آثار ———- احمد جاوید کا افسانہ

0
  • 101
    Shares
دن پر دن بیتتے جاتے ہیں۔۔۔۔ جیسے صدیاں گذر گئی ہوں ، حبس کایہ موسم گذرتاہی نہیں۔۔۔ نہ ہوا چلتی ہے نہ بارش برستی ہے۔۔۔۔ آسمان پر پھیلے ہوئے گردوغبار پہ سارادن بادلوں کا گمان ضرور رہتا ہے مگر رات ہوجاتی ہے کوئی پرندہ نئے موسم کا سندیسہ نہیں لاتا۔۔۔۔ پھر صبح ہوئی ہے۔۔۔۔ اوپر حد نگاہ تک آسمان گرد آلود ہوتا جاتاہے اور نیچے پیلی میل خوردہ دھوپ سنولاتی جاتی ہے۔ دھول اسے اٹے ہوئے بادل افق در افق آسمان پر پھیلنے کے لیے بڑھتے آتے ہیں اور حبس پھیلتا جاتا ہے۔ دور چاروں طرف پہاڑیوں کے ہیولوں پر درختوں کی پرچھائیاں دھندلا گئی ہیں اور دھندلائے جاتے منظروں پرشام کا گمان کرتے پرندے قطار اندر قطار اڑتے جاتے ہیں اور کہیں دائرہ در دائرہ گردش میں ہیں اور بولتے جاتے ہیں۔

سنتے ہیں گرمیوں کے موسم میں ہوا ہلکی ہوکر آسمان کارخ کرے اوربادلوں کی صورت دکھائی دے تو حبس میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔۔۔ وحشت بڑھ جاتی ہے۔ مگر بوڑھے کہ ان بیلوں کا مضبوط درختوں کے تنوں سے باندھ آندھی طوفان کے اندیشے میں مبتلا ہو جائے ہیں انہیں اپنے کچے گھروندوں اور بکھرے ہوئے کھلیانوں کا ڈر آگھیرتا ہے اور اب میں دیکھتا ہوں دور ایک طرف آسمان کے کنارے زیادہ گدلانے لگے ہیں۔

موسم اسی طرح بدلتے ہیں، گرمیوں میں برسات اسی طرح ہوتی ہے اچانک بادل امڈتے ہیں پھسل جاتے ہیں برس پڑتے ہیں۔ ساون رت آتی ہے۔ جھولے پڑتے ہیں پھولوں کی مہکار ہوتی ہے۔ ناریاں گیت گاتی ہیں، پھوار جلترنگ بجاتی ہے۔۔۔۔۔مٹیالے بادلوں سے کرنیں چھن چھن کر آتی ہیں تو آسمان رنگین ہو جاتا ہے۔ قوس قزح پڑتی ہے۔۔۔۔۔ مگر ہمیشہ یوں کب ہوا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی تو صرف گرد آلود ہوائیں چلتی ہیں۔ آندھی کی صورت۔۔۔۔ یا طوفان اٹھتے ہیں۔۔۔۔ میں نے برسات میں چھتوں کو بیٹھتے، دیواروں کو گرتے زمین بوس ہوتے بھی دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب سیلاب سے گلیاں بھر گئیں تو پانی میں بجلی کے کھمبوں کی بوسیدہ تاروں نے زہر بھر دیا۔۔۔۔ کواڑ بجتے سنے ہیں لوگوں کو چلاتے دیکھا ہے۔ ایسا سنا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔۔۔ میں کیسے یقین کرلوں مجھے طرح طرح کے اندیشے ہیں۔

کہتے ہیں موسموں کے بدلنے کی پرندوں کو پہلے سے خبر ہوتی ہے۔ ان کا بولنا اڑنا پھرنا سب بدل جاتاہے۔۔۔۔ پھر ہر موسم کے اپنے پرندے ہیں۔ جب کوئی نیا پرندہ نمودار ہو موسم بدلتا ہے۔۔۔۔۔

جب کوئی پرندہ بولے اور مسلسل بولتا جائے۔ جب ڈربوں میں مرغیاں بدحواس ہو ہو کر اچھل کود کرنے لگیں۔۔۔۔ جب جانور اپنے طویلوں میں بے چین ہو جائیں رستہ تڑانے لگیں۔۔۔۔ کچھ ہونے والا ہوتا ہے۔۔۔۔۔

جب کچھ ہوتا ہے پہلے فضا بدلتی ہے۔ جب پرندے کسی مقام سے کوچ کرنے لگتے ہیں۔۔۔۔ زلزلہ آتا ہے۔ مقناطیس کا اثر سست پڑجاتا ہے۔ زائل ہونے لگتا ہے۔ کشش ثقل میں خلل پڑتا ہے۔

جب فضاء میں سناٹا ہو، اور چاروں طرف چپ ہو جائے۔ ہوا پہلے سیٹیاں بجاتی آتی ہے پھر شور پڑتا ہے طوفان اٹھتا ہے۔۔۔۔ کوئی کوئی آدمی پہلے سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ باقی گھر جاتے ہیں۔۔۔۔ میں بھی سارے حواسوں سے کام لیتا ہوں مگر مجھے کچھ خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔ میرے لیے سب اجنبی۔ سب موسم ، سب پرندے۔ اسی لیے تو میری اس بے خبری کو ہر روز اخبار کی حاجت ہوتی ہے۔

مجھے سیاست سے کچھ دل چسپی نہیں اور نہ ہی سنسنی خیز خبریں میری توجہ کھینچتی ہیں۔ ۔۔۔ مجھے کیا کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔۔۔۔ البتہ صبح جب پورے طور پر جاگ اٹھتاہوں اور کام کاج کو نکلتا ہوں اک نظر اخبار ضرور دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔ میرے لیے ٹھہرے ہوئے رکے ہوئے موسم، درجہ حرارت کی کمی بیشی، آندھیاں، طوفان، بارشی، سیلاب، زلزلے، گلیشئیر اندیشے کا باعث ہیں۔۔۔۔ بس اسی خیال میں رہتا ہوں اور موسم کی خبریں پڑھتا ہوں، اس سے زیادہ مجھے اخبار سے اور کچھ کام نہیں ہوتا۔۔۔۔ چاہے پیچھے گھر میں بچے اس کے ٹکڑے بکھیر کر ہوا میں اڑائیں اور کھیلتے پھریں یا بیوی پنکھا جھلتی رہے مجھے کچھ غرض نہیں ہوتی۔۔۔۔

ہاکر گلی میں داخل ہوتے ہی سائیکل کی گھنٹی بجاتاہے۔ آواز لگاتا ہے۔ مگر آج میں گلی میں جھانکتا بھی ہوں تو دور تک اس کی کچھ خبر نہیں۔۔۔۔۔

صبح پھیلتی جارہی ہے۔۔۔۔ چڑیوں کی چہچاہٹ میں اب کوئی سرتال نہیں کہ وہ الگ الگ ادھر ادھر منڈیروں پر اڑنے پھرنے لگی ہیں۔ دن اپنے آغاز پرہے۔ سب جاگ اٹھے ہیں۔ میں چھت پہ کھڑا ہوں اور دھول اڑتی اوپر تک آتی ہے کہیں کسی گلی میں خاکروب جھاڑو دیتے ہیں۔۔۔۔ کسی پانی کے نل پر آوازوں کا شور ہے۔ لوگ پانی کے لیے بدحواس ہوئے ہیں۔ گھروں میں بچوں کے جاگنے اور بلکنے کی آوازیں ہیں اور مائیں انہیں پیار سے پچکارتی ہیں۔۔۔۔ فقیر صدا کرتے سنائی دینے لگے ہیں۔ ٹریفک کا شور آغاز ہو گیا ہے۔۔۔۔ دستکوں سے گھروں کے دروازے کھلنے لگے ہیں۔۔۔۔ پھر وہی منظر وہی آوازیں وہی لمحہ بہ لمحہ تپتا جاتا دن۔۔۔۔۔

کتنے دنوں سے ہوا نہیں چلی، بارش نہیں ہوئی۔۔۔۔ مجھے اس رکے ہوئے موسم سے وحشت ہوتی ہے۔۔۔۔ مگر اب بادلوں کے جمع ہونے پر ڈر بھی لگتا ہے۔

ہواا ب مکمل طور پررکی ہوئی ہے۔۔۔۔ پرندوں نے درختو ں پر بسیرا کرلیا ہے اور اب بہت چپ ہیں گویا سکون سے ہوں۔ درختوں پر سوکھے ہوئے ساکت پتے اپنے ہی زور میں ٹپ ٹپ زمین پر گرتے جائے ہیں حالانکہ کہیں دھوپ نہیں بادل بہت گہرے ہورہے ہیں مگر حبس میں اضافہ ہوا ہے۔ میرا حلق خشک ہو چکا ہے کانٹے سے چبھتے ہیں اور ہونٹوں پر پپڑیاں جم آئی ہیں۔ پیاس نے بے حال کردیا ہے۔۔۔۔ مگر میں سنتا ہوں کہ گلیوں میں نو عمر بچو ں نے اودھم مچارکھا ہے کہ انہیں جھکے آئے بادلوں سے بارش کی امید ہے۔

توقع رکھا چاہیے کہ موسم بدلے گا۔۔۔۔ مگر میرے اندیشے۔۔۔۔

میں ہرسمت دیکھتا ہوں۔۔۔۔ مٹی سے لپی ہوئی چھتوں کی منڈیریں اور ممٹیاں۔۔۔۔ جھکے ہوئے چھجے، چوبارے اور بالکونیاں۔۔۔ مسجدیں گلی گلی اور انکے گنبد اور مینار اور ان پر چہار اطراف میں لگے ہوئے لاؤڈاسپیکر۔۔۔۔ کھمبوں کی جھولتی ہوئی تاریں اور تاروں پر لٹکی ہوئی بوسیدہ پتنگیں اور مردہ کوے۔۔۔۔ گلیاں اور بازار۔۔۔۔ کارخانوں کی چمنیاں اوران سے نکلتا ہوا دھواں۔۔۔۔ ہجوم در ہجوم مزدوروں کی ٹولیاں۔۔۔۔ کام کاج کو نکلے ہوئے آدمی، بچے سکولوں کو جاتے ہوئے اوراپنے اپنے دھندے پر بھکاری، لنگڑے لولے، اپاہج، صدا کرتے کشکول بجاتے۔۔۔۔ دھواں دیتی بسیں، رکشے، سائیکلیں، ٹیکسیاں اورچرچراتے ہوئے تانگے۔۔۔۔

میرے سامنے ایک زیرتعمیر عمارت کے مزدوروں نے قمیض اتار دی ہیں کہ گرمی بہت ہے۔۔۔۔ سبزی ڈھونے والوں کے سانولے چہرے کچھ اور سنولا گئے ہیں ماتھے کا پسینہ آنکھوں میں اور کلائیوں کا کہنیوں سے ہوتا زمین پرگرتا ہے۔ بابوؤں کی قمیضیں پشت پردرمیان سے بھیگ رہی ہیں اور اردگرد سوکھے ہوئے پسینے کی پیلاہٹیں ہیں۔ جو ننگے سر ہیں وہ تو عذاب میں ہیں۔ جنہیں چھتریاں بھی میسر ہیں وہ بھی کلائیوں سے پیسنا پونچھتے ہیں۔ گھروں میں سودا سلف لینے نکلی ہوئی عورتیں دکانوں کے چھجوں تلے بچوں کو دوپٹوں کے پلو جھلتی ہیں۔ تانگوں کی گھوڑیاں ہانپتی ہیں اور گائے بھینسوں کو ہانکتے گوالے نہروں اور نالوں کی سمت جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ پانی فروخت ہو رہا ہے۔

آسمان کے کناروں پہ بادل کہیں بھورے، کہیں سرخ اور کہیں زردی مائل ہیں مگر عام طور پررنگ مٹیالا ہے۔۔۔۔ درمیان میں البتہ جس طرح سیاہ بادل اکٹھے ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے فضاء بوجھل ہورہی ہے۔۔۔۔

بچوں کا اودھم بڑھتاجاتا ہے۔ انہیں نہانے پانی اچھالنے اور شپ شپ کرتے پھرنے کی آس ہے۔ بوڑھے اپنی مندی آنکھوں پر ہاتھوں کا سایہ کر کے آسمان کو دیکھتے ہیں گمان تو انہیں بھی ہے مگر تذبذب میں ہیں۔۔۔۔ باقی سب اپنے اپنے کام میں لگے ہیں سر نہیں اٹھاتے۔۔۔۔

میں دیکھتاجاتا ہوں اور بادل گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ چاروں طرف اندھیرا سا ہے کہ بڑھا آتا ہے یو ں کہ جیسے جاڑے کی شام ہو، بادل اتنا جھک آئے ہیں کہ ان کا برسنا لازم ٹھہر گیا ہے۔۔۔۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ اگر یہ جھکے ہوئے لدے ہوئے بادل برسے توکتنا برسیں گے۔۔۔۔ جل تھل ہو جائے گا، پھر ٹھنڈی خنک ہوا چلی تو شاید اک ذرا سی کپکپاہٹ بھی ہو کہ ساون میں کسی کسی روز ایسا بھی ہوتا ہے۔۔۔۔ میں سوچتا جاتا ہوں۔ اور اکا دکا بوند پڑنا شروع ہوتی ہے۔ بس ویسے ہی بڑے بڑے قطرے جیسے برسات میں پڑتے ہیں۔ ادھر ادھر زور زور سے ٹپ ٹپ کرتے آتے ہیں اور مینا کاری کرتے جاتے ہیں۔۔۔۔ یک لخت سماں بدلنے لگا ہے۔

ہوا تو ابھی چلنا شروع نہیں ہوئی۔ مگر خنکی سی ہوتی جاتی ہے۔۔۔۔ تبدیلی کا احساس پھیلتا جارہا ہے۔۔۔۔ حبس ٹوٹ رہا ہے۔۔۔۔ جیسی اس موسم میں گرمی پڑی تھی اور جیسا حبس رہا ہے۔ اب ویسی ہی شدت نئے موسم میں ظاہر ہونا ہے۔ میں سن رہا ہوں لوگ ایک دوسرے کو پکارتے خبردار کرتے ہیں۔ ایسی چیزیں جو بھیگ کر خراب یا تباہ ہونے والی ہوں، اٹھانے، کھینچنے گھسیٹنے سائبانوں تلے ڈالنے کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔ گویا موسم بدلنے کا یقین ہوتا جاتاہے۔۔۔۔ بالآخر ایسا ہونا تھا۔

موسموں کو تو بدلنا ہی ہوتا ہے۔ مگر جب کوئی رت طول پکڑ جائے تو بس یونہی بے یقینی سی ہونے لگتی ہے جیسے سب کچھ ٹھہر گیا ہو اور کبھی نہیں بدلے گا۔

موسم بدل رہا ہے بارش ہونے لگی ہے دور سے ہوا سیٹیاں بجاتی آتی سنائی دینے لگی ہے۔۔۔۔ بہت ہی دور ایک طرف آسمان کے کناروں پر گردوغبار اور دھول کے بادلوں میں حرکت ہے۔۔۔۔ تنگے اور گھاس پھوس ادھر سے ادھر تیرتے دکھائی دینے لگے ہیں۔۔۔۔

وہاں سے اٹھتا اک شور قریب بڑھتا آرہا ہے جہاں بادل زیادہ جھکے ہوئے ہیں۔ سرمنہ مٹی دھول ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔ کواڑ بجنے لگے ہیں۔۔۔۔ کھڑکیاں، دروازے، سائن بورڈ کھڑکھڑاتے ہیں۔۔۔۔ ٹہنیوں کے ٹوٹنے، درختوں کے گرنے جڑوں سے اکھڑنے کی آوازیں ہیں اور آوازیں ہیں پرندوں کی جو غول در غول پھڑ پھڑاتے سیدھے آسمان کی طرف ہواکے زور پر بلند ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔ اور پتوں کا انبار ہے جو بگولوں کے ہمراہ ہے۔۔۔۔ بگولے گلیوں میں گھس آئے ہیں۔ مکانوں کی منڈیریں اور ممٹیاں ہوا کی پھیر میں آگئی ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے طوفان میں شدت آتی جارہی ہے۔ ہوا کے جھکڑ زوروں پہ ہیں کچھ گرنے ٹوٹنے منہدم ہونے کی آوازیں ہیں۔ کچھ دیر تو بچوں کااودھم سنائی دیا تھا اب چیخ و پکارہے اور چیخ و پکار ہے بارش کی تیز بوچھاڑ کی جوٹین کے دروازوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی طرح پڑتی ہے۔ ساون آغاز ہوتا ہے مگر آدمی بدحواس ہو گئے ہیں سب جائے اماں کی تلاش میں ہیں۔ یہ دفعتاً کیا ہونے لگا ہے۔

یہ کیسی برسات ہوئی ہے کہ پل دو پل میں جل تھل ہوگیا ہے۔ گلیاں پانی سے بھر گئی ہیں جو بوسیدہ تھیں وہ دیواریں توہوا اپنے زور پر زمین بوس کر گئی ہے۔ باقی بارش کی زد میں ہیں۔پلستر اکھڑ رہا ہے۔ مٹی گارا بہہ رہا ہے۔ جیسے سیمنٹ تو کہیں تھا ہی نہیں۔۔۔۔ پختہ عمارتیں بھی اب تو ریت کے گھروندوں کی طرح چپ چاپ بیٹھتی جارہی ہیں۔۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں ایک سمت سے دوسری سمت تک منظر بدل گیا ہے۔ ۔۔۔ جیسے یہاں کبھی حبس تھا ہی نہیں دھوپ تھی ہی نہیں۔۔۔۔ جیسے ہمیشہ سے آندھی ہے طوفان بادو باراں ہے۔۔۔۔ مکان گر گئے ہیں۔۔۔۔ مسجدوں کے مینار شہید ہو گئے ہیں۔۔۔۔ بجلی کے کھمبے ادھر ادھر زمین پر جھک آئے ہیں۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں مویشیوں کے اکڑے ہوئے مردہ جسم اور آدمی سربگریباں اپنے پیاروں کو پکارتے ملبوں کے ڈھیر پر ماتم کناں اور حیرا ن ہوتا ہوں کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو حبس تھا اور اب پانی ہے کہ سب کو بہائے لیے جاتا ہے۔۔۔۔دریا بھی جوش میں کنارے توڑ آیاہے اور اب گلیوں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے۔۔۔۔ شہر کا شہر پانی کی لہروں پہ تیرتا ڈولتا تیزی سے کسی انجانی منزل کی طرف بہتا چلا جارہا ہے۔ میں مبہوت ہوں کہ ایک ہی پل میں یہ کیا ہوگیا ہے۔

ہراساں و پریشاں ادھرادھردیواروں سے ٹکراتا بالآخر سیڑھیوں کی طرف جاتاہوں۔ صحن میں آتا ہوں گلی میں نکلتاہوں۔۔۔۔ گلی میں ہاکر کی سائیکل آندھی اورطوفان کی طرح آتی ہے وہ پل بھر کو میرے پاس رکتاہے اور پھر اخبار اچھالتا آواز لگاتا گذرتا چلا جاتاہے۔۔۔۔ اسکی آواز چاروں طرف پھیلتی ہے۔ ’’امید رکھنا چاہیے کہ موسم بدلے گا کہ کچھ آثاربھی ہیں۔۔۔‘‘ ۔۔۔۔ میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں اور پھرادھر ادھر لوگوں کو لیکن لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہیں۔ پسینہ بہہ رہاہے مگر سر نہیں اٹھاتے۔۔۔۔

(Visited 51 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: