آپریشن ردالفساد یا آپریشن فساد: ایک مختلف نقطہ نظر

0
  • 1
    Share

پاکستان کو آپریشن ردالفساد سے زیادہ آپریشن فساد کی ضرورت ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہیں۔  فکری طور پر اس دشمنی کی عمر صدیوں پر محیط ہے جب کہ عملی طور پر بھی اس کو ایک صدی ہوا چاہتی ہے۔ اس بات سے بھی کسی کو اختلاف نہ ہوگا کہ پاکستان کی اور شست باندھنے والے ہتھیار کے  پیچھے کندھا بھلے ٹی ٹی پی کا ہو یا بی ایل اے کا، داعش پاکستان کا ہو یا کسی افغانی خفیہ ادارے یا تنظیم کا، ہتھیارخالصتاَ بھارتی ہو گا۔ لیکن عجیب بات یہ کہ جب تک معاملہ روایتی ہتھیاروں تک تھا طاقت کا توازن تقریبا برقرار رہا، اگر(فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر )1965 میں ہمارا پلہ بھاری تھا تو 1971میں انہوں نے میدان مارا.  لیکن اس کے باوجود بھارتی ایجنسیوں اور ان کے پروردہ ایجنٹوں کو پاکستان میں اس طرح کھل کھیلنے کی آزادی نہ تھی جیسا کہ آجکل دہشتگردی کا بازار گرم ہے۔

اگر کبھی کبھار کسی شہر میں کوئی دھماکہ یا تخریبی کارروائی ہوتی تو کچھ عرصہ بعد ویسا ہی واقعہ بھارت کے کسی شہر یا قصبہ میں ہو جاتا۔ اگر وہ ایک ضرب لگاتے تو ہم دو لگاتے، نتیجہ کے طور پر سیکریٹریوں کی سطح پر مذاکرات شروع ہو جاتے اور کچھ عرصہ کیلئے دونوں اطراف امن ہو جاتا۔ لیکن جب سے ہم ایٹمی طاقت بنے ہیں عملاً دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے شاید بیرونی دنیا کے دباؤ پر جارحانہ حکمتِ عملی یکسر ترک کردی ہے جس کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے۔ مکار دشمن جب، جہاں اور جس ڈھب سے چاہتا ہے ہمارے علاقے میں گھس کر وار کر تا ہے اور ردِ عمل کے طور پر اس کے علاقے میں گھسنے اور وار کرنے کی بجائے ہم بھی اپنے ہی علاقہ میں جنگ شروع کر دیتے ہیں۔ سپلائی اور ڈیمانڈ کے اصول کے مطابق جب تک بھارت پاکستان دشمنی کی روش ترک نہیں کرتا تب تک اس کو آلہ کار اور سہولت کار میسر آتے رہینگے۔ کیا آپ آپریشن ردِ الفساد سے سو فیصد ملک دشمنوں کا خاتمہ کر سکیں گے؟ اگر ننانوے فیصد کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے تو اس کا مطلب بھارت کو مزید کاروائیوں کے لیے کچھ لوگ دستیاب رہیں گے اور دہشت گردی یونہی چلتی رہے گی۔ ہم روتے پیٹتے مذمتیں کرتے لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ اب اگر آپ دشمن کے علاقے میں آپریشن فساد شروع کرتے ہیں تو اس کے نتائج و عواقب ہو سکتے ہیں۔

  • اخلاقی طور پر اور اقوامِ عالم کے معروف اصولوں کے مطابق ہم ایسا نہیں کر سکتے تو پھر بھارت کس اصول کی بنیاد پر ہمارے پاک وطن میں دہشت گردی کا نظام چلا رہا ہے اور یہ کلبھوشن کس بات کا ثبوت ہے۔
  • بھارت بہت اودھم مچائے گا عالمی برادری کو متوجہ کریگا اور ہم دنیا میں تنہا رہ جائیں گے۔ جناب پہلے ترکی اور چین کے سوا کون ہمارے ساتھ ہے۔
  • پاکستانی معیشت اس طرح کی پراکسی وار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی معیشت تو تقریبا ڈیڑھ دہائی سے اس کا سامنا کر رہی ہے اور فی الحقیقت ہم نے انتہائی مخدوش حالات اور غیر یقینی صورتحال سے نا صرف سمجھوتہ کر لیا ہے بلکہ اس کے ساتھ جینا بھی سیکھ لیا ہے، مرے گا تو بھارت کہ ساری دنیا کی کثیرالقومی کمپنیوں اور بہت بڑی اور ترق پذیر معیشت کے ساتھ وہ تو چند ماہ اس کا متحمل نہیں ہو پائے گا ۔
  • بھارت پاکستان پر حملہ کردے گا۔ کس ایٹمی طاقت پر آج تک حملہ ہوا ہے۔ ایران اور شمالی کوریا پر تمام تر غیض کے باوجود آج تک کتنے حملے ہوئے ہیں حالانکہ انکا ایٹمی قوت ہونا ابھی ثابت بھی نہیں ۔

دوستو! پاکستان کے دیر پا امن کیلیے آپریشن ردالفساد کے ساتھ ساتھ آپریشن فساد انتہائی ضروری ہے ۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: