مس فروری ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

0
  • 14
    Shares

(ایک نسبتاً چھوٹے قد کی خاتون، جس نے پیلے رنگ کا ایسا لباس پہنا ہوا ہے جو اس کے جسم پر کم پڑ رہا ہے۔ سر پر اس کے پتنگ نما ماڈرن ہیٹ ہے، پس منظر میں ’’کہ دل ہوا بو کاٹا‘‘ کی مدھم دھن چل رہی ہے۔ خاتون کا گیٹ اپ بھی اس کو کم عمر ثابت کرنے کی چغلی کھا رہا ہے۔ کچھ دیر وہ کسی گرائونڈ یا چھت پر ہنستی کھیلتی، رقص کے انداز میں اٹھکیلیاں کرتی اور پتنگ اُڑاتی دکھائی دیتی ہے ۔۔۔۔۔ پھر اچانک کچھ سوچتے ہوئے کلائی کی گھڑی پہ نظر کرتی ہے۔ ٹائم دیکھ کر حیرت اور تفکر آمیز انداز میں کندھے اچکاتی ہے اور جلدی جلدی زمین پہ اپنا پرس تلاش کرنے لگتی ہے۔ ایک بڑا سا پرس کندھے پر ڈال کر چلنے لگتی ہے کہ ایک نوجوان ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا گلدستہ تھامے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے اور دونوں کے درمیان یوں مکالمہ ہوتا ہے۔)

’’اچھا بھئی میں تو چلی‘‘
’’اتنی جلدی‘‘ (نوجوان نے حیرت، اشتیاق اور خفت کے ملے جلے انداز میں کہا)

چلنے والے نکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا کچل گئے ہیں

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی

(نوجوان شعر کا جواب شعر سے دینے کی کوشش کرتا ہے)

’’تمہیں اپنی آنیوں جانیوں سے فرصت ملے تو ملاقات کی نوبت آئے ناں‘‘
’’میری آنیاں اور جانیاں سب تمہارے لیے ہیں مس فروری‘‘

’’زیادہ ملکہ ترنم بننے کی کوشش نہ کرو جو ہر کسی کو کہتی پھرتی تھی (گاتے ہوئے) میرے نغمے تمہارے لیے ہیں۔‘‘
’’میری محبت کا یوں مذاق نہ اُڑائو فرو۔‘‘

’’کیا کہا؟ ’فرو‘ خوب! یہ تمہیں جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنے کی اجازت کس نے دی؟‘‘
’’محبت نے مس فرو! میری بے پایاں محبت نے۔‘‘

’’محتاط اندازے کے مطابق اسی جملے کی دھول اب تک کتنی لڑکیوں کی آنکھوں میں جھونک چکے ہو؟‘‘
’’میرا پیغامِ محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘

’’تم یوں کرو کہ سماجی بہبود کے کسی محکمے میں ملازمت کر لو اور میری جان چھوڑو‘‘
’’مجھے یہاں کس کے سہارے چھوڑے جا رہی ہو؟‘‘

’’سہارے وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کے پاس کرنے کو کچھ نہ ہو‘‘
’’یقین جانو مجھے بھی محبت کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔ غلام محمد قاصر نے میرے لیے ہی تو کہا تھا۔‘‘

کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

’’یہ بھی تمہاری خوش فہمی ہے ویلن ٹائنے! محبت میں بھی تم نے کون سا تیر مار لیا ہے؟‘‘
’’دیکھو میں تمہارے لیے سرخ گلابوں کا گلدستہ نہیں لے کے آیا؟‘‘

’’محبت کے اظہار کے لیے تو ایک پھول ہی کافی ہوتا ہے مسٹر ۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اگر بروقت مل جائے‘‘
’’بات یہ ہے مس فری‘‘

’’فری نہیں فروری‘‘
’’وہی وہی!! اصل میں مَیں آپ کو بتانا یہ چاہ رہا تھا کہ میں گھر سے نکلا تو چودہ فروری ہی کو تھا۔ سرخ گلاب کے حصول کے لیے بازار گیا تو وہاں ایک گلوکار زور و شور سے گا رہا تھا۔

سرخ گلاباں دے موسم وچ پُھلاں دے رنگ کالے

وہاں پہ مجھے کسی نے بتایا کہ اگر آپ کو سرخ پھولوں کی تلاش ہے تو وہ آپ کو شمالی علاقہ جات میں پاکستان کی جنت نظیر وادیوں میں ملیں گے۔ میں بھاگا بھاگا شمالی علاقوں میں گیا۔ وہاں مجھے سرخی تو نظر آئی لیکن پھولوں میں نہیں، چلتے ہوئے بارود، جلتے ہوئے مکانات اور بہتے ہوئے خون میں۔ میں وہاں سے بھی ڈر کے بھاگا۔ پھر میں ایک کمیونسٹ کہ جو ہمارے محلے میں ’’سرخا‘‘ کے نام سے مشہور تھا، کے ذاتی باغیچے سے یہ پورا گلدستہ چرا کے لیا ہوں مس فروری۔‘‘

’’میں نے کہاں ناں کہ محبت کے اظہار کے لیے تو ایک گلاس بھی کافی ہوتا ہے۔ تم یوں کرنا کہ اتنے سارے پھولوں سے گلقند تیار کروا لینا، جس کے استعمال سے تمہیں خبط کے اس مرض سے نجات بھی مل جائے گی۔‘‘

’’تم ذرا ان پھولوں پہ غور تو کرو کیسا دہکتا ہوا رنگ ہے۔‘‘
’’محبت میں پھولوں کی نہیں دل کی سرخی دیکھی جاتی ہے لڑکے۔‘‘

’’میرے دل کی بھی تلاشی لے لو رنگوں سے لبا لب بھرا ہوا ہے۔‘‘
’’پھر ایسا کرو کہ بانو بازار میں دوپٹے رنگنے کی دُکان کھول لو اور مجھے اجازت دو۔‘‘

’’پلیز اتنا بڑا ظلم نہ کرنا۔ میری خاطر کچھ دن اور رُک جائو۔‘‘
’’میں اٹھائیس دن تمہارے گھر میں پڑی ٹھٹھرتی رہی او رتم جنگلوں میں گلاب گلاب کھیلتے رہے۔ اب میرا راستہ چھوڑ دو ویلٹی۔۔۔۔۔‘‘

’’نہیں ۔۔۔۔۔۔ تم مجھے اس طرح چھوڑ کے نہیں جا سکتی فروری۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں تمہیں اُس طرح چھوڑ کے چلی جاتی ہوں۔‘‘

’’تم ایسا نہیں کر سکتی فرو ۔۔۔۔۔۔ میری پیاری فرو۔‘‘ (کہتے کہتے سر پکڑ کے اس کے سامنے بیٹھ جاتا ہے۔)
’’اب یوں نہ بیٹھ کے آئیں بھرو۔۔۔۔۔۔ میری رخصتی کا کچھ بندوبست کرو ۔۔۔۔۔۔ (پاس بیٹھ جاتی ہے)

گانا گاتے ہوئے ’’آج جانے کی ضد نہ کرو۔۔۔۔ یوں ہی پہلو میں بیٹھی رہو۔‘‘
’’اب زیادہ فلمی ہیرو بننے کا کچھ فائدہ نہیں ویلٹی ۔۔۔۔۔ جان لو کہ تمہارے جانے کے بعد اس مارچ کے بچے نے میرا تبادلہ کروا دیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اب دیکھو وہ کتنے مزے مزے سے ہماری طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔‘‘

(اتنے میں دُور سے ایک دراز قد شخص سر پہ پھولوں اور نئی نئی کونپلوں والا ہیٹ پہنے پورے اعتماد سے ان کی طرف آتا دکھائی دیتا ہے۔)

’’اس مارچ کے بچے کو میری لاش پر سے گزر کر تم تک پہنچنا ہو گا فری۔‘‘
’’وہ بڑا بے غیرت ہے ویلٹی وہ گزر جائے گا۔‘‘

’’میں پھر کہے دیتا ہوں فروری کہ تم جلدی بھی کر رہی ہو اور غلطی بھی۔ اس مارچ کی تو میں۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تم سمجھتے کیوں نہیں ویلٹی، اس میں مارچ کا بھی زیادہ قصور نہیں۔ اصل میں شہر کے سیانوں نے یہ طے کیا ہے کہ شدید سردی کے موسم میں مجھ جیسی نازک اندام کا یہاں اٹھائیس دن سے زیادہ رُکنا مناسب نہیں۔‘‘

’’ان سیانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ تمہاری بڑی بہن جنوری اسی شدید موسم میں پورے دھڑلے سے اکتیس دن گزار کے گئی ہے اور پھر مئی آپی اور جولائی آپی جب بھی تشریف لاتی ہیں تو اپنی تمام تر گرم اور موطوب طبیعتوں کے باوجود اکتیس اکتیس دن پورے کر کے رخصت ہوتی ہیں۔ کسی نے کبھی ان کے قیام پر اعتراض کیا؟‘‘

’’بات تو تمہاری بھی وزنی ہے ویلٹی! لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔‘‘
’’تم ادھر رُکو میں ان چڑیوں کے لیے بھی ایئر گن لے کے آتا ہوں۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ میں عدالت سے سٹے آرڈر Stay order لینے جا رہا ہوں۔‘‘

’’کوئی فائدہ نہیں ویلٹی ہماری عدالتوں میں بھی پی سی او والے جج بیٹے ہوئے ہیں۔‘‘
’’چلو پھر امریکہ بہادر کے سامنے فریاد کر کے دیکھتے ہیں۔‘‘

’’میں نے سنا ہے کہ اس کے پر پر بھی ایک عرصے سے دہست گردی سوار ہے، جس نے اسے اس قدر بائولا کر دیا ہے کہ اب اسے بھوک، افلاس، جہالت یا نا انصافی قسم کی چیزیں نظر ہی نہیں آتیں۔‘‘
’’کیوں نہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ سے مدد لی جائے؟‘‘

’’اب میرا زیادہ منھ نہ کھلوائو ویلٹی! تم اس دس حرفی ادارے کا نام لے رہے ہو جو اصل میں دس نمبری بھی ہے۔ جو کمزور کے سامنے بھولو پہلوان اور تگڑے کے مقابل بھیگی بلی بن جاتا ہے۔ اس کا نام UNO اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں ٹگڑوں کے لیے ’’U‘‘ ہے اور کمزوروں کے لیے ’’NO‘‘۔

’’ایسا نہ کرو فرووری، میری اُمید کے سارے دروازے بند نہ کرو۔ ایک دن تو تم لیپ (Leap) کے بہانے بھی رُک سکتی ہو۔‘‘
’’(مارچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)‘‘ اس ٹُٹ پَینے نے میری لیپ کی رخصت بھی تین سال کے لیے کینسل کروا دی ہے۔‘‘

’’بس فروری بس ۔۔۔۔۔۔ ہم ظلم کا یہ سلسلہ مزید طویل نہیں ہونے دیں گے۔ ان تنگ نظر لوگوں نے سب سے پہلے میری بہن بسنت پہ اتنی تہمتیں لگائیں کہ وہ باہر نکلتے ہوئے گھبراتی ہے۔ میں حالانکہ سراسر محبت کا علم بردار ہوں لیکن یہ مجھے بھی کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہیں اور تمہاری تو زندگی کے گِنے چُنے دن بھی انہوں نے مزید کم کر دیئے ہیں۔ ہم اس نا انصافی کے لیے بادشاہ سے فراید کریں گے۔‘‘
’’میں وہاں بھی گئی تھی ویلنٹینے! وہ مجھے تو ہر طرح کی رعایت دینے کو تیار ہو گیا لیکن تمہارے اور بسنت کے بارے میں اس کے دل میں بے شمار شکوک و شبہات ہیں۔

’’اُف میرے خدا‘‘ (سر پکڑ کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چلتے چلتے یہ شعر پڑھتا ہے)

سوچا تھا حاکم وقت سے کریں گے فریاد
وہ کم بخت بھی تیرا چاہنے والا نکلا

(Visited 57 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: