پھپھے کُٹنی، پھپھے کُٹن —— رقیہ اکبر کی شوخ تحریر

1
  • 363
    Shares

پھپھے کٹنی، محض ایک افسانوی کردار نہیں بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے، نفسیاتی الجھنوں کے شکار افراد ہیں۔ عرف عام میں یہ لگائی بجھائی کرنے والی خواتین کیلئے بولا جاتا ہے لیکن بہت سے مرد بھی ’’پھپھے کٹنی‘‘ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ آپ چاہیں تو انہیں پھپھے کٹن کہہ سکتے ہیں۔ ورکنگ پلیس ہو یاگلی محلہ، ایسے مرد و زن آپ کو ہر جگہ بکثرت ملیں گے۔ آئیے ان کا ایک ہلکا پھلکا خاکہ آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

ظاہری شکل و صورت:
قدیم افسانوی کردار پھپھے کٹنی ایک عمر رسیدہ، کمر خمیدہ خاتون تھی جس نے اپنی موٹی، بھدی ناک کے آخری کنارے پہ موٹے شیشے کی عینک دھری ہوتی تھی، جو اپنی مکار گول گول آنکھوں میں کیمرہ فٹ کئے محلے بھر کے مردوزن کے کردہ ناکردہ کارناموں کا (عرف عام میں گناہوں کا) ریکارڈ اپنی گز بھر لمبی زبان کی ٹیپ پہ ریکارڈ کرتی رہتی تھی۔ جسے وقتا فوقتا ادھر سے ادھر منتقل کرنا اس کا محبوب مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ یہ تو تھا زمانہ قدیم میں پھپھے کٹنی کا حلیہ۔۔۔۔ مگر خبردار، ہوشیار، دھوکہ نہ کھائیے گا۔۔۔ اب آپ کو اپنے گرد کوئی ’’شتی سالہ(۳۶)‘‘ حسین، دراز قامت، لامبے سیاہ بالوں والی پھپھے کٹنی بھی مل سکتی ہے۔ اور ہاں ’’شتی(۳۶) سالوں‘‘ کے دھوکے میں بھی نہ آجائیے گا، اس حسین، نازنین، مہہ جبیں کی عمر پچھلے دس سالوں سےـــ ’شتی (چھتیس)‘ پہ آکر رک گئی ہے۔ اب ان کے بطن سے اگے یا باطن سے پھوٹے گل بوٹے بےشک گلزار بن جائیں، یہ اگلے دس سال تک شتی (چھتیس) کی ہی رہیں گی۔

خصوصیات:
محلے بھر کی غم خوار، دلدار قسم کی اس بی بی سی نما پھپھے کٹنی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ محلے کی تمام خواتین کی اماں بننے کی بھرپور اداکاری کا ہنر جانتی ہے۔ نئے آنے والوں کو اپنی مکار گود میں بھرنے کیلئے یہ ان کے تمام مسائل کو حل کرنے کا خوبصورت سوانگ رچانے کی ماہر ہوتی ہیں اور ان کے اسی کردار کی وجہ سے فطرتا نیک سیرت بااخلاق خواتین پر سے بھی اعتماد اٹھ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ہر مددگار کو انسان شک کی نظروں سے دیکھتا ہے کہ نجانے کب کس بااخلاق چہرے کے پیچھے کوئی مکار اور مکروہ چہرہ نکل آئے۔ کام کرنے والی ماسی کی ضرورت ہو یا بچوں کے ٹیوٹر کی، پانی کا مسئلہ ہو یا دودھ دہی کا، یہ ہر کام میں اپنے مشورے اور خدمات فراہم کر کے آپ کے دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ مگر یہ سب وہ آپ کی محبت میں نہیں اپنے مخصوص مقاصد کیلئے کرتی ہیں۔ اور یہ مخصوص مقاصد کیا ہیں یہ ہم آگے چل کر بتائیں گے۔

طریقہ واردات:
دور جدید کی پھپھے کٹنی عرف بی بی سی، وقتا فوقتا محلے بھر کی خواتین کو اکھٹا کر کے اپنے گھر میں ’پراٹھا پارٹی‘ ’پکوڑا پاٹی‘ ’لسی، چٹنی پارٹی‘ کے نام سے تقریبات منعقد کرتی رہتی ہے۔ (اس سے زیادہ کی اوقات نہیں ہوتی ناں اور اگر اوقات ہو بھی تو انوسٹمنٹ اتنی ہی کی جاتی ہے جتنا آوٹ پٹ درکار ہوتا ہے)۔

راتوں کو آپ کو دروازے پہ بلا کر یا ٹیرس پہ دعوت دے کر خیر خیریت کے بہانے ان کا اصل کام محلے بھر کی جاسوی کرنا ہوتا ہے یا آپ کے پاس موجود ڈیٹا اپنی یو ایس بی پہ ٹرانسفر کرانا۔ کس بی بی نے اپنے شوہر سے جھگڑا کیا، کس شوہر نے بیوی پہ ہاتھ اٹھایا، کس نے ملازمہ کو ڈانٹا اور کس نے ملازمہ کو نکال دیا، کس نے اپنے گھر آئی نند کو بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا، کس کی نند نے اسے شوہر کے ہاتھوں پٹوایا۔

کس کی بہو امید سے ہے اور کس کی بہو نے ساس سسر کی تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا، کس کا بچہ پھل پھول لایا،کس کابچہ”ضائع” ہو گیا، اس سب کی خبر رکھنا اور پھر نشر کرنا اس کے فرائض غیر منصبی میں شامل ہوتا ہے۔

ایکسٹرا خصوصیات:
مندرجہ بالا خصوصیات کے علاوہ کچھ ایکسٹرا اور غیر معمولی قسم کی نادیدہ کوالیٹیز بھی اللہ نے اس مخلوق کو ودیعت کی ہوتی ہیں جس سے عام خواتین و مردوں کو بالعموم محروم رکھا جاتا ہے۔

لگائی بجھائی کرنے کا فن ہو یا ادھر کی بات ادھر کرنے کی خصوصیت، تمام خواتین اس ہنر سے مالا مال ہوتی ہیں، اگرچہ معدودے (مردودے) چند مرد بھی اس فن میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں مگر خواتین اس معاملے میں امامت کے فرائض سرانجام دینے کی اہل ہوتی ہیں۔ لیکن جب بات آتی ہے شتی (چھتیس) سالہ پھپھے کٹنی حسینہ کی تو وہ لگائی بجھائی سے بھی چار قدم آگے نکل جاتی ہے۔ پر کا کوا تو سبھی بنا لیتے ہیں مگر یہ نازنین اس لحاظ سے گنیز بک میں نام لکھوانے کی حقدار ہے کہ یہ کوا وہاں بھی بنا لینے کا ہنر جانتی ہے جہاں پرــ ’’پر‘‘ کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ ایسے بے پر کے سفید کووں کی کائیں کائیں انکے آنگن کے میں لگے بدگمانی کے شجر خبیثہ پہ ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔

اس کی گول آنکھوں پہ موٹے شیشے کی عینک نہیں بلکہ آنکھوں کے اندر محدب عدسے فٹ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کچھ بھی دیکھ لیتی ہے جو مقابل کے اندر ہوتا ہی نہیں۔ اور ان آوازوں اور باتوں کو بھی سن لیتی ہے جو زبان سے ادا تو کیا دل میں بھی نہیں گزری ہوتیں۔

یہ ٹیلنٹڈ خاتون چوتھی گلی کے کونے والے گھر کے پچھلے کمرے میں بیٹھے صاحب کے چھینکنے کی آواز سن کر ’الحمدللہ‘ کہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور نعوذ باللہ اسے پہلی گلی کے آخری گھر تک روشنی کی سی رفتار سے پہنچا نے کا ہنر بھی رکھتی ہے۔

مقاصد:
اس کثیرالخصوصیات کی حامل مخلوق کے اصل مقاصد کیا ہیں جو اسے در درکی خبر رکھنے اور نشر کرنے پہ اکساتے رہتے ہیں؟

اس سوال کا جواب قدرے مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔ ایسی خواتین دراصل احساس کمتری کا شکار ہوتی ہیں، انہیں شاید بچپن میں وہ توجہ اور اہمیت نہیں مل پاتی جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے توجہ کی طلب اور چوہدراہٹ کی خواہش انہیں لوگوں کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت پہ اکساتی ہے۔ اسی طرح یہ قرب وجوار کے لوگوں کی قربت اور سنگت کو پا لینے کے کی طلب کے ساتھ ساتھ سب کو اپنے ارد گرد پروانوں کی طرح منڈلاتے دیکھ کرخوش ہوتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کا وجود لوگوں کیلئے ناگزیرہے۔ چونکہ عورت فطرتا متجسس طبیعت کی مخلوق ہے اورگوسپ کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے اس لئے ایسی خواتین کی محلے بھر میں بہت مانگ ہوتی ہے جو ارد گرد کی ہر چھوٹی بڑی خبر سے آگاہی رکھتی ہوں اور مرچ مصالحہ لگا کر نشر کرنے کی اضافی خوبیوں کی حامل بھی ہوں۔ یہی وجوہات پھپھے کٹنی خواتین کی پیداوار اور افزائش کا سبب بنتی ہیں۔ گھر میں ماں کا متجسس رویہ، بچوں کو دادی، پھپھی، چاچا، چاچی اور دیگر رشتہ داروں کی جاسوسی پہ لگانے کا منفی رویہ بھی اس رجحان کو تقویت دیتا ہے۔

پہچان:
ایسی نادر ہستیوں کو پہچاننا آسان نہیں۔ چھوٹے گلی محلے ہوں یا بڑی بڑی مہذب کالونیاں، سکول کالج ہوں یا ایگزیکٹو قسم کے دفاتر، اس طرح کے کردار آپ کو ہر جگہ ملیں گے کہیں کم کہیں زیادہ۔ انہیں پہچاننا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ مگر ایک قدر، جو ان سب میں مشترک ہوتی ہے کہ یہ آپ کے سامنے ہر کسی کی خامیاں بیان کریں گے۔ آپ ان کے منہ سے کسی کیلئے خیر کا کلمہ کم ہی سنیں گے۔ تو سوچ لیں جو آپ کے سامنے دوسروں کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے وہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کا بھی وہی حشر کرے گا۔ اس لئے ایسے لوگوں کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ آپ ان کے منہ سے دوسروں کی برائی سننے سے انکار کر دیں۔ اس روئیے کی حوصلہ شکنی ہی ایسے کرداروں کا وجود کم سے کم کر نے میں معاون و مددگار ہو سکتی ہے۔

نوٹ:
یاد رکھئیے ہر مددگار پھپھے کٹنی نہیں ہو سکتا۔ جو خلوص نیت سے آپ کیلئے اچھا سوچتا اور آپ کی مدد کرتا ہے اس کی سب سے بڑی پہچان یہی ہو گی کہ وہ آپ کے سامنے دوسروں کی بری تصویر پیش نہیں کرے گا۔ دوسروں کے راز افشاء نہیں کرے گا (ماسوائے کوئی آپ کا گہرا دوست ہو اور آپ دونوں کے بیچ اعتبار کا گہرا رشتہ ہو تو وہ آپ کو ہر برے شخص سے محفوظ رکھنے کو اس کی حقیقت آپ پہ آشکار کر سکتا ہے) اب یہ آپ کی سمجھداری پہ منحصر ہے کہ اپنے پرائے کا فرق جانیں اور تہہ در تہہ چہروں پہ لگے ماسک کے پیچھے اصل چہرہ پہچانیں۔

(Visited 155 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: