اپنا بھائی چارہ اپنے پاس رکھ —— رقیہ اکبر

0
  • 267
    Shares

آج چودہ فروری ہے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور شئیر کیا جارہا ہے۔ ہم سب کو حق حاصل ہے اپنی رائے دینے کا، اور ہم سب اپنی اپنی آراء دے بھی رہے ہیں۔

محبت کرنا اور محبت چاہنا ہر انسان کی طلب اور فطری خواہش ہے۔ محبت کرنے والے چاہے کسی بھی بندھن میں بندھے ہوں ان کیلئے ہر دن ویلنٹائن ہی ہے۔ بحیثیت انسان میرے نزدیک ہر وہ دن اہم ہے جو محبت، الفت اور پیارسے گزارا جائے۔ اگراس خاص دن کے حوالے سے کوئی نامناسب روائت موجود نہیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اگر کوئی اپنے پارٹنر کو پھول پیش کرے یا پیار بھرے دو بول بھی اس کی محبت میں لکھ ڈالے۔

لیکن اگراس دن کو منانے کےحوالے سے آپ کو کچھ واضح ایسی روایات ملتی ہیں جو اس نام نہاد محبت کے پیچھے چھپے تلخ حقائق سےپردہ اٹھاتی ہیں تو آپ کوحق حاصل ہےکہ ان نامناسب حقیقتوں کی بنیاد پر اس کی مخالفت کریں۔ لیکن معاملہ وہاں بگڑتا ہے جب:

مغربی ذوق ہے اور وضع کی پابندی  بھی
اونٹ پر چڑھ کے جو تھیٹر کو چلے ہیں حضرت

ویلنٹائن ڈے کی نفی میں ”فتین اذہان” نے “آدھا تیتر آدھا بٹیر” ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے “سسٹرز ڈے” کا جو شوشہ چھوڑا ہے وہ ایک ایسا بھونڈا آئیڈیا ہے جس نے نہ صرف دین کو مذاق بنا ڈالا بلکہ بہن بھائی کے مقدس رشتے کو بھی تماشہ بنا کے رکھ دیا۔ نامحرم ہر صورت میں نامحرم ہی ہے اسے کسی بھی تعلق، رشتے سے تحائف دینا یا لینا ایک ہی جیسا عمل ہے۔ اب تحفہ گرل فرینڈ کو چاکلیٹ اور پھول کی صورت میں دیا جائے یا بہن کہہ کر عبایاء کی صورت میں، دونوں ہی نامناسب روئیے ہیں۔ اس بھونڈے آئیڈیئے کی صورت میں آپ نے اپنی قابل احترام کلاس فیلوز کیلئے ایسی مشکللات کھڑی کر دی ہیں جس سے نکلنا ان کیلئے مشکل تر ہو گیا ہے۔ آپ نے انہیں ایک ناقابل عبور دوراہے پہ لا کھڑا کیا ہے۔ اب اگر وہ آپ کی طرف سے بہن کو پیش کیا جانے والا تحفہ وصول کرتی ہیں تو اپنا مذاق تو بنوائیں گی اور خود کو سب کی نظروں میں مشکوک بھی بنا ڈالیں گی۔ اور “میں آپ کی بہن نہیں ہوں” کہہ کر انکار کرتی ہیں تو بھی آپ کیلئے نئے تعلقات کے راستے کھل جائیں گے۔ عورت تو یوں بھی مرد کی نظر میں بے وقوف ہی نہیں، تعلقات کیلئے “ہر دم تیار کامران” کی کیٹیگری میں آتی ہے۔ اب آپ بھائی ان کو اس مشکل سے کیسے نکالیں گے اس کا علم آپ کو بھی نہیں۔

ہم عورتیں آپ کا ضمیمہ نہیں ہیں کہ ہر کام حتی کہ ہر تعلق اور نام آپ ہمیں اپنی مرضی سے تفویض فرمائیں گے۔ ہم نامحرم کو بھائی کہتی رہیں گی اور آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ ہماری نیتوں کے فیصلے کریں۔ آپ کی طرف سے ہم سسٹرز ڈے کو بھی اسی طرح بہ یک جنبش قلم رد کرتی ہیں جس طرح ویلنٹائن ڈے کی نفی کرتی ہیں۔

کسی یونیورسٹی، کسی تنظیم، کسی گروہ کو حق حاصل نہیں کہ وہ ناجائز روایات اور تہواروں کو اسلامائز کرنے کی کوشش کریں اور اس کی آڑ میں ہماری مذہبی اقدار کے ساتھ کھلواڑ کریں۔

بہن بھائی ایک انتہائی مقدس رشتہ ہے۔ سگے رشتوں کی اہمیت تو مسلمہ ہے ہی منہ بولے رشتے بھی جب ایسے مقدس لفظوں سے جڑتے ہیں تو کوئی بھی غیرت مند مرد اتنا گھٹیا نہیں ہوتا کہ وہ ان کا پاس نہ رکھے۔ اور جس نے گرل فرینڈ /بوائے فرینڈ بنایا ہے وہ بھی اتنے بے غیرت نہیں ہو سکتےکہ اپنے ان تعلقات کو بہن بھائی جیسے محترم رشتے کی آڑ میں پروان چڑھائیں۔

ہماری مشرقی اقدار اور روایات پہ دو دھاری تلوار چلائی جا رہی ہے بلکہ میں اگر یوں کہوں کہ سہہ دھاری تلوار تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اور ہم سب جانے انجانے اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف وہ گروہ ہے جو محبتوں کی آڑ میں “میرا جسم میری مرضی” جیسی بےحیائی عام کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے تو دوسرا وہ گرہ جو اس کی نفی کی آڑ میں ایک اور طرح کے منافقانہ روئیے کو پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ ہو سکتا ہے دوسرے گروہ کی نیت میں فطور شاید نہ ہو (ہوسکتا ہے فتور ہو بھی) دونوں صورتوں میں عمل ان کا بھی غلط اور ناجائزہی ہے نتیجہ اس کا بھی تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

لیکن اب ان دونوں گروہوں کے مقابلے میں ایک تیسرا “نادان دوستوں” کا گروہ بھی سامنے آ گیا۔ اصلاح کی آڑ میں اس گروہ نے بھی اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا پہلے دو نے پہنچایا یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ یہ وہ گروپ ہے جس نے “سسٹرز ڈے” کی نفی میں لفظ بہن کو ہی گالی بنا کر پیش کر دیا۔ مانا کہ سسٹرز ڈے کا آئیڈیا بھونڈا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کی آڑ میں آپ تکلف اور احترام کی اس فضا کو ختم کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے۔

تعلیمی اداروں اورورک پلیس پہ عموما ہر عورت ہر لڑکی اپنے کلاس فیلو یا کولیگ کو سر یا بھائی کہہ کر مخاطب ہوتی ہے اور یہ ایک اعلان “لا بے تکلفی” ہوتا ہےکہ آپ کے اور میرے بیچ احترام اور تقدیس کا رشتہ ہے، میں گو کہ آپ کی سگی بہن نہیں مگر اسی مقام پہ ہوں اس لئیےآپ کیلئے لازم ہے کہ مجھے اسی احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھیں جس طرح اپنی بہن کیلئے چاہتے ہیں۔ اب یہ گروہ کیا چاہتا ہے کہ ہم خواتین بازار میں جائیں تو دکاندار سے پہلے اس کا نام پوچھیں اور پھر مکمل بے تکلفی کے ساتھ اس کا نام لیکر اشیائے ضرورت خریدیں؟ یا اپنے کولیگز اور کلاس فیلوز کو نام سے پکار کر اپنے اور اس کے درمیان یہ تکلف کی دیوار بھی گرا دیں۔ اگر ہم خواتین ایسا کریں تو ایک لمحہ توقف کے بنا آپ ہم پر “لبرل اور آزاد خیالی” کا لیبل چسپاں کر کے ہمارا ناطقہ بند کر دیں گے یا ہمیں تر نوالہ سمجھ کر نگلنے پہنچ جائیں گے۔

اور اگر ہم اپنے ارد گرد رہنے والے مردوں کو بھائی کہتی ہیں تو تب بھی ہم خواتین کا کردار مشکوک ٹھہرے گا اور ہم پر یہ الزام بنا کسی رکاوٹ کے لگا دیا جائے گا کہ بھائی کہنے کی “آڑ” میں خدانخواستہ اپنے دل کا فتور اور اس مرد سے اپنے “ناجائز” تعلقات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں؟

خدارا ہمارے ان خوبصورت رشتوں کو اپنی داغدار عینک سے دیکھنے اور اپنی مرضی کا رنگ دینے سے گریز کیجئے۔ ہم عورتیں آپ کا ضمیمہ نہیں ہیں کہ ہر کام حتی کہ ہر تعلق اور نام آپ ہمیں اپنی مرضی سے تفویض فرمائیں گے۔ ہم نامحرم کو بھائی کہتی رہیں گی اور آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ ہماری نیتوں کے فیصلے کریں۔ آپ کی طرف سے ہم سسٹرز ڈے کو بھی اسی طرح بہ یک جنبش قلم رد کرتی ہیں جس طرح ویلنٹائن ڈے کی نفی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: ویلنٹائین: جنس، ضبط نفس اور تہذیب حاضر کی صناعی —– سراج الدین امجد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: