مادری زبان اور ماڈرن ازم ——– سحرش عثمان

0
  • 254
    Shares

ان کا استدلال یہ نہیں تھا کہ بچے پڑھتے نہیں، اچھا تخلیقی ذہن تباہ کر بیٹھتے ہیں یا پھر رٹا لگا کر نمبر لیے جانے والے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دلیل یہ تھی کہ گورنمنٹ سکولز میں بچے پنجابی سیکھتے ہیں پنجابی میں گالیاں سیکھتے ہیں۔ گویا ہمارے بچے تخلیقی نہ بن پائیں مسئلہ نہیں، رٹے لگاتے رہیں ہمیں اعتراض نہیں۔ یہ کوئی نئی چیز یا بات سیکھ پائیں یا نہیں، بس پنجابی نہ سیکھیں اور پنجابی گالیاں تو ہرگز نہیں۔ انگریزی میں البتہ سیکھ جائیں کوئی مسئلہ نہیں کمینہ نہ کہے مین کہنے میں کوئی حرج نہیں کتا تو بہت بڑی گالی ہے با______ کہہ لیا کریں کلاسی لگتا ہے۔

بات بات پہ ہر جملے میں چھتیس بار ایف ورڈ بولے ماں باپ کے سامنے فریج سے گری چیز کو، نہ چلنے پہ ریموٹ کو، چلی جانے پر بجلی کو، بند ہوجانے پر بیٹری کو، ہاتھ پر لگ جانے پر گیٹ کو، سامنے آجانے والی گاڑی کو جواب دیر سے دینے پر دوست کو، ایف ورڈ کہہ لے خیر ہے اتنا تو چلتا ہے۔

لیکن گالی اور وہ بھی پنجابی میں نو وے۔۔ بس کہہ دہا تو کہہ دیا نہیں بولیں گے ہمارے بچے پنجابی۔

اس بات سے تو ذہن میں فوراً اچھے پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والی پانچ سالہ آئبہ آئی۔ جو اپنے چھوٹے بھائی کے کھیل پر تنگ آگئیں تو کہنے لگیں۔ مینوں تنگ نہ کر میں تے اگے ای موئی پئی آں (مجھے تنگ نہ کرو میں تو پہلے ہی نیم جاں ہوں)۔

اور ہم نے سارے خاندان میں فخریہ یہ بات سنائی تھی اور اس دن سے آج تک آئبہ سے پنجابی میں باتیں کرتے ہیں قصد۔اً کرتے ہیں۔ اپنی زبان میں اظہار کا جو نشہ ہوتا ہے اسے جعلی مہذب بننے کے ہوکے کا شکار کہاں سمجھ پائیں گے۔ جو نشہ آئبہ کے اس جملے میں ہے جب جھنجھلا کر کہتی ہیں اے سیاپے جوگا ٹیسٹ ای نہیں یاد ہوندا۔ یا پھر جب چھوٹی سی ناک سکور کے کہتی ہے میری جان نو کوئی ایک سیاپا اے۔ یا پھر جب وہ پنجابی جملے کا مافی الضمیر اپنی بڑی بہن کو اردو میں بیان کرتے ہوئے پوچھتی ہو تم کسی اور ملک سے آئی ہو۔

جب وہ ایک سو ستر روپے جیب میں ڈال کے کہہ رہی ہوتی ہے میں سارا شہر خریدن چلی آں۔ اس کے یہ سارے جملے اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے اور بھی خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کو ان جملوں کے پیچھے چھپی تہذیب بھی معلوم ہوتی ہے وہ اپنی جڑوں کے ساتھ جڑی ہے اپنے کلچر اپنے لوگوں سے جڑی ہے وہ اپنے ہی سماج میں ایلین نہیں ہے۔ اور یہ سوچ اس دن گہری ہوتی چلی گئی جس دن باوجود کوشش کے میں سیاپے جوگے ٹیسٹ کا اردو ترجمہ نہ کرسکی اور اس کی استانی ہونے کے باوجود کھکلا کر ہنس پڑی اور پوچھا اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ کہنے لگیں مطلب کچھ نہیں ہوتا سیاپا سیاپا ہی ہوتا ہے۔ اور سیدھی بات ہے بھئی، سیاپا سیاپا ہی ہوتا ہے چاہے اپنی زبان نہ سیکھنے کا ہو چاہے اوروں کی زبانون کو برتر سمجھنے کا۔

ان سیاپوں نے ہمارے بچوں کو اپنی جڑوں سے کاٹ دیا ہے۔ کسی بچے کو کہیں کولی پھڑائیں تو ہونق بنے دیکھتے رہتے ہیں۔ جب تک ٹرانسلیٹ نہ کردیا جائے کہ گیو می باؤل پلیز۔

اب آپ سب درج بالا خیالات پڑھ کے لازمی سوچتے ہوں گے کہ آنسہ نظام تعلیم پر کڑی تنقید کرنے والی ہیں ساتھ ہی ساتھ مادری زبان کے فضائل پر لیکچر دیں گی اور بچوں کو دوسری زبانیں نہ سیکھانے کی فضیلت بیان فرمائیں گی۔

ویسے تو آنسہ ایسے کر بھی سکتی ہیں۔ لیکن ہم ایسی کسی غلط فہمی کا شکار نہیں کہ بچے اپنی زبان کے ساتھ ہی ترقی کر سکتے صرف۔ جیسا کہ دوسری طرف والے احساس کمتری کا شکار نہیں کہ بچے انگریزی کے سوا کسی اور زبان میں گالی دیں گے تو اپ شگن ہو جائے گا۔

دیکھئے بلکہ پڑھئیے۔
انگریزی دنیا کی زبان ہے اس کو پڑھے سمجھے جانے بغیر گزارہ نہیں۔ لیکن اس کے پیچھے اپنی زبان کو کمتر سمجھنا کہاں کی عقلمندی ہے۔
زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی زبان آپ کی تاریخ ہوتی۔ تہذیب ہوتی ہے وہ ساری روایات ہوتی ہیں جن پر فخر کرتے ہیں ہم اور زبان وہ سارے ٹیبوز ہوتی ہے جن کے خلاف لڑتے ہیں ہم۔

انگریزی پڑھائیے شوق سے بچوں کو لیکن انہیں اپنی زبان کا اجنبی مت بنائیے۔ شاید آنسہ کے خیالات سے اتفاق نہ فرمائیں آپ لیکن اپنی زبان کے مفہوم سے نا آشنائی سے بڑا کرب کوئی نہیں اس حیوان ناطق کے لیے۔ جب کسی پر یہ ہی نہ کھل سکے اس کے آباو اجداد کیسے سوچتے تھے وہ جن سے نکلا ہے ان کا اظہار کیا تھا۔ وہ محبت کا غصے کا نفرت کا چڑ کا امید کا پیار کا خوف کا اظہار کن الفاظ میں کرتے تھے۔ وہ مایوس ہوتے تو تھے تو اوہ مین! کے سوا کیا کہتے تھے۔ خوشی میں او گاش کے سوا کیا کہتے ہوں گے۔ گیٹ سم لائف کا اظہار کیسے کرتے ہوں گے۔ اور جو کسی کو یو سمارٹی پینٹس کہتے ہوں گے تو کیسے کہتے ہوں گے اور یقین کریں جو مزا ’’مر پراں‘‘ میں ہے وہ ٹیک آ ہائیک میں کہاں۔ جو لطف ’’ہنہہ‘‘ میں ہے وہ گیٹ لاسٹ میں کہاں ہے۔ جس کیفیت کا اظہار چل اوئے میں ہوتا ہے اس کے لیے انگریزی متبادل کہاں سے تلاشا جائے۔

جو محبت امرتا کی شاعری پڑھ کے محسوس ہوتی ہے وہ شیلے کی نظموں میں بھی نہیں ملتی جو لذت بھری کسک شیو کمار بٹالوی کو پڑھ سن کے ملتی ہے وہ کیٹس کی اوڈذ میں کیوں محسوس نہیں ہوتی۔

بے وفائی کا جو درد مائے نی میں اک شکرا یار بنایا میں ہے وہ فریلیٹی دائے نیم آف وومن میں محسوس کیوں نہیں ہوتا۔

خیر کہنا صرف یہ ہے کہ اگر آپ کا بچہ ’’کیڑیاں سپیرا کو منگاں کونج میل دی میں، میل دی کوئی کونج دیوے، کیڑا ایناں غماں دے لوگیاں دے دراں اوتے، وانگ کھڑا جوگیاں رہوے‘‘ کا مفہوم نہیں سمجھ سکتے تو ان کے ترجمہ بھی مت کیجیے گا۔ کیونکہ ترجمے میں جو تشنگی رہے گی وہ آپ کے بچے کو مفہوم کی مٹھاس سے ہمیشہ نا آشنا ہی رکھے گی اور یہ تشنگی اپنے بچے کے نصیب میں آپ نے خود لکھی ہو گی۔

اور جاتے جاتے سنیے کانونٹ جاتی ایمل جب پوچھتی ہے آنا میرا سر کیوں کھانی پئیں ایں تو نشے سا جو سرور ملتا ہے۔ ویسا ہی سرور ملتا ہے آپ سب کا سر کھا کہ یہاں لہٰذا اس تحریر کو سر کھانے کے سلسلے کی ہی ایک کڑی سمجھیں۔ اس میں سے مفہوم مت تلاشئے گا کیونکہ دس گرل از جسٹ ایمپوسیبل۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: