جلتے دیوں کی جھیل سا آسمان —– نجیبہ عارف

0
  • 131
    Shares

انصاری صاحب سے میری پہلی ملاقات کانوکیشن کے دن ہوئی تھی۔ مجھے یونی ورسٹی آئے پہلا ہی سال تھا اور میں یہاں بہت کم کسی کو جانتی تھی۔ ہماری ایک قریبی عزیز خاتون نے مجھے اتنا ضروربتا رکھا تھا کہ وہاں پروفیسر ظفر اسحاق انصاری بھی ہوتے ہیں جو بہت غیر معمولی انسان اور بہت قابل پروفیسر ہیں مگر چوں کہ انصاری صاحب یونیورسٹی کے ذیلی ادارے ادارۂ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور ان کا دفتر فیصل مسجد کیمپس میں تھا جب کہ میری تعیناتی شعبۂ اردو میں ہوئی تھی جو نیو کمیپس میں تھا؛ میری ان سے ملاقات ہو سکی، نہ میں نے کبھی انھیں دیکھا۔

کانوکیشن کے روز ایک انتظامی ڈیوٹی کے باعث مجھے یہ موقع ملا کہ میں یونی ورسٹی کے تمام سینئر اساتذہ سے ملاقات کر سکوں۔ وہیں میں نے انصاری صاحب کو پہلی باردیکھا۔
سر! آپ کا نام؟
میں نے ہاتھ میں ان اساتذہ کی ایک فہرست پکڑرکھی تھی جنھیں جلوس علمی کی قطار میں دائیں یا بائیں کھڑے ہونا تھا اور میرا کام یہ تھا کہ انھیں اس ترتیب سے آگاہ کر دوں۔
’’انصاری‘‘۔ شاید انھوں نے اتنا ہی کہا اور حیرت سے مجھے دیکھا مگر آواز اتنی دھیمی تھی کہ میں سن نہ سکی۔
میں نے اپنا سوال دہرایا۔ اس بار انھوں نے ذرا اونچی آواز میں کہا : ظفر اسحاق انصاری۔
آواز اتنی بھاری اور بیٹھی ہوئی تھی کہ میں پوری طرح نہ سمجھ سکی۔ میں نے پھر سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھا تو وہ شاید کچھ جھلا سے گئے یا شاید نہ جھلائے ہوں، بس میں نے سوچا ہو کہ وہ جھلا رہے ہوں گے۔
’’ظفر اسحاق انصاری!‘‘ انھوں نے ذرا زور سے کوشش کر کے کہا۔
اب میرے ذہن میں ایک گھنٹی سی بجی۔
’’آپ ظفر اسحاق انصاری ہیں؟ ‘‘ میری آواز میں جوش اور تجسس شامل ہو گیا تھا۔
’’جی‘‘ کہہ کرانصاری صاحب اپنی نشست کی طرف بڑھ گئے اور میرا جی چاہنے لگا کہ میں ان کے قریب جا کر ان سے بات کروں۔ لیکن تعارف کا آغاز ہی خراب ہو گیا تھا۔ میں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔

ڈاکٹر ممتاز مرحوم اور ڈاکٹر انصاری: دو دوست جنکا انتقال ایک ماہ کے وقفہ سے ہوا

تھوڑی ہی دیر میں مجھے یاد آگیا کہ میں نے انھیں پہلے بھی دیکھا تھا۔ میرے یونی ورسٹی آنے کے چند ہی دن بعد معروف برطانوی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ یونی ورسٹی کے دورے کے لیے آئی تھیں اور یونی ورسٹی کے زیر اہتمام ان کا ایک لیکچر کنونشن ہال اسلام آباد میں ترتیب دیا گیا تھا۔ میں بھی گیلری کی پچھلی نشست پر براجمان تھی۔ پروگرام میرے پہنچنے سے پہلے شروع ہو چکا تھا اور سٹیج پر یونی ورسٹی کےکوئی صاحب مہمان مقرر کا تعارف کروا رہے تھے۔ آواز دھیمی اور غیر متاثر کن تھی۔ ابھی چند ہی جملے بولے ہوں گے کہ وہ اچانک خاموش ہو گئے۔ تھوڑی دیر کچھ بولنے کی کوشش کرتے رہے، بھرا ہوا ہال خاموشی سے انھیں دیکھ رہا تھا اور وہ بے بسی سے ہال کی طرف۔ میں سمجھی شاید ان کی انگریزی جواب دے گئی ہے۔ تھوڑی دیر کی ناکام کوشش کے بعد وہ واپس اپنی نشست کی طرف چلے گئے اور پروگرام آگے بڑھ گیا لیکن یونی ورسٹی کا نووارد رکن ہونے کے باعث، مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔
لوگ کیا کہیں گے؟ اس یونی ورسٹی میں کوئی مہمان مقرر کا انگریزی میں تعارف بھی نہیں کروا سکا؟میں دیر تک اس بات پر رنجیدہ رہی۔

آج انھیں دیکھ کر مجھے یاد آگیا کہ وہ تو انصاری صاحب ہی تھے۔ اب مجھے تعجب ہوا۔ میں نے قریب بیٹھے ہوئے ایک پروفیسر صاحب سے سوال کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ انصاری صاحب کے ووکل کارڈز میں کوئی خرابی ہو گئی ہے جس کے باعث انھیں بولنے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ کیرن آرم سٹرانگ کے تعارف کے روز ان کا اچانک خاموش ہوجانا اب میری سمجھ میں آیا اور میں اپنے گمان بلکہ بدگمانی پر شرم سے پانی پانی ہو گئی۔ اس روز مجھے شدت سے احساس ہوا کہ انسان کا مشاہدہ بعض اوقات اس کو حقیقت سے کتنے مختلف نتائج اخذ کرنے پرآمادہ کر سکتا ہے۔ زندگی میں ہم کتنی ہی چیزوں کو اپنے اسی کمزور اور ناقابلِ بھروسہ مشاہدے کے سہارے زندگی بھر کتنا غلط سمجھتے رہتے ہیں۔
میرا جی چاہا، ابھی اٹھ کر جاؤں اور انصاری صاحب کے سامنے جا کر اپنی بدگمانی کا اعتراف کرلوں اور ان سے معافی طلب کروں مگر ان کے ارد گرد اتنے لوگ تھے کہ میں ہمت نہ کر سکی۔ البتہ، جب وہ اٹھ کر ہال کی طرف جا رہے تھے تو میں نے جلدی جلدی، ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنا تعارف کروایا اور انھیں بتایا کہ میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔ انھوں نے اخلاق سے کہا، کسی روز میرے دفتر تشریف لائیے۔ میں نے اسے پلے سے باندھ لیا۔

انھی دنوں تنقیدی مضامین پر مشتمل میری پہلی کتاب ’’رفتہ و آئندہ‘‘ چھپ کر آئی تھی۔ میں نے اس موقعے کو غنیمت جانا اور کتاب دینے کے بہانے ان کے دفتر پہنچ گئی۔ سلام دعا اور کچھ رسمی تعارف ہوا۔ میں نے کتاب پیش کی جسے انھوں نے ادھر ادھر سے کھول کر دیکھا، چند رسمی، حوصلہ افزا کلمات کہے اور میں واپس آگئی۔ اگلی ملاقات میں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں جوں ہی ان کے دفتر پہنچی، انھوں نے بہت پرجوش انداز میں میرا استقبال کیا۔ پھر کہنے لگے،
بھئی، مجھے آپ کی کتاب بہت پسند آئی۔ یہاں تک کہ میں نے پڑھنے کے بعد وہ کتاب ڈاکٹر ممتاز کو بھجوا دی اور ان سے کہا، ’’ذرا یہ کتاب دیکھیے، جو ایک نووارد مصنف کی ہے لیکن مجھے اس قدر پسند آ رہی ہے، کیا واقعی اچھی ہے، یا میرا ذوق خراب ہو گیا ہے؟‘‘
میں نے یہ سن کر قہقہہ لگایا۔ اس قدر دلچسپ جملے کی مجھے ان سے بالکل توقع نہ تھی۔ ابھی میں یہ پوچھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ پھر ڈاکٹر ممتاز نے کیا جواب دیا، کہ اچانک ڈاکٹر ممتاز خود کمرے میں داخل ہوگئے۔
انصاری صاحب نے اپنا جملہ پھر دہرایا اور ممتاز صاحب نے اپنی رائے بھی بیان کی۔ پھر دونوں نے مل کر مجھ جیسے نوآموز کی اتنی حوصلہ افزائی کی، کہ مجھے ہمیشہ کے لیے مورل سپورٹ حاصل کرنے کا ایک آسان ذریعہ مل گیا۔

انصاری صاحب نے آٹھ نو سال تک جس طرح مجھے اپنی شفقت و عنایات سے نوازا، اس کی کوئی مثال نہیں۔ وہ مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھتے، میرے مضامین پڑھتے، ان پر رائے دیتے، نئے موضوعات سجھاتے، ان پر لکھنے کے لیے اکساتے، کبھی کچھ پسند آتا تو تفصیل سے ذکر کرتے، کچھ ناگوار گزرتا تو خاموش ہو جاتے۔ کوئی صاحب علم شخصیت ادارۂ تحقیقات اسلامی میں لیکچر دینے کے لیے آتی تو مجھے شرکت کی دعوت ضرور دیتے۔ کوئی کانفرنس ہوتی تو مقالہ پڑھنے کی پیش کش کرتے۔ ساتھ ساتھ کوئی نیا اور دلچسپ پہلو بھی سجھا دیتے۔ ولیم ڈیرمپل پر لکھنے کی تحریک مجھے انھوں نے ہی دی تھی۔ حالانکہ میں نے جو کچھ لکھا تھا وہ ان کی رائے کے برعکس تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے مجھے اس موضوع پر ادارۂ تحقیقات اسلامی میں سیمینار دینے کی دعوت دی۔ پھر جب میں نے کارل ارنسٹ کی کتاب پر مقالہ لکھا تو بھی بہت خوش ہوئے اورمجھے ان کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ کس طرح کارل ارنسٹ اسلامی یونی ورسٹی میں آکر رہے اور ان کے ساتھ جا کر فیصل مسجد میں نماز بھی پڑھ آئے۔ چھوٹے چھوٹے کئی واقعات، کئی قصے، کئی حکایات، وہ ہر ملاقات پر سنایا کرتے۔

ہارورڈ یونی ورسٹی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی خوشی اورکامیابی کا تعلق نہ دولت سے ہے، نہ شہرت سے بلکہ انسانوں کے درمیان قائم تعلقات سے حاصل ہونے والی طمانیت سے ہے۔ ہم زندگی کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگتے رہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شے کو تلاش کر نے نکلے تھے اسے تو راستے ہی میں چھوڑ آئے ہیں۔

جب بھی ملتے، مجھ سے میرے میاں اور بچوں کی خیریت نام بنام دریافت کرتے۔ امی ابو کا حال پوچھتے۔ مجھے ہر بار حیرت ہوتی کہ انھیں میرے بچوں کے نام اور ان کے تعلیمی درجے بھی یاد ہیں۔ وہ دونوں کے بارے میں، ان کی دلچسپیوں کے حوالے سے الگ الگ سوال کرتے۔ بالکل اس طرح جیسے اپنے کسی پوتے پوتی، یا نواسے نواسی کی تعلیمی کارکردگی کا احوال پوچھ رہے ہوں۔ ان کے یہ سوال سرسری اور رسمی نہیں ہوتے تھے؛ جیسے ہم اکثر محض گفتگو کو آگے بڑھانے کے لیے کر لیتے ہیں اور پھر ان کا جواب سنے بغیر اگلی بات کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ وہ انتہائی مصروف رہتے تھے لیکن اتنے اہم کاموں میں مصروف رہنے کے باوجود پوری بات دھیان سے سنتے، اس پر تبصرہ کرتے، اپنی رائے دیتے اور اس بات کا گہرا احساس دلا دیتے کہ انھیں اس موضوع سے واقعی دلچسپی ہے۔ یہ رویہ ایک طرح کا احساسِ تحفظ فراہم کرتا اور کسی بزرگ کی رہنمائی اور مشاورت حاصل کر لینے کا اطمینان دلا دیتا۔ یہ اطمینان کتنی بڑی نعمت ہے اور انسان کے لیے کیسی قلبی تقویت کا باعث ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس کے چھن جانے کے بعد ہی پوری طرح ہوسکتا ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے ہارورڈ یونی ورسٹی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نظر سے گزری۔ اس تحقیق کے دوران ۷۲۴ افرادکے ایک گروپ کو مسلسل ۷۵ سال تک مشاہدے، تجربے اور تحقیق کا موضوع بنایا گیا تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ انسان کی دلی مسرت اور کامیابی کا دارومدار کس چیز پر ہے۔ ۷۵ سالہ اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی خوشی اورکامیابی کا تعلق نہ دولت سے ہے، نہ شہرت سے بلکہ انسانوں کے درمیان قائم تعلقات سے حاصل ہونے والی طمانیت سے ہے۔ ہم زندگی کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگتے رہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شے کو تلاش کر نے نکلے تھے اسے تو راستے ہی میں چھوڑ آئے ہیں۔

میں جب بھی انصاری صاحب کے پاس گئی، انھوں نے کبھی یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ مصروف ہیں، ان کے پاس وقت کم ہے یا میری باتیں ان کے لیے غیر اہم یا غیر ضروری ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو یہ بڑی عام سی بات ہے؛ لیکن پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ عام سی بات میرے لیے کتنی اہم تھی۔ اس کی وجہ سے میرے اعتماد میں کتنا اضافہ ہوا، میں نے ان کی یوں ہی بر سبیلِ تذکرہ کہی جانے والی باتوں سے کتنا کچھ اخذ کیا، کیا کچھ سمجھا، کیا کچھ جانا۔ ایک بار اسی دوران میں جب ہمارا شعبہ بوجوہ اربابِ اختیار کے زیر عتاب آگیا اورانتقال اقتدار کے مراحل میں چیونٹیوں کی شامت آئی تو یہ انصاری صاحب ہی تھے جنھوں نے ہر مقام پر میری گواہی دی، مجھے سہارا دیا اور اس مشکل وقت سے گزر جانے کا حوصلہ دیا۔ ورنہ پیشہ ورانہ زندگی کا یہ عام دستور ہے کہ جب کسی پر مشکل وقت آئے تو گہرے دوست بھی نظریں چرا کر پتلی گلی سے نکل لیتے ہیں۔ میں نہ تو انصاری صاحب کی براہ راست شاگرد تھی، نہ ماتحت، نہ ان کے ادارے سے وابستہ تھی۔ انھیں مجھ سے کوئی کام نہیں تھا۔ لیکن وہ مجھ جیسی جونئیر پر اپنا قیمتی وقت قربان کر دیتے تھےاور یہ اہمیت حاصل کرنے والی میں ہی اکیلی نہ تھی۔ ان کے جانے کے بعد کتنے ہی ایسے نوجوان، مردو خواتین ساتھی ملے جنھیں یہی تجربہ ہوا تھا۔ اس بات کی اہمیت اب مجھ پر خوب عیاں ہے، جب کہ میں خود ایک چھوٹے سے مگر بہت مصروف رکھنے والے عہدے پر فائز ہوں، اور جانتی ہوں کہ یوں ہی بغیر کسی کام سے آنے والے لوگوں کو وقت دینا کتنا مشکل لگتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں مجھے معلوم تک نہ ہوا کہ انصاری صاحب کا تعلق جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ سے کتنا گہرا ہے۔ میں جمعیت سے نظریاتی طور پر کبھی قریب نہیں ہو سکی۔ مجھے سب سے زیادہ اس بات پر اعتراض رہا کہ اسلام کا نام لے کر جب کوئی فرد یا جماعت اپنی شناخت قائم کرتی ہے تو اس کا ہر عمل اسلام کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، ایسے میں اس کی ذاتی کوتاہیاں بھی اسلام کی کوتاہیاں بن جاتی ہیں۔ اس لیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اپنے جماعتی یا سیاسی مقاصد کے لیے اسلام کو ڈھال بنانا اسلام سے زیادتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالب علمی کے دور میں بھی جمعیت کے کچھ لوگوں سے شخصی سطح پر پر دوستانہ تعلقات کے باوجود میں کبھی جمعیت سے متفق نہ ہو سکی۔ اسلامی یونی ورسٹی میں آنے کے بعد بھی میرا طرز عمل یہی رہا لیکن مجھے انصاری صاحب کے بارے میں کبھی کسی جانب داری کا گمان تک نہ ہوا۔ نہ کبھی یہ اندازہ ہوا کہ نظریاتی طور پر وہ جماعت اسلامی اور بالخصوص مولانا مودودی کے کتنے مداح تھے۔

مجھے یاد ہے ایک بار میں نے اپنی کم علمی کے دباؤ سے مجبور ہو کر ان کے سامنے بڑک ماری اور دعوے کے انداز میں کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ مستقبل میں اسلام کی جو شکل رائج ہو کر عام ہو گی وہ اسلام کے صوفیانہ تصورات سے ماخوذ ہو گی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ انھوں نے تحمل سے سوال کیا۔
میں بڑے جوش و خروش سے اپنے دلائل دینے لگی۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ پھر آہستہ سے بولے؛ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ مستقبل میں اسلام کی وہ صورت باقی رہے گی جو مولانا مودودی صاحب نے پیش کی ہے۔‘‘
یہ کہ کر انھوں نے الماری سے ’’تفہیم القرآن‘‘ کے مختصر انگریزی ترجمے پر مبنی کتاب نکالی اور مجھے عطا کی۔ میں نےکھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ ترجمہ تو انصاری صاحب نے خود کیا ہے۔ لیکن وہ میرے نقطۂ نظر پر معترض ہوئے نہ اس کا برا مانا۔ بس اپنی رائے قطعیت کے ساتھ بیان کر دی۔
یوں ہی خیال آتا ہے کہ اگر مولانا مودودی صاحب کے پیش کردہ نظریات کے نتیجے میں انصاری صاحب جیسے لوگ پیدا ہو نے لگیں تو ہم جیسے لوگ اسی پر مطمئن ہو جائیں کیوں کہ تصوف کا منشا بھی تو یہی ہے کہ ایسا معاشرہ قائم ہو جس میں انسان انسان کی ڈھال بنے، اس کےلیے تلوار نہ بن جائے۔

اسی طرح کے کئی واقعے مجھے یاد ہیں جب میں ان کے مسلکی نظریات سے بالکل مختلف باتیں ان کے سامنے بڑے وثوق سے کرتی رہی اور وہ مجھ سے اس طرح مختلف نکات کی وضاحت کرنے کو کہتے رہے جیسے میری باتیں عین ان کے ذوق کے مطابق ہوں۔ اب خیال آتا ہے کہ یہ ان کا استادانہ داؤ تھا۔ طالب علمانہ مباحث کوجگہ دینے کے لیے، اپنی بات کی وضاحت میں دلیل لانے کی عادت پختہ کرنے کے لیے، کلیہ بیان کرنے سے پہلے اس کی مثال تلاش کرنے اور اس کا حوالہ دینے کی تربیت کرنے کے لیے۔

انصاری صاحب کی علمی تخصیص تو علوم ِ اسلامی ہی میں تھی لیکن ادب اور زبان کا جیسا سلجھا ہوا، نکھرا ہوا، پختہ اور رچا ہوا ذوق ان کے ہاں نظر آیا وہ اب خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکثر وہ کسی کلاسیکی شاعر کا مصرع دہراتے اور پوچھتے، کیا شعر ہے یہ؟ اگلی بار ان کے پاس جانے سے پہلے اس شاعر کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور دیکھ لیتے تھے مگر اگلی بار وہ کسی اور شاعر کو یاد کر لیتے۔ ان کا ادبی مطالعہ سطحی اور تفریحی نوعیت کا نہیں تھا، عمیق اور ہمہ جہت تھا۔ وہ لسانی باریکیوں سے لے کر اسلوبی جہتوں تک ہر پہلو کی قدر و قیمت پہچانتے تھے اور اسے واضح انداز میں بیان کر سکتے تھے۔ اصغر گونڈوی کی شاعری جمع کرنے کا خیال انھوں نے ہی مجھے دلایا تھا۔ پھر جب سید سلمان ندوی کے مجموعہ کلام کی اشاعت کا خیال آیا تو وہ بھی انھوں نے پہلے مجھے پڑھنے کے لیے عطا کیا۔ یہ محض ان کی خُرد نوازی تھی۔

انصاری صاحب کو پاکستان میں ویسی شہرت حاصل نہیں ہوئی جس کے وہ اصل میں مستحق تھے۔  مگر پاکستان سے باہر اپنے شعبے کے حوالے سے انھیں کس قدر عزت و توقیر حاصل تھی اس کا اندازہ مجھے تب ہوا، جب میں جرمنی گئی۔

میکگل یونی ورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھوں نے ادارۂ تحقیقات اسلامی میں اسلامی علوم کی تحقیق کے نئے امکانات دریافت کیے۔ ان کا ایک اختصاص یہ بھی تھا کہ وہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہت جلد پہچان کر انھیں مختلف کاموں کے لیے منتخب کر لیتے تھے اور پھر انہی مخصوص شعبوں میں ان کی ایسی رہنمائی اور تربیت کرتے کہ ان کے زیر سایہ رہنے والے نوجوان محققین بڑے بڑوں کے سامنے سر اٹھا کر کھڑے ہونے کے قابل ہو جاتے۔ میرے ذہن میں ایسے کئی نام آ رہے ہیں جنھیں کسی نہ کسی طور انصاری صاحب کی نظر میں آنے کا موقع مل گیا اور پھر وہ نگینوں کی طرح تراشے گئے۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی سے نکلنے والا انگریزی جرنل Islamic Studies اور اردو مجلہ ’’فکر و نظر‘‘ بہت جلد اپنے شعبے میں علمی وقار کی ایسی مثال بن گئے جو ابھی تک ملکی اور عالمی سطح پر امتیازی مقام کی حامل ہے۔ انھوں نے دونوں مجلات کے لیے اعلیٰ علمی، تحقیقی اور ادارتی معیار متعین کیا اور پھر اس معیار کو قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن عملی کوشش کی۔

حمید اللہ لائبریری میں سیرتِ نبویﷺ کے متعلق کتب پر مشتمل ایک خصوصی گوشہ ان کی دقت نظری اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ اس گوشے میں انھوں نے سیرت کے موضوع پرلکھی گئی ہر طرح کی تحریریں جمع کر دی ہیں۔ ان میں بعض بہت نادر و کم یاب نسخے اور مخطوطات بھی شامل ہیں۔ امید ہے کہ یہ گوشہ ان کے حق میں صدقہ جاریہ ثابت ہو گا۔
یونی ورسٹی کے BASR (بورڈ آف ایڈوانس سٹیز اینڈ ریسرچ) میں ان کی موجودگی معیاری تحقیق کی ضمانت تھی۔ وہ پی ایچ ڈی کے لیے پیش ہونے والے ہر تحقیقی منصوبے کا پہلے سے مطالعہ کر کے آتے اور پھر اس پر بھرپور بحث کرتے۔ اپنی رائے دیتے، دوسروں کی رائے سنتے اور پھر فیصلے میں شریک ہوتے۔ وہ کبھی میٹنگ کا عضوِ معطل جزو نہیں رہتے تھے۔ ہر موضوع میں دلچسپی لیتے تھے۔ ان کے علاوہ، سوائے ڈاکٹرممتاز احمدکے، میں نے یہ ہنر کسی میں نہیں دیکھا۔

انصاری صاحب کو پاکستان میں ویسی شہرت حاصل نہیں ہوئی جس کے وہ اصل میں مستحق تھے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اپنا آپ منوانے کے لیے عام طور پر خود ہی جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اپنی تشہیر کی خود کوشش کرنی پڑتی ہے۔ کسی نہ کسی طرح خبر کا موضوع بننے کا ہنر آزمانا پڑتا ہے۔ یہ ایک باقاعدہ فن ہے جس میں ریاضت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایک سچا عالم ان سب باتوں سے مبرا اور بے نیاز ہوتا ہے۔ انصاری صاحب بھی ایسے ہی تھے۔ مگر پاکستان سے باہر اپنے شعبے کے حوالے سے انھیں کس قدر عزت و توقیر حاصل تھی اس کا اندازہ مجھے تب ہوا، جب میں جرمنی گئی۔

ایک محفل میں کچھ جرمن پروفیسر حضرات سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھ لیا کہ پاکستان میں علمی اعتبار سے کون سی یونی ورسٹی سب سے معتبر ہے؟ میں نے سوچ سوچ کر ایک پرائیویٹ یونی ورسٹی کا نام لیا۔ ان میں سے ایک صاحب علوم اسلامیہ کے محقق تھے۔ وہ فوراً بولے، آپ نے اپنی یونی ورسٹی کا نام کیوں نہیں لیا؟ میں ابھی کوئی جواب سوچ ہی رہی تھی کہ وہ پھر بولے،
جس یونی ورسٹی میں ظفر اسحاق انصاری جیسے پروفیسر موجود ہوں، اس کا مقابلہ کسی دوسری یونی ورسٹی سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یونی ورسٹیاں تو اپنے ممتاز ترین پروفیسروں سے ہی پہچانی جا تی ہیں۔ کیا پاکستان کی کسی اور یونی ورسٹی میں ان جیسا بڑا عالم پروفیسر موجود ہے؟
میں گنگ رہ گئی۔ سچی بات ہے مجھے اس بات کا احساس اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی ایک شخص کا علمی مرتبہ اس کے ادارے کو کس قدر وقعت اور عزت عطا کر سکتا ہے۔

انصاری صاحب! اللہ آپ پر اپنے رحم و کرم کے سائے دراز رکھے اور آپ کے مقامات بلند سے بلند تر کرتا رہے۔ آمین۔
ہم آپ کے احسان مند ہیں کہ آپ نے ہماری زندگیوں کو اپنی مثال سے تابندہ تر کر دیا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری: یک چراغ آخریں — شاہد اعوان
(Visited 123 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20