مرزا اطہر بیگ : ایک گفتگو (۳) —– نجیبہ عارف

0
  • 1
    Share

اس انٹرویو کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

نجیبہ عارف: اچھا، یہ جو آپ کے ہاں پنجابی الفاظ کا استعمال ہے، جیسے کنواں کہنا ہو تو آپ کھوہ کہیں گے۔ جل کے راکھ ہونا نہیں کہیں گے، سڑ کے سواء ہونا کہیں گے، اس سے آپ ایک خاص طرح کا کام لیتے ہیں۔ تو کیا یہ شعوری اور ارادی ہوتا ہے کہ آپ اس حاشیائی کلچر کو مرکز میں لے آتے ہیں خواہ وہ اس تناظر میں مرکزی حیثیت نہ بھی رکھتا ہو۔ جیسے ابھی میں کچھ دن پہلے آپ کی کہانی پڑھ رہی تھی، نام یاد نہیں آ رہا۔ شاید ’’نامکمل پتلا کہانی‘‘۔ اس میں دو صاحب تھے۔ ہاشم صاحب اور رحمان صاحب۔ آپ نے ان کے ناموں کے ساتھ صاحب کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن کہیں بھی جمع کا صیغہ استعمال نہیں کیا جو زبان کا تقاضا تھا بلکہ واحد کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ جیسے ہاشم صاحب آیا یا ہنسا۔ یہ بڑا باغیانہ انداز لگتا ہے۔ جیسے آپ جان بوجھ کر سٹیٹس کو کو چیلنج کرنا چاہتے ہوں۔ یہ رویہ بہت نمایاں ہے آپ کی تحریروں میں؟
مرزا اطہر بیگ: لیکن یہ forced نہیں ہوتا۔ مطلب یہ کہ میں کسی باغیانہ جذبے سے نہیں لکھ رہا ہوتا۔ یہ فطری طور پر آ جاتا ہے، جو بھی اس وقت، اس پلاٹ اور اس سچویشن اور اس کردار کا، تقاضا مجھے محسوس ہوتا ہے، یہ اسی میں آ جاتا ہے۔ مطلب میں نے کسی بھی قسم کے روّیے کو، چاہے وہ لسانی ہو یا فکری یا علامتی، باقاعدہ طے کر کے لکھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ میں اس سے convince نہیں ہوتا۔ لیکن میں جو بھی آرٹ کا نمونہ یا piece of literature یا فکشن بنا رہا ہوں اس کے اندر وہی کچھ آتا ہے جو آ رہا ہے۔ وہ شعوری طور پر نہیں آتا۔ مثلاً ایسا نہیں ہے کہ میں یہاں کے الفاظ استعمال کروں کیونکہ اس دھرتی سے قربت ہونی چاہیے، یا جیسے اس میں کوئی پنجابی شاؤنزم ہے، ہر گز نہیں اور دوسرا یہ ہے کہ جو ہماری رئیلٹی ہے وہ بنیادی طور پر trilingual ہے۔ انگریزی، اردو، پنجابی، تینوں زبانیں۔ اب مجھے دیکھیں میں نے ’’غلام باغ‘‘ میں کتنی انگریزی استعمال کی ہے، لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ خالص اردو بولیں، آپ ایک زبان استعمال کریں وغیرہ لیکن یہ تینوں زبانیں جو ہیں وہ ہماری reality کا حصہ ہیں، ان کے نتیجے میں جو بھی ملغوبہ بنتا ہے وہ ہماری حقیقت میں شامل ہے۔ وہ آنا چاہیے۔ اگرچہ میں لکھنے میں اتنی انگریزی قطعاً نہیں ڈالنا چاہتا جیسے کہ بولنے کی عادت میں ہے۔ لیکن میں کسی نقطۂ نظر کا پرچارک بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ چیزیں جو ہیں اپنے اندر کے دباؤ سے یا اٹھان سے خود کو determine کر لیتی ہیں۔

نجیبہ عارف: اچھا یہ بتائیے، کہ نقادوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نقاد۔ ۔ ۔ ؟ ویسے تو ظاہر ہے کہ یہ بڑا پرانا روایتی سلسلہ ہے کہ تخلیق کار اور نقاد میں یہ جو رشتہ ہے۔ ۔ ۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو کبھی اردو تنقید اور اردو نقاد سے کوئی دلچسپی رہی ہی نہیں۔ میں نے اردو کا تمام قابلِ ذکر فکشن پڑھا ہے لیکن میں نے کوئی اردو تنقید نہیں پڑھی کیوں کہ میرا یہ فیلڈ نہیں ہے۔ چند ایک چیزیں جو دیکھی بھی ہیں وہ مجھے بڑی فضول سی لگیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ میں نے جو لٹریری تھیوری پڑھی ہے، وہ اپنے فیلڈ میں رہ کر پڑھی ہے۔ مثلاً بیسویں صدی کا مغربی فلسفہ جو ہے اس نے ادب پر بہت اثر ڈالا ہے، خاص طور پر وجودیت اور ساختیات نے۔ انھوں نے ادب کو ایک خاص سطح پر دیکھا ہے اور اس کا بہت اثر ہوا ہے۔ تو میرا جو critical self بنا ہے، وہ اس خاص روایت سے اور اُس سے نکلنے والی لٹریری تھیوری سے بنا ہے۔ تو مجھے اندازہ نہیں کہ اردو ادب میں تنقید کہاں پر ہے؟ ویسے بھی مجھے اعتراف ہے کہ میرا ۹۵ فیصد مطالعہ انگریزی میں رہا ہے۔ کوئی پانچ فی صد اردو پڑھی ہو گی میں نے۔ اس سے زیادہ نہیں۔ اس لیے میرا معاملہ مختلف ہے۔

نجیبہ عارف: لٹریری تھیوری کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا؟ اس وقت ہمارے ہاں یہ بحث عام ہے کہ ادبی تنقید کی بنیاد تھیوری پر ہونی چاہیے یا نہیں؟
مرزا اطہر بیگ: میرا خیال ہے کہ میری رائے ان دونوں کے درمیان ہے۔ اگر آپ خود لکھتے ہیں، یعنی ادیب ہیں، تو مزے کے لیے لٹریری تھیوری پڑھ لیں، کوئی ہرج نہیں۔ لطف آئے گا۔ اگر آپ رائٹر نہیں ہیں اور صرف لٹریچر کے سٹوڈنٹ ہیں تو پھر آپ اس کو سنجیدگی سے لے سکتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ تخلیقی عمل یا writing میں اس کا کوئی کردار نہیں۔

نجیبہ عارف: نہیں، میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم لٹریری تھیوری کے ذریعے کسی تخلیق کو پرکھتے ہیں تو ہم پہلے سے ہی اس کے لیے ایک فریم ورک بنا لیتے ہیں اور اکثر یہ ہوتا ہے کہ بس اس فریم ورک کی خالی جگہیں پُر کرتے رہتے ہیں۔ تو اس طرح کیا ہم اس تخلیق کے امکانات کو کم نہیں کر دیتے ؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں یہ بات صحیح ہے آپ کی۔ لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ یہ شاید ناگزیر ہے۔ ہر بندہ کہیں نہ کہیں پھنس جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ لٹریری تھیوری کی جو متعدد صورتیں ہوں گی اس میں سے کسی ایک آدھ کو وہ قبول کرنے لگے تو پھر اکثر یہی ہوتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو reduce کرنے لگتا ہے اگر وہ اس سانچے میں بیٹھتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ نہیں۔ بنیادی طور پر یہ رویہ غلط ہے۔ اس لیے کہ کوئی بھی توضیحی ماڈل دنیا کا آخری ماڈل نہیں ہوتا۔ اس کو ہمیشہ tentatively دیکھنا چاہیے؛ کہ یہ ڈھانچہ اور structure ہے۔ اس کے مطابق یہ یوں ہے۔ بس۔ اصل میں یہ ذہنی مزاج کی بات ہے۔ روّیے کی بات ہے۔ میں تو ان سب کو as alternative games ہی لیتا ہوں۔ زبان کے کھیل اور بس۔

نجیبہ عارف: مرزا صاحب جلنے یا جلانے کی کوئی خاص اہمیت ہے آپ کے ذہنی عمل میں؟؟
مرزا اطہر بیگ: جلانے کی ؟

نجیبہ عارف: جی۔
مرزا اطہر بیگ: کیوں، یہ کس لیے پوچھ رہی ہیں؟

نجیبہ عارف: یہ بہت recurrent theme ہے آپ کی۔ کاغذوں کا جلایا جانا۔ پتلے کا جلانا۔ جل جانا۔ جلا دینا۔ دونوں چیزیں ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: جلانے کی کوشش کرنا۔ ۔ ۔ مجھے ایسا کچھ یاد نہیں۔ پتا نہیں۔ آپ نے پہلی دفعہ اس کا ذکر کیا ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کو کبھی یہ شعور ہوا کہ آپ بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں، یہ آپ نے مجھے بتایا ہے۔ وہ ایک ہے۔ ۔ ۔ کبیر کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

نجیبہ عارف: نہیں افسانوں میں بھی بہت ہے۔
مرزا اطہر بیگ: اچھا! چلیں پھر آپ نے بتایا ہے تو میں اس کو سوچوں گا کہ کیا مسئلہ ہے؟

نجیبہ عارف: کوئی ایسی چیز جو آپ لکھنا چاہتے ہوں اور ابھی نہ لکھی ہو یا آپ کے ذہن میں ہو لکھی نہ جا رہی ہو۔ ایک ہوتا ہے نا dream writing یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ جو لکھنا چاہتے تھے؛ وہ لکھ دیا ہے یا لکھ رہے ہیں اور اس سے مطمئن ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: یہ بالکل ہے۔ ایک تو یہ چار پانچ چیزیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن وہ اس میں نہیں ہے۔ میرے ذہن میں ایک plan ہے کہ جیسے کبیر مہدی کا ایک اصل کام تھا۔ تو میں ایک Semi auto biographic novel لکھنا چاہ رہا ہوں۔ جو صرف marginally auto biographic ہو گا۔ اس میں شرق پور اور یہ سارے واقعات جو ہیں وہ لکھوں گا اور پھر فلاسفی کے استاد کی حیثیت سے میرے جو تجربات ہیں، دنیا کے ایک ایسے حصے میں فلسفے کی تدریس، جو اس کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ ۔ ۔ میں یہ سارا cover کرنے کی میں کوشش کروں گا۔ یہی وہ کام ہے جو میں واقعی کرنا چاہتا ہوں۔ اس کا دورانیہ جو میں پلان کر رہا ہوں وہ ۱۹۵۰ء سے شروع ہو گا اور آج تک لے کر آؤں گا۔ بلکہ اس کا کچھ research work بھی میں نے کر لیا ہے۔ میرا خیال ہے میں اس کو دہائیوں میں لائوں گا لیکن اس لمبے دورانیے کومیں کور کرنا چاہتا ہوں۔ جیسے وہ ایک ساگا ہوتا ہے نا۔ as I see it پتا نہیں میں اس کو کر پاؤں گا یا نہیں۔ لیکن کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک ڈریم پلان ہے۔

نجیبہ عارف: آپ اردو فکشن پڑھتے ہیں ؟
مرزا اطہر بیگ: جی۔

نجیبہ عارف: معاصر ادب ؟
مرزا اطہر بیگ: معاصر تو شاید اتنا نہیں لیکن باقی سب پڑھا ہے۔

نجیبہ عارف: آپ کا پسندیدہ فکشن نگار کون ہے؟
مرزا اطہر بیگ: سارے بڑے بڑے نام ہیں جو آپ لیں۔ تقریباً سب ہیں۔

نجیبہ عارف: مثلاً؟؟؟
مرزا اطہر بیگ: عبد اللہ حسین ہیں۔ قرۃ العین ہیں اور افسانوں میں بھی، جو نام آپ لیں۔ میں نے پڑھا ہے جیسے علی پور کا ایلی میں نے پڑھا ہے۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ اردو ناولوں نے مجھے تو کچھ نہیں دیا۔ میری اچھی یا بری، جیسی بھی تحریر ہے اس پر اردو ناول کا کوئی اثر نہیں۔ میری سارے فکشن کی Inspiration مغربی ادب ہی سے آئی ہے۔ اس میں بہت سے نام ہیں، یورپین فکشن سے زیادہ ہیں۔ مثلاً بلانشو (Maurice C. Blanchot) ہے، آندرے ژید ( André Gide) ہے، ہرمن ہیسے (Hermann Hesse) ہے۔ اور وہ جو ایک آئرش ناول نگار ہے، کیا نام ہے اس کا۔ ۔ ۔

نجیبہ عارف: جیمز جوائس(James Joyce )؟
مرزا اطہر بیگ: جی، وہ۔ پھر خاص طور پر سپینش امریکن ناول جو ہیں۔ لاطینی امریکی ناول۔ روسی کلاسیکی ناول سارے۔ انگلش ناول مجھے کوئی اتنے خاص اپیل نہیں کرتے رہے مگر امریکن ناول، جیسے Herzog جس نے لکھا ہے، نام مجھے بھول گیا۔ ۔ ۔ (Saul Bellow)۔ فرانسیسی ادب سارا۔ ۔ ۔ یہ ساری چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ اس sensibility کو بناتی رہی ہیں۔ تو بنیادی طور پر اردو کے ساتھ میرا ایک discontinuity کا رشتہ ہے۔ I don’t have continuation with it. any direct۔ البتہ افسانوں میں اردو کے جو نام ہیں وہ مجھے زیادہ بڑے لگتے ہیں، مثلاً منٹو ہے بیدی ہے یا کرشن چندر ہے؛خصوصاً خالدہ حسین کا میں بہت مداح ہوں۔ اس کے جو افسانے ہیں سارے۔ اس نے جو deep space create کی ہے، خصوصاً ابتدائی جو افسانے ہیں، پہچان والے۔ She has a remarkable sense of creating a deep subjectivity.۔ وہ بہت اعلیٰ کام ہے۔ مجھے تو کہیں اور نظر نہیں آیا۔ محمد خالد اختر کی کچھ چیزیں پڑھی ہیں، وہ بھی اچھا لگا۔

نجیبہ عارف: نیر مسعود کے بارے میں کیا خیال ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نیر مسعود کو بھی میں نے پڑھا ہے۔ yes۔ سارا نہیں پڑھا لیکن کچھ چیزیں یقیناً پڑھی ہیں۔ ہاں ان کا بھی ایک اپنا انداز ہے۔ وہی جو ہے نا کہ ایک خاص فضا بنانا۔ مطلب یہ کہ جو بھی بڑا رائٹر ہے، یا ایک کامیاب رائٹر ہے، وہ ایک ایسی دنیا تخلیق کر لیتا ہے جس میں جاتے ہوئے آپ کو ایک خاص طرح کی جھرجھری آتی ہے۔ وہ آپ کو بتاتی ہے کہ he can create۔ نیر مسعود کے ہاں یہ ہے تمام افسانوں میں۔ باقی، میں نے عزیز احمد کے کچھ ناول بھی پڑھے ہیں۔

نجیبہ عارف: مستنصر حسین تارڑ؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں ان کے ناول بھی میں نے پڑھے تھے۔ راکھ ان کا بہتر ناول ہے۔

نجیبہ عارف: نثار عزیز بٹ؟ جمیلہ ہاشمی ؟
مرزا اطہر بیگ: جمیلہ ہاشمی کا میں نے ’’دشت سوس‘‘ پڑھا ہے۔ وہ مجھے اچھا لگا کیونکہ حلاج کا جو دور ہے اس میں۔ اس کی اچھی creation ہے۔ بلکہ میں نے اس پر ایک مضمون بھی لکھ کے کہیں پڑھا تھا۔

نجیبہ عارف: اور اردو افسانے میں؟

مرزا اطہر بیگ: اردو افسانے میں انور سجاد سے لے کر۔ ۔ ۔ ۔ ہاں انتظار صاحب کو بھی میں نے پڑھا ہے، ان کا نام رہ گیا تھا۔ ان کے کافکائی افسانے اچھے ہیں جو میٹا مورفسس کی تھیم کے ہیں۔ ناول میں نے ایک پڑھا تھا۔ باقی بس یہی ہے۔

نجیبہ عارف: جن دنوں آپ لاہور آئے، یہاں کی بہت فضا بہت سیاست زدہ تھی۔ خاص طور پر دائیں بائیں بازو والی گروہ بندی بہت تھی، یونی ورسٹیوں میں بھی یہی ماحول تھا۔ آپ کا جھکاؤ کس طرف رہا؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں ۷۰ء میں تھی۔ میں یہاں آ گیا تھا لیکن میں اس میں شامل نہیں رہا۔ میرا خیال ہے وہ فضا ۷۰ کی دہائی میں تھی۔ میرا یہاں آنا اس دہائی کے آخر میں ہوا۔ لیکن اس وقت تک میں نے ادبی حلقو ں میں جانا شروع نہیں کیا تھا۔

نجیبہ عارف: یونی ورسٹی کی سیاست بھی تو زوروں پر تھی ان دنوں؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں وہ تو تھی۔ لیکن سائنس کا طالب علم ہونے کی وجہ سے اتنا وقت نہیں ملتا تھا اور دوسرے یہاں اس ادارے کی فضا ویسی سیاست زدہ نہیں تھی جیسے پنجاب یونی ورسٹی کی فضا تھی اور معاملات کچھ اور طرح کے تھے۔

نجیبہ عارف: میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کے ارد گرد کا جو socio-political ماحول تھا، اس سے آپ کس حد تک جڑے رہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہوں ں ں ں۔ ۔ ۔ ۔ جب یہ بھٹو کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو شرق پور میں ہمارے کچھ ساتھی جو بڑے ایکٹو تھے وہ اس میں آگئے، تو اس وقت، یہ جو پولیٹیکل processioning ہوتی ہے، اس میں کافی انوالو رہے۔ اور پھر ذاتی سطح پر میرا اپنا جو رجحان تھا اس زمانے میں، تو مارکسزم اپنایا ہوا تھا میں نے، اور ماؤ کے بیج لگا لیا کرتے تھے اور وہ ریڈ بک بھی جو تھی۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک مختصر سا دور رہا ہے لیکن some how I just got out of it very soon۔ وہ جو مارکسی معاملات ہیں، ان کا، میری پرسنل sensibility of freedom کے ساتھ بہت جلد clash شروع ہو گیا تھا۔ میں پھر اسے جاری نہ رکھ سکا۔ باقی جتنے بھی پولیٹیکل کرائسس رہے ہیں ہے۔ اس میں ایکٹو تو نہیں رہا لیکن ایک strong opinion ضرور موجود رہی ہے۔ عملی نہیں تو کم از کم نظریاتی طور پر میری حمایت، یا رائے پیپلز پارٹی کے حق میں رہی ہے۔

نجیبہ عارف: مذہب کے ساتھ آپ کا تعلق کیسا رہا؟ آپ کی فیملی مذہبی تھی؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں۔ My father was a religious man but a very strangely religious man.۔ وہ جیسے میں نے آپ کو بتایا تھا، انھوں نے سائنس اور مذہب اور تصوف کا ایک عجیب سا concoction بنایا ہوا تھا۔ روایتی کٹھ ملائیت کی جکڑ بندی ہم نے کبھی نہیں دیکھی اور میری فیملی میں بھی نہیں ہے۔

نجیبہ عارف: لیکن ایک مفکر ایک فلسفی کی حیثیت سے کیا آپ پاکستان اور دنیا بھر کے مستقبل میں مذہب کا کوئی کردار دیکھتے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: میرا خیال ہے کہ مسلم دنیا اس وقت شناخت کے شدید بحران کا شکار ہے۔ جب سے دو قطبی دنیا ختم ہوئی ہے، سوویت یونین کے انہدام کے بعد، تو اس کے بعد سے مسلم براہ راست نظر میں آ گئے ہیں، اس سے پہلے تو وہ کسی نہ کسی طاقت کے پروں تلے چھپے ہوئے تھے، لیکن اب انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اپنے ساتھ کیا کریں۔ مغرب کا کردار بھی ہے، وہ ایک ا لگ بات ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بحران ابھی کچھ دیر چلے گا اور اس کے ختم ہونے میں ابھی کچھ اور وقت لگے گا۔ اور یہ ختم اپنی داخلی قوت سے ہی ہو گا۔ کسی بیرونی طاقت کی مدد سے ختم نہیں ہو سکتا۔ میں سمجھتا ہوں اس بحران کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغرب میں تو عیسائیت نے دنیاوی اور سیکولر علم کے ساتھ ایک تخلیقی رشتہ قائم کر لیا ہے، نشاۃ ثانیہ میں یہ شروع ہوا اور اس کے بعد بھی جاری رہا، بلکہ پچھلی چھے صدیوں میں دنیا ایک طرح سے بنائی ہی انھوں نے ہے۔ ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ لیکن مسلم دنیا یہ تعلق بنا ہی نہیں سکی۔ اس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے، اور یہ میں اس وجہ سے نہیں کہہ رہا کہ میرا فلسفے سے تعلق ہے، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ماڈرن مغربی فلاسفی نے عیسائیت میں یا مغربی تہذیب میں سائنس اور مذہب دونوں کو ممکن کر دیا ہے۔ یعنی Christinity and Science both survived کیونکہ فلاسفی ان دونوں کے درمیان ایک buffer zone فراہم کرتی ہے۔ یوں سائنس اور مذہب کے درمیان تصادم سے بچا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک زیادہ گہرا اور زیادہ وسیع کلچر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے متوازی مسلم دنیا میں کسی نہ کسی وجہ سے یہ نہیں ہو سکا اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں ان کے لیے یہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ How to deal with modern thought and modern sensibility and modernisn whatever it is.۔ یا تو پھر اس کا نتیجہ مکمل literalism یا اسلام کی قدیم صورت کے احیا کی طرف چلا جاتا ہے یا پھر لوگ اس کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں لیکن اس طرح چھوڑ بھی نہیں پاتے۔ تو یہ بڑی chaos کی صورتِ حال ہے۔ میرا خیال ہے اس کا کوئی آسان حل دستیاب نہیں ہے اور مغرب اس صورت حال کا استحصال بھی کر رہا ہے۔

نجیبہ عارف: خدا کے بارے میں آپ کا کیا تصور ہے؟
مرزا اطہر بیگ: دیکھیں جی God کا یہ ہے اگر God سے آپ کی مراد کائنات ہے جیسے سپائی نوزا جیسے بعض فلاسفر لیتے رہے ہیں کہ اس کے نزدیک God سے مراد یہ ساری یونی ورس ہے، ٹائم اور سپیس ہے۔ اس کا خدا ایک Mathematical God ہے جو highly abstract ہے۔ اگر وہ ہو تو سمجھ میں آ سکتا ہے اور ہم اسے سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض مذاہب میں جو God کا ایک پرسنل تصور ہے؛جیسے وہ کوئی سپر ہیومن بینگ ہو، جو شاید ناگزیر بھی ہے کیونکہ انسان کی سوچ ہی ایسی ہے، لیکن اس تصور کو قبول کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ سپائی نوزا جیسا God میرے لیے قابل قبول ہے۔ میرا خیال ہے یہ ہو بھی نہیں سکتا کہ سب انسانوں کا تصور خدا ایک جیسا ہو۔ ویسے یہ اب اتنا اہم سوال رہا بھی نہیں۔

نجیبہ عارف: لیکن مغرب میں روحانیت کا جو احیا ہو رہا ہے، حتیٰ کہ کالے جادو تک کی مقبولیت جس طرح بڑھ رہی ہے اور فزکس میں بھی کوانٹم فزکس کی جو تھیوریاں جنم لے رہی ہیں، کیا ایسا نہیں لگتا کہ دنیا کو پھر ایک خدا کی تلاش ہے۔ یا پھر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات آٹو پہ لگی ہوئی اور فطرت کی قوتیں ہیں جو اس نظام کی تخلیق کی ذمہ دار ہیں، جیسے سٹیفن ہاکنگ کہتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: یہ ساری بات ویسے بہت دلچسپ ہے اور بہت دور چلی جائے گی۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ جو فزیکل تھیوریز ہیں، یہ کسی مابعد الطبیعیاتی تصور کے جواز کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام سائنس زیادہ سے زیادہ ایک highest form of probability دیتی ہے، مطلق حقیقت (absolute reality) کا تو دعویٰ ہی نہیں کرتی۔ سائنس کا تو یہ دعویٰ ہی نہیں ہے اور یہی اس کی strength ہے اور یہی شاید اس کی کمزوری ہے۔ لہٰذا اس کو اپنے مذہبی یا نظریاتی عقائد کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے، لیکن لوگ کرتے ہیں ایسا۔

نجیبہ عارف: لیکن اس طرح کے تصورِ خدا کے نتیجے میں آپ کائنات میں جو ایک ناقابلِ برداشت تنہائی محسوس کرتے ہیں، اس کا کیا علاج ہے؟ کیا اس طرح ہم اپنے آپ کو اس آسودگی سے محروم نہیں کر دیتے جو ایک پرسنل گاڈ کا تصور ہمیں عطا کر سکتا ہے۔ ایک ایسا خدا جس سے ہم ہم کلام ہو سکتے ہیں، جو ہمیں بہت قریب سے، بالکل اندر سے جانتا اور سمجھتا ہے؟
مرزا اطہر بیگ: اب اس میں مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ سائنس اور materialistic تناظر میں بھی ان ساری باتوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ آپ کو ایک ایسا وژن دے دیتا ہے، جس سے آپ کی وہ جو cosmic lonliness ہے، جو خدا سے پوری ہوتی ہے، اس کی ضرورت نہیں رہتی۔ آپ سمجھ لیتے ہیں، یا کم از کم ایک حد تک سمجھ لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ تنہائی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ ساری سچویشن ہی ایک تحیر کی ہے، جسے ہم سمجھ نہیں سکتے۔

نجیبہ عارف: مرزا صاحب! اگر آپ کو دوبارہ زندگی ملے تو مرد بننا پسند کریں گے یا عورت؟
مرزا اطہر بیگ: عورت بننا، ظاہر ہے، کیوں کہ وہ ایک الگ تجربہ ہو گا۔ دوبارہ مرد بننے سے کیا ہو گا۔ وہ تو پہلے ہی ہوں۔

نجیبہ عارف: لیکن عورت کم سے کم اس سوسائٹی میں نقصان میں رہنے والی صنف ہے؟
مرزا اطہر بیگ: کچھ بھی ہو لیکن پھر بھی یہ کم از کم یکساں تجربہ تو نہیں ہو گا نا۔ ۔ ۔ ویسے تو یہ فینٹسی ہی کی بات ہے لیکن why not have the experience of the other human being?

نجیبہ عارف: مرزا صاحب! آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ کو ایک ناول نگار یا ادیب کی حیثیت سے جو recognition ملی ہے وہ اتنی ہی یا ویسی ہی ہے، جیسی کے آپ حق دار تھے، یا اس سے کم یا زیادہ ہے؟
مرزا اطہر بیگ: پہلی بات تو یہ کہ مجھے اس کا کبھی بھی اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے کوئی recognition ملی بھی ہے یا نہیں؟ اگرچہ یہ میرا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن it can be an irritating factor جب کوئی مجھے یہ کہے کہ ’’ یار ! تسی اپنے کم نوں سامنے لیاؤ، کوئی اگے کرو یا کوئی جلسہ کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو میں چڑتا ہوں کیوں کہ مسئلہ یہ ہے کہ ماڈرن ادبی ماحول جو چل رہا ہے، اس میں آپ سے صرف ادیب ہونے کی ہی توقع نہیں کی جاتی بلکہ یہ بھی کہ آپ سیلز مین بھی ہوں۔ یہ صلاحیت میرے اندر ہے نہیں اور نہ ہی شاید خواہش ہے۔ اس لیے مجھے پروا نہیں ہے۔ کبھی البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری کتاب میں فلاں ایک چیز تھی جو لوگوں نے سمجھی نہیں ہے۔ تو اس سے تھوڑا ایک احساسِ زیاں ضرور ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ مجھے کیا معلوم ہو سکتا ہے، شاید لوگوں نے دیکھ ہی رکھی ہوں۔ اور بعض اوقات ایسے ردعمل مجھ تک پہنچتے بھی ہیں اور وہ کوئی پروفیشنل رائٹر نہیں ہوتے، عام قاری ہوتے ہیں۔ ذہین قاری، جو یہاں وہاں بیٹھے ہیں اور ان کی کمال کی انڈر سٹینڈنگ ہوتی ہے میری چیزوں کے بارے میں۔ لیکن شاید غیر شعوری طور پر مجھے یہ توقع ہوتی ہوگی کہ ایسی چیزوں پر ادبی حلقے میں بات ہو، ان کا نوٹس لیا جائے، یا مضامین لکھے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ میرا خیال ہے کہ اس حوالے سے تحریری طور پر جوبھی لکھا گیا ہے وہ قطعی طور پر غیر تسلی بخش ہے۔ چند ایک چیزیں آئی ہیں وہ بھی غیر معروف لوگوں سے۔

نجیبہ عارف: مثلاً؟
مرزا اطہر بیگ: مثلاً شہباز حیدر ہے ایک لڑکا۔ امریکہ میں ہوتا ہے۔ اس نے پچھلے دنوں حسن کی صورت حال پر لکھا ہے۔ وہ اچھا تھا۔ اس کے علاوہ انگریزی میں کوئی اس طرح کا مفصل تبصرہ یا تجزیہ مجھے نہیں ملا۔ اردو میں ریویوز وغیرہ آتے رہے ہیں۔ انڈیا میں ایک آدھ چیز آئی ہے۔ مجھے یہ خواہش نہیں ہوتی کہ میری تعریفیں کی جائیں۔ لیکن یہ ہے کہ There are themes which are relevant and should be talked about۔ تو یہ معاملات ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے یہاں کم و بیش سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ صرف میرے ساتھ نہیں ہے۔

نجیبہ عارف: کوئی ایسی بات جو آپ کہنا چاہتے ہوں جو، میں نے نہ پوچھی ہوں اور آپ کے ذہن میں ہو؟
مرزا اطہر بیگ: بس یہ کہ اب میں دوبارہ ڈرامے کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ سٹیج ڈرامے کی طرف۔

نجیبہ عارف: اچھا!! دیکھیے میں نے یہ سوال لکھا تھا لیکن پوچھنا بھول گئی۔ آپ کے ڈراموں کی کتاب چھپی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں کتاب نہیں چھپی۔ مجھے بہت سے لوگ کہتے رہے ہیں، مختلف لوگوں کے نام لے کر کہ انھوں نے اپنے ڈراموں کو کتابی صورت میں شائع کروایا ہے۔ لیکن میں خود کو کبھی convince نہیں کر سکا کہ ٹیلی وژن ڈراما جو ہے، اس کو چھپوانا بھی چاہیے کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ادھوری چیز ہوتی ہے۔ جب پروڈکشن میں آتا ہے تب یہ عمل مکمل ہوتا ہے۔ فلم سکرپٹ ہو یا ڈراما ہو سکرپٹ کے ساتھ… لیکن لوگ کہتے ہیں کہ اس کو شائع کروانا چاہیے۔ اس سے لوگ سیکھتے ہیں، students وغیرہ۔ کیا خیال ہے آپ کا؟ کیوں کہ میرے پاس وہ سارے پلند ے پڑے ہیں۔ ٹرنک بھرے ہوئے ہیں۔ پندرہ سولہ سیریل۔ طویل ڈرامے اور سارے ڈرامے۔ کیا خیال ہے آپ کا مجھے یہ شائع کروانا چاہیے؟

نجیبہ عارف: میں تو یہ کہتی ہوں کہ ضرور شائع کروانا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری ایک سٹوڈنٹ پی ایچ ڈی کر رہی ہے، پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراما سیریلز پر۔ جب وہ کام کرنے لگی تو اسے ڈراموں کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ پی ٹی وی کے پاس کوئی سکرپٹ، کوئی ریکارڈ، کوئی سی ڈی محفوظ نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ اسے کسی طور بھی ہوا لگوانے کو تیار نہیں۔ اب وہ کس چیز پر تحقیق کرے، بس جنھوں نے ڈرامے چھپوا دیے وہی تحقیق کا موضوع بن سکتے ہیں۔ تو یوں وہ سارا فن ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ لیکن اگر شائع ہو جائے تو اس کے بچ رہنے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔
مرزا اطہر بیگ: تو بس اب میں یہاں لاہور میں تھیٹر، سٹیج کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔

نجیبہ عارف: ویسے تو آپ کے ناولوں میں بھی بہت سے امیج ملتے ہیں۔ ایسے سین ہیں جن کی تعمیر بالکل ڈرامے کے سین کی طرح ہوتی ہے؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں یہ اچھا سوال تھا۔ پہلے کر لیتے تو اچھا ہوتا۔ ٹیلی وژن ڈراما نگاری کو ہم کوئی بڑا تخلیقی عمل تو نہیں سمجھتے اور پتا نہیں کیوں نہیں سمجھتے جب کہ ذہن تو وہی ہے جو کام کر رہا ہوتا ہے۔

نجیبہ عارف: نہیں، کیوں نہیں سمجھتے؟ میں تو ڈرامے کو بھی تخلیقی عمل سمجھتی ہوں؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں وہ کمرشل ہوتا ہے اس لیے۔ یہ تو ایک بحث ہے نا کہ ایک تو وہ ادبی ڈراما ہے جو سٹیج پر ہو اور دوسرا جیسے فلم ہے تو اس میں تو وہ کاغذ ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ میں نے بہت سیکھا ہے اس فن سے۔ کردار نگاری کا عمل، conflict building اور سب کچھ۔ اس طویل مدت کے دوران جب میں مجبوری کے تحت، اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈراما لکھتا رہا تھا۔

نجیبہ عارف: کیا آپ ڈائجسٹوں میں بھی لکھتے رہے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: نہیں نہیں، ڈائجسٹوں میں نہیں، ٹیلی وژن کے لیے ہی لکھتا رہا ہوں۔

نجیبہ عارف: اچھا، میں سمجھی کبیر مہدی والا کام آپ بھی کرتے رہے ہیں؟
مرزا اطہر بیگ: (قہقہہ لگا کر) نہیں نہیں۔ بس یہی۔ لیکن وہ بھی بڑا عجیب دور تھا۔ they were uneasy about me۔ نہ مجھے رکھ کر خوش تھے اور نہ مجھے نکال سکتے تھے۔ کیوں کہ ٹیلی وژن کو تو ضرورت رہتی ہی ہے۔ یہ ڈبا کبھی نہیں بھرتا۔ تو میں اپنے اس کیرئیر کے بالکل وسط میں تھا، جب میں نے ’’غلام باغ‘‘ شروع کیا۔ غلام باغ پہلے چلتا رہا، پھر رک گیا تو پھر میں نے سوچا کہ یہ ٹیلی وژن والا کام چھوڑنا پڑے گا۔ اب زیادہ وقت اسے نہیں دیا جا سکتا۔ پھر میں نے ڈراما چھوڑ دیا اور پورے پانچ سال کچھ نہیں لکھا۔ اس دوران یہ ناول مکمل ہو گیا۔

نجیبہ عارف: تو پھر یہی وجہ ہے کہ آپ کے ناولوں میں ڈائیلاگ کا عنصر غالب ہے۔ ڈائیلاگ کے ساتھ ہی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ narratioan کا کردار اتنا اہم نہیں ہے۔
مرزا اطہر بیگ: جی ہاں ایسا بالکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فکشن میں بیانیہ اتنا اہم نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں نا، کہ خود بتاؤ نہیں بلکہ دکھاؤ۔ دکھانا جو ہے، وہ کردار کی گفتگو سے ہی ممکن ہے فکشن میں۔ کیوں کہ اس کے ساتھ قاری زیادہ آسانی سے relate کر سکتا ہے۔

نجیبہ عارف: سنسنی خیزی بھی بہت رہی ہے آپ کے ناولوں میں؟
مرزا اطہر بیگ: (قہقہہ لگاتے ہوئے) ہاں۔ اس کا بھی ہے اک ڈرامائی کردار۔

نجیبہ عارف: پستول، گولیاں، ایکشن۔ ۔ ۔ ۔؟
مرزا اطہر بیگ: ایسا تو کچھ نہیں۔

نجیبہ عارف: کچھ نہ کچھ توہے، جیسے کبیر کو گولی لگتی ہے، پھر صفر سے ایک تک میں بھی، باقاعدہ ایکشن فلم کے سین ہیں کچھ۔؟
مرزا اطہر بیگ: ہاں ہاں۔ ۔ ۔ اچھا اچھا۔ ۔ ۔ و ہ سارے سین ٹو سین بنائے ہیں۔ بلکہ وہ ڈراما جو ہے نا اس کو جب میں ناول میں لے کر آیا تو ایک device کے طور پر لے کر آیا۔ میں ان دونوں، یعنی فکشن اور ڈرامے کی مکمل علیحدگی کے تصور پر یقین نہیں رکھتا۔ اس لیے سینوں کی تقسیم اور ان کے آگے بڑھنے کے عمل میںڈرامے کا جو اثر ہے وہ تو ہے۔

نجیبہ عارف: تنقید کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ تو اس ملاپ کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ادب میں سنسنی خیزی کا کیا کام ہے جب کہ ادب تو ایک dignified شے ہے۔؟
مرزا اطہر بیگ: ہونہہ۔ ۔ ۔ میں اس پر یقین نہیں رکھتا اور نہ اس بات سے میرا کوئی تعلق ہے۔ بلکہ اب تو یہ ہورہاہے کہ دنیا میں جو ادبی فکشن ہے وہ سیدھا سیدھا تھرلر کی تکنیک اپنا رہا ہے تاکہ بک سکے ورنہ وہ کلاسیکی قسم کی جو کتاب ہے جس میں کسی کو کوئی دلچسپی ہی نہیں محسوس ہوتی، وہ اب نہیں چل رہی، کیوں کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ کم از کم انگریزی میں چھپنے والی ادبی کتابیں بالکل ایسی ہیں جیسے کوئی تھرلر ہو۔ ہیں وہ ادبی۔ سو یہ کوئی اعتراض نہیں۔

نجیبہ عارف: بہت بہت شکریہ مرزا صاحب، آپ نے اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود اتنا وقت نکالا اور نہایت صبر کے ساتھ میرے سوالوںکے جواب دیے۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنے ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ سوال ابھی باقی ہیں۔ پھر کبھی آپ کو زحمت دوں گی۔ یہ مکالمہ نہایت خوشگوار اور میرے لیے بہت فکر افروز رہا۔ میں ممنون ہوں۔

ختم شد

اس انٹرویو کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: