاتی ہے۔

تیسری دنیا یا ترقی پزیر ملکوں کی صورتحال خاصی مختلف ہے۔ افریقہ و ایشیا بھی تعلیم و تمدن کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے بحران کا بھی شکار ہیں۔ بات کی جائے اگر مسلم دنیا کی جو دنیا کے 57 ملکوں پر محیط ہے اور دنیا کی کل آبادی کا تقریباً25 فیصد حصہ ان ملکوں میں آباد ہے۔ یہاں مہنگائی، بیروزگاری، افلاس اور غربت نے اپنے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ کیونکہ ذیادہ تر ممالک وہ ہیں جنہیں جنگی حالات کا سامنا ہے یا وہ ماضی میں جنگوں سے نبرد آزما رہ چکے ہیں اور اگر کچھ ملکوں کی صورتحال مختلف ہے تو وہ ماضی میں ایک طویل مدت تک سامراجی نظام کے عذاب جھیل چکی ہیں جس کی وجہ سے وہ آج تک اپنے آزادانہ سیاسی و معاشی نظام کے حصول میں ناکام ہیں ۔جہاں عدم استحکام نے اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں اور جو باقی کچھ بچ رہنے والی عرب ریاستیں معاشی طور پر خود انحصار اور مستحکم دکھائی دیتی ہیں وہ بھی اسی مشترکہ بحران یعنی سائنس اور ٹیکنالوجی کی پسماندگی میں مبتلا ہیں۔ گذشتہ دنوں ایکسپریس ٹریبیون میں چھپا ایک آرٹیکل why science and technology is on decline in Muslim world ? نظروں سے گزرا جس میں سہیل یوسف صاحب نے 2016 میں مسلم دنیا کی یونیورسٹیوں کی ٹاسک فورس کی شائع شدہ رپورٹ، جس کا ذکر اسلامی سربراہی کانفرنس میں بھی کیا گیا تھا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلامی ملکوں سے اب تک صرف تین سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام جن کا تعلق پاکستان سے رہا فزکس میں 1979 میں، پروفیسر احمد زی ویل جن کا تعلق مصر سے تھا 1999میں کیمسٹری میں،عزیز سنکار ترکی سے 2015 میںکیمسٹری میں نوبل انعامات حاصل کرپائے ہیں اور ان تینوں کو ہی اپنے جس کام پر ایوارڈ دئیے گئے وہ کارنامے انہوں نے اپنے اپنے ملک سے باہر رہ کر سرانجام دیئے ۔ اس آرٹیکل میں یہ بھی لکھاگیا ہے کہ مسلم دنیا میں گلوبل اکیڈیمک پبلیکیشنز کا صرف چھ فیصد حصہ پبلش ہوتا ہے۔ مسلم دنیا اپنے جی ڈی پی کا صرف 0.5ریسرچ پر خرچ کرتی ہے۔ دیکھا جائے تو اسی نالائقی کی وجہ سے ناصرف مسلم دنیا میڈیکل سائنس اور دیگر ٹیکنالوجیز میں بلکہ اپنے مفادات و سیاسی معاملات میں بھی ترقی یافتہ ملکوں کی دست نگر ہے۔

اگر پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہاں جی ڈی پی کا ایک فیصد بھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر خرچ نہیں کیا جاتا ۔ہماری حکومتی ترجیحات میں کہیں بھی تحقیق و ایجاد شامل ہی نہیں۔ یہاں ریسرچ لیبارٹریاں اور ریسرچ کے مواقع انتہائی نا مناسب ہیں اور جو لوگ ایسی خواہش رکھتے بھی ہیں ،تو انہیں کسی خاطر میں لایا ہی نہیں جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں بھی فطرت کو مسخر کرنے کی بجائے فطرت سے خوف ذدہ اور ڈرے سہمے رہنے والے لوگ ہیں۔ جب کہ بقول علامہ اقبال ”خدا،انسان اور کائنات کے اسرارو رموز علم کی کنجی سے ہی کھلتے ہیں“۔ ہمارا تعلیمی نظام ریسرچ اور تحقیق کی ضرورت کو پورا کیا کرے گا جہاں کتابوں کا معیار ،تدریسی عمل اور اساتذہ تینوں ہی ریسرچ کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہاں کتابیں مقدار میں بھاری ہیں لیکن معیار سے عاری ہیں ۔ اساتذہ کی اکثریت طلبہ کو سوال اس لئے نہیں کرنے دیتی کہ کہیں خود ان کی نالائقی کا راز فاش نہ ہو جائے اور اگر استاد کو طلبہ کے کسی سوال کا جواب معلوم بھی ہو تو وہ اسے طلبہ تک ان کے لیول پر آکر سمجھانے سے قاصر رہتا ہے۔تحقیق کے راستے میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اساتذہ اپنی معلومات کو بہت کم ہی اپ ٹو ڈیٹ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے مضامین سے متعلق دنیا میں چھپنے والے معیاری اور جدید ریسرچ آرٹیکلز تک کو پڑھنا گوارہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ اپنے فرسودہ علم اور معلومات کو ہی نسل در نسل منتقل کئے جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طلبہ کی سوچ و فکربھی رک جاتی ہے۔ وہ دنیا کے بڑے اداروں میں موجود طلبہ کی نالج کا مقابلہ بھی کر پانے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا مطلب صرف ہتھیار بنانے تک ہی محدود ہے ۔سوشل اکنامک ترقی یا طب میں نئی دریافت یا ماحولیات کے تحفظ کے بارے نئی ریسرچ سامنے نہیں آتی۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ہی بچے میں دریافت کرنے یا جاننے کی فطری خواہش کو مارڈالتا ہے۔بچہ ہر وہ شے سیکھنا اور سمجھنا چاہتا ہے جسے سیکھ کر وہ اپنی جبلت کے تخلیقی پہلو کی تسکین کر سکے۔گویا علم کے تخلیقی ،تحقیقی ،اور تدبیری پہلو اس کی فطرت میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں وہ ان کی جستجو کرتا ہے اور اس کی اس جستجو کی تسکین تعلیم سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ بچے کو کس شے کی جستجو ہے اور کس قدر جستجو ہے اسی سے اس کے فطری میلان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور یہی اندازہ اس کے لئے تعلیمی موضوعات کے چناؤ میں مددگار ہوتا ہے ۔ یہاں تو ایسا کوئی اصول ہی نہیںکہ بچے کے مزاج و طبیعت یا دلچسپی کو جانچتے ہوئے اسے تعلیم فراہم کی جائے۔وہ طالب علم علوم و فنون کی تخلیق و تحقیق کیا کرے گا جس کی مخفی صلاحیتوں کی جانچ کئے بغیر ہی گدھے کی طرح اس پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔ اس نظام میں سب طلبہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا اصول رائج ہے ۔اور اگر وہ کسی مضمون میں عدم دلچسپی کے سبب کم کارکردگی دکھانے لگے تو اسے اس کی نالائقی و کم مائیگی کا ذمے دار ٹھہرا کر طعن و تشنیع کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اس کے رحجان ،ضروت یا استعداد و استطاعت سے ہٹ کر کچھ اس کے دماغ میں ٹھونسا جائے گا تو نتائج وہی برآمد ہوں کے جو ہمارے تعلیمی نظام میں عموماً سامنے آتے ہیں۔بچہ بد دلی اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر یا تو تعلیم سے ہی بددل ہو جائے گا یا پھر گھسٹ گھسٹ کر تعلیمی مدارج تو عبور کر لے گا لیکن عملی زندگی میں اپنی کارردگی دکھا نہ سکے گا ۔بات یہ ہے کہ ریسرچ یا ٹیکنالوجی کی ترقی کی طرف آنے سے بہت پہلے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی بنیادی خامیوں سے نپٹنا ہوگا ۔

استاد کا فرض ہے کہ وہ مبلغ بن کر اپنے طالب علم کے دماغ میں علم ٹھونسے اور اپنے علم کی اس پر دھاک بٹھانے کی بجائے اسے غور و فکر کے مواقع فراہم کرے تا کہ وہ کھلے دل و دماغ سے ہر شے کا ادراک کر سکے اور دنیا کا اپنی نظر سے جائزہ لے سکے۔ وہ اپنا نظریہ قائم کرنا سیکھے گا تو تحقیق کے راستے پر چل سکے گا۔ اسی صورت اس کے لئے تعلیم ایک ناخوشگوار بوجھ بھی نہیں رہے گی۔ استاد اپنے طلبہ کو وہ ذہنی معیار دے جس کے تحت وہ عقلی دلائل قائم کرنا اور سمجھنا سیکھیں ،وہ چیزوں کے بارے میں اپنے ڈھنگ اور طریقے سے سوچیں اور تفکر کریں۔اس کے لئے بنیادی شرط استاد کا اپنے شاگردوں سے ایک خاص روحانی تعلق قائم کرنا ہے ،تاکہ ان کی کونسلنگ بھی ہو سکے جس سے وہ اپنے شخصیتی ہیجان اور اضطراب کو ختم اور اپنی ذہنی و فکری کارکردگی کو بڑھا پائیں۔انہیں اپنی ذات کا وہ اعتماد حاصل ہو جو انہیں ان کی اہلیت پر بھی اعتماد سکھا سکے اور وہ کوئی اچھوتا کام کر سکیں ۔ پھر یہاں بھی طلبہ استاد کو جاپانی قوم کی طرح ایسا تقدس دے سکیں گے کہ ان کے سائے کا بھی احترام کیا جائے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: