سندھ یاترا : مکلی کا قبرستان —— سفرانچہ از ظاہر محمود

0
  • 26
    Shares

سندھ کے علاقوں میں زیادہ سردی نہیں پڑتی، اکثر موسم گرم مرطوب رہتا ہے۔ بارشیں بھی سالہا سال نہیں ہوتیں۔ ثقافتی، تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے سندھ کے اکثر علاقے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں مگر شدید گرمی کے باعث سیاحت کا سارا شوق دھرے کا دھرا رِہ جاتا ہے۔ اب دیکھیے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی، بلوچستان کے بعد جیکب آباد، سندھ کا ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہماری خوش قسمتی رہی کہ سندھ دیکھنے کے لیے ہمارا پروگرام سال کے سب سے بہترین دنوں میں طے پایا اور ہم اواخرِ جنوری اور اوائلِ فروری میں سندھ یاترا کو جا پہنچے جس وقت وہاں سردی اور گرمی کی ملی جلی کیفیت ہوتی ہے۔

یہ یقیناً ہفتے کا دن تھا۔ میں اور میرا دوست مزمل صدیقی میرپور خاص سے ٹھٹھہ کو روانہ ہوئے۔ ٹھٹھہ تاریخی اعتبار سے کافی شہرت یافتہ شہر ہے۔ قدیم بندرگاہ دیبل ٹھٹھے کے شہر بھنبھور کے ساحل پر واقع تھی۔ سسی، پنوں کی داستان اسی شہر میں رقم ہوئی۔ مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنے زمانے میں ایک شاہکار مسجد یہاں بنوائی جو شاہجہانی مسجد کے نام سے جانی جاتی ہے۔ کینجھر جھیل بھی ٹھٹھے میں واقع ہے اور عالمی شہرت کا سب سے بڑا سبب مکلی کا قدیم قبرستان بھی ٹھٹھے میں موجود ہے جو چودھویں سے سترہویں صدی تک مسلمانوں کے چار سو سالہ عظیم دورِ حکومت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مکلی کے اس عظیم قبرستان کا ذکر تاریخ میں پہلی مرتبہ 1381ء میں ملتا ہے جبکہ 1981ء میں اسے یونیسکو کے عالمی ورثہ میں شامل کیا گیا۔

ٹھٹھے کی بابت اتنی جانکاری میں نے سندھ نکلنے سے پہلے ہی کر رکھی تھی اس لیے جب ہم میرپور خاص سے وہاں کے لیے نکلے تو میں بڑا پرجوش تھا۔ اتفاق کی بات ہے سفر پہ نکلتے ہی میرے دل کی ساتھ والی پسلی میں شدید اعصابی درد اٹھا جس کے باعث نہ صرف سانس لینا محال ہو گیا بلکہ چلنے تک سے عاری ہو گیا۔ ٹھٹھہ شہر عالمی شہرت یافتہ ہونے کے باوجود انتہائی پسماندہ علاقہ ہے۔ پینے کا صاف پانی تو کجا عام استعمال کا پانی میسر نہیں۔ مرکزی شہر میں تھرڈ کلاس ہوٹلز دیکھتے ہی بھوک مٹ جاتی ہے۔ سڑکیں انتہائی خستہ حال اور گردوغبار سے اٹی ہوئی ہیں۔ وہاں اڈے پہ پہنچتے ہی طبیعت تو پہلے ہی خراب تھی، جی بھی اچاٹ ہو گیا۔ رفع حاجت کے لیے تین چار لیٹرینوں میں جانے کے بعد کہیں نہر کا گدلا پانی وضو کو میسر آیا۔ صدیقی سے فوراً اسپتال لیے چلنے کو کہا۔ مکلی کے سول اسپتال پہنچے تو سندھی زبان کا مسئلہ درپیش آ گیا۔ اندرون سندھ میں سندھی زبان ہی بولی، پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ حجام اور پرچون کی دکانوں پر بھی سندھی زبان ہی لکھی ہوتی ہے۔ سندھی زبان و ادب ایک قدیم اور بھرپور تاریخ کا حامل ہے۔ اکثر سندھیوں کو سندھی کے علاوہ کوئی زبان نہیں آتی۔ اگرچہ وہاں تراجم کے شعبے قائم ہیں اور ترجمہ کو اکثر مدرسوں میں پڑھایا اور اہم کام سمجھا جاتا ہے مگر پھر بھی مجھے یوں لگا جیسے یہاں کی اکثریتی آبادی قومی و بین الاقوامی ادب سے براہِ راست محظوظ ہونے سے محروم ہے۔ خیر کسی طور بات سمجھائی، ای سی جی کروائی، ایک ڈاکٹر صاحب نے ہائی پوٹینشل پین کلرز دیں جن کے فوراً نگلنے سے کچھ افاقہ ہوا اور ہم مکلی کے اس عظیم الشان قبرستان کو دیکھنے قابل ہوئے۔

قبرستان میں کیا داخل ہوئے کہ حیرت سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ عظیم الشان مقبرے تعمیراتی فن اور پتھروں اور اینٹوں پر کی گئی خطاطی کا زبردست نمونہ تھے۔ مختلف آرکیٹیکچر کے مقابر تین مختلف ادوار کی چغلی کھا رہے تھے۔ ایک طرف عہدِ سمہ کے شاہان، گورنروں، سپہ سالاروں اور امرا کے مقبرے تھے۔ یہ لوگ 1340ء سے 1520ء تک اس خطے پہ حکمرانی کرتے رہے۔ ان کے بعد ارغونوں اور ترخانوں نے 1520ء سے 1592ء تک یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ ان کے دور کی اپنی چھاپ ان کے مقبروں پر نظر آتی ہے۔ ترخانوں کے بعد اس سرزمین پہ مغلوں کا تسلط قائم ہوا جو 1592ء سے 1739ء تک قائم رہا۔ تعمیراتی ڈیزائن اور مقبرہ مصوری مغلیہ دورِ حکومت میں اپنے معراج پہ پہنچے۔ ہر دور کے دانشوروں، اولیا، امرا، راجاؤں اور رانیوں کے مقبروں کو اپنی اپنی شان کے مطابق وسیع اور ہیبت ناک مقبروں میں دفن کیا گیا۔ ترخانوں کے پہلے بادشاہ عیسیٰ خان کا مقبرہ اس قدر بلند و بالا اور فنی اعتبار سے شاہکار ہے کہ دیکھنے والا مرعوب ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ مقبرہ کیا ہے ایک محل ہے جو اس کی قبر پر تعمیر کیا گیا ہے مگر اس کی قبر تک جانے کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ یہ سب مقبرے اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں اور اینٹیں بھی ایسی ہیں کہ توڑنے پر شیشے کی کرچیوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ یہ اب تک کے پاکستان میں فنِ تعمیر اور فنِ خطاطی کے حسین امتزاج کے سب سے بڑے آثار ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں پانچ لاکھ کے لگ بھگ قبریں ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ قبرستان چھ مربع میل جبکہ بعض کے مطابق نو مربع میل تک پھیلا ہوا ہے۔ مائی مکلی اپنے زمانے میں مشہور مقامی مذہبی شخصیت تھیں، ان کا مدفن بھی یہیں ہے اور عقیدتاً اس قبرستان کا نام بھی انہی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تا حدِ نگاہ بوسیدہ پتھروں سے ڈھکی قبریں ہی قبریں نظر آتی ہیں جو اس قدر پرانی اور بھدی ہو چکی ہیں کہ قریب جانے پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔ یقیناً یہ اس دور کے عوام کی قبریں ہوں گی۔ بعض مقبروں پہ ہاتھوں سے کیے گئے کام سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پرانے وقتوں میں سندھیوں کے ایران سے گہرے تعلقات رہے۔

سندھی مقامی لوگوں کے بارے میں ایک حقیقت جس کا دورانِ سفر مجھ پہ انکشاف ہوا کہ مذہب یہاں کے باشندوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ سندھی میں ایک کہاوت بھی مشہور ہے کہ خدا سندھیوں کو پتھر دیکھنے سے بچائے وگرنہ ان کی عقیدت روکنا مشکل ہو جاتی ہے۔ جا بجا رنگ برنگے جھنڈے اور پیروں فقیروں کا چلن ہے۔ جتنے بھی سندھی دوستوں سے ملا کسی نہ کسی بزرگ یا فقیر کے معتقد ضرور پایا۔ مکلی کے قبرستان میں بھی یہ طرزِ عمل خوب دیکھا۔ ویسے تو ہمارے محکمہ خاص کو بھی قبروں کی کمائی کی لت پڑ گئی ہے۔ خود ہی قبر نما ابھار نکالتے ہیں، دس بیس کے جھنڈے گاڑھتے ہیں اور لوگوں کی عقیدت پَیسیانے خاطر ساتھ میں ایک مقفل ڈبہ بھی رکھ دیتے ہیں۔ بھئی میں تو سوچ میں پڑ گیا کہ اکیسویں صدی میں اس صدیوں پرانے قبرستان میں یکدم اتنے فقیروں کا ظہور کیسے ہو گیا۔ خیر یہ مذہبی عقیدت تو عوام کے سیاسی استحصال کے لیے بطور خاص ہتھیار استعمال کی جاتی ہے۔ ہم نے جو اب تک دیکھا یا محسوس کیا ہے، ہندوستانی سرمایہ داروں اور شاطر مذہبی پیشواؤں نے مذہب کو بطور کنجری استعمال کیا ہے اور خود دلالی کی ہے جبکہ عوام کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ہمیشہ لٹو کی پھرکی پہ گھمایا ہے۔

قصہ مختصر مکلی کا قبرستان بیک وقت اپنے اندر صدیوں کی خاموشی اور تمازت سموئے ہوئے ہے۔ ایک وقت میں سارا قبرستان گھومنا ناممکن سا لگتا ہے۔ یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان مانا جاتا ہے۔ آس پاس مکلی کا شہر آباد ہے۔ کراچی سے جنوب مشرق میں کوئی پچپن کلومیٹر دوری پر واقع ہے۔ دیکھنے کے قابل ہے اور جو سب سے اہم بات ہے، حکومتِ پاکستان کو ٹھٹھہ شہر کی قومی و بین الاقوامی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے سہولیات سے مزین ایک جدید شہر میں بدلنا چاہیے تا کہ یہاں عالمی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ عالمی سیاحوں کو صرف جگہیں دیکھنے کا ہی شوق نہیں ہوتا بلکہ انہیں وہ تمام بنیادی سہولیات بھی مطلوب ہوتی ہیں جو ایک انسان کی بنیادی ضروریات کو بطریقہ احسن پورا کر سکیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: