نایاب چراغ ——- رعایت اللہ فاروقی

1
  • 199
    Shares

آپ نے شاید محسوس کیا ہو کہ میں جب بھی کراچی پر کچھ لکھتا ہوں، زبان و بیاں کا آہنگ یکسر مختلف ہوجاتا ہے. تحریری اسلوب لازما کسی ہندوستانی لہجے والا ادبی یا نیم ادبی ہوجاتا ہے. سبب اس کا وہی ہے جو ہمیشہ عرض کیا ہے کہ میں بھی اپنے عہد کا روایتی ملا ہی ہوتا اگر مجھے اردو ادب کا چسکا اور کراچی کے ان مہاجر بزرگوں کی سنگت نصیب نہ ہوئی ہوتی جو بقدم خود ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے. یعنی جو اپنی پیدائش کے سبب پاکستانی نہ تھے بلکہ پاکستان ان کا سوچا سمجھا ارادی “انتخاب” تھا جس کے لئے انہوں ہندوستان کو چھوڑا تھا. یہ علی گڑھ کی تعلیم، دلی کی زباں اور لکھنؤ کی ثقافت کے امین تھے. ایسے شاندار لوگ جنہوں نے مجھے “مولوی کا لونڈا” کہہ کر دہتکارا نہیں بلکہ کواڑ اور باہیں دونوں ہی کھول کر مجھے اپنایا. میری نوعمری کی اس طویل سنگت میں انہوں نے میری ملائیت میں کوئی ترمیم کرنے کی کوئی کوشش کبھی نہ کی. انہوں نے اشاروں کنایوں میں بھی مجھے یہ احساس نہ ہونے دیا کہ میرا ملا ہونا ایک “مسئلہ” ہے. صرف یہی نہیں بلکہ ان کے لئے میرا پختون ہونا بھی کسی پریشانی کا باعث ہونے کے بجائے دلچسپی کی چیز رہا. وہ کرید کرید کر مجھ سے پختون تہذیب و روایت کی تفصیلات پوچھتے اور پھر گھنٹوں کامل یکسوئی کے ساتھ اسے سنتے. جب وہ پوچھتے

“کیا یہ درست ہے کہ پختونوں کی دشمنیاں نسل در نسل چلتی ہیں ؟”

اور میں جواب دیتا کہ ہاں یہ درست ہے مگر پختون تہذیب میں عورت اور بچے دشمنی کا حصہ نہیں ہوتے. اور یہ کہ اچانک گھر میں داخل ہوجانے والے پرامن دشمن کو 100 خون بھی بخش دئے جاتے ہیں، دشمن کے خاندان کے جنازے کو کاندھا دینے سے بھی معافی مل جاتی ہے تو وہ مسرت و تعجب سے لبریز “واہ ! واہ !” کے ایسے بھرپور ڈونگرے برساتے جو امروہے کے شعراء کو بھی خال خال نصیب ہوئے ہوں گے. جہاں تک میری ملائیت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ان کی توجہ میری ملائیت کی قطع و برید پر ہونے کے بجائے اس بات رہتی کہ یہ برخوردار جو نہیں جانتا وہ اسے سکھایا جائے. اسے وہ خزانے منتقل کئے جائیں جو دل و دماغ میں ہونے کے سبب شاہراہ ہجرت پر بلوائیوں کی لوٹ مار سے بچے رہے. ان کی ان صحبتوں کا حاصل یہ ہے کہ جن پختونوں کی اردو کا پوری دنیا میں مذاق اڑایا جاتا ہے وہی اردو دیکھتےطہی دیکھتے ایک پختون بچے نے یوں بولنی اور لکھنی شروع کردی کہ وہ لکھا اور اہل لساں سنا کئے. اس میں میرا کوئی کمال نہیں، داد کا مستحق میں نہیں وہ ہیں جو امروہا، مراد آباد، کانپور، میرٹھ، تھانہ بھون، نینی تال، حیدر آباد دکن، پیلی بھیت، بھوپال، الہ آباد، لکھنؤ اور دلی سمیت نہ جانے کس ہندوستانی شہر سے لٹ کر آئے تھے. اور جن کے دست ہنر و نظر التفات نے ایک پختون بچے کو بھی ہندوستانی اردو کے چار لہجوں پر گرفت عطاء کی. فن پارے کو ملی ہر داد پر اصل حق اس کے خالق کا ہوتا ہے. میرے گھر میں آج بھی پشتو بولی جاتی ہے، اردو بطور مضمون عمر کے کسی بھی حصے میں ایک دن کے لئے بھی میرے نصاب کا حصہ نہیں رہی، سکول کالج اور یونیورسٹی سے میرا تعلیمی رشتہ کبھی قائم نہ ہوا. قرآن مجید سے آگے کا تعلیمی سفر شیخ عطار کے “پندنامہ” سے شروع ہوا اور تعلیم کا ہر حرف مدرسے کی دین ہے. اور پھر بھی میں ایسا ہوں جیسا ہوں تو یہ ان مہاجر بزرگوں کا ہی اعجاز ہے.

میں اگلے روز اپنے دو بھائیوں سے کہہ رہا تھا کہ انسان کی سب سے بڑی سماجی ذمہ داری یہ ہے کہ اولاد کی صورت جنہیں اس نے پیدا کیا ہے انہیں بہترین اخلاقی علمی شکل دے کر سماج کے سپرد کرکے دنیا سے رخصت ہو. جب اس سے بڑھ کر کوئی انسانی ذمہ داری نہیں تو لازم ہے کہ بودوباش اور رہن سہن کی ترجیحات میں بچوں کو اولیت حاصل ہو. جبکہ ہر طرف ہو یہ رہا کہ ترجیح بچوں کے بجائے والدین خود کو دے رہے ہیں. مثلا رہائش بچے کی درسگاہ کے بجائے اپنے دفتر سے قریب رکھنے کا معمول ہے. باپ روز پانچ کلومیٹر کا سفر کرکے دفتر پہنچتا ہے جبکہ بچہ سکول جانے کے لئے 10 کلومیٹر کا سفر کر رہا ہوتا ہے. جب بچہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے تو پھر ترجیحات انہی کو پیش نظر رکھ کرطے ہوں گی. میری اس گفتگو کے اگلے روز زیر نظر تصویر میں کھڑے سلیم فریدی صاحب سے سال بعد سامنا ہوگیا. فریدی صاحب سے میری شناسائی کو چار چھ سال ہی ہوئے ہیں. یعنی پرانے وقتوں میں ان سے کوئی میل جول نہیں رہا. میں نے دریافت کیا

“قبلہ ! کیسی بیت رہی اور کیا کیجئے گا آج کل ؟”

وہ بولے

“فاروقی میاں ! پچھلے سال ہی ذمہ داری سے سبکدوش ہوے، اب زندگی کا لطف لئے جا رہے ہیں، مت پوچھئے کہ کیا خوب کٹ رہی ہے. اب آپ کو یہ کیا بتانا کہ انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری اولاد کی تعلیم و تربیت ہوا کرتی ہے. یہ مرحلہ تمام ہو تو انسان سبکدوش ہو. آخری بچہ گزشتہ برس ماسٹرز کرگیا الحمدللہ”

عمر کے پچاس ویں برس میں کھڑا یہ ملا 85 برس کے سلیم فریدی صاحب کا ہم خیال اسی سبب ہے کہ یہ ملا فریدی صاحب کے سینئرز کا تربیت یافتہ ہے. بات بہت طول پکڑ گئی، اسے اس دلچسپ انکشاف پر ختم کرنے دیجئے کہ فریدی صاحب نے 14 برس کی عمر میں کانپور سے ہجرت کی. آخری بچے کی تعلیم سے 84 برس کی عمر میں اس لئے فراغ پایا کہ 16 بچوں کے ابا ہیں، 12 لڑکے اور چار لڑکیاں پائی ہیں. عزم ایسا کہ کہ ریٹائرمنٹ کے بعد لینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے میں مشغولیت اختیار کرنی چاہی تو کے ڈی اے نے بتایا کہ اس کے لائسنس کے حصول کے لئے تو سول انجینئرنگ کی ڈگری لازم ہے. فریدی صاحب بعد از ریٹائرمنٹ بڑھاپے میں ہی سول انجینئرنگ کر گئے اور کئی سالوں سے اب اسی شعبے کے ہو رہے. فریدی صاحب بھی میرے قدیمی کراچی کے ان پرانے چراغوں میں سے ہیں جو اب نایاب ہیں!

(Visited 98 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20