تانگے والا —- عطا محمد تبسم کا ماضی میں دوڑتا اشہب خیال

0
  • 30
    Shares

باسی روٹی اور چائے کے گھونٹ مٹی کے پیالے سے حلق میں انڈیلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ باہر نکل کر ڈھلواں کی جانب نکلوں، مٹی کے اس ڈھیر پر کبھی کبھی کوئی کام کی چیز مل جاتی۔ یا پھر تھان پر گھوڑے کے پاس تھان صاف کرنے کا کام ماموں نے سونپا ہوا تھا۔ پہلے جھاڑو دےکر گیلی لید علیحدہ کونے میں کرنا۔ پھر پورے تھان پر جھاڑو لگانا مٹی کے فرش پر پانی کا چھڑ کاو، کتر اور دانا ملانا اور گھوڑے کے سامنے رکھنا پھر اسے پانی پلانا۔ مشکی اس دیکھتے ہی خوشی کا اظہار کرتا۔ سیاہ رنگ اسپ سے اس کی دوستی تھی۔ کبھی کبھی وہ اس کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوکر اسے پیائو پر لے جاتا جہاں دوچار اور بھی گھوڑے ہوتے۔ یہ گھوڑے تانگے کا زمانہ بھی خوب تھا۔ تانگے چمچماتے رنگ برنگی ٹم ٹم بمپر پر رنگ و روغن راس مضبوط دونوں طرف شیشے والی بتیاں ہاتھ سے بجانے والی گھنٹی۔ پائیدان چمکتے ساز زین اور کاٹھی پر نقش و نگار چابک تو کبھی استعمال ہوتی۔ ورنہ مشکی دولکی کی چال چلتا اٹھلاتا لچکتا ٹھمکتا۔ ایک دن ایک سائیں نے اسے ایک گھوڑے کی دیکھ بھال اور اس کے تھان کی صفائی پر لگا دیا۔ یہ گھوڑا عام گھوڑا نہ تھا۔ دلدل تھا۔ سید الشہدا کا گھوڑا۔ صرف خاص دن یا محرم میں نکالا جاتا۔ جب اسے جلوس کے لیے نکالا جاتا۔ اس پر زین اور ساز رکھ کر گلدستہ سجا دیا جاتا۔ اس پر ڈالی چادر پر سرخ خون کے علامتی دھبے ہوتے۔ یہ چار دیواری اس گھوڑے کے لیے مخصوص تھی۔ جہاں وہ گھوڑے کے تھان کی صفائی کرتا۔ شہر میں سائیکل اونٹ گاڑی بیل گاڑی کی سواری تھی۔ تانگے رات تک چلا کرتے۔ مٹھائی کی دکانیں رات کھلی رہتی۔ آخر شب ساری مٹھائی بک جاتی۔ سفید کپڑے والے خریدنے آتے تھے۔ جنات ہوتے تھے۔ ساری مٹھائی لے جاتے۔ ایک رات بجری کے ڈھیر پر سارے بچے کھیل میں مگن تھے۔ اچانک دور اندھیرے میں روشنی سی چمکی۔ دو خوبصورت پائوں گھنگھرو باندھے جھنکار نے سب کو مبہوت کردیا۔ پھر رقص شروع ہوا۔ صورت تو کوئی نظر نہ آئی لیکن ایک لے پر رقصاں پاوں۔ عجب حیرت کا نظارہ تھا۔ اچانک رقص تھم گیا۔ پھر وہی گھور اندھیرا دہشت اور وحشت یک بارگی حملہ آور ہوئی تو سب گھروں کو دوڈ گئے۔

گھوڑا رات میں قبرستان کی جانب جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔ قبرستان سے ایک یاد بھی وابستہ تھی۔ ماموں کی پیلو ماموں تقسیم کے وقت 12 سال کے ہوں گے۔ ایک بار جنازے کے ساتھ قبرستان گئے۔ ایک قبر پر پودے کی چند ٹہنیاں توڑ لی۔ گھر آتے آتے شدید تپ چڑھی۔ بار بار پوچھنے پر اتنا ہی بتایا کہ ٹہنیاں توڑنے پر کسی نے زور سے تمانچہ مارا تھا۔ دہشت دل میں بیٹھ گئی۔ تین دن بعد پیلو ماموں بھی اسی قبرستان میں دفن ہوگئے۔ بس اماں اور نانی کو رونے کا ایک بہانہ مل گیا۔ جب موقع ملتا کونے میں منہ ڈھانک کر رولیتیں۔

تانگوں کی سالانہ انسپکشن اور معائنہ بھی جشن کی طرح ہوتا۔ ہفتوں پہلے تانگوں پر رنگ و روغن ہوتا۔ خوش رنگ بیل بوٹے پینٹ ہوتے۔ گدیاں درست ہوتی۔ پیتل کا ساز وسامان خوب مل مل کر براش سے چمکایا جاتا۔ بتیوں کے شیشے چمکائے جاتے۔ گھوڑوں کے پائوں میں نعل فٹ کیے جاتے۔ دھکتے لوہے کے گرم گرم نعل کھروں میں فٹ ہوتے تو گھوڑے کے آنسو کچھ عجب سے لگتے۔ گھوڑے مضبوط اور توانا طاقت ور ہوتے ہوئے بھی آنسووں سے روتے ہیں طاقت والےبھی روتے ہیں۔ معائنہ کی رات شام ہی سے تانگے ایک بڑے میدان میں دائرے میں کھڑے ہوجاتے۔ رات میں کھوانچے والے گیس کے ہنڈولے لیے ہر طرح کا سودا فروخت کرتے۔ پکوڑے نان چھولے بسکٹ چائے سستا زمانہ تھا۔ ایک چونی میں بہت کچھ آجاتا۔ لیکن روپے کا چوتھائی یہ چونی بھی بہت مشکل سے ملتی۔ پولیس اہلکار ایک رجسٹر لیے کھڑا ہوتا۔ ایک ایک تانگے کا نمبر پکارا جاتا۔ تانگے والا تانگے کو میدان میں لاتا۔ اس کا معائنہ ہوتا۔ پھر تانگے والا اسے دائرے میں سرپٹ دوڑاتا۔ پھر ایک آواز آتی۔ ِ پاس ُ اور پورا میدان مسرت آمیز نعروں سے گونج اٹھتا۔ جب کسی کا تانگہ فیل ہوتا۔ تو وہ تانگے والا حسرت و یاس کی تصویر بن جاتا۔ دوست یار تسلی دیتے۔

تانگے والوں کی دنیا بھی عجیب ہوتی ہے۔ ان کی باتیں ان کی دوستی یاری ان کے خواب ان کی خواہشات بھی گھوڑے تانگے سے بندھی ہوتی۔ گرمیاں جب عروج پر ہوتی تو گھوڑے دھوپ اور گرمی میں تانگے کھینچتے ہانپ جاتے۔ کھبی کبھار سواریوں کا وزن اتنا زیادہ ہوجاتا کہ تانگہ الٹ جاتا۔ ایسے میں سواریاں اتار کر اس کا وزن کم کیا جاتا۔ عرس اور میلے کے دنوں میں تانگے والوں کی کمائی زیادہ ہوتی۔ یا پھر رات کے آخری پہر سینما سے نکلنے والے یا مجرا دیکھنے والے شائقین جو خوش ہونے پر کچھ زیادہ ہی دے دیتے۔ لیکن پہیہ کی کمائی بھی کسی کسی کو راس آتی ہے۔ ایک دن تانگہ ایک ٹرک سے ٹکرا گیا۔ ماموں کی ٹانگ ٹو ٹ گئی اور گھوڑا تانگہ خواب ہوگیا۔

(Visited 36 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: