سیکولر دانشوروں کے بارہ (12) فکری رجحان ——– اطہر وقار عظیم

0

تاریخی لحاظ سےدیکھا جاے تو سیکولرازم (Secularism) کی اصطلاح پہلی بار برطانوی فلاسفر جارج جیکب (George Jacob) نے اپنی تحریروں میں 1845ء میں استعمال کی۔ لیکن یہاں اس سے مراد اس قسم کا سیکولرازم تھا جس میں مذہبی عقائد کو چھیڑے یا چھوڑے بغیر ریاستی اداروں کو مذہبی احکامات کی پابندیوں سے آزاد کرنے پر زور دیا جائے؛ لیکن بعد میں جارج جیکب نے اپنے دوست رابرٹ گرین اینگرسول (Robert green Ingersoll) کے ساتھ مل کر سیکولرازم کو عام فہم انداز سے اس طرح بیان کیا:

’’اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ سیکولرازم کا مطلب کیا ہے؟‘‘

’’سیکولرازم انسان پرستی (Humanism) کا ایسا مذہب ہے جو صرف اس دنیا سے متعلق ہے۔ یہ ہماری توجہ اس زمین اور دنیاوی زندگی کی طرف مرکوز رکھتا ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔ یعنی اس کا مطلب ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص کچھ وزن رکھتا ہے۔ یہ انسان کی آزادی کا اعلان ہے۔ یہ اعلان ہے کہ چرچ میں رکھی ہوئی عام پچھلی بنچ (جس پر محنت کش بیٹھتا ہے) وہ اگلے منبر جس پر مذہبی شخصیت بیٹھتی ہے، سے زیادہ معتبر اور مقدس ہے۔ یہ جبر اور مطلق العنانیت کے خلاف موثر احتجاج ہے اور کمی کمین بننے اور توہم پرستی کا غلام بننے سے انکار کا نام ہے۔ یہ دراصل حس عام (Common sense) کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایسے ذرائع کے حصول کا نام ہے جو سمجھ میں آنے والے ہیں۔ یہ صرف اس دنیا میں گھر تعمیر کرنے کا نام ہے۔ یہ فرد کے تقاضوں، کوششوں، مشاہدوں اور تجربات پر زیادہ اعتماد کرنے کا نام ہے۔ یہ تفریح کے حصول کے لیے زیادہ کام کرنے کی خواہش کا نام ہے۔ یہ علم کے حصول، جستجو، لگن اور آرٹ سے محظوظ ہونے کا نام ہے اور اس کے حصول کےلیے زیادہ کام کرنے کی خواہش کا نام ہے۔ اس کا مطلب انسان دوستی کے رویے کے تحت فرقہ پرستی اور مسلکی اختلافات کو ختم کرنے کا نام بھی ہے۔ یہ اپنے لیے اور ایک دوسرے کے لیے جینے کا نام ہے اور ماضی کے بجائے حال کے لیے جینے کام نام ہے گویا اس دنیا کے لیے جینے کا نام ہے اور نہ مرنے کے بعد آنے والی دنیا کے لیے جینا ہے اس کا مطلب اُن لوگوں کے کاروبار تباہ کرنا ہے جو خوف بیچتے ہیں یہ دعاوں پر یقین رکھنے کے بجائے کمانے اور میرٹ پر ایمان لانا ہے۔ گویا کام کو عبادت اور مزدوری کو دعا سمجھنا ہے۔
پس سیکولرازم سمجھ میں آنے والا مذہب ہے اس میں کچھ بھی پراسرار نہیں ہے اس میں کوئی پادری (مولوی) نہیں ہے اس لیے توہمات اور معجزات بھی نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کے لیے پیغام ہے کہ کام کرو تا کہ کھا سکو، کام کرو تا کہ زندگی سے لطف اندوز ہو سکو اور اس لیے بھی کام کرو تا کہ اگر خود ضرورت نہ بھی ہو تب بھی دوسروں کی ضرورت پوری کر سکو۔ ‘‘

اس سے زیادہ اور عام فہم انداز میں سیکولرازم کی تشریح نہیں کی جا سکتی۔ یہاں سیکولر دانشوروں کے اُن اہم فکریاتی رجحانات کو بیان کیا جا رہا ہے جو ان سیکولر اصولوں پر ایمان لانے کے بعد اذہان میں مسلسل نمو پاتے ہیں اور عملاً ان کی طرز زندگیوں میں بھی واضح نظر آتے ہیں:

1۔ سیکولر دانشوروں میں سب سے بڑی مشترکہ قدر یہ ہے کہ وہ تمام مذاہب کو یکساں طور سے شک کے طور پر دیکھنے کے عمل(contested) کو علمی طور پر پسند کرتے ہیں اور اسے علمی بنیادوں پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر کے نزدیک حق پر مبنی وحی سے جڑی مذہبی تعلیمات اور توہمات پر مبنی افسانوی داستان گوئی (Fairy Tales) کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ سیکولرز خدا کی طرف سے بھیجی گئی وحی کو انسان کے اجتماعی اداروں (معاشرتی، معاشی، سیاسی) سے بے دخل کر کے محض انفرادی تزکیہ سے جڑے معاملات تک محدود کر دینا چاہتے ہیں۔ سیکولرز بظاہر تمام مذاہب کے بارے میں یکساں رویہ اپنانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سیکولر مغربی معاشروں کے سائنسی مطالعہ جات نے؛ ان کے اس دعویٰ کو یکسر غلط ثابت کر دیا ہے۔ اس کے برعکس سیکولرازم کے تحت پروان چڑھنے والے تعصّبات عالم انسانیت کے لیے زیادہ مہلک، ثابت ہوئے ہیں۔ مثلاً جنگ عظیم اوّل اور دوئم جو کہ سیکولر رویوں کے نتیجے میں رونما ہوئیں تھیں اس میں بالترتیب ڈیڑھ کروڑ اور پانچ کروڑ انسان موت کی گھاٹ اتار دیئے گئےتھے وہ بھی سیکولر اثرات کے تحت تھی۔

Do We Need Secularism? | Kashifiat's Blog2۔ سیکولرز وحی الہیہ پریقین سے زیادہ؛ عقل پرستی کا شکار ہو کر عقلی گمان (Guess work) پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس لیے خوف خدا کے بجائے؛ عقل انسانی کے نام پر نفسانی خواہشات کے تابع ہو کر زندگی کے مختلف معاملات میں اپنائے گئے گمانوں کے ذریعے دنیا کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ سیکولرز ایمان (Faith) کے بجائے شک بھری زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور تشکیک (Skepticism) کو واحد معتبرعلمی معیار تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن الحاد (Atheism) کے بنائے ہوئے علمیاتی و فکریاتی تناظر پر شک کرنا ’’گناہ‘‘ سمجھتے ہیں۔
سیکولرز، سائنس کے بجاے؛ سائنس پرستی کا شکار بھی اس رحجان کے تحت ہوتے ہیں؛ مثلا ڈارون کے ارتقائی نظریے پر ملحدانہ رنگ چڑھا کر الحاد کشید کرتے ہیں۔ کائنات میں انسان کی پیدائش کے بارے میں ڈارون کے ارتقائی نظریے کی ملحدانہ تعبیرات کو حتمی سمجھتے ہیں۔ سیکولرز علوم نقلی پر علوم عقلی کو ترجیع دیتے ہیں اس لیے قرآن مجید، حدیث نبویؐ اور حیات صحابہؓ کے بجائے؛ مغربی دانشوروں کے اقوال اور تحقیقات کو زیادہ غور سے سنتے ہیں اور اُن پر عمل کرنے کے زیادہ خواہش مند ہوتے ہیں۔ یوں سیکولرز اپنے منتشر خیالات اور فکر پریشان کے ذریعے کچے ذہن کے نوجوانوں اور کم تعلیم یافتہ طبقے کو گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

3۔ سیکولرز مذہبی جذبات، احساسات اور تجربات کو انسان کے حق میں حسی مغالطہ (Illusion) سمجھتے ہیں۔ اس لیے حق کی تعلیمات کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ جدید عقلی انسان (سائنس کو ماننے والا انسان) اور ملا (مذہب پر اعتماد و یقین رکھنے والا انسان) کے سکون حاصل کرنے کے ذرائع میں تفریق پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک سائنسدان اپنی تجربہ گاہ میں جب کسی کائناتی راز کا انکشاف کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اُسے ہونے والی خوشی اور روحانی سکون کی ماہیت کو، ایک عالم باعمل کے روحانی تجربے سے پیدا ہونے والی پاکیزگی اور روحانی بالیدگی سے یکسر مختلف کر کے دیکھتے ہیں۔ سیکولرز مذہبی اور سائنسی مقاصد کے درمیان تفریق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک موسی علیہ السلام کا خدا اور ہے اور ڈارون کا خدا اور ہے۔ سیکولرز وحی الہیہ پر مبنی مذہبی عقائد کو سائنسی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہیں اور سائنسی حقائق اور مذہبی انکشافات کے مابین تطبیق کے بجائے تضادات کو نمایاں کرتے ہیں۔ سیکولرز عقل کا استعمال بھی اپنے خود ساختہ عقائد کو سچ ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ عقلی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن نفسانی خواہشات کو خدا بنا کر عقل کے گمراہ کن استعمال سے خود کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا رویہ نہایت غیر جانبدارانہ اور انتہائی سائنٹفک ہے۔

4۔ سیکولرز تمام الہامی مذاہب اور پیغمبروں کے پیغام میں ظاہری تفریق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں سیکولرازم میں پائی جانے والی اختلافی تعبیرات کو ہلکا کر کے پیش کرتے ہیں تا کہ سیکولرازم کو امن اور سلامتی کا واحد ذریعہ تسلیم کروایا جا سکے۔ سیکولرز تحریف شدہ الہامی مذاہب (عیسائیت و یہودیت) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی بنیاد پر اسلام کے بارے میں بھی متعصّبانہ رویہ رکھتے ہیں اور اسلام کو بھی تحریف شدہ مذہب سمجھتے ہیں، لیکن ثابت نہیں کر سکتے۔ سیکولرز تحریف شدہ مذاہب کی وجہ سے ہونے والے مظالم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن سیکولر اصولوں کے تحت اپنائے گئے تعصّبات کے نتیجے میں ہونے والی ہولناک تباہیوں کو کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ سیکولرز تمام مذاہب کا احترام صرف اس وقت تک کرتے ہیں جب تک کسی بھی مذہب کی طرف سے سیکولرازم کے اساسی نظریات کو چیلنج نہ کیا جائے۔ ایسے تمام مذہبی گروہوں کو بے ضرر سمجھتے ہیں جو دین اور دنیا کے درمیان تقسیم کے عملاً قائل ہوتے ہیں۔ مثلاً تبلیغی جماعت کے بارے میں سیکولر دانشوروں کا رویہ جماعت اسلامی کے خلاف اپنائے گئے رویے سے یکسر مختلف ہیں۔

5۔ سیکولرز آخرت کے بجائے صرف اس مادی دنیاوی زندگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مادی دنیا کے موجود شر اور مصائب کی بنیاد پر مرنے کے بعد کی اُخروی زندگی کے بارے میں اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں جو غیر مرئی پردوں میں چھپی ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر آزمائش کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس عظیم الشان کائناتی امتحان گاہ میں رکھی ہے۔ اس لیے وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ سیکولرز قدرتی آبات، ناگہانی حادثات (بے وقت اموات) اور مذاہب کے مابین نظری اختلافات کے بل بوتے پر خالق کے نظام میں خامیاں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں کام فہم لوگوں میں الحاد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ۔ سیکولرز خدا کو تمام تر صفات اور اختیارات کے ساتھ ماننے والوں سے بیزار رہتے ہیں اور اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ سیکولرز خدا کی کامل صفات کو خدا کے بھیجے ہوئے غیر تحریف شدہ پیغام (قرآن مجید) کے بجائے محض اپنی عقل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس میں ناکام رہنے کی وجہ سے اور خدا کی ذات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے خدا سے سخت مایوس ہیں۔ اُن کے نزدیک پیغمبروں کا خدا تو اللہ ہے لیکن سائنسی اور طبیعی مظاہر برپا کرنے والا خدا کوئی نہیں۔ وہ تمام ترعقلی علوم پر الحاد کا رنگ چڑھاتے ہیں۔

Down with secularism! | New Humanist6۔ سیکولرز خدا کے ساتھ ساتھ شیطان کے وجود کے بھی منکر ہیں اس لیے اپنے ہر غلط کام کو شیطان کی اکساہٹ کے بجائے عقلی دلیل کے ذریعے اپنے لیے جائز اور عین فطری طرز عمل قرار دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نفسانی خواہشات کے زیر اثر کمزور لمحات میں گناہ کرنا اپنے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ سیکولرز انسانی جبلت کے تحت کمزور لمحات میں مزاحمت کو غیر ضروری بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔ ہدایت الہیہ کے بجائے نفسانی خواہشات کو خدا کا درجہ دینے کی وجہ سے اپنا سب سے بڑا رہبر تصور کرتے ہیں۔ سیکولرز اکثر اپنی نفسانی خواہشات کی اکساہٹ اور عقلی طرز عمل کے درمیان تفریق کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ سیکولرز انسانی آزادی کے لبادے میں باغیانہ رویہ اختیارکرنا چاہتے ہیں۔

7۔ جس طرح زندگی کے مختلف معاملات میں، خدا کے سامنے انسانی بے بسی عام طور پر مذہبی انسان کو زیادہ پرہیز گار اور متقی بنا دیتی ہے۔ لیکن سیکولر طرز فکر کے حامل انسان، اپنی اس بے بسی کا بدلہ لینے کے لیے اور زیادہ جابر قسم کے الحاد اپنا لیتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں متعصّبانہ تحریروں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ مثلاً وہ انتہا پسندانہ رویہ رکھنے والے برنارڈ لیوس؛ آیان مرسی علی؛ رچرڈ ڈوکن اور سام ہیرس کی تحریروں پر زیادہ اعتماد ظاہر کرتے ہیں جبکہ مذاہب کے بارے میں اعتدال پسندانہ روش پر قائم کیرن آرمسٹرنگ اور جان ایل ایسپو سیٹو (John El Esposito) کے موقف کو یکسر رد کر دیتے ہیں۔

7۔ سیکولرز محض میکانیکی عمل اور سیکولر محنت پر یقین رکھتے ہیں؛ منطق، عقل اور سائنس کو اپنا رہبر مانتے ہیں لیکن مذاہب اور اُس کے ماننے والوں کی مخالفت میں تمام تر منطقی، عقلی اور سائنسی معلومات کے بجائے تعصب پر مبنی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ سیکولرز تمام مذاہب کے ماننے والوں کو سست اور بے عمل سمجھتے ہیں؛ اس لیے موجودہ جدید صنعتی ترقی کو الحاد پر مبنی تعلیم کا منطقی نتیجہ سمجھتے ہیں۔ سیکولرز تصوف اور صوفی ازم کا پرچار، تزکیہ نفس کے بجائے، سرکشی کی حدود کو چھوتی ہوئی آزادی کے حصول کے لیے کرتے ہیں اس کے لیے مزار پرستی والے صوفی ازم پر مبنی مذہبی و روحانی ماڈل کا استعمال کرتے ہیں تا کہ مذہبی حلقوں کو بھی گمراہ کر کے ہم خیال بنایا جا سکے۔ یعنی ضرورت کے تحت وہ مذہبی لبادہ بھی اوڑھ لیتے ہیں اور اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے صرف مقبول نظریے کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بظاہر انسان پرستی (Humanism) اور انسان پروری کی بات کرتے ہیں لیکن عملاً بدترین مادہ پرستی اور مذہب دشمنی کا شکار ہوتے ہیں۔

8۔ سیکولر دانشوروں کی حالت اُس چور کی طرح ہوتی ہے جو ہک (Hook) والی رسی کے ذریعے کسی دوسرے کے سامان (ایمانی اثاثے) پر نقب لگاتا ہے۔ اس واردات میں اگر وہ پکڑا جائے (یعنی لوگوں کو اس کی نیت اور مقاصد کے بارے میں علم ہو جائے) تو وہ اس کو اتفاقی حادثہ قرار دے دیتا ہے اور اگر دوسروں کی طرف سے نظر انداز کر دیا جائے تو پھر وہ سامان لوٹ کر لے جاتا ہے۔ انتہا پسند سیکولرز، ملحد (Athiest) بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ ابن وارق، آیان خرسی علی اور وفا سلطان کے معاملے میں ہوا جنہوں نے سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی طرح اعلانیہ الحاد کو اپنایا ہوا ہے۔ بقیہ سیکولر روحانیت اسلامک سوشلزم اور کمیونزم کے تحت غیر اسلامی زندگی گزارتے ہیں جیسا کہ علامہ نیاز فتح پوری، احمد بشیر اور سبط حسن کےمعاملے میں ہوا۔

9۔ سیکولرز قوم پرستی (Secular Nationalism) کے جذبے کو درج ذیل نعرے کے ذریعے فروغ دیتے ہیں Religion is for Allah but nation is for everyone۔ سیکولرز کسی قوم کی محبت میں قوم پرستی کی حمایت نہیں کرتے؛ بلکہ جغرافیے سے ماورا ملّی نظریے کی مزاحمت میں وطنیت کو فروغ دیتے ہیں۔ انسانی آزادی کے تمام تصورات کو مغربی طر ز معاشرت کے ساتھ جوڑ کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی حقوق اور انسانی آزادی کے تمام تر تصورات دانش فرنگ کا نتیجہ ہیں۔ سیکولرز مسلم معاشروں میں تحمل اور تکثیریت (Pluralistic) پر مبنی اقدار کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن غیر مسلم معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے تکثیری رویوں کی عملاً حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلم معاشروں میں (Multiculturism) کی بات کرتے ہیں جبکہ غیر مسلم معاشروں میں (Integration) کی بات کرتے ہیں ؛سیکولرز ایمان و عبادات کے بغیر نیک اخلاق کی اہمیت اجاگر کرتے رہتے ہیں تا کہ مذہب کی وقعت کم کی جا سکے۔ قرآن جس اخلاق کو اخلاص قلب کے ساتھ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے، اُسے یہ ’’احساس فرض‘‘ (Sense of duty) کے مساوی قرار دیتے ہیں۔ سیکولرز مذہبی انسان کو محض خوش اور مطمئن سمجھتے ہیں جبکہ سیکولر انسان کوحقیقی معنوں میں ذہین سمجھتے ہیں۔

The failure of Secularism | Pure Stream Media10۔ سیکولرز عورتوں کو یہ سمجھا کر گمراہ کرتے ہیں کہ مردوں کی ’’قوامیت‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو کمزور مخلوق اور ناقص العقل سمجھا جائے حالانکہ اسلام کے مطابق مردوں کی قوامیت کا مطلب مرد کو عوروں کا نگران اور ذمہ دار بنانا ہے۔ سیکولرز عورتوں کے معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عورت کو گمراہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے سیکولرز عورتوں کے حقوق کے نام پر معاشرے میں تفریق پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ معاشرے کے تمام طبقات (مذہبی اور غیر مذہبی) کے لیے حساس ہوتا ہے۔ سیکولرز چاہتے ہیں کہ ایسا معاشرہ وجود میں لایا جائے جہاں عورت کو جنسی طور پر آزاد اور معاشی طور پر خود مختار کرنا، سب سے بڑی معاشرتی ضرورت بن جائے۔ معاشرتی جبلت بن جائے۔

11۔ سیکولرز مسلسل جدوجہد سے وہ ایسی مصنوعی فضا تخلیق کر لیتے ہیں جس کے تحت سیکولر حل ہی زیادہ قابل عمل تسلیم کرائے جا سکیں جیسا کہ ایڈز جیسی بیماری کے خلاف اٹھائے گئے سیکولر اقدامات سب کے سامنے ہیں۔ سیکولزر کا سب سے بڑا ہتھیار پروپیگنڈا ہے۔ وہ ذرائع ابلاغ کے مختلف ذریعوں سے مذہب بیزاری کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سیکولرز پہلے کسی بھی معاشرے میں سیکولر ہیروز تخلیق کرتے ہیں۔ پھر ان خود ساختہ ہیروز کے ذریعے مذہب نواز دانشوروں کے گرد گھیرا تنگ کر لیا جاتا ہے۔ اس دوران تعلیمی نظام کو سیکولر انداز سے چلانے کی جدوجہد مسلسل جاری رکھی جاتی ہے اور جب یہ جتھہ تیار ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ذریعے سیاسی اداروں پر حکومت کی جاتی ہے۔ اور بڑے پیمانے پر انسانی معاشرے میں لادینیت پھیلائی جاتی ہے۔ ترکی اس طرز عمل کی سب سے بڑی زندہ مثال ہے۔ سیکولرز اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے اصرار کرتے ہیں کہ کسی معاشرے میں امن صرف اس صورت قائم رہ کستا ہے جب ہم تمام مذاہب کو سیکولر نظریے سے دیکھیں اور اپنائیں۔ سیکولزر مصنوعی انداز سے مسلم معاشروں کو سیکولرائز کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس کے رد عمل میں مسلمان مزاحمت کے طور پر شدت پسند رویوں کا عملی اظہار کریں۔ جس کو بہانہ بنا کر بڑے پیمانے پر سیکولر بزور طاقت و تشدد اپنے ایجنڈے کو پہلے قومی اور پھر عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے اجازت نامہ حاصل کر سکیں۔

12۔ سیکولرز ہمیں یہ جاننے نہیں دیتے کہ دور حاضر اس لیے سیکولر نہیں ہے کیونکہ جدید سائنسی و صنعتی ترقی نے اسے سیکولر ہونے پر مجبور کیا ہے بلکہ یہ الحاد نواز دانشوروں کے مخصوص طرز فکر اور محنتوں کا نتیجہ ہے اکیسویں صدی میں الحاد پر مبنی انسان پرستی (Secular Humanism) اس طرح کے طرز فکر کی ترقی یافتہ شکل ہے سیکولرز کھینچ تان کر سائنسی ترقی کو سیکولر اصولوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں بھی تحریف شدہ مذاہب کو جن اصلاحی تحریکوں (لوتھر اور کیلون تحریک) کا سامنا تھا وہ بھی سیکولر ہونے کے بجائے اصلاً مذہبی تھیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سیکولر اقدار کے لیے مرعوبیت کے جذبات نوجوانوں میں پروان چڑھاتے رہتے ہیں ؛جبکہ مغربی ترقی کی اصل وجوہات (ایمانداری اور سخت محنت) پر کم ہی غور کرتے ہیں اور کولونیئل تاریخ میں مغربی طاقت کی حرکیات پر کم غور کرتے ہیں اور کولونیئل تاریخ میں کمزور اقوام پر مغربی طاقتوں کی طرف سے کئے گئے حقیقی مظالم کو چھپاتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20