یونیورسٹیز کے ڈھکوسلے —— شکیل فاروقی

0
  • 69
    Shares

اعلی تعلیم کی تعریف بیان کرنا کچھ آسان نہیں اور ایک تیسری دنیا کے ملک میں تو اگر بیان کی بھی جاسکے تو کہیں چسپاں کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ فی الوقت یہی سمجھ لیجیے کہ جو تعلیم یونیورسٹی کی سطح پر دی جائے وہ اعلی تعلیم ہونی چاہیے۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کیا ہے؟ یونیورسٹی کی تعریف بیان کرنا شاید کچھ اور زیادہ مشکل ہو۔ اتنا مشکل جتنا یونیورسٹی بنانا مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس ملک میں آج سے تیس سال پہلے جہاں صرف انیس یونیورسٹیز ہوتی تھیں وہاں اب تقریبا ایک سو نوے یونیورسٹیز بنادی گئی ہیں۔ اور عالم یہ ہے کہ جو نیا وزیر آتا ہے، نئی حکومت آتی ہے وہ شجر کاری کے اعلانات کی طرح اعلان فرمادیتے ہیں کہ پینتیس نئی یونیورسٹیز بنائی جائیں گی، ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے گی، دور دراز علاقوں میں یونیورسٹی بنائی جائے گی، دیہاتوں میں یونیورسٹی بنائی جائے گی، انجینئرنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی، میڈیکل یونیورسٹی بنائی جائے گی، آئی ٹی یونیورسٹی بنائی جائے گی، صوفی یونیورسٹی بنائی جائے گی، ہومیوپیتھی یونیورسٹی بنائی جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔

ہم نے کچھ نہیں لکھا، صرف بیانات کو یکجا کردیا ہے۔ ذرا دیکھیے تو یکجا ہو کر یہ بیانات کیا تاثر پیدا کر رہے ہیں۔ یا تو جو لوگ یہ بیانات دے رہے ہیں وہ جانتے نہیں کہ یونیورسٹی کیا ہے یا جو بھی کچھ وہ یونیورسٹیز کے نام پر بنا رہے ہیں وہ بنائیں یا نہ بنائیں عوام کو ضرور بنا رہے ہیں۔ یونیورسٹی وہ ادارہ ہے جو ڈگری یا سند دیتا ہے جس کے لیے طالبعلم کو ایک خاص معیار کی تعلیم دی جاتی ہے جس میں نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑا حصّہ جدید تحقیق کا ہوتا ہے اور کسی ایک مخصوص مضمون کے ساتھ ساتھ اس کے تمام متعلقہ مضامین میں بھی تعلیم اور عملی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے لیے اسی معیار کے مطابق اساتذہ کی دستیابی ناگزیر ہوتی ہے۔ جس طرح اساتذہ کا ایک معین معیار ہوتا ہے اسی طرح یونیورسٹی میں داخل ہونے والے طالبعلم کا بھی ایک مقررہ معیار ہونا چاہیے خواہ اس کے پاس اخراجات کے وسائل ہوں یا نہ ہوں۔ اگر ایک طالبعلم یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم کے لائق ہے اور عملی زندگی میں آکر ملک و قوم کی خدمت کرسکتا ہے تو اس کے تعلیم کے اخراجات ریاست کی ذمہ داری ہیں۔

اعلی تعلیم کے اخراجات ترقی یافتہ ممالک کے لیے سرمایہ کاری کی ایک صورت ہے لیکن اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں یہ محض اسراف ہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اربابِ حل ّ و عقد یہ انوکھا خیال پیش کرتے ہیں کہ یونیورسٹیز اپنے مالی وسائل کا انتظام خود کریں۔ کسی ترقی پذیر یا ترقی یافتہ ملک میں یہ ممکن نہیں ہے کہ اعلی تعلیم کے ادارے اپنے اخراجات قومی خزانے اور خدمتِ خلق سے بندوبست کے بغیر پورے کرسکیں۔ اگر ریاست ان اخراجات کا مکمل یا جزوی ذمّہ لیتی ہے اور اسے لینا چاہیے تو ان اخراجات کو سرمایہ کاری کے زمرے میں لیا جانا چاہیے نہ کہ اسراف میں۔ اور اگر یہ اخراجات سرمایہ کاری ہیں تو اس کاحاصل اعلی تعلیم یافتہ، ہنر مند اور دانا نوجوانوں اور ان کی تحقیق ہے جو ملک و قوم کے مسائل کا حل پیش کرے۔

بنگلوں اور چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں یونیورسٹی اور اس کے کیمپسس قائم کر رکھے ہیں اور صرف ان مضامین کی تدریس میں مصروف ہیں جن میں ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے یعنی نہ تجربہ گاہ ہو، نہ آلات ہوں، نہ کیمیائی مرکبّات ہوں، نہ لائق فائق اساتذہ کو بھاری تنخواہوں پر مقرر کرنا پڑے لیکن آسودہ حال والدین کے اوسط درجہ کی ذہانت رکھنے والے لاڈ پیار کے عادی بچّوں سے بھاری فیس وصول کرکے ان کے ہاتھ میں یونیورسٹی کی سند پکڑا دی جائے۔

ملک و قوم کے مسائل کا حل اگر صرف صرف درآمدات پرہو تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ تکنیکی اعلی تعلیم کے لیے بھی ہمارے ہاں مادّی وسائل کا انحصار صرف اور صرف درآمدات پر ہی ہے۔ اس صورتحال میں بار بار مزید سرکاری یونیورسٹیز بنانے کے سیاسی اعلانات اور نجی یونیورسٹیز بنانے کے سیاسی اجازت نامے محض فاقہ مستی کے علاوہ کچھ نہیں۔ چند ایک کے علاوہ نجی جامعات نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ بڑے بڑے بنگلوں اور چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں یونیورسٹی اور اس کے کیمپسس قائم کر رکھے ہیں اور صرف ان مضامین میں درس وتدریس میں مصروف ہیں جن میں ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے یعنی نہ تجربہ گاہ ہو، نہ آلات ہوں، نہ کیمیائی مرکبّات ہوں، نہ لائق فائق اساتذہ کو بھاری تنخواہوں پر مقرر کرنا پڑے لیکن آسودہ حال والدین کے اوسط درجہ کی ذہانت رکھنے والے لاڈ پیار کے عادی بچّوں سے بھاری فیس وصول کرکے ان کے ہاتھ میں یونیورسٹی کی سند پکڑا دی جائے۔ اب تو نجی جامعات نے اپنے ہائر سیکنڈری کالجز اور سیکنڈری اسکولز بھی بنانے شروع کردیے اور ایک دو نے تو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو اپنے اپنے تعلیمی بورڈ تک قائم کردیے کہ تعلیم کے نام پر اس قوم سے جتنا منافع نچوڑا جاسکتا ہے نچوڑ لو۔

اسناد کی خریدوفروخت کا منافع رفتہ رفتہ بڑھتا بھی جارہا ہے اور نجی شعبے کی جیب میں بھی جارہا ہے اور سرکاری یونیورسٹیزکے سالانہ بجٹ میں خسارا انتہائی تیزی کے ساتھ زوال کا باعث ہو رہا ہے۔ تمام مہنگے اور گرانقدر مضامین میں درس و تدریس سرکاری یونیورسٹیز کی ذمہ داری ہے اور سرکاری یونیورسٹیز کے اساتذہ جز وقتی بنیادوں پر اپنی خدمات نجی یونیورسٹیز میں ادا کررہے ہیں۔ اس قوم کو نجانے کس نے سجھا دیا کہ اس کی ترقی کاراز یہ ہے کہ ہر فرد کے ہاتھ میں یونیورسٹی کی سند ہو، گریجویٹس ہوں، پی ایچ ڈی ہوں اور صنعت و زراعت کو چلانے اور عام مرمّت اور دیکھ بھال کے لیے ہنرمند نہ پیدا کیے جائیں۔

(Visited 32 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: