سپریم کورٹ کا فیصلہ اور شوگر مافیا: پروفیسر طاہر ملک

0

سپریم کورٹ میں بیان کردہ تفصیلات کے مطابق وزارتِ صنعت کے مورخہ 4دسمبر 2015کے نوٹیفکیشن میں شریف خاندان کی تین شوگر ملوں کو جنوبی پنجاب منتقلی کی اجازت دے دی گئی۔ یہ شوگر ملیں ننکانہ صاحب، سرگودھا اور اوکاڑہ میں واقع تھیں۔جب حکمران ہی شوگر مل مالکان ہوں گے تو کیا حکومت کی جانب سے اس نوعیت کا اجازت نامہ سرکاری اور کاروباری مفادات کے ٹکرائو کے قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ مسابقتی کمیشن جیسے آئینی ادارے موجود ہونے کے باوجود منفی اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شوگر مافیا کی جانب سے چینی کا ریٹ مقرر کئے جانے کے عمل کو غیر قانونی قرار نہیں دے رہے۔
پاکستانی سیاست میںمذہب، قومی مفادات، اور جمہوریت کو لاحق خطرات جیسے بیانات تواتر سے دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی ہماری سیاسی جماعتوں نے عوام کو یہ بتانا گوارا نہیں کیا کہ چند لوگوں نے ہماری معیشت کو کیسے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ منڈی کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے ضروری اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا کر کے مصنوعی بحران کیسے پیدا کئے جاتے ہیں اور چند طاقتور مافیا اشیاء کی قیمتیں کیسے مقرر کرتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو تو رہنے دیجئے کیونکہ یہ سیاسی جماعت میں موجود شوگر مافیا پارٹی کا پیغام عوام میں پہنچانے کے لئے وسائل مہیا کرتا ہے۔ہمارے آزاد میڈیا اور معاشیات کے پروفیسروں نے بھی اس گٹھ جوڑ کو ایکسپوز کرنا گوارا نہ کیا۔حکومت جہانگیر ترین پر قرضے معاف کرانے اور سبسڈی کے نام پر کروڑوں روپیہ وصول کرنے کے الزامات لگا رہی ہیں تو دوسری جانب جہانگیر ترین وضاحتی بیان میں یہ فرما رہے ہیں کہ مذکورہ شوگر مل ان کے کزن جنرل (ر) اختر عبدالرحمان کے بیٹے ہمایوں اختر کی ہے جو اس وقت مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ راہنما ہیں۔
جنرل ایوب خان کے دور اقدار میں ڈاکٹر محبوب الحق نے اپنی معاشی تحقیق میں یہ ثابت کیا کہ ریاست وسائل کی بندر بانٹ کے ذریعے آج بائیس خاندان مکمل دولت کے 80فیصد حصے پر قابض ہیں جبکہ مشرقی پاکستان کے عوام مزید غریب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
2016میں پاکستان نے اتنی ہی ترقی کی ہے کہ آج یہ شوگر مافیا پچاس با اثر سیاسی خاندانوں پر مشتمل ہے جن کی نمائندگی ہر سیاسی جماعت میں ہے ان کی رشتہ داریاں مختلف سیاسی جماعتوں پر محیط ہیں۔
جہانگیر ترین پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کے بہنوئی ہیں۔ مخدوم احمد محمود یوسف رضا گیلانی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ہمایوں اختر جہانگیر ترین کے بھی کزن ہیں۔ شوگر مل ایسوس ایشن کے سابق صدر ذکا اشرف پیپلز پارٹی کے راہنما ہیں ان کی بہن اور بہنوئی مسلم لیگ کے سینیٹر چوہدری جعفر اقبال بھی ہیں۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شفقت محمود ان کے کزن ہیں۔
شوگر مافیا پر مشتمل با اثر سیاسی خاندان جب اقتدار کے ذریعے سیاسی طاقت حاصل کر لیتے ہیں تو ایک با اثر لابی وجود میں آتی ہے جس کے ذریعے کسانوں کا استحصال ہوتا ہے۔
گنے کی خریداری ادھار پر کی جاتی ہے اور یوں شوگر مل مالکان مہونوں اور سال کسانوں کا معاشی قتل عام کرتے ہیں۔ حال ہی میں صرف حسیب وقاص شوگر مل مظفر گڑھ کے سات سو سے زائد زمینداروں کے گنے کی قیمت کے واجب الادا چالیس کروڑ روپے کی رقم دینے سے منحرف ہوگئی۔ سات سے سو زائد کسانوں نے مظاہرہ کیا لیکن یہ خبر ہمارے آزاد میڈیا میں جگہ نہ پا سکی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عدیل ملک کی تحقیق کے مطابق ان میں بیشتر شوگر ملیں کپاس کی کاشت کے علاقوں میں قائم کی گئیں ہماری زرعی صنعتی معیشت کا انحصار کپاس کی پاداوار پر ہوتا ہے اور یوں غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے لیکن شوگر ملوں کے قیام کے بعد ان زرعی علاقوں میں کپاس کی کاشت کم ہو گئی۔
ڈاکٹر عدیل ملک کی تحقیق کے مطابق گنے کی کاشت اور چینی بننے کے عمل اور منڈی میں اس کی تجارت کا سارا عمل معاشی سے زیادہ سیاسی ہے یہ سارا عمل معاشیات کے راہنما اصولوں یعنی مسابقت کی فضا آزاد اور انصاف پر مبنی تجارت پر مشتمل نہیں بلکہ سرکاری اثرورسوخ مصنوعی بحران کا جنم لینا اور ریاستی سرپرستی کے ذریعے منافع خوری پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سال رمضان میں ’’دی نیوز‘‘ کے معروف تحقیقاتی رپورٹر احمد نورانی نے خبر دی کہ یوٹیلیٹی سٹور نے رمضان پیکج کے نام پر پچاس ہزار میٹرک ٹن چینی مہنگے نرخون پر خریدی اور یوں سبسڈی کے نام پر ٹیکس دہندگان کا اربوں روپیہ شوگر مل مالکان کو ادا کیا گیا۔ خبر کے مطابق خوش نصیب شوگر ملوں میں حکمرانوں اور تحریک انصاف کے راہنما جہانگیر ترین کی ملیں شامل ہیں۔
2008میں پنجاب میں کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کی غرض سے نئی شوگر ملوں کے قیام پر پابندی لگا دی گئی لیکن اس کے باوجود شوگر ملوں کے قیام کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ شریف خاندان کی ملکیتی چوہدی شوگر مل گوجرہ سے رحیم یار خان منتقل کی جا رہی ہے لیکن یہ سب کچھ ہمارے سیاسی راہنما کیونکر قوم کو بتائیں گے کیونکہ ان کا مقصد حب الوطنی اور غداری کے جزبات ابھارنا ہے شوگر مافیا کے چہرے سے نقاب اتارنا نہیں۔ اس صورتحال میں میرے عزیز دوست مرزا امتیاز کا شعر یاد آیا۔

حکمراں ہی جب تاجر ہوں گے
عوام پھر مولی گاجر ہوں گے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: