ویلنٹائین: جنس، ضبط نفس اور تہذیب حاضر کی صناعی —– سراج الدین امجد

0
  • 59
    Shares

تہذیبِ جدید کی فسوں کاری کہیے یا سوداگرانِ تہذیبِ حاضر کی مغالطہ دہی، عقیدہ و ایمان سے لیکر اخلاقیات تک یہ بنی نوعِ انسان کو ہر اس چیز سے محروم کردینا چاہتی ہے جس کا تعلق روح کی بالیدگی، قلب کی سلامتی اور مہیجاتِ نفس کے مقابل ضبط و احتیاط سے ہو۔ بات فقط اتنی نہیں کہ حیوانی شہوتوں کی بے دریغ تسکین کو شرفِ انسانیت کا نعرہ دینے والے صرف چند راہ چلتے آوارہ منش لوگ ہیں جو وقت بے وقت ہذیان گوئی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کلچر و آرٹ کی لطافتوں کے اداشناس ہوں یا عقل و دانش کی متاعِ گراں بہا سے بہرہ مند، حیا باختگی اور اخلاق سوزی کو معراجِ انسانیت باور کراتے نہیں تھکتے۔ ذرا ویلنٹائن ڈے کی ترویج و پذیرائی کے لیے ہی ان کے دلائل سنیے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ فلاحِ انسانیت کی کسی اعلی و ارفع فکر سے انہیں ذرا مس نہیں بلکہ حیوانی جبلتوں کی بے محابا تسکین ہی ان کا منتہائے مقصود ہے۔ اخلاق باختگی اور جنسی بے راہروی ان کے لیے انسانی ارتقاء کی گویااگلی منزل ہے۔

ایسا نہیں کہ ہم جنسی جذبات کو کچل دینے یا راہبانہ نفس کشی کی کسی تحریک کے موید ہیں یا خدانخواستہ لطیف انسانی جذبات اور احساسات سے عاری ہو نے کو شرف ِ انسانیت گردانتے ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس شہواتِ نفسانی کی طرف میلان و رغبت کو انسان کا فطری تقاضا ہی سمجھتے ہیں ہاں اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے جو معیارات و پیمانے خود خالق ارض و سماء نے مقرر فرمائے اس ضابطے کی پابندی اور پیروی میں ہی بنی نوعِ انسان کی فلاح کو مضمر جانتے ہیں۔ اٹھائیے کتاب ِ ہدایت کو کس لطیف انداز سے پاکدامنی کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ شادی کے بندھن کو حِصن ( قلعہ) سے تعبیر کیا یہی وجہ ہے عبد اللہ یوسف علی نے سورہ نساء کی آیت نمبر 24 کے حاشیہ میں لکھا کہ شادی قرآن کے نزدیک حِصنِ عصمت ( Fortress of Chastity) ہے۔ سچی بات ہے کائناتِ رنگ و بو میں دینِ اسلام سے سے بڑھ کر اخلاقی معیار کا پیمانہ کوئی کیا دے سکاہے۔ اختلاطِ مردو زن کے احکامات کے لیے سورہ نور کے صفحات پلٹیے۔ غَضِّ بصر کے حکم سے ہی شروعات کی جارہی ہیں۔ آئیے دوسری طرف سورہ یوسف کو پڑھیے۔ قربان جائیے قرآن کی عظمتوں کے کہ پچھلی امتوں کے قصص و امثال سے بھرا پڑا ہے لیکن ” اَحسنُ القَصص ” کہا تو یوسف علیہ السلام کے واقعہ کو، جنسِ مخالف کی کشش کی جلوہ سامانیوں کے مقابل عفتِ پیغمبر کی شانِ دلربائی کو جس خوبصورت انداز میں کتابِ لاریب نے محفوظ کیا ہے گویا اعلی انسانی اخلاقیات اور پاکیزہ طرزِ عمل کی تصویر کھینچ کے رکھ دی ہے۔ کیا یہ سب کچھ سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ عفت و پاکیزگی کتنا بڑا جوہر ہے اور جنسی تلذُذ میں ضبط و احتیاط کس درجے میں مطلوب ہے۔ اس واقعہ کے مرکزی کردار سیدنا یوسف علیہ السلام کی خداخوفی اور تقویٰ شعاری کا بانکپن دیکھیے کہ ہیغمبرانہ رفعتِ شان کے باوصف جذباتِ جنس کی ہلاکت خیزیوں سے کس طرح متنبہ کررہے ہیں فرماتے ہیں کہ نفسِ امّارہ کی طغیانیوں سے مفر نہیں ہاں جس کو ربِ قدیر کی کرم گستریاں اور رحمتیں ڈھانپ لیں۔ قرآن تو چوری چھپے آشنائیوں کی مذمت کرے۔ اور آج کے نام نہاد دانشور اسے تہذیبی روایت قرار دیں۔ ذرا آیات کا تیور اور اسلوب کی بلاغت دیکھیے کس طرح ایک ازدواجی تعلق کے لیے بھی جس ساتھی کا انتخاب مطلوب ہے اسے قرآن نے” لا مُتخذاتِ اَخدان” ( ترجمہ چوری چھپے آشنائی نہ کرنیوالی ہوں، آیت نمبر ٢۵، سورہ نساء) سے تعبیر کیا۔ نیز اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے مردو زن کو “الحفظین والحفظت” کے نام سے پکارا۔ آج کوئی عصیاں شعار اپنے جذبہ ہوس پروری کو انسانی آزادی اور خودمختاری کانام دیتا ہے تو دیتا رہے۔ لیکن خدارا مغرب کی بھونڈی نقالی میں سادہ لوح نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کو بے حیائی اور اخلاق سوزی کی دعوت مت دیجیے۔

عفت و پاکدامنی ہی وہ متاعِ گراں بہا ہے کہ امتِ مسلمہ تمام تر کم سوادیوں کے باعث آج بھی رشتوں کے تقدس سے آشنا ہے۔ خاندان کا ادارہ بہت حد تک جنسی پاکیزگی کا ضامن بنا ہوا ہے۔ ہمیں یہ ماننے میں تامل نہیں کہ عفت مآب بچیوں کے پاکیزہ جذبات اور من پسند شادی کی خواہش کو آوارگی اور بدقماشی کا نام دیکر ظلم و بربریت اور تشدد کا نشانہ بنانا آج بھی ہمارے معاشرے کا ناسور ہے لیکن اس درد کا مداوا بے راہروی اور مادر پدر آزادی کب سے بن گیا۔ آپ کو کون سمجھائے کہ بچی کھچی عفت و عصمت راہ کی چبھن نہیں۔ منزل تک سلامتی کی ضامن ہے۔ لہذا اسے بچائیے۔ کچھ عرصہ قبل تک ہمیں ویلنٹائن ڈے ایسی مغرب زدہ خرافات سے اعراض میں ہی عافیت لگتی تھی، نہ کبھی دلچسپی لی نہ حیاء ڈے کے طور ہی منایا، بلکہ عام دنوں کی طرح گزر جاتا لیکن اب سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر لبرل حضرات نے جس جارحانہ پروپیگنڈا اور دبنگ لہجے میں ایسی سرگرمیوں کی وکالت شروع کی ہے اور اس کی ترویج و اشاعت کو زندہ معاشرے کی بقاء کا واحد ذریعہ قرار دینا شروع کیا ہے۔ وہاں حفظِ ناموسِ زن کے علمبردار آئینِ پیغمبر علی صاحبہ الصلوة والسلام کا والہانہ ذکر ناگزیر لگتا ہے۔ اور اس میں کوتاہی مداہنت فی الدین کی شکل معلوم ہوتی ہے۔ لہذا یہ معروضات پیش کرنا پڑیں۔ ۔ اللہ پاک ہمیں گمراہ کن فتنوں سے محفوظ رکھیں آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: