محبت اور نفرت کا غلبہ —– لالہ صحرائی

0
  • 253
    Shares

ایک عام آدمی اور کسی گلوکار میں صرف آواز ہی کا فرق ہوتا ہے جس سے وہ ہمارے اوپر فوقیت رکھتے ہیں ورنہ گانا ہم بھی یاد کر سکتے ہیں بلکہ لکھ بھی سکتے ہیں لیکن گانا لکھنے والا خود نہیں گا سکتا کیونکہ اس کے پاس تخیل تو ہے مگر وہ خوش الحان آواز نہیں جو گلوکار کا خاصہ ہوتی ہے۔

مصور کے اور ہمارے درمیان بھی صرف ہنرمند ہاتھ کا فرق ہے جبکہ ویسا تخیل ہمیں بھی آسکتا ہے لیکن دستِ مصور کی طرح ہمارا ہاتھ ساتھ نہیں دیتا، فوٹو گرافر کی بنائی ہوئی تصویر میں جان اسلئے ہوتی ہے کہ اس کے پیچھے فوٹوگرافر کا زاویۂ نظر کام کرتا ہے ورنہ اسی کیمرے سے کوئی منظر دیکھ کر بٹن دبانا کسی کیلئے بھی کوئی مشکل کام نہیں۔

ادیب کا علم، وژن، زبان، قلم، بیان اور حق بات کی پاسداری جب ایک پیج پر ہوں تب ہم اسے دانشور مانتے ہیں ورنہ ادیبوں جیسے خیالات ہمیں بھی آتے ہیں، جبھی کوئی تحریر پڑھ کر ہم برملا کہتے ہیں کہ یہ تحریر تو ہوبہو ہماری سوچ کی عکاسی کرتی ہے لیکن اس مصنف سے مشترک سوچ رکھتے ہوئے بھی ہم اس مضمون کو لکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔

ان چیزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان پورے نظام کی بجائے صرف ایک آدھ صلاحیت کا فرق ہوتا ہے جو کسی دوسرے کو ہم سے ممتاز کر جاتا ہے جبکہ اس کی باقی شخصیت ہمارے کلچر کے حساب سے بلکل ہمارے جیسی ہی ہوتی ہے، نہ کچھ کم نہ کچھ زیادہ، لیکن ہماری پسند اور ناپسند کا معیار عمومی طور پر کسی بندے کی وہی ایک نمایاں خوبی ہی قرار پاتا ہے جو غلط رائے قائم کرنے کا باعث بنتا ہے۔

کسی کے بارے میں ایک مستقل اور دیرپا رائے قائم کرنے کیلئے اس کی پوری شخصیت میں مثبت اور منفی باتوں کا ایک تفصیلی جائزہ درکار ہوتا ہے لیکن اس کی بجائے اکثریت صرف اس ایک نقطے پر اکتفا کر لیتے ہیں جو اس کی شخصیت کا اچھا یا برا نمایاں پہلو ہوتا ہے، وہی ایک پہلو پسندیدگی یا ناپسندیدگی کیلئے ہمارا اوبسیشن بن جاتا ہے اور محض اس ایک خوبی یا خامی کی وجہ سے کسی بھی مرکز نگاہ اچھے آدمی کی برائیاں اور برے آدمی کی اچھائیاں یکسر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

گویا کسی شخصیت کا مقام طے کرنے کیلئے ہم اپنے وژن کے فقط کسی ایک نقطے کو کام میں لاتے ہیں، مثال کے طور پر تھوڑی دیر کیلئے اس بات کو مان لیں کہ انسان کے ذہن میں ایک ورچوئیل زوم لینس لگا ہوا ہے جو انسان کی ضرورت کے حساب سے پھیلتا اور سکڑتا ہے، جب آپ کسی محدود دائرے میں دیکھتے ہیں تو ہر چیز واضع نظر آتی ہے لیکن جب آپ کسی وسیع دائرے میں دیکھتے ہیں تو واضع طور پر صرف وہی چیز نظر آتی ہے جس پر آپ کا فوکس ہوتا ہے کیونکہ آپ کا ذہن صرف اتنا حصہ ہی دیکھ رہا ہوتا ہے جتنا آپ دیکھنا چاہتے ہیں اسلئے باقی اشیاء اس بڑے دائرے میں موجود ہونے کے باوجود مرکزِ نگاہ نہیں رہتیں اور نظر آنے کے باوجود بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر جب آپ کسی سڑک کے کنارے کھڑے ہوکے اپنی مطلوبہ بس آتی ہوئی دیکھتے ہیں تو باقی کا ماحول نظر آنے کے باوجود بھی ثانوی حیثیت اختیار کرلیتا ہے کیونکہ آپ کا ذہنی فوکس بس پکڑنے کی طرف راغب ہے۔

محبت اور نفرت میں اوبسیشن بھی اسی طرح سے پیدا ہوتا ہے کہ جس خوبی کی وجہ سے آپ کو کسی شخصیت سے محبت ہو جاتی ہے بس وہی بات اس بندے کی مکمل شخصیت بن کر آپ کے ذہن پر چھا جاتی ہے اور اس کی خرابیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں، یہی حال نفرت میں بھی ہوتا ہے، انسان کو جب کسی کی ایک بشری کمزوری سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ اسی ایک بات کو اس بندے کی پوری شخصیت پہ پھیلا دینا چاہتا ہے، عموماً ہم یہی کرتے ہیں کہ ایک بندے کی کوئی ایک فضیلت دیکھ کر اسے مرکز نگاہ بنا لیتے ہیں یا کسی کی ایک خامی دیکھ کر اس کی ساری خوبیاں ہماری نظر میں دھندلا جاتی ہیں۔

جب یہ صورتحال پیدا ہو جائے تو یہ اوبسیشن کہلاتا ہے، اوبسیشن نوے فیصد لوگوں کیلئے ہمیشہ تکلیف کا ہی باعث بنتا ہے، وہ چند فیصد لوگ جنہیں کسی جنون سے لاٹری لگنے جیسی کامیابی مل جائے وہ دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اوبسیشن میں بھی اپنے ہوش و حواس کو قائم رکھتے ہیں اور مخالف چیزوں کو ہینڈل یا ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

باقیوں کے متعلق سیانے کہا کرتے ہیں کہ جب عشق کا بھوت اترے گا تو ہی آٹے دال کا بھاؤ پتا چلے گا، یہ بات اسلئے کہی جاتی ہے کہ محبت میں انسان جب کسی پر فریفتہ ہو جاتا ہے تو دراصل وہ کسی ایک خوبی کے ٹرانس میں مبتلا ہوتا ہے پھر وقت کیساتھ ساتھ جب اس سحر میں کمی آتی ہے تو اس پسندیدہ شخصیت کی برائیاں بھی آہستہ آہستہ نظر آنے لگتی ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ جب اس کی برائیاں نظر آنے لگتی ہیں تو اس ایک مرکزِ نگاہ خوبی کا سحر بھی اترنا شروع ہو جاتا ہے۔

ایسا ایک نکاتی اوبسیشن جب ذاتی سوچ کا نتیجہ ہو تو بصری دھوکا یا الیوژن کہلاتا ہے، جب ایسے جذبات کسی کے بہکانے پر مچل رہے ہوں تو اسے پٹی پڑھانا، آنکھوں پر پٹی باندھنا یا نظربندی بھی کہتے ہیں، لیکن جب کوئی جان بوجھ کر صرف ایک ہی رخ دیکھنا چاہے خواہ دوسرے پہلو بھی سامنے موجود ہوں تو یہ تعصب کہلائے گا یا آنکھوں پر چربی چڑھنا بھی اسے ہی کہتے ہیں۔

الغرض کسی نہ کسی سچوایش میں اس فینومینا کا نام ضرور بدل جاتا ہے مگر بنیادی بات ہمیشہ مشترک رہتی ہے کہ جب انسان دانستہ یا نادانستہ کسی شخصیت کے ایک جز کو اس کی پوری شخصیت پر پھیلا کر اسے من پسند یا ناپسندیدہ قرار دینا چاہتا ہے تو یہ حرکت ایک طرف سراسر ناانصافی ہوتی ہے اور دوسری طرف انسان کے اپنے دماغی خلل کی غماز بھی ہوتی ہے۔

عموماً یہ اس بندے کا قصور نہیں ہوتا جس سے کسی کو محبت یا نفرت ہوجائے بلکہ یہ کرنے والے کے اپنے دماغ کا خلل ہوتا ہے جو اوبسیشن یا جذباتی غلبے کے زیر اثر آجاتا ہے۔

یہی حال نظریات کو پالنے یا انہیں رد کرنے میں بھی کارفرما ہوتا ہے، اس ڈیلیما سے بچنے کیلئے جذباتیت کی بجائے ہمیشہ ٹھنڈے دل سے سوچنا اور سمجھنا چاہئے تاکہ انسان ذہنی طور پر اعتدال کو قبول کرنے کی عادت اپنا سکے ورنہ اچھے برے کا فیصلہ پھر وقت ہی کیا کرتا ہے جو اپنا فیصلہ سنانے کیساتھ کچھ نقصانات بھی ضرور جھولی میں ڈال جاتا ہے، اکثر اوقات یہ نقصانات ناقابل تلافی ہوتے ہیں ان میں کم سے کم درجے کا نقصان بھی وقت کا زیاں ہوتا ہے جو پھر لوٹ کر کبھی نہیں آتا اور انسان کو پچھتانے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کاش میں نے اس وقت سوچ سمجھ سے کام لیا ہوتا۔

یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ کسی پسندیدہ شخصیت اور نظریئے میں کوئی چیز ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اس کے فائدہ مند جز سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور کسی برے لگنے والے شخص یا نظریئے میں کوئی بات ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اس کے نقصان دہ پہلؤوں سے زیادہ نفع بخش ہوسکتی ہے لہذا کسی فرد اور نظریئے سے محبت یا نفرت کی بنیاد اوبسیشن پر رکھنے کی بجائے ہمیشہ خردمندی کو اپنانا چاہئے تاکہ کسی کو اپنا جزوِ زندگی بنانے سے پہلے اس کے تمام اچھے برے پہلو سامنے آجائیں۔

اگر کسی کیساتھ چلنا ناگزیر ہو تو سب سے پہلے اس کی برائیوں سے بچنے کا ذریعہ نکالنا چاہئے، کسی چیز کی اچھائی سے نفع اٹھانے اور اس میں موجود برائی سے بچنے کی اگر اہلیت نہ ہو تو پھر اوبسیشن کی بنیاد پر کسی ایسے فرد یا نظریئے کے پیچھے نہ ہی چلا جائے تو اچھا ہے جس کی برائی جھیلنے کا یارا نہ ہو۔

ہم اپنے ارد گرد ایسے بہت سے لوگ دیکھ سکتے ہیں جو محبت یا نفرت میں کسی فرد یا نظریئے کے پیچھے اپنی کوتاہ چشمی کے باعث نہ صرف بذاتِ خود خجل خوار ہوتے ہیں بلکہ اپنے متعلقین کیلئے بھی متعدد تکالیف کا باعث بن جاتے ہیں۔

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ یہ مرحلہ بار بار پیش آتا ہے، بصری دھوکا یا اوبسیشن مسلسل ان کو ایسے احوال سے دوچار کرتا رہتا ہے جو محبت یا نفرت میں عقل کو تیاگ کر فیصلہ کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی خاص پہچان ان کی زندگی پر محیط یہ جملہ ہوتا ہے کہ میں تو سب کو اچھا ہی سمجھتا ہوں لیکن یہ لوگ ہی بُرے نکل آتے ہیں۔

اوپر کے پیرے میں جو آخری جملہ لکھا ہے اس کے آئینے میں دیکھا جائے تو شائد ہی کوئی ایسا ملے جو یہ جملہ نہ کہتا ہو ورنہ تو یہ تقریباً ہر فرد کی کہانی ہے، اس صورت میں ہم کیا سمجھیں کہ ہر فرد ہی اوبسیشن، کوتاہ نظری یا حماقت کا شکار ہے…؟

ایسا نہیں ہے بلکہ ہمیں ان لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا، پہلے وہ لوگ جو کسی فرد یا نظریئے کی محبت یا نفرت میں واقعی جزباتی ہو کر فیصلہ کرتے ہیں اور دوسرے نارمل۔وے میں چلتے ہیں مگر ان کے حسنِ سلوک کے جواب میں نیک سلوک کی بجائے برائی ہی ملتی ہے لہذا وہ یہ بات کہنے میں حق بجانب ہوتے ہیں کہ ہم تو ہر کسی کیساتھ اچھا ہی کرتے ہیں لیکن سامنے والے ہمارے ساتھ برا کر جاتے ہیں۔

نتائج کے اعتبار سے تو دونوں طبقے ہی نقصان اٹھاتے ہیں اور انجام کار مدمقابل یا فریق ثانی سے متنفر ہوجاتے ہیں لیکن دونوں کی اپروچ بہرحال مختلف ہے، پہلا طبقہ اپنے جنون سے خطا کھاتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اپنی سادگی کی وجہ سے دھوکا کھاتا ہے۔

یہ بصری دھوکا لازمی طور پر ہوتا تو تکلیف دہ ہے مگر اس میں ایک راز پوشیدہ ہے، راز یہ ہے کہ دھوکا چھوٹا ہو یا بڑا اس کا طریقہ واردات ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے لہذا یہ چھوٹے چھوٹے دھوکے یا امید کیخلاف وارد ہونے والے نتائج ہر آدمی کیساتھ اسلئے پیش آتے ہیں کہ وہ اس طریقہ واردات کو سمجھ لے، اور آئیندہ ہر کسی کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کی بجائے محتاط ہو کے رہے تاکہ اپنے اعتبار کی عادت کی وجہ سے کسی سے کوئی بڑا دھوکہ نہ کھا بیٹھے، اسے آپ ایک نیچرل ٹریننگ سمجھ لیجئے۔

جس بندے نے اپنے جنون کی وجہ سے دھوکہ کھایا ہو یا نقصان اٹھایا ہو اسے آئیندہ کیلئے اوبسیشن سے توبہ کر لینی چاہئے اور جس نے بلکہ زیادہ تر جنہوں نے اپنی سادگی سے دھوکا کھایا ہوتا ہے انہیں آئیندہ کیلئے اپنی سادگی ترک کرکے ہر کسی کی بات پر بیجا خدا ترسی، بیجا اعتبار اور بیجا قربانی کے جذبے سے باہر نکل آنا چاہئے۔

ہمیشہ ہر کسی کیساتھ سوچ سمجھ کے تعلق پیدا کریں اور اس تعلق کو نبھاتے ہوئے بھی ہر اسٹیج پر اپنی اوقات سے باہر ہو کے قربانیاں مت دیں، اپنی بساط بھر جتنا ہو سکے اتنا لحاظ مروت کریں باقی ڈیمانڈ پوری کرنے کی بجائے میٹھے سے لہجے میں معذرت کرلیں، اس رویئے سے کسی کیساتھ تعلقات بھی خراب نہیں ہوں گے اور وہ جملہ دہرانے کی نوبت بھی نہیں آئے گی کہ ہم تو ہر کسی کیساتھ اچھا ہی کرتے ہیں لیکن لوگ اس کا برا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

ایسے برے بدلے کو اپنے لئے سوہانِ روح بنانے کی بجائے یہ سمجھ لیجئے کہ جس طرح ہر ذی نفس کو ایک دن موت کا مزا لازمی چکھنا ہے اسی طرح ہر بندے کو بعض چھوٹی چھوٹی تکلیفوں کا مزا بھی لازمی چکھنا ہے تاکہ ان تکالیف کے طریقہ واردات کو نوٹ کرکے سبق سیکھے اور آئیندہ کیلئے محتاط ہو کر کسی بڑی تکلیف سے بچ جائے۔

انسان کی سب سے بڑی کمزوری انسان ہے، وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے جس کیساتھ وہ جڑنا چاہے، دوسری کمزوری پزیرائی کی خواہش ہے جس سے نکلنا بڑے بڑوں کیلئے بہت مشکل کام ہے، تیسری کمزوری ان دونوں چیزوں کی جستجو ہے، چوتھی اور اہم کمزوری ان تینوں معاملات کا سطحی ادراک ہے۔

جب آپ کسی سے جڑنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا ذاتی شوق یا مجبوری ہوتی ہے، دوسرے کیلئے اس میں کچھ اہم نہیں ہوتا، نہ وہ اس بات کا مکلف ہوتا ہے کہ آپ کی کسی خواہش کا احترام کرے، وہ صرف اسی بات کا مکلف ہوگا جو اسے سؤٹ کرتا ہو۔

اس کیس میں التفات کے متمنی عموماً عاشق کہلاتے ہیں جو اپنی رغبت کے تحت کسی لاحاصل کی خواہش کرکے پھر اس کی بے اعتناعی کے شکوے کرنا اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔

دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے آپ ملنا چاہیں اور اس خواہش کے جواب میں وہ بھی آپ سے دوستی کا تعلق استوار کرنا چاہیں، اس میل جول کا نتیجہ بھی وہی پہلے جیسا ہی نکلتا ہے مگر فوراً کی بجائے کچھ عرصے بعد ظاہر ہوتا ہے۔

اس اپ۔سیٹ کی وجوہات میں دیگر تضادات کے علاوہ پزیرائی کی خواہش کا بڑا دخل ہوتا ہے جو کسی بھی وقت دوسرے کی کسی بھی بات سے مجروح ہو جاتی ہے، ایک تو انسان بذات خود ہر وقت ہر کسی کے جذبات کا خیال نہیں رکھ سکتا، پھر نظریات اور عادات میں تفاوت یا تضادات جلد یا بدیر کسی نہ کسی کو پسپائی کے مقام تک ضرور لا کھڑا کرتے ہیں۔

ان حالات میں دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ محبت یا نفرت میں اوبسیشن کا شکار ہونے کی بجائے کسی فرد یا نظریئے کیساتھ تعلق بنانے اور ترک کرنے میں ایکدم کی بجائے تدریج کا سہارا لیا جائے اور اس تعلق کو استوار رکھنے کیلئے نہ بیجا قربانیاں دی جائیں اور نہ ہی بوقت ضرورت اسے مایوس کرنے یا تنہا چھوڑنے جیسا رویہ اختیار کیا جائے بلکہ اس تعلق کے ہر مرحلے میں جزباتیت کی بجائے اعتدال کو اہمیت دی جائے تو کوئی فریق بھی ایکدوسرے کے ہاتھوں پشیمانی یا مایوسی کا شکار نہیں ہوگا بصورت دیگر دِل ٹوٹنے کی درجنوں کہانیاں وجود میں آتی ہیں اور آتی رہیں گی۔

(Visited 199 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: