مار نہیں پیار: صالحین کا ویلنٹائن پر بدلتا موقف —- فیضان جعفری

0
  • 35
    Shares

فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کسی حوالے سے شہرت نہیں رکھتی اور نا ہی اس کا کوئی نام لیتا ہے ہاں البتہ لوگ کبھی کبھار پوچھ لیتے ہیں کہ اس کا وی سی وہی ہے جسے مشرف لایا تھا ناں؟ جواب ملتا ہے جی! اب ایسا وی سی ڈھونڈنا جو ذہنی اور جذباتی طور پر کسان ہو اور کوالی فکیشن کے اعتبار سے پروفیسر بھی ہو، آبِ حیات ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگ جنیٹک انجینئرنگ سے بھی نہیں بن سکتے۔ زرعی یونیورسٹی کے لوگ اپنی جامعہ کی شہرت کا اندازہ لگا کر اپنی جاب پلیس پر اپنا ادارہ نہیں صرف اپنی ڈگری بتاتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے مشہور نہ ہونے کی ایک یہ بڑی وجہ ہے۔

اگر یہ تھوڑا بہت مشہور ہے بھی تو اس کی وجہ جنوری اور فروری کے مہینے میں اخبارات میں کچھ مذھبی تنظیموں کی جانب سے ویلنٹائنز ڈے کے موقع پر نوجوانوں کو عریانی، فحاشی اور بیہودگی سے روکنا ہوتا ہے جس سے ہر سال اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ مذہب اور مذہبی لوگ ہر کام سے بس روکتے ہی ہیں اور انسان کے جذباتی وجود کے منکر ہیں۔ دو ہزار دو تین میں شباب ملی کے نوجوان و غیر نوجوان موٹر سائیکلوں پر ڈنڈا بردار گشت کیا کرتے تھے اور اس بات کو یقینی بنایا کرتے تھے کہ کوئی طالبعلم کسی طالبہ علم کو طالبہ فلم نہ دکھا دے یا پھول کا تحفہ نہ دے دے یا موبائل ری چارج کارڈ نہ دے دے۔ یہ گشت اوائل جنوری سے وسط فروری تک جاری رہتی ہے جبکہ اس کے بعد تحفہ دینے پر کوئی پابندی نہیں مگر سردی کا ’خوبصورت‘ موسم تو گزر جاتا ہے۔ ان تنظیموں کے اس پدرانہ رویے سے دلبرداشتہ جوڑے جناح کالونی مدینہ ٹاؤن ڈی گراؤنڈ اور کوہِ نور کے چھوٹے چھوٹے کیفیز میں لذت کام و دہن کے ساتھ رسمِ محبت کی انجام دہی کر لیتے تھے۔

اس سال البتہ ڈنڈا بردار گشت والوں نے پدرانہ سے مادرانہ رویے کا ثبوت دیتے ہوئے طلبہ کے چنگ چی کے پیسے بچائے ہیں اور کہا ہے کہ اس مرتبہ چودہ فروری کو ‘سسٹرز ڈے’ منایا جائے گا۔ اور اس ڈے پر عبایا اور اسکارف بہنوں کو ان سے محبت کے اظہار کے طور پر دیا جائے گا۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تحائف ساتھی طالبات کو دینا ہیں یا اپنی حقیقی بہنوں کو اور ان تحائف کی چودہ فروری سے کیا مناسبت ہے؟ بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سسٹرز ڈے کے امر میں ویلنٹائنز ڈے کی ’نہی‘ مضمر ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مذھبی جماعتوں والے بہت دور کی کوڑی لائے ہیں۔

ایک دوست کہنے لگا میری کلاس فیلو سسٹر نے ‘حجابیز’ نامی برانڈ کا عبایا مانگ لیا ہے اب میں کہاں سے آٹھ دس ہزار لاؤں۔ میں نے کہا انارکلی سے کوئی سستا عبایا خرید کر اس میں یوفون کا 520 والا سپر کارڈ رکھ کر اسے دے دو، دیکھنا وہ گلہ نہیں کرے گی۔ فرطِ جذبات میں کہنے لگا کہ آپ نے مجھے کنگال ہونے سے بچا لیا ہے، مولا خوش رکھے! مجھے یاد ہے ہماری یونیورسٹی میں ایک لڑکا ہوا کرتا تھا جو شام کے وقت ہوسٹل میں لڑکوں کو ایک ایک کر کے پکڑتا اور کہتا کہ بول فلاں میری بہن ہے، فلاں بھی میری بہن ہے اور فلاں بھی۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے جتنے جوڑے بنے وہ ڈے اسکالرز کے تھے۔ ہم ہوسٹل میں رہنے والے فیلم بینڈ باجا بارات دیکھتے رہے اور خوش خوش رہے۔

اس سسٹرز ڈے کے حوالے سے طالبات سے نہیں پوچھا گیا کہ وہ ‘سسٹرز’ بن کر عبایا اور اسکارف ہی لیں گی یا ان کی کوئی اور ضرورت یا خواہش بھی ہے، اس بارے میں یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم کی رائے ہے کہ اس میں قدیم پدرسری نظام جس میں مردانہ غلبہ اہمیت رکھتا ہے اختیار کیا گیا ہے اور اس نظام میں عورت کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اسی وجہ سے طالبات کو بے بس کر دیا گیا ہے کہ وہ صرف عبایا اور اسکارف ہی تحفے میں قبول کریں، دیگر ہر تحفہ عریانی اور بے حیائی کے زمرے میں آئے گا۔ اس وجہ سے طالبات میں بغاوت کے کچھ آثار ظاہر ہوئے ہیں مگر ابھی تک وہ صرف زبانی حد تک ہیں۔ دلبرداشتہ طالبات نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ چودہ فروری کو طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے جامعہ ہی نہیں جائیں گی تا کہ والدین بھی کسی طرح کا شک نہ کر لیں اور ویسے بھی کیا فائدہ!!

ایک طاب علم کا کہنا تھا کہ یومِ محبت یا یومِ ہمشیران پر تحفہ دینا کیا صرف لڑکوں کی ذمہ داری ہے؟ کیا شریکِ محبت ہونے والی لڑکیوں اور زیادہ محبت کا دعویٰ ہر وقت جتانے والیوں کا کوئی فرض نہیں بنتا؟ آخر لڑکیوں کو بھی صرف لینے کی بجائے کچھ نہ کچھ تحفہ دینا چاہئے۔ فی الحال یہ جماعتیں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں دے سکی ہیں۔

یہ بھی دلچسپ ہے: مکتوب میسنی بنام کُکو ------- لالہ صحرائی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: