ٹی وی ڈرامہ اور ناظر —— یگانہ نجمی

1
  • 24
    Shares

گزشتہ ماہ ایک اندوہناک واقعہ رونما ہوا۔ جس نے انسانیت پر اعتبار کی رہی سہی کسر پوری کردی۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ ایک خاتون نے اپنی ۸ سالہ بچی کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا۔ اب تک کی تفتیش کے مطابق جو اس خاتون کے عدالت میں دیے بیان پر مبنی ہے کہ اسی نے اپنی بیٹی کا قتل کیا ہے اور اس کی وجہ اس نے اپنے شوہر کے ظالمانہ رویّے کو قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر اپنے گھر والوں کے کہنے پر اس پر تشدد کرتا تھا اور طلاق کے ساتھ ساتھ بچی چھیننے کی دھمکی بھی دیتا تھا۔ جس سے تنگ آ کر یہ قدم اٹھایا۔

اس سے پہلے بہت سے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے رہے ہیں کہ سوتیلی ماں نے بچی کو مار دیا۔ مگر اس طرح کا ظالمانہ اور بے رحمانہ رویہ کہ سگی ماں نے ہی اپنی معصوم بچی کوقتل کر دیا، نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارا معاشرہ اس حد تک گر چکا ہے کہ ایک ماں اپنی بچی کو ہلاک کر دے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ گھریلو تشدد (ڈومیسٹک وائلنس) نے اسے نفسیاتی مریض بنا دیا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ ماں جو اپنے بیٹے کے لیے چاند سی بہو لانے کا اظہار بچپن سے کرتی چلی آ رہی ہوتی ہے، بیٹے کے جوان ہونے پر جب چاند سی بہو گھر آ جاتی ہے تو اسے اس چاند میں گہن ہی گہن نظر آنے لگتا ہے۔ وہ چاند جو دور سے تو چمکتا دکھائی دیتا تھا نزدیک آنے پر گڑھے ہی گڑھے دکھائی دینے لگتے ہیں۔

ایک وجہ اور بھی ایسے واقعات کا سبب بن رہی ہے اور وہ ہے ہمارے ڈرامے۔ یہ تسلسل سے ایسے واقعات کو اپنے ڈراموں کا موضوع بنا رہے ہیں جن میں کسی رشتے کا تقدس باقی رہتا نہیں دکھایا جاتا۔ اس نے آپس کا یقین اور بھروسہ اٹھا لیا ہے۔ بعض ڈرامے اتنی شدت کے ساتھ مایوسی اور گمراہی کو دکھا رہے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے دنیا میں صرف برائی کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ لوگ رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ڈراموں میں معاشرے کی کچھ برائیوں کو اس شدت کے ساتھ تواتر سے دکھایا جارہا ہے کہ نتیجہ اخر کار خاندان کی تباہی پر جا کر رکتا ہے۔ بظاہر گھریلو موضوعات پر مبنی یہ ڈرامے جو ساس بہو کے جھگڑوں پر بنائے جاتے ہیں جنھیں اینٹرٹینمنٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے درحقیقت ایک خوفناک انجام پر اختتام پاتے ہیں۔

اس کے بر عکس ایک خبر جو چار سدہ سے متعلق ان بچیوں کی تھی کہ جن کے پیدائشی طور پر سر جڑے ہوئے تھے اس خبر میں کوئی بات اتنی اہم نظر نہیں آتی۔ اہم بات دراصل ان بچیوں کے باپ اور گاؤں کے لوگوں کا ردِعمل تھا کہ باپ تو بچیوں کے لیے فکرمند تھا ہی پر اس علاقے کے بزرگ بھی دعا کے لیے اکھٹے ہوئے اور یہ سب کچھ اس ماحول میں ہوا جہاں بسا اوقات بیٹیوں کی پیدائش باعثِ رحمت نہیں بلکہ زحمت ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بات صرف ایک مختصر خبر کے طور پر نشر کی گئی۔ اسے کسی مارننگ شو نے اپنے پروگرام کا موضوع نہیں بنایا۔

مانا کہ اس وقت معاشرے میں خرابی زیادہ ہے لیکن جب اندھیرا زیادہ ہو تو روشنی کی ہلکی سی کرن بھی دیکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ ڈراموں میں اچھائی کے پہلو کو زیادہ دکھایا جائے؟ جب برائی کو دیکھ کر برائی سیکھی جا سکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اچھائی

دکھانے سے فروغ نہیں پائے؟۔
لیکن شاید ہم لوگ برائی کو دیکھنا اور پھیلانا پسند کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ماہرین طب کے مطابق اگر دوا مقررہ مقدار سے زیادہ دی جانے لگے تو یا تو وہ اپنا اثر کھو دیتی ہے یا پھر اس سے سائیڈ افیکٹ پیدا ہو جاتے ہیں۔ جس سے مزید بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن کا علاج برس ہا برس تک ممکن نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. آج ہم اپنے معاشرے کو اپنے ہی ہاتھوں سے تباہی کی جانب گامزن ہیں۔ آپکی یہ تحریر بہت عمدہ کوشش ہے لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کی۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: