سرحدِ امکان سے آگے —— نجیبہ عارف کا منفرد افسانہ

0
  • 141
    Shares

ایک تجرباتی کہانی جس میں کوئی مذکر مؤنث نہیں۔


میں ایک نقاد ہوں اور کہانیوں کی تکہ بوٹی کرنے میں میرا کون مقابلہ کر سکتا ہے؟ لیکن ان دنوں ایک عجیب مخمصے میں گرفتار ہوں۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، مجھے برقی ڈاک کے ذریعے ایک عجیب کہانی موصول ہوئی۔ یہ کہانی ہزاروں میل دور رہنے والے ایک عزیز دوست نے ارسال کی تھی۔

ہم ایک دوسرے سے کبھی نہیں ملے، نہ کبھی ایک دوسرے کو دیکھا، تصویر تک نہیں دیکھی۔ ہمارا رابطہ نظر نہ آنے والے برقی تاروں کے اس نظام کا محتاج ہے جسے انٹر نیٹ کہتے ہیں۔ اگرچہ انٹر نیٹ کے ذریعے ایک دوسرے کو دیکھا بھی جا سکتا ہے اور بات بھی ہو سکتی ہے ؛ لیکن ہم نے اپنے دوستانہ تعلق کی ابتدا ہی میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ نہ تو ایک دوسرے کی تصویر کا تقاضا کریں گے اور نہ آواز سننے کی کوشش کریں گے۔ ہم نے ایک دوسرے کی اس حقیقت کو جاننے کی کبھی کوشش نہیں جسے ارد گرد کے لوگ دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہم نے حقیقت کو سمجھنے کا روگ ہی نہیں پالا۔ اس لیے ایک دوسرے سے تحریری طور پر محو کلام ہونا ایک لذت بخش عمل ثابت ہوا۔ آہستہ آہستہ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کو باقی لوگوں کی نسبت زیادہ بہترسمجھتے ہیں۔ حالاں کہ مجھے معلوم نہیں کہ اس کی عمرکیا ہے، تعلیم کیا ہے، پیشہ کیا ہے؟ اور آپ کو بتاؤں، سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مجھے یہ بھی معلوم نہیں؛ وہ مرد ہے یا عورت۔ اسے بھی میرے بارے میں یہ سب باتیں معلوم نہیں۔ اس سے میرا تعلق کسی اور منطقے کی بات ہے۔ تذکیر و تانیث کے محدود دائرے سے باہر۔ ۔ ۔ ایک عظیم الشان وحدت کے بے کنار سمندر کی بے جہت اور بے سمت روانی کے زیر و بم پرتیرتا، ڈوبتا اور ابھرتا ہوا۔ ۔ ۔ اسی لیے ہمارے درمیان رسمی باتیں نہیں ہوتیں۔ ہم زیادہ وقت ایک دوسرے کی ذات کے ان نیم تاریک گوشوں میں بسر کرتے ہیں جن تک اور کسی کی رسائی نہیں ہوتی۔ ان مخفی گوشوں میں، جہاں خود بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ اس طرح ہم اپنی ہی بازیافت کی دلچسپ اور پراسرار مہم کے ساتھی ہیں اور نت نئے ابعاد تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اب اس نے مجھے یہ کہانی بھیج دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کہانی میرے فن تنقید کے لیے ایک چیلنج ہے اور اگر میں اس سے نمٹنے میں کامیاب ہو جاؤں تو گویامجھے ایک نئی دنیا کی تخلیق کی اہلیت مل جائے گی۔ ایک بالکل نئے امکان کو دریافت کرنے کی امید نے مجھ پر ایک ہیجانی کیفیت طاری کر دی ہے۔ جیسے کوئی نیا اور دل بہلا لینے والاکھیل کھیلنے سے پہلے محسوس ہوتا ہے۔ میں نے اس کاخط پڑھتے ہوئے اپنے خون کو جوش مارتے محسوس کیا۔ میری ذہنی کیفیت جو مسلسل ایک بے دلی اور بیزاری میں ڈوبی رہتی ہے، بدلنے لگی۔ مجھے اپنے وہ بھولے بسرے، پر تجسس اور عزم و ہمت سے بھرے دن یاد آگئے جب زندگی کا راز جاننے کے لیے زندگی کے ہر گوشے کو تہ و بالا کردینے کی آرزو مجھے بے چین رکھتی تھی اور آفاق کی وسعتیں بھی اپنی قوت پرواز کے سامنے ہیچ دکھائی دیتی تھیں۔ وہ دن جو ناممکن کے خوابوں سے بھرے ہوئے تھے اور جن پر ایک گہرا یقین مجھے مضطرب رکھتا تھا۔ اب یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ پھر آہستہ آہستہ حقیقت کی دھوپ میں ان خوابوں کی تب و تاب سنولاتی چلی گئی اور میں نے زندگی سے سمجھوتے کرنے کی خو اپنالی۔

منسلکہ فائل کھول کر کہانی پر نظر ڈالنے سے پہلے میں نے اپنے عزیز د وست کے برقی خط کوکئی بار پڑھاہے۔ یہ خط دراصل کہانی کی قرأ ت کی کلید ہے۔ یعنی اس میں یہ درج ہے کہ کہانی کس طرح پڑھی یا سمجھی جا سکتی ہے۔ میرے دوست نے کہانی کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ یہ ہیں:

٭ یہ کہانی کسی اجنبی زبان میں لکھی گئی ہے۔ یہ زبان کس کے لیے اجنبی ہے؛ میرے لیے، خود اس کے لیے یا ہر ایک کے لیے، یہ اس نے نہیں لکھا۔
٭ کہانی میں کردار بھی ہیں اور واقعات بھی۔
٭ کہانی کے اسما رنگوں کے ذریعے ظاہر کیے گئے ہیں۔
٭ بیانیے میں استعمال ہونے والے افعال ترچھی تحریر میں لکھے گئے ہیں۔
٭ اسما کی صفات خط کشیدہ ہیں۔
٭ کہانی کے زمان و مکان الفاظ یا جملوں کے درمیان فاصلے سے ظاہر ہوتے ہیں۔
٭ مکانی فاصلہ افقی ہے اور زمانی فاصلہ عمودی۔

ان معلومات کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے بعد میں نے برقی ڈاک سے منسلکہ فائل کھولی تو میرا دل دھڑ دھڑ دھڑک رہا تھا۔ فائل کھلنے میں خاصی دیر لگی۔ میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ نظریں کمپیوٹر کی سکرین سے چپکی ہوئی تھیں اور کسی ایسے لمحے کی منتظر تھیں جو ایک نئے تجربے کے لرزش خیز آہنگ کا زائیدہ ہو گا۔ اچانک کمپیوٹر کی سکرین بالکل سیاہ ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ اس پر نقش نمودار ہونے لگے۔ پہلے تومجھے خیال ہوا کہ شاید کمپیوٹر نے اس اجنبی زبان کو سمجھنے سے ا نکار کر دیا ہے۔ لیکن جب رنگ، ترچھے اور خط کشیدہ نشان اور افقی اور عمودی فاصلے واضح ہونے لگے تو میں نے کہانی کی موجودگی کو محسوس کر لیا، جیسے کسی زندہ نامیاتی پیکر کی موجودگی کو محسوس کیا جاتا ہے۔ کہانی مجھے سہ ابعادی فلم کی طرح بڑھ کرملی اور میں نے اس کی طرف دیکھ کر اپنی جلد کے روئیں پر ایسی ہی سنسناہٹ محسوس کی جیسی گھاس کی نازک پتیوں کے کلائی کی جلد پر چھونے سے ہوتی ہے۔

اس کہانی کو پڑھنے کی کوئی روایتی کوشش کہاں کارگر ہو سکتی تھی پھر بھی عادت کسی بے رحم حکم ران کی طرح اپنی منواتی ہے۔ میں نے کئی طرح سے کہانی ’’پڑھنے‘‘ کی کوشش کی۔ کبھی دائیں سے بائیں، کبھی بائیں سے دائیں، کبھی اوپر سے نیچے کی طرف اور کبھی اس سے الٹ۔ حتیٰ کہ بچوں کے ذخیرۂ الفاظ کا امتحان لینے والے معموں کی طرح ترچھے رُخ پر بھی۔ مگر وہاں پڑھنے کو تھا ہی کیا۔ نہ لفظوں کی صورت تھی نہ کوئی مانوس تصویر بن پا رہی تھی۔ بس رنگ، لکیریں، افقی اور عمودی فاصلے اور ایک مکمل بے صورتی۔ مجھے بدصورتی اور خوب صورتی کی خوب شناخت تھی۔ ایک عرصے سے تنقید ی مضامین لکھتے لکھتے میں نے ایک نظر میں کہانی کو بھانپ لینے کی مشق مہیا کر لی تھی، جس طرح عید قربان کے نزدیک گھاگ خریدار دور سے دنبے کو دیکھ کر اس کے وزن اور گوشت کی قدر و قیمت کا تعین کر لیتے ہیں۔ لیکن بے صورتی سے میرا سامنا پہلی بار ہو رہا تھا۔ اور یہ بے صورتی بھی عجیب تھی۔ یعنی صورت موجود تو تھی اور اپنی موجودگی کا اعلان بھی کر رہی تھی مگر دکھائی نہ دیتی تھی۔

اس کہانی کے معنی کیسے سمجھے جائیں گے؟ رفتہ رفتہ مایوسی نے مجھے گھیر لیا۔

میں نے کچھ دیر تک خالی خالی نظروں سے کہانی کو دیکھااور خود کو بتائے بغیرچالاکی سے اس دوران کوئی کلیدی نقطہ دریافت کرنے کی شدید کوشش کی۔ ۔ ۔ خود پر یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ میں نے کوشش ترک کردی ہے، کوشش جاری رکھی۔ اس چالاکی کا مقصد خود کو متوقع ناکامی کی شرمندگی سے بچانا تھا۔ مگر یہ چالاکی بھی کام نہ آئی جیسا کہ اکثر چالاکیاں نہیں آتیں۔ ۔ ۔ سوائے ان کے، جو دوسروں سے روا رکھی جاتی ہیں۔

پھر میں نے کہانی کے سراپے پر نظر ڈالی۔ مگر وہ بھی کسی سیال کی طرح لحظہ بہ لحظہ پیکر بدلتا اور تھرکتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ کہانی کسی ساکت جسم کی طرح کمپوٹر کی سکرین پر چسپاں نہیں تھی بلکہ ہتھیلی پر دھرے پارۂ سیماب کی طرح مسلسل متحرک اور مضطرب تھی اور ہر لمحہ کسی نئی صورت میں ڈھل جاتی تھی۔ آپ کہیں گے، وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ کبھی وہ بنیاد سے فراخ اور مضبوط ہوتی نظر آتی اور کبھی بالائی سطح پر پھیلتی جاتی۔ کبھی صراحی کی طرح، کبھی کسی شجر سایہ دار کی سی، کبھی کھیتوں میں کووں کو ڈرانے والے بھجکاگ جیسی، اور کبھی اپ رائٹ ڈیپ فریزر جیسی، لمبوتری اور اقلیدسی۔ ۔ ۔ مگر اس کی حرکت میں کوئی نہ کوئی معنی محسوس ہوتا تھا۔ شاید یہ میرا وہم ہو، شایدیہ حرکات بالکل غیر اختیاری اور مشینی نوعیت کی ہوں۔ جیسے کمپیوٹر کے بعض سکرین سیور ہوتے ہیں، جو پوری سکرین پر ناچتے پھرتے ہیں، یونہی بے مقصد۔ ۔ ۔ بے اختیاری سے۔ کوئی بھی ان حرکات کے معنی تلاش کرنے کی حماقت نہیں کرتا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی حماقت مجھ سے بھی سرزد نہ ہوتی، اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ یہ ایک کہانی ہے۔ کہانی۔ ۔ ۔ جس کا کوئی مفہوم بھی ہے اور جس میں کردار بھی ہیں اور واقعات بھی۔

یکایک مجھے اپنے دوست کی بھیجی ہوئی کلید یا د آگئی۔ کہانی کو ایک کُل کی طرح سمجھنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد میں نے اس کے اجزا پر توجہ کرنے کی سوچی۔ لیکن اتنی سی دیر ہی میں، میرا ذہن تھک کر چور ہو گیا تھا اور ا س میں کہانی کو سمجھنے کی خواہش ماند پڑتی جاتی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ شاید میرے دوست نے کوئی بھونڈا سا مذاق کیا ہے، یونہی مجھے ستانے اور ایذا دینے کے لیے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو ذہنی طور پر زچ کرنے کے عادی ہیں۔ اس طرح ہم ایک دوسرے کی حد امکان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اگرچہ یہ نہیں جانتے کہ حد امکان کہاں ہے۔ جس طرح اس کہانی نام کے پیکر کی ہر حد اور سمت میرے لیے اجنبی تھی، مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ جسے میں کہانی کا بالائی حصہ سمجھے ہوئے ہوں، وہ واقعی بالائی ہے بھی یا نہیں۔ یہ بھی عین ممکن تھا کہ کہانی کو الٹا کر دیکھنا ضروری ہو اور اس کی زمین ہی دراصل آسمان ہو۔ زمین اور آسمان سے میرا دھیان ابن عربی کی طرف چلا گیاجس نے مرد اور عورت کے رشتے کو زمین اور آسمان کے استعارے سے بیان کیا ہے۔ مجھے اس تمثیل سے اتفاق نہیں حالاں کہ ابن عربی کی نثر دلکش و دلآویز ہے اور اس کے اسلوب میں تاثیر ہے۔ وہ اپنے قاری کو اپنے تخیل کے پروں پر اٹھا کر اڑا لے جانے پر قادر ہے۔ میرا شدت سے جی چاہنے لگا کہ کسی تخیل کے پر وں پر بیٹھ جاؤں اور آنکھیں بند کرلوں۔ ۔ ۔
پھر آہستہ آہستہ خود کو کسی گہری سرنگ میں گرتے ہوئے محسوس کروں جیسے ہپنوٹزم والے کہتے ہیں۔ ۔ ۔

’آنکھیں بند کریں، گہری سانس لیں، اپنے اعصاب ڈھیلے چھوڑدیں، پیٹ کے، سینے کے، کندھوں کے، گردن کے، عضلات کو پھیلنے دیں، خود کو آرام دہ پوزیشن میں رکھیں‘

اور ان سب باتوں کا حاصل کیا؟ محض نیند؟؟؟
بے خوابی میرا مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے تو ایک نئی فہم کی تلاش ہے۔ نئی کہانی کو سمجھنے کے لیے نئی بصیرت، نئی بصارت، نیا تخیل۔ زمین اور آسمان کی تمثیل سے باہر نکل کر، فیکون کے دائرے کے محیط پر، کُن کی صدا کے کنارے کنارے۔

کُن کا لفظ میرے ذہن میں آیا ہی تھا کہ مجھے اپنے اندر ایک بالکل نئی توانائی محسوس ہونے لگی۔ مجھے خیال آیا کہ کہانی پہلے سے سکرین پر موجود نہیں ہے۔ یہ تو کہانی کی تخلیق کی دعوت ہے۔ کہانی تو مجھے خودتشکیل دینا ہے۔ پھر یکایک یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی کہ نقاد کی حیثیت سے میں نے جتنی بھی کہانیوں کے تجزیے کیے تھے، وہ ان ادیبوں کی لکھی ہوئی کہانیاں نہیں تھیں۔ وہ تو میرے اپنے ہی فہم کی تخلیق تھیں۔ صرف نقا د ہی نہیں، قاری بھی تو کہانی کو خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ ادیب کے باطن میں کب داخل ہوتا ہے، کوئی بھی کسی اور کے باطن میں کیسے داخل ہو سکتا ہے۔ یہ تو ہر ایک کی نجی ملکیت ہوتا ہے جس کے داخلی رستوں پر ’یہ شارع عام نہیں ہے‘ کا بورڈ لگا ہوتا ہے۔ مگر یہ تو شارعِ خاص بھی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی تو اس کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والا خود زندگی بھر وہاں قدم نہیں رکھتا۔ اس کے وجود سے بھی بے خبر رہتا ہے، کبھی راہ گم کر بیٹھتا ہے، کبھی بھٹک کر کہیں اور جا نکلتا ہے اور وہیں ڈیرے ڈال دیتا ہے۔ باطن کی دنیا کے بھید پانا کس قدر دشوار ہے، پھربھی ہم دوسروں کے باطنی اسرار کس وثوق سے کھولتے رہتے ہیں۔

مجھے یاد آیا کہ نقاد کی حیثیت سے میں نے بھی ایسے کتنے ہی دعوے رکھے ہیں۔

’’اس علامت سے مصنف کا اشارا فلاں جانب ہے، یہ تمثیل فلاں کیفیت کی چغلی کھاتی ہے، اس اسلوب کے پس پردہ فلاں مفہوم موجزن ہے اور نجانے کیا کیا۔۔۔‘‘ یکایک مجھے اپنی گزشتہ تمام تر محنت اکارت جاتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ میری پیشہ ورانہ زندگی صابن کے بلبلے کی طرح میرے سامنے ہی پھوٹ گئی اور میں نے خود کو بالکل بے دست و پا محسوس کیا۔

آخرمیں نے ایک مرتبہ پھر اس کلید کو کھول کر دیکھا جو میرے دوست نے کہانی کے ہمراہ ارسال کی تھی۔ میرے دوست نے پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ کرداروں کے نام رنگوں سے ظاہر کیے گئے ہیں اور ان کی صفات خط کشیدہ ہیں۔ میں نے غور سے دیکھا تو کئی رنگوں پر خط سے کھنچے ہوئے نظر آئے مگر مشکل یہ تھی کہ رنگوں پر کھنچے ہوئے خط اچانک ترچھی صورتوں سے لڑھکتے ہوئے ادھر ادھر بکھرجاتے اور مجھے معلوم نہ ہوتا کہ کس خط کو کس رنگ کی صفت قرار دوں۔ تبھی یاد آیا کہ ترچھی صورتیں تو دراصل افعال تھیں اور صفات مسلسل افعال سے دست و گریباں تھیں۔ کسی ایک صفت کو کسی ایک رنگ سے مخصوص کرناکم و بیش ناممکن تھا۔ زمان و مکاں کے ابعاد بھی اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتے تھے۔ پھر بھی میں نے اس بے شکل، شکل کو معنی پہنانے کی کوشش جاری رکھی۔

آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہوا کہ میرا شعور اس معمے سے مانوس ہوتا جا رہا ہے۔ کم ازکم مجھے اس بے صورت خاکے میں کردار نظر آنے لگے تھے۔ نیلا جو کبھی کبھی کاسنی لگنے لگتا تھا، سرخ، جس کے کناروں پر سرمئی سی راکھ چپکی ہوئی تھی، خاکی، جس کے پھیلاؤ میں سبز، کاہی دھبے پڑتے تھے، چیزیں ایک دوسرے میں گتھی ہونے کے باوجود الگ الگ نظر آنے لگیں۔ کرداروں کو افعال اور زمان و مکان سے الگ کرنا تو ممکن نہ تھا مگر ان کے ہیولے نمایاں ہونے لگے تھے۔ اس کامیابی نے مجھے بہت پر اعتماد کر دیا تھا۔ میں نے فوراً یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا کہ ان کرداروں میں سے کون سے مذکر اور کون سے مؤنث ہو سکتے ہیں۔ مجھے معلوم تک نہ ہوا کہ کب میرے گزشتہ فہم نے اس تفہیم میںدخل اندازی کی کوشش شروع کر دی تھی۔ میں نے فوراً کرداروں کو دو فریقوں میں تقسیم کر دیا اور ان کی مفروضہ صفات کو ان سے وابستہ قرار دینے میں مجھے کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ غیر شعوری طور پر کئی کہانیوںکے خدوخال میرے ذہن میں ابھرنے لگے۔ میں نے کرداروں کو انہی جانی بوجھی کہانیوں میں بٹھانے کے لیے ان کی صفات کے من مرضی کے نام رکھنے شروع کر دیے تھے۔ ان صفات کی بدولت افعال کے بارے میں اندازہ لگانا اتنا مشکل نہ رہا تھا۔

اب مجھے لگا کہ کہانی کوسمجھنا اتنا دشوار نہ تھا، جتنا میں نے ابتدا میں سمجھا تھا۔ اپنے دوست پر اپنی برتری جتانے کی فخر بھری مسرت نے مجھے فکری طور پر مستعد و توانا کر دیا تھا۔ میں نے نئے سرے سے کہانی کا پہلا سرا ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔ سیال اور بدلتے ہوئے منظر میرے لیے مفاہیم کے آفاق کھولتے گئے۔ میں نے ایک ایک کر کے کئی امکانات کو رد کیا، کئی بار خود سے الجھنا پڑا،

یہاں یوں ہوا ہو گا، نہیں، یوں نہیں، یوں، یہ سفید ہے جو کالے میں نمایاں ہو رہا ہے، یا کالا ہے جو سفید سے برآمد ہورہا ہے، کئی الجھنیں دامن گیر ہوئیں مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔

زندگی بھر کی ریاضت کو بروئے کار لاتے ہوئے میں نے آخر کار اس معمے سے ایک کہانی تراش ہی لی۔ ایک انوکھی کہانی، جسے اس سے پہلے کسی نے نہیں پڑھا تھا۔ پڑھنا تو ایک طرف اسے تو کسی نے لکھا بھی نہیں تھا۔ وہ تو امکانات کے ایک ذخیرے کی صورت کمپیوٹر کی سکرین پر پڑی تھی۔ میں نے اسے تخلیق کیا تھا۔ خود اپنی ریاضت اور فہم و ادراک کی بدولت۔ آخر کار میں نے اپنا معما حل کر لیا تھا۔  خود اعتمادی اور خوش اعتقادی نے میری روح میں ایک ایسی بلند ی، ایسی وسعت بھر دی تھی، جس کا دنیا کی کسی نعمت سے مقابلہ نہیں کیاجا سکتا تھا۔ میں نے فوراً اپنی شاہ کار تحریر اپنے دوست کوارسال کر دی۔ دل کے اندر دور کہیں، اس جلدی میں، یہ ڈر بھی پوشیدہ تھا کہ کہیں کچھ دیر گزرنے کے بعد میرا یقین ڈانواڈول نہ ہو جائے۔ برقی ڈاک بھیجنے کے بعد میں نے ایک شان دار تخلیقی تجربے سے گزرنے کے بعد کی تھکن خود پر غالب آتے محسوس کی اورایک مکمل اور بھرپور اطمینان کے ساتھ وہیں ٹانگیں پسار لیں۔ ۔ ۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میں نے ایک نئی زندگی تخلیق کر ڈالی ہے۔

نجانے ایک دن گزرا کہ دو، تین کہ چار، مجھے کچھ معلوم نہیں۔
مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میرے دوست نے کب اور کیسے اس تحریر کو چھپوایا۔ صرف اتنا معلوم ہے کہ مجھے اپنی ’’آپ بیتی‘‘ لکھنے پر سب سے بڑے ادبی انعام سے نوازا گیاہے، بڑے بڑے نقادوں نے اس پر تبصرے لکھے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ میں نے آپ بیتی میں روزمرہ کی معمولی جزئیات ِ زندگی کو اتنی سچائی سے بیان کیا ہے کہ ادبی تاریخ میں حقیقت نگاری کی ایک نئی روایت قائم ہو گئی ہے۔

البتہ میرے دوست نے میری شکست پر مجھے تسلی کا ایک لمبا خط لکھا ہے اور اس کے ہمدردانہ الفاظ میری طرف دیکھ دیکھ کر مسکراتے رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: